Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf NovelR50407 Mein Tera Sarmaya Ho Episode 5
Rate this Novel
Mein Tera Sarmaya Ho Episode 5
Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf
وہ صبح کی تیاری کر رہا تھا۔۔۔۔یہاں کا کام دیکھنے کے بعد اسے آفس کا کام بھی دیکھنا پڑتا تھا یہاں کا کام وہ جہانگیر عثمانی کے کہنے پر دیکھتا تھا کہ ان کی کوئی بات ٹالنا اسے اچھا نہیں لگتا تھا اور بزنس وہ اپنے شوق پر کر رہا تھا۔
اس کا اپنا کپڑوں کا بزنس تھا۔۔۔۔اچھے فیشن ڈیزائنرز میں اس کا نام آتا تھا لیکن وہ اس نام کو اونچائیوں پر لے جانا چاہتا تھا۔
اپنا کام ختم کرتے وہ جہانگیر عثمانی کے کمرے میں گیا جو اس دیکھتے ہی اپنی جگہ سے پڑے ہوتے اس کی جگہ بنا چکے تھے۔
“برخودار دادا کی یاد کیسے آگئی؟”
“بس کریں دادا جان۔۔۔صرف کل نہیں آیا میں آپ کے کمرے میں اور آج آپ کیسے مجھے طعنے دے رہے ہیں بے وفائی کے۔”
“مجھے لگا ہمیں بھول گئے ہو!” وہ شرارت پر آمادہ تھے۔
“یہ تو ممکن نہیں” وہ انہیں مان بخشتا بولا۔
“ہاں میاں۔۔۔جب تمہاری بیوی آجائے گی تب پوچھیں گے تم سے۔”
“ہاہاہا ۔۔مجھے شادی نہیں کرنی آپ جانتے ہیں۔”
کیوں؟ وہ سنجیدہ ہوئے۔۔۔
“کیونکہ میں شادی شدہ ہوں پہلے سے!’
“وہ منکوحہ ہے تمہاری بس اور نجانے کہاں ہے کہاں نہیں۔۔۔اپنی زندگی میں آگے بڑھو” وہ سنجیدگی سے بولے۔
“میں نے کب بولا کہ اسے بیوی بنانا ہے مجھے۔۔۔۔ان باپ بیٹی سے مجھے کوئی لگاؤ نہیں” وہ اختیاطً خاور عثمانی کی طبیعت کا زکر چُھپا گیا تھا۔
“اچھا چلو سو جاؤ اب صبح تم نے جانا ہے آفس۔”
اوکے شب خیر! وہ ان کے ماتھے کو چومتا اٹھ گیا۔
سنو شان! وہ واپس مُڑا۔
“وہ لڑکی تمہارے کمرے میں موجود رہتی ہے لوگ باتیں۔۔۔۔”
“کیا شایان عثمانی کو لوگوں کی باتوں کی فکر ہوئی ہے کبھی دادا جان؟” وہ بولا تو وہ محض سر ہلا گئے تو وہ باہر نکل گیا۔
صبح وہ چاہ کر بھی جلدی نہ آسکی تھی کیونکہ اپنے باپ کی یاد شدت سے آئی تھی اسے رات بھر۔
اسی لیے صبح انہیں ملنے چلی گئی تھی۔۔۔آنکھیں نیند نہ آنے کی وجہ سے ہلکی سے سوجش کا شکار تھیں۔
وہ آدھہ گھنٹہ لیٹ تھی اس لیے دوڑتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔
“کیا ہو گیا ہے حسین لڑکی؟” موحد نے اسے دیکھے کہا۔
“شایان چلے گئے ہیں؟” وہ تیز سانسوں سے بولی۔
“شایان یا سر؟” وہ شرارت سے بولا۔
“وقت کی پابندی نہیں سکھائی تمہیں کسی نے؟”
شایان عثمانی کی آواز پر دونوں نے مُڑ کر اس کی طرف دیکھا۔
“آیم سوری۔۔۔میں بابا ۔۔۔۔۔”
چلو! اس نے مزید کوئی بات سنے بغیر کہا تو موحد نے منہ بسوڑا۔
“سنو حسین لڑکی!” وہ دونوں گاڑی میں بیٹھ رہے تھے جب موحد نے اسے پھر سے پُکارا۔
“واپسی پر تم سے دوستی کا ارادہ رکھتا ہوں میں اور بھائی سے پوچھ لینا میں کتنا اچھا دوست ثابت ہوتا ہوں”
وہ مسکراتے بولا تو وہ گاڑی میں بیٹھ گئی جہاں ڈرائیور نے گاڑی سٹارٹ کر دی تھی۔
“میرا ناشتہ کس نے بنانا تھا؟”
“یہ لیں۔۔۔بابا کے لیے بنایا تھا آپ کا بھی گھر میں ہی بنا لیا تھا” اس نے ریپر میں اچھے سے لپیٹے پراٹھے کی طرف اشارہ کرتے کہا۔
شایان نے ایک نظر اسے اور ایک نظر اس کے ریپنگ رول کو دیکھا۔
“کیا میں یہ سب کھاتا ہوں؟”
“مجھے لگا کبھی کبھار۔۔۔”
“اپنی قیاس آرائیاں میرے بارے میں مت لگاؤ!” وہ بولا تو کونین نے آنکھیں بند کر کھولتے اپنا ہاتھ واپس کھینچا اور بیگ میں واپس ڈال لیا۔
“موحد سے دور رہو!”
