220.5K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Tera Sarmaya Ho Episode 8

Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf

کچھ ہی دیر میں وہ سو گئی تھی۔۔۔کیونکہ ساری رات وہ سو نہیں سکی تھی۔

شایان نے اس کی سیٹ کو پیچھے کی طرف کیا اور گاڑی تیزی سے چلاتے وہ کتنے کی گھنٹے ڈرائیو کرتا رہا تھا اور وہ اب تک نہ اٹھی تھی۔

“کونین؟ اٹھو ہم پہنچ گئے ہیں۔”

کونین نے اٹھتے دیکھا وہ کسی ہوٹل کی پارکنگ تھی۔

“کیا ہم یہاں رکیں گے؟”

“نہیں مجھے فائل لینی ہے ایک یہاں سے۔۔۔۔میں آتا ہوں” وہ کہتا چلا گیا تو وہ بھی باہر نکل گئی کمر تھک گئی تھی مسلسل بیٹھے رہنے سے۔

پارکنگ کے دوسری طرف ہی باغ تھا چھوٹا سا جہاں بچے کھیل رہے تھے۔

وہ قدم بڑھاتی باغ کے داخلی دروازے پر کھڑی ہو گئی۔

اور بچوں کو کھیلتا دیکھنے لگی۔

“سُنیں؟” ایک خوبصورت آواز نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔

وہ پیچھے مُڑی تو وہ کوئی چوبیس پچیس سالہ خوبصورت نوجوان تھا جو اس سے مخاطب تھا۔

“جی؟”

“آپ کی چادر!”

اس نے جُھکتے اس کی چادر کا پلو کیچر سے اٹھایا اور اپنے ہاتھ سے صاف کرنے لگا۔

کونین نے اس کے چہرے کو دیکھا کتنا پُرسکون تھا اس کا چہرہ، اس کی زات اُسے سمندر کے خاموشی سے بہتے پانی کی طرح لگی وہ فوراً سے نگاہیں ہٹا گئی۔

لیکن اس کے ہاتھ دیکھے جو اب گندے ہو گئے تھے اس کی چادر پر لگے کیچر سے۔

“شکریہ!” وہ اتنا ہی بول پائی۔

“آئیندہ دھیان رکھیے گا!” وہ پھر سے بولتا کونین کو متوجہ کر گیا۔

کیا کوئی مرد اتنے پُرسکون بھی ہوتے ہیں وہ آگے بڑھ گئی اور باغ میں موجود بینچ پر بیٹھ گئی۔

وہ باغ کے ایک کنارے پر بیٹھا تھا اس کے قریب اب بچے اکٹھے ہو رہے تھے کیونکہ عصر کا وقت ہو رہا تھا۔

“فارس بھائی تلاوت نہیں سنائیں گے آج؟”

کسی بچے نے کہا تو وہ مسکرا دیا شاید وہ یہاں رہتا تھا یا آتا جاتا رہتا تھا اسی لیے بچے اس سے مانوس تھے۔

پھر سورۃ یٰسین کی تلاوت کرنے لگا۔۔۔کونین کی نگاہیں اس شخص کے چہرے پر چپک گئیں۔

اس کی آواز۔۔۔۔اپنی زندگی میں وہ پہلی بار کسی مرد سے متاثر ہوئی تھی وہ ٹکٹکی باندھے اسے دیکھ رہی تھی۔

سب بچے بھاگ گئے تو اس شخص نے خود کو نظروں کے حصار میں محسوس کرتے سامنے دیکھا جہاں کونین اسے ہی دیکھ رہی تھی۔

وہ قدم بڑھاتی اس کی طرف آئی۔

“آپ کی آواز بے حد خوبصورت ہے!” وہ کہہ گئی اور قدم باہر کی جانب اٹھائے۔

“کونین؟؟” وہ شخص بولا تو وہ جھٹکے سے واپس مُڑی۔

“آپ مجھے کیسے جانتے ہیں؟”

“آپ کے بابا کو میں ہی کلینک میں دیکھ رہا تھا میرے بابا کے ساتھ ۔۔۔۔۔انہوں نے آپ کی تصویر دکھائی تھی ایک روز بابا کو تب میں نے بھی آپ کو دیکھا تھا۔”

اووو!

