220.5K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Tera Sarmaya Ho Episode 23

Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf

وہ نجانے کتنی دیر بیٹھی رہی تھی اور حیرت کی بات یہ تھی کہ اب کوئی اندر بھی نہیں آیا تھا شاید جہانگیر عثمانی کا حکم ہو گا اور ان کی بات کو کون ٹالتا تھا۔

وہ شایان کو دیکھتی رہی لیکن اب وہ بُرے طریقے سے تھک گئی تھی بیٹھے بیٹھے اور شام بھی ہو گئی تھی۔

اس نے اٹھتے شایان کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکالا اور باہر نکل گئی۔

“انکل؟”

شاہ زیب عثمانی کو دیکھتے اس نے انہیں مخاطب کیا کیونکہ ان کے علاؤہ وہاں کوئی بھی موجود نہیں تھا۔

شاہ زیب عثمانی نے فون سے سر اٹھاتے اسے دیکھا اور پھر مسکرائے تو وہ جھجکتے ان کی ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئی۔

“دادا جان کہاں ہیں؟”

“سب گھر چلے گئے کافی تھک گئے تھے!” انہوں نے پیار سے جواب دیا۔

“مجھے بھی گھر جانا تھا۔۔۔”وہ انگلیاں مڑوڑتی بولی۔

“کیوں؟ میرے بیٹے کا آپ کو اندازہ تو ہو گیا ہو گا کہ آپ کے لیے وہ کتنا انسکیور ہے۔”

“میں۔۔۔۔۔”وہ کچھ بول نہ سکی۔

شاہ زیب عثمانی نے اس کے جھکے سر کو دیکھا تو اسے حصار میں لیتے اس کا ماتھا چوما۔

اس محبت پر اس کی آنکھیں نم ہوئیں۔

“کیا کھائیں گی؟” انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے کہا ۔

“کچھ بھی نہیں!” وہ نم لہجے میں بولی۔

“میری بیٹی کو بھوک کیوں نہیں ہے۔۔۔۔۔تمہارے باپ سے ملا تو وہ ناراض ہو گا کہ بچپن میں تو کہتے تھے یہ میری بیٹی ہے اور اب دیکھو”

وہ بولے تو کونین نے انہیں دیکھا۔

“آپ بابا سے ملنے آئیں گے انکل؟”

“انکل نہیں بابا گڑیا۔۔۔۔آخر میرا بیٹا شوہر اور دیوانہ ہے آپ کا اور یہ نکاح بھی میں نے ہی کروایا تھا بس غلطی یہ ہوئی کہ تمہارے باپ کے منع کرنے پر میں منع ہو گیا اور دوبارہ ملا نہیں اس سے!” وہ افسوس سے بولے۔

“کوئی بات نہیں۔۔۔آپ ان سے ملنے جائیں گے تو وہ ساری ناراضگی بھول جائیں گے” وہ خوشی سے بولی۔

“چلیں بتائیں اب کیا کھائیں گی؟”

“پیزا؟ بچپن میں بڑا پسند تھا۔۔۔”

انہوں نے خود ہی بولا تو وہ مسکرا کر ہاں میں سر ہلا گئی۔

انہوں نے اور بھی چیزیں منگوائی اور اسے دیں وہ کافی دیر تک باتیں کرتے رہے وہ اسے اس کی اور شایان کی بچپن کی باتیں بتاتے رہے۔

اس کے باپ کا فون آیا تھا جن کو شایان کے ایکسیڈنٹ کا بتا دیا تھا جہانگیر عثمانی نے وہ کافی فکرمند تھے۔

“بیٹا اب کیسا ہے شایان؟” انہوں نے کونین سے پوچھا۔

“وہ ٹھیک ہیں!”

“بس کچھ دن چل نہیں سکیں گے تکلیف ہو گی” وہ گہری سانس بھرتی آہستگی سے بتانے لگی۔

“آپ وہیں رہیں گیں؟”

جی بابا۔۔۔۔۔۔!

وہ بس اتنا ہی بول پائی کیونکہ یہ اجازت بھی جہانگیر عثمانی نے ہی لی ہو گی۔

جبکہ اس سے فون لیتے شاہ زیب عثمانی اب بات کرنے لگے تھے اور دونوں بھائی کافی رنجیدہ ہوئے تھے سالوں بعد بات کر کے وہ دونوں ایک دوسرے سے دکھ سکھ پھول رہے تھے۔

“تمہاری بیٹی اب میری بیٹی ہے اور میرا بیٹا کافی دیوانہ ہے تمہاری بیٹی کا!”