جی؟ اسے لگا اس نے غلط سنا ہے کچھ۔
“گھر کے کسی فرد سے بار کرنے کی ضرورت نہیں۔”
“بالکل! یہ میرے اپنے نہیں ہیں اور میں غیروں سے بات نہیں کرتی” وہ اسے دیکھ کر کہتی اپنے ہاتھ کو دیکھنے لگی تو وہ بھی سر جھٹک گیا۔
وہاں پہنچتے ہی افراتفری سی مچ گئی تھی۔۔۔شایان عثمانی کا رعب تھا یہ وہ اپنے کیبن میں گیا تو وہ بھی پیچھے اندر داخل ہوئی۔
“کافی بنا دو!” اس نے اسے دیکھتے کہا تو وہ سر ہلاتی باہر نکل گئی۔
کچن کا پوچھ کر اس کے لیے کافی بنائی ۔۔۔آج بھی گلابی شلوار قمیض پر اس نے چادر لے رکھی تھی لیکن چادر اس کی نہیں شایان عثمانی کی تھی۔
اور یہ بات اب تک خود شایان نے غور نہیں کی تھی۔۔اس کی چادر کل رات بارش کی وجہ سے سوکھ نہ پائی تھی اسی لیے اسے مجبوراً یہی لینی پڑی تھی۔
کافی ڈالتے کچھ چھینٹے اس کے ہاتھ پر پڑے تھے لیکن وہ نظر انداز کرتی جلدی سے اس کے آفس کی طرف بڑھی۔
“شان تم جا رہے ہو بس۔۔۔پلیززز۔۔۔!’
وہ باہر سے ہی ان کی آوازیں سُن سکتی تھی لیکن نوک کرنے کے لیے اس کا ہاتھ خالی نہ تھا اسی لیے دروازے کو پاؤں سے کھولتی اندر داخل ہوئی۔
جہاں وہ لڑکی اس کے سامنے میز پر بیٹھی اس پر جھکی ہوئی تھی۔
اس کے آنے پر بھی وہ ہٹی نہیں تو کونین نے ایک سرد سی ناگوار نظر اس شخص پر ڈالی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
شایان عثمانی کو وہ ایک نگاہ بہت کچھ سمجھا گئی تھی۔
“کومل ابھی جاؤ! میں کال کر لوں گا تمہیں۔۔۔۔۔”وہ اپنے فون پر کال آتے دیکھ بولا۔
اچھا واپسی پر مجھے بلا لینا ہمارے کیفے میں کچھ وقت بھی ساتھ گزار لیں گے وہ اس کے ناک پر ادا سے اپنی انگلی مارتی باہر نکل گئی۔
شایان اپنی کال سُنتا اسے دیکھنے لگا جو کافی رکھ چکی تھی۔۔۔اس نے اب کی بار اپنی چادر کو دیکھا جو اس نے خود کے گرد اچھے سے لپیٹی تھی۔
شان! وہ کافی رکھ کر مڑی ہی تھی کہ وہ کومل نامی لڑکی تیزی سے اندر آئی اور اس سے ٹکرائی۔
“تمیز نہیں ہے لڑکی؟” وہ کونین خاور پر چیخی تھی۔
“کیا مسئلہ ہے کومل؟ یہ آفس ہے میرا” وہ دھاڑا۔
“یہ تمہاری کام والی آندھی ہے کیا؟” کومل نے اسے دیکھتے پوچھا۔
“میں کام والی نہیں ہوں۔۔۔۔”کونین نے اسے اوپر سے لے کر نیچے تک دیکھتے کہا سرد سے انداز میں کہا۔
“شان یہ تو وہی چادر ہے جو تمہیں بہت پسند آئی تھی اور میں نے تمہیں تحفے میں دینا چاہی تھی لیکن تم نے خود ہی خرید لی تھی۔”
“تم نے اسے دے دی؟ زکوٰۃ کر دی اتنی جلدی ابھی پیسے تو پورے کر لیتے۔۔۔”کومل کو اس سترہ اٹھارہ سالہ لڑکی کا جواب دینا پسند نہ آیا تھا اسی لیے اپنا بدلہ لیتے اس کی تذلیک کر گئی۔
“کومل یو مے گو ناؤ!”