“خاور انکل کیسے ہیں؟”

“ٹھیک ہیں ہسپتال میں داخل کروا دیا ہے اب وہ بہت بہتر ہیں پوچھنے کا شکریہ” وہ مسکرا دی۔

شایان جو کھڑکی کے پاس کھڑا فائلز کا انتظار کر رہا تھا اس کی نظر باغ میں موجود اس منظر پر پڑی تھی۔

پھر کونین کے قدم اس شخص کی طرف اور اب اس کو مسکراتے دیکھ اس کے پورے جسم میں انگارے لوٹنے لگے۔

وہ بنا فائیل لیے ہی لفٹ سے تیزی سے نیچے آیا تھا۔

تب وہ گاڑی میں جا کر بیٹھ چکی تھی۔

شایان نے اسے جھٹکے سے کھینچتے باہر نکالیا۔

“کیا کر رہے ہیں؟” وہ سہمی۔

“وہ کون تھا؟”

“آپ مجھ پر شک کر رہے ہیں؟”

وہ بے یقین نہیں تھی شاید شایان عثمانی سے وہ ایسی ہی امید کر سکتی تھی۔

“بتاؤ!”

“کیوں بتاؤں میں آپ کو؟ اگر آپ مجھ پر شک کر رہے ہیں تو شک ہی سہی۔۔۔۔۔۔۔”وہ نگاہیں پھیرتی بولی۔

وہ اس کا ہاتھ تھامتا اندر لایا وہ کچھ نہیں بولی تھی۔۔۔

ایک کمرہ فوراً لیا تھا اس نے۔۔۔۔فائل تو اب وہ لے ہی لیتا۔۔۔۔آرام کرنے کا وہ پہلے ہی سوچ چکا تھا لیکن کونین خاور سے باز پرس ضروری لگا تھا اسے۔

اب بتاؤ۔

“کیا بتاؤں؟”

شایان نے آگے بڑھتے اس کی چادر اتاری تو کونین نے اسے جھٹکے سے سر اٹھتے دیکھا۔

“چادر بدلو اپنی۔۔۔۔اس کی ہمت کیسے ہوئی تمہارے چادر کو چھونے کی۔۔۔”

“یہ حق صرف شایان عثمانی رکھتا ہے وہ نہیں کہہ پایا۔۔۔۔”وہ اس پر شک نہیں کر رہا تھا نہ کر سکتا تھا اس کی زات کو اتنا تو جان گیا تھا لیکن کسی کی طرف اُس کے بڑھتے قدم اسے ناگوار گزرے تھے۔

کونین نے اسے دیکھا جیسے کہہ رہی ہو کہ کیا اس کے علاؤہ کوئی چادر اس کے پاس ہے؟

اس کا بیگ گاڑی میں تھا۔

شایان نے اپنی چادر اپنے کندھوں سے اتاری اور اس کے سر پر رکھی۔

پھر اسے دیکھنے لگا۔۔۔وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔

تم نے اس کی طرف قدم کیوں بڑھائے؟ شایان نے اس کے نزدیک ہوتے پوچھا۔

“آپ کو بُرا لگا؟”

میرے سوال کا جواب دو کونین شایان عثمانی!

وہ دھاڑا تو کونین نے اسے دیکھا جو انجانے میں اس کے نام کے آگے اپنا نام جوڑ گیا تھا۔

“اس کی آواز کافی پرسکون تھی وہ خوبصورت تلاوت کر رہا تھا بس میں نے تعریف کر دی۔۔۔”کونین نے گہرا سانس بھرتے اسے بتایا۔

“میں سیکھ کر تمہیں سُناوں گا۔۔۔۔”وہ یک دم فیصلہ کر گیا کہ اسے تلاوت کرنا سیکھنا تھا جلد از جلد۔

” لیکن آئیندہ تم نے کسی کی طرف یوں پیش قدمی کی تو تمہیں جان سے مار دوں گا” وہ نجانے کیوں لیکن آپے سے باہر ہو رہا تھا۔

“کیا میں نے آپ کو آپ کی آفس کی لڑکیوں سے دور رہنے کا کبھی کہا ہے؟”

“تم کہہ بھی نہیں سکتی!” وہ دور ہوا تو کونین قدم اٹھاتی اس کی طرف آئی۔

“کیوں؟ کیا مجھے ناگوار نہیں گزر سکتی آپ کی پیش قدمی؟” وہ اس سے سوال کر رہی تھی۔۔۔۔شایان عثمانی لاجواب ہوا۔