وہ بولے تو کونین نے سانس روک لیا اور شاہ زیب عثمانی کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے انہیں کچھ مزید کہنے سے روکا تو وہ سمجھ گئے۔

لیکن خاور عثمانی اسے مذاق ہی سمجھے تھے اسی لیے ہنس پڑے۔

اور باتوں کے بعد شاہ زیب عثمانی نے انہیں مطمئن کیا تو وہ مان گئے اور ان سے ملنے کا کہتے کال کاٹ گئے۔

کونین واپس بیٹھ گئی۔

“آپ کیا چاہتی ہو گڑیا؟”

انہوں نے اسے دیکھتے کہا جس کی نگاہیں دروازے پر تھیں جہاں اندر وہ شخص سویا تھا جس نے بُرے طریقے سے اس کا دل توڑا تھا۔

“مجھے خود بھی نہیں معلوم بابا!”

شاہ زیب عثمانی کو اس پر ترس آیا۔

“کیا سائمہ نقوی نے جو کہا۔۔۔۔۔”

“وہ سب جھوٹ تھا اور پھر وہ انہیں سب بتاتی چلی گئی کہ کیسے سائمہ نقوی نے شادی کے بعد بھی اس کے باپ کی جان نہیں چھوڑی تھی کبھی ان سے محبت کا اظہار، کبھی نفرت کا اور کبھی ان کو چھوڑ دینے پر بددعائیں۔۔۔۔۔اور دھمکیاں۔۔۔۔”

شاہ زیب عثمانی نے ہونٹ بھینچے۔۔۔۔ان باتوں سے لازماً ان کی بیوی تہذیب عثمانی بھی واقف ہوں گی اچھے سے۔

“تو بتا دو شایان کو سب۔۔۔۔مشکل ہو گا اس کے لیے یقین کرنا لیکن ہمیں امید ہے وہ آپ کی بات پر یقین کر لے گا۔”

“نہیں میں چاہتی ہوں وہ اس حقیقت تک خود پہنچیں۔۔۔۔میں نے اس رشتے میں بہت ایفرٹس ڈالے ہیں اب ان کی باری ہے۔”

کونین۔۔۔! اندر سے اپنے نام کی آواز سنتے شاہ زیب عثمانی نے اسے دیکھا۔

جیسے کہنا چاہ رہے ہوں کہ اب واپسی ممکن نہیں ان کے بیٹے کی زندگی سے۔

“ہم ہمیشہ آپ کے ساتھ ہیں گڑیا۔۔۔۔اور اندر صوفہ موجود ہے آپ سو جائیں۔۔۔۔”

آپ کہاں سوئیں گے؟

“میں یہاں ٹھیک ہوں صبح کوئی اور آجائے گا تو میں گھر جا کر آرام کر لوں گا فکر مت کرو۔۔۔”

وہ سر ہلاتی اندر چلی گئی۔

کیا ہوا؟

“کہاں گئی تھی۔۔۔”

“بابا کے پاس تھی۔۔۔۔۔۔”

شایان نے اسے بند کھلی آنکھوں سے دیکھا۔

“آپ کے بابا۔۔۔۔۔”وہ بولی اور چادر اتارتی صوفے پر سے سامان ہٹانے لگی۔

کونین۔۔۔۔

ہم۔۔۔۔وہ مڑی۔۔۔

“یہاں آجاؤ!”

“نہیں۔۔۔۔۔! یہاں ٹھیک ہوں۔۔۔وہاں ہم دونوں انکمفرٹیبل رہیں گے۔”

“مجھے اپنے کمفرٹ کا پتا ہے آجاؤ!” وہ بولا اور سر موڑتے اسے دیکھا۔

“لیکن میں یہاں ٹھیک یوں۔۔۔۔”

وہ بولی تو اسے لگا وہ مزید اصرار کرے گا لیکن وہ رخ موڑ گیا چہرے کا اور خاموش ہو گیا۔

وہ کچھ پل سوچتی رہی پھر اس کے پاس چلی گئی اور اپنی جگہ بنانے لگی وہ بیڈ کافی بڑا تھا۔

“دروازہ لاک کر آؤ!”

وہ بولا تو کونین نے اس کا چہرہ دیکھا لیکن آنکھیں بند تھیں وہ لاک کر کے واپس آئی یہ پرائیویٹ روم تھا جہاں اچھی خاصی سہولیات تھیں۔

وہ آ کر جگہ بناتی بمشکل اس کے ساتھ لیٹ گئی جہاں وہ دونوں ایک دوسرے کی خوشبو محسوس کر سکتے تھے اب۔

“کونین تم میرے ساتھ جاؤ گی!”

