Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf NovelR50407 Mein Tera Sarmaya Ho Episode 19
Rate this Novel
Mein Tera Sarmaya Ho Episode 19
Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf
“بابا؟” وہ ان کے ساتھ بیٹھی تھی وہ اپنے باپ کو خوش دیکھتی خود بھی مطمئن تھی۔
“سائمہ نقوی کون ہیں؟” اس کے اچانک سوال کر خاور عثمانی سنجیدہ ہو گئے۔
“آپ کیوں پوچھ رہی ہیں؟”
“بس میں جاننا چاہتی ہوں۔”
“کیا بابا جان نے کچھ بتایا ہے آپ کو؟”
“نہیں! لیکن اس گھر سے متعلق مجھے سب پتا ہونا چاہیے پلیز بتائیں۔”
“اور یہ بھی بتائیں کہ میرا نکاح کب ہوا تھا اور کیوں؟”
خاور عثمانی نے گہرا سانس بھرا اور پھر اسے سب بتانے لگے۔
وہ شہر سے پڑھے تھے اور وہیں انہیں کونین کی ماں فاطمہ سے محبت ہو گئی تھی ان دونوں نے ایک دوسرے کا ساتھ چُن کیا تھا۔
خاور عثمانی کو پتا تھا کہ مشکلات پیدا ہو سکتی ہے کیونکہ یہ ان کی روایات کے خلاف تھا شہر میں کسی بیگانہ عورت سے شادی کرنا۔
اسی لیے ان کے لیے بہت دیر سے سائمہ نقوی کو چن لیا گیا تھا اور ان کے ساتھ بات پکی کی گئی تھی اور یہ ضد بھی سائمہ نقوی کی جانب سے کہ گئی تھی کیونکہ انہیں خاور عثمانی بے حد پسند تھے۔
تہذیب عثمانی نے ہی یہ رشتہ کروایا تھا کیونکہ اپنی بہن کی پسند سے واقف تھیں وہ۔
اور وہ دن قیامت خیز تھا جب خاور عثمانی اس کی ماں فاطمہ عثمانی سے نکاح کر کے انہیں ساتھ لے گئے تھے حویلی فاطمہ کے گھر میں صرف ان کی ماں تھیں جن کی رضا مندی سے نکاح ہوا تھا۔
خاور عثمانی انہیں ساتھ لے گئے اور تب ایک الگ قیامت برپا ہوئی تھی۔
سائمہ نقوی نے پورا گھر سر پر اٹھا لیا تھا جب انہیں پتا چلا تھا ان کے نزدیک خاور عثمانی نے انہیں دھوکا دیا تھا۔
انہوں نے سب کے سامنے خاور عثمانی کو رسوا کیا تھا من گھڑت کہانی سنا کر کہ وہ کیسے ان سے عہد باندھتے رہے تھے ماضی میں اور ان سے محبت کے دعوے دار بھی رہے تھے اور اب انہیں شہر میں کوئی پسند آئی تھی تو اس کے ساتھ نکاح کر بیٹھے تھے۔
جہانگیر عثمانی نے شاور عثمانی پر پہلی بار ہاتھ اٹھایا تھا وجہ ان کی روایات کی پاسداری نہ کرنا تھا۔
“آپ کے بیٹے سے بڑھ کر آپ کو روایات اور یہ انجان عورت ہے؟”
وہ افسوس سے اپنے باپ سے مخاطب ہوئے اپنے باپ سے اونچی آواز میں بات کر کے وہ گناہگار نہیں بن سکتے تھے۔
جہانگیر عثمانی کا رعب تھا کہ تمام بھائی خاموش کھڑے تھے حالانکہ دل ہمک رہا تھا بھائی کے حق میں بولنے کے لیے۔
“تم اپنی بیوی کو رکھ سکتے ہو لیکن تمہیں ساتھ ہی سائمہ سے بھی نکاح کرنا ہو گا بولو منظور ہے؟”
جہانگیر عثمانی نے اپنا فیصلہ سنایا تو خاموشی چھا گئی جبکہ سائمہ نقوی مسکرائی تھیں۔