اس سوال کی طلبی پھر کبھی کرنا۔۔۔وہ ٹال گیا تھا اسے

“فریش ہو جاؤ میں کھانا منگوا رہا ہوں” وہ کہتا باہر نکل گیا تو استہزایہ سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر پھیل گئی۔

دونوں کے جذبات بدل رہے تھے لیکن دونوں میں سے جُھکنے کو تیار کوئی بھی نہیں تھا۔

کہنے کو بہت کچھ تھا لیکن مناسب لفظ نہیں تھے کہنے کو ان کے پاس۔۔۔۔اس نے لاشعوری طور پر شایان عثمانی کو اپنا شوہر بچپن سے مان لیا تھا۔

“کبھی کہنے کو بہت کچھ ہوتا ہے مگر کوئی سننے والا نہیں ہوتا کبھی سننے والے ہزار ہوتے ہیں پر ہمارے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہوتا کبھی ہمارے پاس لفظوں کا مجموعہ ہوتا ہے اور کبھی تلاشنے پر بھی الفاظ نہیں ملتے کبھی ہماری بات کے ہر لفظ کا کوئی مفہوم ہوتا ہے اور کبھی کسی گفتگو کا کوئی جواز ہی نہیں ہوتا کبھی احساسات دل پر حاوی ہو جاتے ہیں اور کبھی دل ہر احساس سے عاری ہوتا ہے کبھی لگتا ہے زندگی رنگوں سے بھرپور بے اور کبھی ہر رنگ ہی پھیکا لگنے لگتا ہے کبھی انسانوں میں ہزار خوبیاں دکھنے لگتی ہیں اور کبھی ہر شخص ہی بیکار لگتا ہے کبھی لگتا ہے مسکراہٹ لبوں سے جدا ہی نہیں ہو گی اور کبھی لگتا ہے مسکراہٹ کے لیے وجوہات کو ڈھونڈنا پڑتا ہے کبھی لگتا ہے مجھ سے زیادہ کوئی مطمئن ہی نہیں اور کبھی لگتا ہے افسردگی بنی ہی میرے لیے ہے۔”

وہ مسکراتی وہیں بیٹھ گئی۔

کھانا کھاتے ان دونوں میں کوئی بات نہیں ہوئی تھی وہ کھانا کھا کر لیٹ گیا تو وہ وہیں کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔

شایان عثمانی اسے کتنی ہی دیر دیکھتا رہا پھر نیند کی وادیوں میں کھو گیا۔

وہ جب بور ہونے لگی تو باہر نکل گئی۔۔۔۔کسی کی شادی تھی اس ہوٹل میں وہ وہیں صوفے پر بیٹھتے لوگوں کو دیکھنے لگی۔

اسے وہاں بیٹھے کافی وقت ہو گیا تو اس نے اپنے سامنے صوفے پر پڑی میگزین اٹھا لی اور اس کی ورق گزدانی کرنے لگی۔

“یہ چادر بھی اچھی ہے!” وہی لڑکا وہاں سے گزرا اس کو دیکھتا اس کے پاس آتے بولا۔

شکریہ!اب کی بار کونین نے اسے دیکھا بھی نہیں تھا۔

شایان عثمانی کو پسند نہیں آیا تھا اس کے دل نے کہا تو وہ فوراً دل کو ڈبٹنے لگی۔

“جی کیونکہ یہ میری چادر ہے اور میری بیوی پر میری چیزیں کافی اچھی لگتی ہیں”

شایان نے کہتے قدم کونین کی طرف بڑھائے جو اسے ہی دیکھ رہی تھی کہ وہ کیسے ہر اس وقت پر آجاتا تھا جب وہ کسی اور کے ساتھ ہوتی تھی۔

“چلیں بیوی ہمیں نکلنا ہے!”

وہ اسے بولا تو کونین اس شخص کو دیکھتی جو اب حیرت سے انہیں دیکھ رہا تھا شایان کے پیچھے کمرے میں آئی۔

“چلو ہمیں نکلنا ہے؟”

“یہ کیا کہا آپ نے اُسے؟ اگر بابا کو پتا چل گیا تو؟”

“تو؟ میں تمہارا “محرم رشتہ” ہوں!”