وہ نجانے اس سے پوچھ رہا تھا یا بتا رہا تھا وہ سمجھ نہ پائی۔

“نہیں میں کل گھر چلی جاؤں گی!”

پلیززز!

“مجھے فورس کرنے کا آپ حق نہیں رکھتے شایان!”

اس نے چھت پر نگاہیں ٹکائے کہا جبکہ شایان کی نگاہیں اس کے گرد طواف کر رہی تھیں۔

شایان نے آنکھیں موند لی وہ سچ ہی تو کہہ رہی تھی۔

“بابا کو بتا دینا اور چلی جانا۔۔۔۔میرے اٹھنے سے پہلے” اس نے آہستگی سے کہا کہ وہ بمشکل سن پائی۔

“درد تو نہیں ہو رہا؟” کچھ دیر بعد کونین نے استسفار کیا۔

نہیں!

“جو درد تم مجھے مسلسل دے رہی ہو اس کے آگے مجھے کوئی درد محسوس نہیں ہو رہا۔”

“مت بھولیں کہ آپ نے رسوا کیا تھا مجھے محفل میں۔”

“اور تم اس کا بدلہ لے چکی ہو مجھ سے۔۔۔۔مجھے بارہا دھتکار کر، میرا ہاتھ جھٹک کر اور مجھ سے دوری اختیار کر کے۔”

“میں بتا چکا تھا کہ اب سے تم میرے ساتھ رہو گی ہزار ناراضگی سہی لیکن ہمیں ساتھ رہنا تھا لیکن تمہیں صرف مجھ سے دوری چاہیے۔”

وہ کرب سے بولا تو کونین نے اسے دیکھا جس کی آنکھیں بند تھی اس لیے وہ اس کے تاثرات نہ جان پائی۔

“آپ اپنی خالہ سے پوچھیں کہ لوگوں کی زندگی تباہ کر کے کیا مِلا انہیں؟”

“انہوں نے کچھ نہیں کیا!” شایان سنجیدگی سے بولا جیسے یہ بات پسند نہ آئی ہو۔

کونین کے چہرے پر تلخ سی مسکراہٹ پھیل گئی۔

“آپ ان کی محبت میں کچھ دیکھنا نہیں چاہ رہے دیکھیں سب ویسا نہیں ہے جیسا آپ کو دکھایا گیا۔۔۔میرا باپ بے گناہ ہوتے ہوئے بھی سالوں سے سزا کاٹ رہا ہے تو آپ کی خالہ کو کوئی سزا کیوں۔۔۔۔۔۔”

“خاموش رہو کونین۔۔۔۔۔۔تم بہت زیادہ بول رہی ہو۔”

“میں زیادہ بول رہی ہوں؟ سچ میں؟”

“حقیقت یہ ہے کہ آپ اپنی نیک اور پاکیزہ بنی خالہ کے بارے میں کچھ سننا نہیں چاہتے” وہ اٹھ کر بستر سے اتر گئی۔

“واپس آؤ!”

“بالکل نہیں!”

“اپنے باپ کو گناہگار ٹہرانے والے اور ان کے مجرم کی حمایت کرنے والے کے تو میں قریب بھی نہ بھٹکوں۔”

“تم ہمارے رشتے میں انہیں نہیں لا سکتی کونین۔۔۔”

“آپ نے بھی ان کے لیے مجھے دھوکا دیا تھا بھولیں مت”

” اس موضوع پر ہم کسی اور روز بات کریں گے واپس آؤ میں سونا چاہتا ہوں۔”

“سو جائیں!”

وہ جا کر صوفے پر بیٹھ گئی اور آنکھیں موند لیں تو شایان عثمانی نے لب بھینچ لیے اور سونے کی کوشش کرنے لگا جو اور جلد ہی سو گیا تھا۔

لیکن کچھ ہی دیر میں آنکھ سر کے درد سے کھلی تو نگاہیں سیدھا اس سے جا ٹکرائی جو اب بھی جاگ رہی تھی۔

وہ اپنے ہاتھ کو اپنے ماتھے پر رکھ کر بے چینی سے کروٹ بدلنے لگا۔

“کیا ہوا؟ کچھ چاہیے؟”

کچھ لمحوں بعد کونین کی آواز گونجی لیکن شایان نے جواب نہ دیا۔

تو وہ اٹھ کر آئی تاکہ دیکھ سکے کہ وہ سو گیا ہے یا نہیں کیونکہ اس کی پیٹھ کونین کی طرف تھی۔

لیکن اب بھی وہ ہلکے سے اپنے ہاتھوں سے سر کو دبا رہا تھا۔

کونین نے اسکے تکیے کے پاس بیٹھتے اس کے سر پر اپنا ہاتھ رکھا لیکن اگلا لمحہ اسے ہلا گیا تھا۔

شایان عثمانی اس کا ہاتھ جھٹک گیا تھا۔

“مجھے وقتی سہاروں کی ضرورت نہیں!”