فاطمہ عثمانی جو کب سے خاموش تھیں انہوں نے جھٹکے سے سر اٹھاتے خاور کو دیکھا محبت میں ڈوبی وہ عورت کیسے کسی دوسری عورت کا حق اپنے شوہر پر تسلیم کر لیتیں۔
انہوں نے خاور عثمانی کا ہاتھ تھاما جیسے انہیں اس فیصلے سے باز رکھنے کی درخواست کی ہو۔
“بیشک اسلام مجھے اجازت دیتا ہے بابا جان لیکن میں یہ نہیں کر سکتا ایک عورت جس سے میں نے محبت کی ہے اور ایک عورت جس سے میں نفرت کرتا ہوں میں ان دونوں میں برابری تو قطعاً نہیں کر پاؤں گا تو گناہ کا مرتکب کیوں کر بنوں؟” وہ آہستگی سے بولے۔
سائمہ نقوی نے روتے کافی ہنگامہ برپا کیا تھا۔
خاور عثمانی نے اس فریبی عورت کو دیکھا انہوں نے اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہا تھا لیکن خاموش ہو گئے کیونکہ شاید ہی ان کے والد اس وقت ان پر یقین کرتے۔
“یہ تمہارا آخری فیصلہ ہے خاور؟”
ان کی گرج پر ماحول میں خاموشی چھا گئی جس سے اس حویلی کی بنیادیں ہلنے والی تھیں۔
جی! وہ نگاہیں بند کرتے بولے۔
“تو ٹھیک ہے آج سے ہمارا تمہارے ساتھ کوئی رشتہ نہیں ہے تمہیں جائیداد اور ہر چیز سے عاق کیا جاتا ہے تم چلے جاؤ اور لوٹ کر پھر کبھی مت آنا!”
وہ دھاڑے تو سب بھائیوں نے تڑپ کر انہیں دیکھا۔
“ابا جان یہ ظلم ہے۔”
شاہ زیب عثمانی نے کہا تو جہانگیر عثمانی نے انہیں خاموش رہنے کی تلقین کی۔
“بابا میں کیا کروں گا کہاں جاؤں گا؟” خاور عثمانی تڑپ گئے تھے رشتے کھو دینے کے ڈر سے۔
“یہ سب تمہیں ہماری روایات کے خلاف اور ایک عورت کو محبت میں دھتکارنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا” وہ کہتے کمرہ نشین ہو گئے تو سب بھائی اشکبار ہوئے۔
اور پھر خاور عثمانی وہاں سے چلے گئے کچھ نہ بولتے ہوئے۔
اس کے بعد بھائیوں نے ان کی مدد کرنی چاہی تھی لیکن وہ بھی باپ سے خفا تھے شاید کہ بھائیوں کی مدد کو ناکر کر دیا اور اکیلے ہی سب کرنے لگے۔
شاہ زیب عثمانی کے بیٹے شایان عثمانی سے بہت محبت کرتے تھے خاور عثمانی اس لیے شاہ زیب عثمانی اکثر اسے لیتے شاور عثمانی سے شہر ملوانے لے جاتے۔
فاطمہ عثمانی نے بیٹی کو جنم دیا تو خود جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں اور کونین کو ان کے حوالے کرتی رخصت ہو گئیں۔
شاہ زیب عثمانی کو وہ بچی بے حد بھائی تھی کہ انہوں نے کچھ ہی سالوں بعد ایک روز اپنی خواہش کا اظہار کیا اور کونین اور شایان کا نکاح کروایا دیا۔
لیکن اس کے بعد جہانگیر عثمانی کو ان کے اس ملاپ کا اور نکاح کا پتا چل گیا تو وہ شاہ زیب عثمانی سے بھی خفا ہوئے تو خاور عثمانی نے انہیں ملنے سے منع کر دیا وہ اپنی وجہ سے اپنی بڑے بھائی کو بھی ان سب میں نہیں جھونک سکتے تھے جس میں وہ زندگی گزار رہے تھے۔
پھر انہوں نے کونین کو اکیلے سنبھالا تھا، پڑھایا تھا لیکن رشتوں سے دوری اور اس عمر میں آ کر بوجھ، تھکاوٹ اور اکیلے پن نے انہیں بستر سے لگا دیا تھا۔