“کیا اس سے پہلے کسی سال میں آپ کو اپنے محرم رشتے کا خیال نہیں آیا؟” وہ اس کے سامنے آتی بول گئی۔

“نہیں! لیکن مجھے افسوس ہے اس بات کا۔”

“آپ کو ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا اور میں نہیں چاہتی آپ دوبارہ مجھے کسی کے سامنے اپنی بیوی۔۔۔۔۔”

شایان عثمانی نے اسے بازو سے پکڑتے اپنے قریب کیا وہ سمجھ بوجھ سے کالج کی طالب علم کہیں سے نہیں لگتی تھی شاید حالات نے اسے کافی سمجھدار کر دیا تھا۔

“کیوں نہ کہوں میں تمہیں بیوی؟” وہ اس پر جھکا تھا۔

کونین کو اس کی خوشبو اپنے حواسوں پر چھاتی محسوس ہوئی۔

“شایان۔۔۔”

“میں سُن رہا ہوں!” وہ اس پر مزید جھکا!

“میں صرف آپ کے ہاں کام۔۔۔۔بابا کے۔۔۔”

“مجھے یہ رشتہ نبھانا ہے!” شایان عثمانی کہتا اس پر جھکا اور اس کی آنکھوں کو چوم گیا۔

کونین نے بی یقینی سے اسے دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

اسے لگا اس نے غلط سنا ہے!

لیکن۔۔۔

“میری بیوی ہو تم۔۔۔اور شایان عثمانی اپنی بیوی سے نبھا چاہتا ہے” وہ پھر سے جھکا اور اس کے دائیں گال کو چوما۔

کونین کا سانس پھولنے لگا کیا یہ کوئی خواب تھا۔

کیا وہ اس کے ساتھ کوئی گیم کھیل رہا تھا؟ اتنی جلدی محبت کیسے ممکن تھی؟

وہ نہیں جانتی تھی کہ محبتوں کے الہام ہونے میں تو پلک جھپکنے تک کا وقت درکار ہوتا ہے محض!

“کیا آپ کو مجھ سے محبت ہو گئی ہے؟” وہ تیزی سے بولی۔

اس کے نزدیک شاید محبت ہونا سب کچھ تھا۔

لیکن شایان عثمانی کے نزدیک لگاؤ اور کسی کی تڑپ لگ جانا سب کچھ تھا۔

“نہیں!” جواب بھی اتنی تیزی سے آیا تھا۔

“بس جو میرا ہے وہ میرا ہی رہے گا ہمیشہ۔۔۔میں اپنی چیزوں سے دستبردار نہیں ہوتا کبھی۔۔۔تم پر بس میرا حق ہے یہ بات جان لو۔۔۔”

کونین بہت کچھ اس سے پوچھنا چاہتی تھی بہت کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن اس وقت اسے سب بے معنی لگا۔

“مجھے بھوک۔۔۔”

“تم نے ابھی کھانا کھایا ہے!” اس کی چادر کو ماتھے پر کھینچتا وہ اسے بتا رہا تھا۔

“مجھے سانس۔۔۔”

“تمہاری دھڑکنوں کی آواز میں یہاں تک سُن سکتا ہوں اس لیے یہ سب بے معنی ہے۔”

“نہیں یہ حقیقت نہیں ہے یہ کوئی گیم ہے۔۔۔۔آپ سب کی گیم؟”

وہ اسے دھکا دیتی بولی تو وہ خوبصورت صحر لمحوں میں ٹوٹا جو شایان عثمانی کو ناگوار گزرا تھا۔

“شایان عثمانی ایسی چھوٹی حرکتیں نہیں کرتا۔۔۔اور آئیندہ مجھے یوں جھٹکنا نہیں” وہ اسے باور کرواتا بولا۔

“آپ مجھ پر حکمرانی نہیں کر سکتے!”

وہ نم آنکھوں سے بولی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔

“میں کر سکتا ہوں اور میں کروں گا!”

وہ مسکرایا پھر اس کے کندھے پر جھکا تو وہ سانس روک گئی وہ کئی لمحے اپنے لب اس کے کندھے پر جمائے کھڑا رہا۔

“میری عزت ہو تم۔۔۔اور عزت سے بڑھ کر شایان عثمانی کو تو اپنا آپ بھی نہیں.”