وہ بولا تو کونین کی آنکھیں نمکین پانی سے بھر گئیں۔

وہ تکلیف میں تھا یہی بات اسے تکلیف پہنچا رہی تھی

کونین نے اپنا ہاتھ پھر سے رکھا لیکن اب کی بار آہستگی سے شایان نے ہٹایا تو وہ تھم گئی۔

پھر گہری سانس بھری اور پھر سے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھا اور پھر پڑھ کر اس کے چہرے پر پھونک ماری تو شایان نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔

جو اس کی تکلیف پر بے چین دکھ رہی تھی۔

“تم کل نہیں ہو گی اسی لیے یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں۔”

“خاموش رہیں اور سونے کی کوشش کریں”

وہ سنجیدگی سے بولی تو وہ اسے آنکھوں میں بھرتا آنکھیں بند کر گیا۔

کونین نے اس کا سر دبایا اور پھر دل کی بات مانتے جھکی اور اس کے ماتھے پر لب رکھے تو شایان عثمانی کے سینے میں سکون سا اترا۔

“تم سکون ہو”

وہ نیند میں بڑبڑایا تو کونین اسے دیکھ کر رہی گئی وہ شخص واقع اس سے محبت میں کافی آگے نکل گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“یہ آپ نے کیوں لیا؟” زارا نے اسے بل کروا کر باہر نکلتے کہا۔

“کیوں شادی میری ہے بیوی تم میری بنو گی تو یہ سب مجھے ہی خریدنے تھے”

“ہاں لیکن بارات کا ڈریس تو لڑکی خود لیتی ہے نا۔۔۔۔میں پیسے بھجوا دوں گی آپ کو۔۔۔۔”وہ صاف گوئی سے بولی۔

“کہاں لکھا ہے ایسا؟۔۔۔۔مجھے بے حد بُرے لگتے ہیں وہ مرد جو خود کو غیرت مند کہتے ہیں اور بات بات پر انا جاگ جاتی ہے لیکن استعمال اپنے بیوی کے گھر سے آئی چیزیں ہی کرتے ہیں۔۔۔۔”

زارا نے اسے مسکرا کر دیکھا۔

کاش سب مردوں کا یہی خیال ہوتا۔

“تم وہاں سے کچھ بھی نہیں لاؤ گی اپنے بھائیوں کو منع کر دینا۔۔۔۔اعظم اظہر ایک چیز نہیں لے گا اس گھر سے میں سب خود دلوا دوں گا تمہیں اب چلو لیٹ ہو رہے ہیں۔”

زارا نے تیزی سے سر ہلایا اسے اپنی محبت پر فخر ہوا تھا اس نے خود کے لیے ایک بہترین شخص چُنا تھا۔

وہ گاڑی میں بیٹھ گئے تھے لیکن اب تک کوئی بات نہ ہوئی تھی۔

پھولوں والے بچے نے سگنل پر ان کو پھول دینے چاہے تھے جس کو اعظم نے لیا نہیں تھا صرف اسے پیسے دے دیے تھے۔

زارا کا دل پل میں بجھ گیا۔

وہ تو ان پھولوں کی خوشبو کو پاس سے محسوس کرنا چاہتی تھی۔

“کچھ کھاؤ گی؟”

نہیں! وہ سادگی سے بولی۔

اور پھر اس کے بعد کوئی بات نہ ہوئی۔۔۔ وہ اسے گھر چھوڑتا اب کی بار پھر اندر بلانے پر منع کر گیا تھا۔

وہ اندر آتی سب سے ملتی اعظم کی باتیں انہیں بتا چکی تھی جس سے سب مزید اس رشتے سے مطمئن ہو گئے تھے۔

وہ کھانا کھا کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔

اور بہت سوچتے اسے کال کی۔

بولو؟

“میں نے ڈسٹرب تو نہیں کیا آپ کو؟”

نہیں بولو؟

“اعظم کیا آپ خوش ہیں اس شادی سے؟”

“اس سوال کا کیا مطلب بنتا ہے اب؟’

“بس مجھے پوچھنا تھا۔”

“بے فکر رہو میری مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔”

دو دن بعد ان کی مہندی تھی جو اکٹھی ہونا قرار پائی تھی اعظم اظہر کے گھر۔

اس نے فون رکھتے فرشتے کا نمبر ملایا۔

اسلام علیکم!