وہ بولا تو بس اتنا کونین خاور کو لگا تھا وہ اس لڑکی کی بولی اُس بات کی تردید کرے گا۔
اس کی آنکھیں یکا یک نمکیں پانی سے بھر گئیں۔
“میں اپنا فون بھول گئی تھی وہ لینے آئی ہوں غصہ مت کرو۔۔۔”وہ فون اٹھاتی باہر نکل گئی۔
اس کے جانے کے بعد کونین نے اسے دیکھا جو کافی اٹھا کر پینے لگا تھا اس سے یکسر انجان کہ ابھی کیا ہوا ہے۔
“مجھے کب تک یہاں رہنا ہے؟”
“جب تک میں موجود ہوں!” اس نے سرسری سے انداز میں جواب دیا۔
“میں باہر انتظار کر لیتی ہوں۔۔۔آپ کا کوئی کام ہے تو بتا دیں!” وہ بمشکل خود کے آنسوؤں کو قابو کرتی بولی۔
“نہیں ابھی نہیں!”
کچھ دیر بعد کھانا آرڈر کر دینا۔۔۔۔وہ کہتا اپنا کام کرنے لگا تو وہ باہر نکل گئی۔
پھر کام کرتے وہ شام کے چھ واپس اندر داخل ہوئی تھی۔
“میں جا سکتی ہوں؟”
جاؤ! وہ اب بھی مصروف ہی تھا۔
وہ باہر نکلی اور اس کے سیکرٹری کا پوچھتی اس کے پاس گئی۔
“علی آپ؟”
اس نے علی کو دیکھا وہ تو اسی کے محلے میں رہا کرتا تھا لیکن اب کچھ دیر پہلے ہی انہوں نے شفٹ کر لیا تھا اپنا گھر۔
“کونین؟ کیسی ہو؟ کیا تمہیں بھی یہاں نوکری مل گئی ہے؟”
جی بس یہی سمجھ لیں۔
آپ یہاں؟
“شایان عثمانی کا سیکرٹری۔۔۔۔”
آپ ایک کام کر دیں گے میرا۔۔۔
ضرور!
“یہ۔۔۔۔۔ “اس نے چادر اتاری اور اسے تھمائی اور اپنا دوپٹہ اچھے سے اوڑھا۔
“یہ آپ شایان عثمانی کو دے دیجیے گا اور کہیے گا خاور عثمانی نے اپنی بیٹی کو کسی کا صدقہ لینا نہیں سکھایا۔۔۔”اس کا لہجہ نم تھا۔
شایان عثمانی جو ان کی طرف آرہا تھا اس کی بات سن کر ٹھٹک کر رکا۔
“کیا کچھ ہوا ہے؟” علی نے کہا۔
نہیں! اس نے آنکھوں کے کنارے صاف کیے۔
“تم تو چادر کے بغیر نہیں جاتی باہر کونین۔۔۔۔ایسا کرو یہ میری جیکٹ لے لو۔۔۔۔”اس نے پیشکش کی جب شایان ان کے نزدیک آتا کھڑا ہوا۔
“نہیں علی شکریہ!”
“اور یہ آپ کھا لیں۔۔۔”اس نے وہی روک کیا پراٹھا اسے تھمایا
“چادر پکڑو اپنی!” اس نے سنجیدگی سے کہا۔
“میرا کام ہو گیا ہے میں گھر جا رہی ہوں!” کونین نے بنا اسے دیکھے کہا۔
“چادر اوڑھو اور باہر ڈرائیور کو بولو وہ چھوڑ آئے گا۔”
میں صدقے کی چیزیں نہیں لیتی! وہ کہہ کر مُڑ گئی۔
“کونین خاور!”