لیکن اس نکاح کی چھاپ ان دو بچوں کے ذہنوں پر ہمیشہ کے لیے چھپ گئی جہاں وہ دونوں جانتے تھے کہ وہ کسی کی امانت ہیں۔
لیکن اس نکاح کی خبر کے بعد سائمہ نقوی نے نئی سازش کو سوچتے شایان کو اپنے قریب کرتے خاور عثمانی جن سے وہ محبت کرتا تھا ان کے خلاف کرنا شروع کر دیا۔
اور وہی نفرت کی جڑیں اس میں پکی کر دیں اور پھر کونین خاور سے بدلہ لینے کے لیے اسے اکسایا کیونکہ شایان عثمانی ان کی بات نہیں ٹالتا تھا۔
اور خاور عثمانی سے جو بدلہ وہ برسوں سے لینا چاہتی تھیں وہ انہوں نے کونین کے زریعے سے لیا تھا۔
یہ جانے بنا کہ اس میں سب سے زیادہ نقصان شایان عثمانی کا ہی ہوا تھا لیکن ان کو کیا ہی فرق پڑتا تھا۔
ان سب میں خاور عثمانی خالی ہاتھ رہ گئے تھے اکیلے اور بے یارو مددگار۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دونوں اپنی زندگیوں میں اکیلے تھے تن تنہا ایک دوسرے کو یاد کرتے وہ خاموش تھے۔
شایان اسے اب بھی ڈھونڈ رہا تھا لیکن اسنے یہاں کا کام سنبھال لیا تھا آفس کا کام وہ گھر سے کر رہا تھا فلحال۔
پچھلے دو ہفتوں سے وہ اسے پورے گاؤں میں ڈھونڈ چکا تھا لیکن وہ کہیں نہیں ملی تھی اسے۔
وہ اس وقت ڈیرے پر موجود تھا اس کے سامنے وہ حراب مشروب پڑا تھا۔
دل نے اسے اکسایا تھا کہ پی لو کچھ لمحے راحت کے نصیب ہوں گے لیکن دماغ مسلسل نفی کر رہا تھا کہ ان چیزوں سے راحت ملتی تو یہ حرام نہ ٹھہرائیں جاتی۔
اس نے وہ بوتلیں اٹھائیں اور باہر توڑ کر پھکوا دیں اور فون نکالتا کونین کے نمبر کو دیکھنے لگا۔
اسے امید تھی وہ اس کی کال پک نہیں کرے گی لیکن پھر بھی اس نے وہ نمبر ملایا اور پھر دس بارہ اور ملاتا چلا گیا لیکن نا وہ اٹھایا جانا تھا نا اٹھایا گیا۔
ہیرے اس نے ایک ملازم کو آواز دی۔
“تمہارے پاس موبائل فون ہے؟”
جی سر!
“دو مجھے ایک کال کرنی ہے!”
اس کے لہجے کی تڑپ پر اس شخص نے شایان عثمانی کو دیکھا اور فوری طور پر فون نکال کر اسے دیا۔
شایان نے کونین کا نمبر ملایا جو کہ بیل جا رہی تھی اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ کان سے لگایا۔
“ہیلو!”
اور اس کی امید کے برعکس کال اٹھا لی گئی تھی اور وہ آواز سنی جو وہ پچھلے دو ہفتوں سے سننے کے لیے تڑپا تھا۔
“ہیلو کون؟” پھر سے کونین کی آواز گونجی تھی۔
“تم شایان عثمانی کے مرنے پر آؤ گی کیا؟” دھیرے سے سوال کیا گیا۔
دل کو ساکن کر دینے والا لہجہ کونین جو باہر نکل رہی تھی عجلت میں کال اٹھائی تھی وہ لہجہ سنتے تھم گئی۔
شایان عثمانی اسے کب سے کال کر رہا تھا وہ اس نے سنی نہ تھی اور اب تھوڑی ہی دیر بعد انجان نمبر سے کال اس نے ناچاہتے ہوئے بھی اٹھا لی تھی۔
“کون؟” وہ لمحوں بعد بولی تھی۔
“کونین شایان عثمانی اتنی ظالم مت بنو!”