وہ کہتا پیچھے ہٹ گیا تو وہ اپنی سانسوں کی رفتار کو مدھم کرنے کی جستجو میں لگ گئی۔

“بس آپ میری عزت کی حفاظت کر لیں تو کونین خاور آپ کی۔۔۔۔۔” وہ دل میں بولی اس کے سامنے بولنے کی پوزیشن میں نہیں تھی وہ۔

شایان اپنی فائل اٹھاتا سامان سمیٹتا اس کا ہاتھ تھامتا باہر نکل گیا۔

وہ بھی کٹی ڈور کی مانند اس کے ساتھ گھسیٹتی چلی جا رہی تھی۔

شاید قمست کے حال پر چھوڑ دیا تھا اس کے نازک دل نے اسے۔۔۔۔اب فیصلہ قسمت کے ہاتھوں تھا اسے کسی قیمتی موتی کی طرح محفوظ کیا جاتا یا رسوائی اس کا مقدر بنتی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فرشتے نے اپنے کمرے میں قدم رکھا اور بستر پر لیٹتے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔

بوا جو اپنا سامان سمیٹ رہیں تھی اس کے یوں واپس آتے ٹھہر گئیں اور اس کے پیچھے اندر داخل ہوئیں۔

“کیا ہوا فرشتے؟ گڑیا ۔۔اٹھو بتاؤ!”

لیکن وہ مسلسل رو رہی تھی۔۔۔وہ حیران ہوئی کہ وہ جاتے وقت بے حد خوش تھی اور اب۔

“بوا انہو۔۔۔انہوں۔۔نے۔۔۔مجھ۔۔۔مجھے۔۔۔”

“کیا ہوا؟ ازلان کو فون کروں”؟ انہوں نے اسے اٹھا کر سیدھا بٹھایا۔

“انہوں نے مجھے۔۔۔چھوڑ۔۔۔دیا ہے۔۔۔”وہ سسکیاں بھرتے بولی۔

“ایسے کیسے چھوڑ دیا ہے؟ میں بات۔۔۔”

“نہیں۔۔۔۔انہوں نے کہا ہے اب وہ مجھے فرشتے کو کبھی بھی پسند نہیں کریں گے” وہ ہچکیاں لیتی انہیں سب بتانے لگی۔

بوا نے اسے سلاتے ازلان کا نمبر ملایا جو بند جا رہا تھا۔

اففف خدایا! وہ بے حد پریشان تھی۔۔۔

وہ رات تک وہیں اس کے ساتھ بیٹھی رہیں تھی جسے اب بخار ہو گیا تھا۔

انہوں نے بمشکل رات گزاری اور صبح ازلان کا نمبر ملایا بیل جا رہی تھی لیکن جواب موصول نہیں ہوا تھا۔

وہ پریشان ہو گئی۔۔۔ایسا تو کبھی نہیں ہوا تھا کہ ازلان نے ان کی کال نہ اٹھائی ہو۔

وہ اس کے کمرے میں گئی جہاں وہ اب تک سو رہی تھی تو وہ واپس آگئیں۔

ان کا فون بج رہا تھا جس پر ازلان نہیں۔۔۔۔اعظم اظہر کا نام چمک رہا تھا۔

“اسلام علیکم بوا؟”

“وعلیکم السلام؟”

“بوا فرشتے کہاں ہے؟”

“سو رہی ہے” وہ الجھی ہوئیں سی بولیں۔

“میں کل واپس آرہا ہوں لیکن آپ کسی کو مت بتائے گا۔۔۔۔میں اسے سرپرائز دینا چاہتا ہوں” وہ نجانے کیا کیا بول رہا تھا اور وہ بس ہوں ہاں میں جواب دے رہی تھیں۔

اس کی کال کٹتے ہی انہوں نے دوبارہ ازلان کا نمبر ملایا کال اٹھا لی گئی تھی لیکن وہ بولا کچھ نہیں۔

“ازلان؟”

جی بوا؟

کیسے ہو؟

ٹھیک ہوں!

“کیا ہوا ایسا۔۔۔۔فرشتے کیوں رو رہی تھی کل؟”

وہ جانتی تھی لیکن اس سے استسفار کرنا بہتر جانا انہوں نے۔

“کیا ضروری ہے ہم فرشتے کے بارے میں ہی بات کریں؟” وہ بولا تو وہ دنگ رہ گئیں۔

آج وہ فرشتے حیدر کی زات کے بارے میں بات کرنے سے انکاری تھا۔۔۔وہ ازلان اظہر جس کی زندگی کے کئی برسوں کا موضوع فرشتے حیدر رہی تھی۔

“کیا تم نے اسے چھوڑ دیا ہے؟”

بوا!