شایان نے اس کا ہاتھ تھاما اور اسے اپنے ساتھ لیتا باہر نکل گیا جہاں کئی لوگوں نے انہیں مُڑ کر حیرت سے دیکھا تھا۔
وہ سامنے کے مال میں اسے لیتا داخل ہوا جو مسلسل اپنا ہاتھ چھڑوا رہی تھی۔
آرام سے کھڑی رہو۔۔۔۔وہ تیز لہجے میں بولا تو اس کی مزاحمت تھمی۔
سر؟ وہ لوگ شاید اسے جانتے تھے اسی لیے تابعداری سے کھڑے ہوئے۔
“چادر دکھائیں!”
انہوں نے ایک سے بڑھ کر ایک چادر اسے دکھائی جس میں سے تین اس نے پسند کرتے پیک کروائیں تھیں۔
یہ لو!
“یہ عنایت کیوں؟”
“اسے پکڑو۔۔۔۔میرا وقت پہلے ہی بہت برباد ہو گیا ہے۔”
“آپ یہ کسی اور کو صدقہ کر دیں مجھے نہیں چاہیے۔”
“میں شوہر ہوں تمہارا!”
وہ یک دم بولا تو تلخ سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر پھیل گئی۔
“میں آپ کی منکوحہ ہوں شایان عثمانی۔۔۔۔اسی رشتے سے آپ اس غیر عورت کی بات جھٹلا دیتے تو شاید۔۔۔۔”
اس نے آنسو جھپکنے کی خاطر آنکھیں جھکا لیں۔
شایان عثمانی نے اس کے جھکے سر کو دیکھا۔
“علی کو کیسے جانتی ہو!” وہ بات بدل گیا تھا۔
“یہ میرا نجی معاملہ ہے” وہ کہتی آگے بڑھ گئی جہاں ڈرائیور موجود تھا اور اندھیرا اب چھا رہا تھا۔
وہ گاڑی کے پاس پہنچی۔۔۔
نکلو! شایان نے آتے ڈرائیور کو کہا تو وہ چلا گیا اس وقت اس جگہ پر وہی موجود تھے بس۔
شایان قریب ہوا تو وہ پیچھے گاڑی سے جا لگی۔
“نجی تو اب کچھ بھی نہیں رہا تمہاری زندگی میں۔”
وہ صرف حق جمانا جانتا تھا خود پر کسی کا حق نہیں سمجھتا تھا وہ۔۔۔نا کسی کو ایسا کوئی حق دیتا تھا وہ اتنا کونین سمجھ گئی تھی۔
“آپ کیا چاہتے ہیں مجھ سے شایان؟” اس نے نگاہیں اٹھا کر پوچھا تو شایان عثمانی تھم گیا۔۔
شایان نے اس کے دوپٹے کو دیکھا جو اس کے سر پر نہیں ٹک رہا تھا۔۔۔ایک چادر کو کھولتے اس کے سر پر رکھی۔
“میری والی بھی کل علی سے واپس لے لینا۔۔۔”وہ کہتا پیچھے ہٹا۔
“کیوں وہ اب میری جوٹھی ہو گئی ہے اس لیے؟” کونین کی آواز اسے آئی تھی جسے وہ نظرانداز کر گیا۔۔۔۔ڈرائیور کو بلاتے اس گھر چھوڑنے کا کہا۔
اندر جاتے علی سے چادر واپس لے لی۔
“کیا تم وہ پراٹھا کھا چکے ہو؟”
“نہیں سر ابھی۔۔۔۔”
وہ کونین خاور کی چیز کسی کے پاس نہیں چاہتا تھا۔۔۔یہ اعتراف بھی جلد اس پر ہونے والا تھا۔
“مجھے دے دو!”