وعلیکم السلام!

“کیسی ہو فرشتے؟”

“ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں؟”

وہ اسائنمنٹ بنا رہی تھی جب اعظم اظہر کا نمبر فون کی سکرین پر دیکھا بوا اسے اعظم کی شادی کا بتا چکی تھی۔

“ٹھیک ہوں! میری شادی پر آرہی ہو نا؟”

میں اکیلی کیسے؟

“تم آؤ گی تو مجھے اچھا لگے گا۔۔۔بچپن کے دوست کی شادی پر بھی نہیں آؤ گی اب؟” اعظم ہلکے پھلکے انداز میں بولا۔

“ازلان۔۔۔۔۔”

“وہ بھی آرہا ہے! اس کے اکلوتے بھائی کی شادی ہے آخر!” اعظم اظہر مسکرایا۔

“ٹھیک ہے میں ضرور آؤں گی” فرشتے نے مسکراتے کہا۔

“ٹھیک ہے بس اچھے سے تیار ہو کر آنا یہ نا ہو لوگ ڈر جائیں!”

وہ اس سے بات کرنا چاہتا تھا اسی لیے طول دے رہا تھا بات کو اس سے مزاق کر کے۔

“میں آپ دونوں بھائیوں سے زیادہ حسین ہوں!” وہ کھلکھائی۔

“ٹھیک کہہ رہی ہو تم بہت حسین ہو!” اعظم اظہر بولا تو فرشتے نے جھجکتے ہونٹ کاٹا۔

“ٹھیک ہے اعظم بھائی پھر ملاقات ہو گی” وہ کہتی کال کاٹ گئی۔

ازلان اظہر کے آنے کا سن کر ہی اس کا دل دھڑکنے لگا تھا۔

وہ کچھ سوچتی باہر نکل گئی۔

“مجھے شاپنگ کے لیے جانا ہے!” اس نے عمر کو کہا جو کچھ ہی دیر میں واپس جانے والا تھا۔

“کیا آپ نے ازلان بھائی سے پوچھا ہے؟۔”

“نہیں کیوں؟”

“آپ اجازت لے لیں میں لے جاتا ہوں!” وہ تابعداری سے بولا۔

“کیا مطلب اب مجھے اس گھر سے نکلنے کے لیے بھی اجازت لینی پڑے گی؟”

“آپ پوچھ لیں پلیزز۔۔۔”

وہ بولا تو فرشتے نے اسے گھورتے ازلان کو کال کی جو اٹھائی نہیں گئی۔

آگے تو ہاتھ میں لے کر بیٹھا ہوتا ہے فون آج کام ہے تو دیکھو کال نہیں اٹھا رہا وہ کتنی دیر کرتی رہی جب نہیں اٹھایا گیا تو پیر پٹکتی کمرے میں چلی گئی۔

اور واپس اسائنمنٹ بنانے لگی۔

جب اس کا فون بجا اور پھر مسلسل بجنے لگا وقفے وقفے سے لیکن وہ بھی ڈھیٹ بنی بیٹھی رہی اور پھر بیس منٹ کے بعد کال اٹھائی۔

“کہاں تھی کب سے؟”

“جب میرا دل کیا میں نے اٹھا لی کال!” وہ نخرے سے بولی۔

“کہیں باہر جانا تھا؟” عمر نے بتایا۔۔۔

“تو اگر تمہارے۔۔۔۔”

وہ کہتی کہتی رک گئی ابھی کل ہی تو اس نے فرشتے کو ٹوکا تھا تم کہنے پر۔

‘تو اگر آپ جناب کو آپ کے چمچے نے بتا دیا ہو تو اسے بتاؤ کہ میں نے جانا ہے۔”

کیا لینا ہے؟

“شاپنگ کرنی ہے۔۔۔۔اعظم بھائی کی کال تھی۔”

“تمہاری شاپنگ میں خود کروں گا واپسی پر۔۔۔۔اسائنمنٹ بناؤ اور میتھ پر دھیان دو!”

وہ کہتا اس کی بات سنے بنا کال کاٹ گیا تو اس نے فون کو گھورا۔

“اففففففف!”