“اعظم کل واپس آرہا ہے۔۔۔۔”

خاموشی چھا گئی۔۔۔۔لمبا دورانیہ۔۔۔وہ خاموش ہو گیا تھا۔

“تم کہاں ہو واپس آؤ۔۔۔اس سے بات کرو اسے بخار۔۔۔۔”

“بوا میں اس وقت ملک سے باہر ہوں۔۔۔میں کینیڈا میں ہوں اس وقت!”

“ازلان پتر تیرا دماغ خراب ہے۔۔۔چھوٹی سی بحث پر تو ملک چھوڑ گیا؟” حیرت ہی حیرت تھی۔

“بوا بات چھوٹی نہیں تھی۔۔۔میں نے اس لڑکی کو اپنی زندگی کے سالوں دیے ہیں اور پتا ہے ان سالوں میں بھی میں اعظم بھائی کے جانے کا جو خلا تھا وہ پُر نہیں کر پایا۔۔۔میری قمست میں ہمیشہ دوسرا نمبر آیا ہے۔۔۔میں نے ہر بار یہ کڑوا گھونٹ پیا ہے لیکن وہ لڑکی جو میرے نکاح میں ہے اگر مجھ پر کسی کو فوقیت دے تو یہ بات میری عزتِ نفس کو گوارہ نہیں۔۔۔میں نے اس سے اپنے سالوں کا حساب مانگا تو وہ کہیں کی نہیں رہے گی لیکن ایسا نہیں کر سکتا میں۔۔۔اس سے محبت میں نے اپنی نوعمری میں کی تھی جب مجھے شاید محبت لفظ کا مطلب بھی نہیں پتا تھا۔”

“ازلان پتر واپس آ۔۔۔سب سنبھال لے۔۔۔وہ اپنا لے گی تجھے ۔۔”

“نہیں بوا۔۔۔۔اس نے مجھے نہیں اپنایا اسے مجھ سے محبت نہیں۔۔۔۔

اسے ہمیشہ سے اعظم اظہر چاہیے تھا۔”

“اور تو اعظم اظہر کو اپنی بیوی دے رہا ہے؟” وہ بھڑکیں۔

“نہیں! ہرگز نہیں اپنی بیوی سے تو میں مر کر بھی دستبردار نہیں ہوں گا۔۔۔۔اسے تو قبر میں جانے تک اس رشتے سے آزاد نہ کروں میں۔۔۔”

“تو پھر؟ کیوں چھوڑ گئے ہو!”

“دور آگیا ہوں کہ کہیں مجھے مجبور نہ کیا جائے کہ مجھے اس سے دستبرداری اختیار کرنی پڑے۔”

“تم اپنے باپ اور بھائی سے۔۔۔۔”

نہیں!

“مجھے صرف اس لڑکی سے ڈر لگتا ہے اگر اس نے مجھ سے علیحدگی کا مطالبہ کر دیا تو؟”

“میں تو جیتے جی یوں ہی مارا جاؤں گا۔”

“لیکن اسے میں تب تک میسر نہیں آؤں گا جب تک میری طلب اس کے جسم میں پور پور سرایت نہ کر جائے۔۔۔اس کی تڑپ میری سالوں کی بے چینی کو دور نہ کر دے۔

میں دیکھتا ہوں اب اعظم اظہر کے سامنے رہتے وہ ازلان اظہر کو یاد کرتی ہے یا نہیں؟”

“اور اگر وہ دونوں؟”

“پھر تو اس کی آزادی اور ایک محبوب کی موت تو دنیا دیکھے گی اور یاد رکھے گی۔”

خاموشی چھا گئی۔

“اسے بخار ہے دوا دیں اسے! مجھے کوشش کریں کم سے کم فون کریں” وہ کہتا کال کاٹ گیا۔

بوا نے ان دونوں کے حال پر رحم کھانے کی اپیل کی تھی خدا کے نزدیک۔

انہیں ازلان پر ترس آیا جس نے سالوں یوں ہی فرشتے کے پیچھے گزار دیے تھے اور اگر اسکے بعد بھی وہ اعظم اظہر کو چُنتی تو انہیں لگا کہ فرشتے حیدر سے زیادہ کوئی ہمدردی طلب اور بدنصیب نہ ہو گا یہاں۔

اب سارے فیصلوں کا دارومدار فرشتے کے ہاتھوں میں تھا۔

“اس کی بچپن میں کی جانے والا پسندیدہ شخص یا وہ جس نے اسے تحفظ فراہم کرتے نکاح میں لیا تھا۔”

فیصلہ بہت جلد ہو جانا تھا۔