شایان نے آنکھیں بند کی جیسے آنکھوں میں چھپا کرب کسی کو نا دکھانا چاہ رہا ہو۔
کونین نے کچھ نہ کہتے کال کاٹنی چاہی تھی۔
“کال مت کاٹنا کونین شایان عثمانی!”
وہ بار بار اپنا نام اس کے نام کے آگے لگاتا اس پر یہ واضح کر رہا تھا کہ وہ اس کی بیوی ہے اس کی محرم جس کا نام جڑا تھا اس کے نام کے ساتھ۔
“تم مجھ سے بھاگ رہی ہو!”
“ایک دھوکے کے رشتے سے ہر عورت بھاگنا چاہتی ہے شایان عثمانی!” سرد سا لہجہ۔
شایان عثمانی کو لگا وہ اس سے اب تک کے سارے گناہوں کے بدلے لے چکی ہے اس سرد لہجے میں بات کر کے۔
“مجھے موقع تو دو میں سب کلئیررررر۔۔۔۔میں معافی۔۔۔۔”لیکن کال کاٹ دی گئی تھی۔
اس نے لوکیشن ٹریس کروانے کے لیے بھیج دی تھی اسی لیے پرسکون تھا۔
“کتنا وقت لگے گا؟”
“سر کچھ گھنٹے۔۔۔۔”
“کچھ گھنٹے اسی جگہ پر موجود ہے وہ اور تمہیں گھنٹے لگے گیں مجھے شام تک یہ لوکیشن چاہیے” وہ دھاڑتا کال کاٹ گیا اور اٹھ کھڑا ہوا۔
آخر کونین شایان سے ملاقات کرنی تھی اسے شام میں۔
اس نے گھر جاتے تیزی سے شاور لیا تھا اور پھر تیاری کی تھی کیونکہ اسے کچھ تو اندازہ تھا کہ وہ یہاں اس گاؤں کی حدود میں نہ تھی کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو وہ اسے اس دن کا ڈھونڈ چکا ہوتا۔
وہ جہانگیر عثمانی کے کمرے میں آیا جہاں وہ بیٹھے کچھ پڑھ رہے تھے۔
“دادا جان؟”
“ارے آجاؤ یار!” جہانگیر عثمانی نے اس کے لیے جگہ چھوڑی تو وہ ہلکا سا مسکراتا بیٹھ گیا۔
ان دو ہفتوں میں پہلی بار وہ مسکرایا تھا جہانگیر عثمانی نے نوٹ کیا۔
“لگتا ہے آپ اپنی منزل کے قریب ہیں برخوردار؟” انہوں نے کہا تو وہ محض سر ہلا گیا۔
“اسے کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہئے شایان کوئی زور زبردستی نہیں” وہ بولے تو شایان نے انہیں شکوہ کناہ نگاہوں سے دیکھا۔
“آپ کو لگتا ہے اب میں کچھ غلط کروں گا اس کے معاملے میں؟”
نہیں!
“لیکن احتیاط لازمی ہے عورت کا دل ٹوٹ جائے تو اسے واپس محبت سے جوڑنا بے حد مشکل ہے اور اگر وہی دل بھر جائے تو سمجھ جائیں کہ اب آپ کی گنجائش مزید نہیں رہتی” وہ اسے سمجھا رہے تھے۔
“اور وہ تو ویسے بھی کم عمر ہے۔۔۔۔زمہ داریوں نے اسے سمجھدار بنا دیا ہے لیکن اتنا نہیں کہ وہ اتنی سی عمر میں اتنے سب غم برداشت کرے۔’
“میں پوری کوشش کروں گا دادا جان!”
“کوشش نہیں کرنی۔۔۔۔محرم رشتوں میں کوشش نہیں کرتے بس کر جاتے ہیں۔”
“جو حکم!”