اس نے کہا تو علی نے حیران ہوتے کونین کا دیا پراٹھے والا رول اسے پکڑا دیا جو وہ تھام کر باہر نکل گیا۔
گاڑی میں بیٹھتے اس نے وہ کھایا تھا اور اس کے ہاتھ کے زائقے کا قائل ہوا تھا لیکن اسے یہ کبھی نہ بتاتا وہ۔
وہ الگ شخصیت کا مالک تھا اسے سمجھنا بے حد مشکل تھا اور جب سے کونین خاور آئی تھی وہ شاید خود کو بھی نہیں سمجھ پا رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بے چینی سے یہاں وہاں کروٹیں بدل رہی تھی اور وجہ وہ جانتے ہوئے بھی جاننا نہیں چاہتی تھی۔
اس کا دل جس شخص کو پکار رہا تھا وہ تو مہینوں سے نہں آیا تھا۔
ازلان۔۔۔۔۔۔اس کے اندر کہیں ایک ہی نام گردش رہا تھا خون کی مانند۔
“وہ کیوں نہیں آتے؟”
اففففف! اب اس کا سانس پھول رہا تھا اس نے اٹھتے یہاں وہاں دیکھا پانی موجود نہیں تھا۔
بوا سو چکی تھیں وہ پانی پی کر واپس آگئی لیکن دل کو کسی طور قرار نہیں آرہا تھا۔
اس کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے یہاں اس خاموشی اور ویرانے میں وہ مر بھی جاتی تو کسی کو اندازہ نہ ہوتا۔
وہ بوا کے کمرے میں گئی اور ان کا فون اٹھاتی باہر نکل آئی۔
رات کا ڈیڑھ بج رہا تھا۔۔۔آج اس نے اپنی دوا نہ لی تھی جو روز بوا دیتی تھیں لیکن آج ان کی بھی طبیعت خراب تھی اس لیے وہ بھول گئیں تھی۔
اس نے کونٹیکٹ لسٹ نکالی۔۔۔
“ازلان اظہر”
“اعظم اظہر”
یہ نام ایک ساتھ ہی تو لکھے تھے۔
اعظم اظہر پر نگاہیں ٹکائے اس نے کال ملائی جو نہیں اٹھائی گئی تھی اور شاید اسے فرق نہیں پڑا تھا۔۔۔۔۔ازلان اظہر کے نام پر کلک کیا اور بیل جانے لگی اس کا سانس مزید پھولنے لگا تھا۔۔۔۔ہاتھ پسینے سے بھر گئے تھے۔
“کیا ہوا بوا؟ سب خیریت ہے؟” ازلان کی آواز گونجی تو اس نے جھٹ سے کال کاٹ دی۔
اس کی کال دوبارہ سے آئی تھی جو اس نے نہیں اٹھائی۔۔
ڈھائی بجتے ہی اسے رونا آنا تھا اور خود پر غصہ بھی۔
اس نے دوبارہ سے وہ نمبر ملایا۔
“کون بات کر رہا ہے؟”
اب کہ ازلان اظہر کی آواز گونجی شاید اسے بھی اندازہ ہو گیا تھا کہ رات کے ڈھائی بجے بوا اسے کال نہیں کریں گی۔
“آپ کو فرشتے کا نام تک بھول گیا ہے؟” وہ ہچکی بھرتے بولی۔
“کیوں فون کیا ہے؟”
وہ جو امید میں تھی کہ وہ اس سے حال پوچھے گا اس کی طبیعت پوچھے گا لیکن۔۔۔۔
“ازی۔۔۔”
ازلان اظہر! اس شخص نے سنجیدگی سے تصحیح کی۔
فرشتے نے گہرا سانس بھرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہی۔
“میں کال کاٹ رہا ہوں!”
فرشتے کے آنسو بھل بھل بہنے لگے ۔۔۔۔سانس اب اٹک کر آرہا تھا۔۔۔
اس نے فون وہی رکھ دیا اور اوندھے منہ لیٹ کر بکھرے سانس اور ہچکیوں سے رونے لگی۔
ازلان اظہر نے کتنے مہینوں بعد اس کی آواز سنی تھی۔۔۔وہ جو دل پر لاکھوں پہرے بٹھائے تھے لیکن اس کی آواز۔
وہ گاڑی کی چابیاں اٹھاتا فوراً باہر نکلا۔۔۔۔بخار تھا اسے صبح سے لیکن اُس زات کے لیے وہ پاگل تھا۔
“میرے لیے کسی کو کیوں نہیں بنایا!”