“آپ کی پوتی پر یہ دل برے طریقے سے آ گیا ہے جب تک وہ میسر نہیں ہوئی شایان عثمانی یوں ہی در بدر پھرتا رہے گا خالی ہاتھ۔”
وہ ان سے پیار لیتا باہر نکل گیا شام کے سات بج گئے تھے لیکن اسے ابھی تک لوکیشن نہیں ملی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“سر آپ کی امانت کو آپ کی بتائی جگہ پر پہنچا دیا ہے۔”
ائیرپورٹ کے قریب ہی کسی ہوٹل میں اسے پہنچاتے فروہ نے اسے پیغام پہنچا دیا تھا جس نے اسے وہاں سے نکلنے کو کہا۔
اور اس کے نکلتے ہی وہ اندر داخل ہوا تھا۔
بھاری بوٹوں اور چہرے پر سنجیدگی کے تاثر لیے وہ فرشتے کے قریب بڑھا اور پھر اس کے بیڈ کے ساتھ پڑی کرسی پر بیٹھا جو اب بھی بیہوشی کی حالت میں ہی تھی۔
اس کے چہرے پر اپنے ہاتھ کی پشت کو پھیرا تو وہ نیم بیہوشی میں ہی کسمسائی جیسے بیہوشی میں بھی یہ لمس پسند نہ آیا ہو۔
وہ شخص کرسی سے اٹھا اور پھر اس کے ساتھ بستر پر بیٹھا جیسے دل کو اس کا دور بیٹھنا برداشت نہ ہوا ہو۔
اس نے فرشتے کے چہرے پر پھر سے ہاتھ کی پشت پھیری اور پھر اس کی آنکھوں کو انگلی کی پوروں سے چھونے لگا۔
فرشتے نے زرا سی آنکھیں کھولیں اور اس شخص کو قریب دیکھا تو آنکھیں پھر سے بند کیں۔
ہنی؟ ازلان اظہر جھکا اور اپنے لبوں کو اس کے چہرے پر جابجا رکھنے لگا۔
فرشتے نے اس کا چہرہ ہاتھوں میں تھاما اور پھر خود سے دور کیا جو ازلان اظہر کو بالکل پسند نہ آیا تھا۔
وہ زرا پھر کے لیے جھکا اور اس کے نچلے ہونٹ کو قید میں کرتے اپنی تشنگی مٹانے لگا۔
اسے اس دنیا میں وہ اک لڑکی تھی جو بے بس کرتی تھی جس کی قربت کی چاہ اس میں مرتے دم تک ختم نہیں ہو سکتی تھی۔
“دور ۔۔۔رہو۔۔۔!”
وہ اب بھی اس دوا کے زیرِ اثر تھی جو اسے دی گئی تھی کیونکہ ازلان اظہر نہیں چاہتا تھا وہ اسے پورے ہوش و حواس میں ملے۔
حوش و حواس میں وہ کہاں اسے خود کے نزدیک آنے دیتی اور ازلان اظہر میلوں دور اس کی خوشبو اور لمس کے لیے ہی تو تڑپا تھا۔
“تم سے دور ہی رہا ہوں میں مہینوں اور تم نے یہاں رہتے میری ہر حکم کی خلاف ورزی کی ہے ہنی سزا تو بنتی ہے نا۔”
وہ کہتا جھکا تھا اور اب کی بار اس کی گردن پر آہستگی سے لب رکھنے لگا تھا۔
فرشتے ازلان اظہر پر وہ اپنا لمس مرتے دم تک بھی سخت نہیں کر سکتا تھا اب کیونکہ پچھلی بار جو اس نے غصے میں کیا تھا اس کی سزا وہ ہر روز خود کو دیتا تھا۔
“اذیییی!”
وہ اس کے کندھے کو پکڑتے اسے پکار رہی تھی اور یہی تو ازلان اظہر چاہتا تھا کہ وہ اس کے حواسوں پر چھایا رہے بس پھر چاہے کسی بھی روپ میں۔
فرشتے ازلان اظہر وہاں ہزار حسن ہوتے ہوئے بھی یہ دل تمہارے علاؤہ کسی کے لیے نہیں دھڑکا۔
“اس خوشبو کے لیے تڑپا ہوں میں!” وہ کہتا اس کے لبوں کو پھر سے قید کر چکا تھا۔
فرشتے نے اس کی گردن میں بازو باندھے تو وہ سارے بند توڑتا اس کی خوشبو خود میں مسلسل سماتا چلا گیا۔
نجانے دوبارہ کب موقع ملتا وہ دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر کچھ دیر کے لیے گھنٹوں کا سفر کرتا صرف فرشتے ازلان اظہر کی خوشبو اور لمس کے لیے پاگل ہوتا آیا تھا۔
وہ تھوڑا اونچا ہوا تو وہ بند کھلی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی اور پھر مسکرا دی۔
ازلان اظہر نے دل میں مہنیوں بعد سکون اترتا محسوس کیا۔
“کاش تم یہ سب اپنے حواسوں میں کرتی” وہ کہتا اس کے گال چومنے لگا۔
“فرشتے ازلان اظہر یہ بات کبھی مت بھولنا کہ ازلان اظہر تمہارے لیے پاگل ہے، بے حد دیوانہ اور میری دیوانگی اس بات سے واضح ہوتی ہے کہ میں لاکھوں کی میٹنگ چھوڑتا گھنٹوں سفر کر کے صرف تمہارے لیے آیا ہوں” وہ بولا تھا وہ پھر سے مسکرا دی۔
“میری آنکھیں کیوں۔۔۔نہیں کُھل رہی۔۔۔؟”
“یہ میرے جانے کے بعد کُھلے گیں میری جان” ازلان اسے حصار میں لے گیا۔
“سر اس حسن نامی شخص کو پکڑ لیا گیا ہے کیا کرنا ہے آگے؟” اسے اطلاع دی گئی تو اس نے فرشتے کو دیکھا۔
“میں آرہا ہوں دس منٹ میں۔”
“اوکے سر اس کے بعد آپ کی فلائٹ ہے۔”
اوکے! وہ کہتا فرشتے کے نزدیک ہوتے ایک آخری بار اس کی خوشبو خود میں اتارنے لگا۔
ازلان نے اسے جھٹکے سے اٹھا کر بٹھایا جیسے اسے کچھ ہوش میں لانے کی کوشش کی ہو اور چہرے پر سرد تاثرات سجا لیے۔
“فرشتے مجھے سُن رہی ہو؟”
ازلان۔۔۔۔!
فرشتے نے آنکھیں کھولتے اس کے چہرے کو چھونا چاہا جیسے یقین کر رہی ہو کہ وہ واقعی موجود ہے یا نہیں۔
“تمہیں سمجھایا تھا نا کہ تمہیں ان دوستوں سے دور رہنا ہے ازلان نے اس کے بازوؤں سے تھامتا سخت لہجے میں بولا تو وہ سہم گئی لیکن کوئی حرکت نہ کر پائی۔
کل سے تم گرلز کالج جاؤ گی اور اگر دوبارہ لیپ ٹاپ توڑا تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہو گا۔”
“فروہ؟”
اس نے نمبر ملایا اور فون کان سے لگایا اور اسے دیکھا جو بند ہوتی آنکھوں کو زبردستی کھولے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
“فرشتے کو گھر پہنچاؤ اور میرے بیگ سے لیپ ٹاپ نکال کر پہنچا دینا اور اٹھنے کے بعد اس کو دوا دینی ہے تاکہ سر میں درد نہ ہو” وہ اسے سب سمجھا رہا تھا۔
اوکے سر! فروہ نے تابعداری سے کہا۔
“تم کل سے ساتھ رہو گی فرشتے کے کالج میں انتظام میں کروا چکا ہوں سارے۔”
جی سر! اور کال کاٹ دی گئی۔
ازلان واپس مڑا اور اس کی طرف آیا۔
“جلد ملاقات ہو گی آپ سے زندگی!”
وہ جھکتا اس کے چہرے پر جابجا لمس چھوڑتا پیچھے ہوا اور پھر بنا پیچھے مڑے واپسی کے راستے پر نکل گیا۔
اس نے حسن پر کیس کرتے اسے اریسٹ کروایا تھا اور واپسی کی فلائٹ پکڑ چکا تھا اب اسے سارا کام مکمل کرنا تھا وہاں کا۔
فرشتے کو فروا جیسے لائی تھی ویسے واپس پہنچا چکی تھی۔
لیکن یہ ملاقات فرشتے اور ازلان اظہر دونوں ہی نہیں بھولنے والے تھے۔