اس کی سرگوشی کمرے میں داخل ہوتے اس نے بخوبی سنی تھی اس گھر کی چابیاں اس کے پاس بھی موجود تھیں آخر وہ اسی کا گھر تھا۔
گھڑی تین کا ہندسہ عبور کر چکی تھی۔
اس کے پاس آتے اس کے پاؤں سے سلیپرز اتارے اور اسے سیدھا کرتے تکیے پر اس کا سر رکھا۔
وہ چہرہ سامنے تھا۔۔۔۔ازلان اظہر کو لگا وہ اپنے سارے پہرے خود ہی توڑ دے گا۔
اس کے چہرے پر مٹے آنسوؤں کے نشان تھے وہ نیند میں تھی شاید۔
ازلان خود کو بے قابو محسوس کرتا فوراً اس سے دور ہوا جب اپنا ہاتھ اس کی گرفت میں محسوس کرتے تھم گیا۔
“آپ ایسا نہیں کر سکتے ازی۔۔۔۔”وہ آنکھیں کھولے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
“تم ٹھیک ہو اب مجھے جانا چاہیے۔”
“نہیں میں ٹھیک نہیں ہوں!” ہاتھ اب بھی اس کی گرفت میں تھا۔
“آٹھ ماہ دس دن کا ہجر سہا تھا دونوں نے۔۔۔”
کمرے میں یک دم فون کی آواز گونجنے لگی تھی۔۔۔سکرین پر بلنک ہوتا نام اعظم اظہر کا تھا جو دونوں نے بیک وقت دیکھا تھا پھر کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
“ازلان!”
“سو جاؤ اور میرے نمبر کو دوبارہ مت ملانا مجھے دوسرا آپشن بننا کبھی پسند نہیں رہا۔”
“کیا آپ نے پہلا آپشن بننے کی کوشش کی ہے؟”
فرشتے نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا اور ایسے ہی سر تکیے پر رکھے استسفار کیا۔
وہ دروازے کی طرف بڑھ گیا اس کا کیا جواب دیتا اُسے ۔
“میرا جھولا لگا ہے اب تک؟”
“نہیں!” وہ سنجیدگی سے جھوٹ بول گیا تھا۔
“میرے جانے کے بعد مجھ سے منسلک کوئی چیز بھی آپ کو گوارہ نہ تھی ازلان اظہر؟ یا میں ہی کبھی گوارہ نہیں تھی آپ کو۔۔۔اگر ایسا تھا تو یہ زمے داری اپنے سر کیوں لی کسی اور ایرے غیرے کے سپرد کر دیتے۔۔۔۔”
وہ اس کے پاس آتا اس پر جھکتا اس کے چہرے پر گرفت سخت کر گیا۔
“خاموش رہو۔۔۔اور مجھے اکساؤ مت اگر میں حساب لینے پر آ گیا تو پچھتاؤ گی۔”
“اور میرے اتنے مہینوں کے حساب کا کیا؟” فرشتے نے اپنی جگہ چھوری اور کچھ پیچھے ہوئی۔
ازلان اظہر نے حیرت سے کنگ اسے دیکھا۔۔۔۔۔۔۔کیا وہ ٹھیک سمجھا تھا اس نے فرشتے کی آنکھوں میں دیکھا جہاں اقرار تھا۔
“وقت بہت ہو گیا ہے مجھے جانا۔۔۔۔”
“آپ مجھے خالی ہاتھ نہیں لوٹا سکتے ازی۔۔۔اگر اس بار میں خالی ہاتھ رہی تو یقین کریں چاہ کر بھی فرشتے ازلان اظہر آپ کو کبھی میسر نہیں ہو گی۔”
وہ کہہ کر آنکھیں موند گئی جب اسے وہ اپنے قریب لیٹتا محسوس ہوا۔
“کیا چاہ رہی ہو؟”
“اتنے مہینوں آپ نے نہیں پوچھا آج جان کر کیا کر لیں گیں؟”
“فرشتے؟”
ازلان نے اس کا بازو اس کی آنکھوں سے اٹھایا جو پھر سے گیلی تھیں۔
“کیا ہو گیا ہے؟ تمہارا سانس پھول رہا تھا۔۔۔ دوا لی تھی؟”
فرشتے جواب میں صرف اسے دیکھتی رہی۔۔۔۔وہ فاصلے پر تھے کچھ۔۔۔۔دونوں کے دل دھڑک رہے تھے تیزی سے لیکن پہل کرنے کو کوئی بھی تیار نہ تھا دونوں کو اپنے غم زیادہ بڑے نظر آرہے تھے۔
“آپ کو بخار ہے ازلان؟” وہ دونوں ایک دوسرے کو سمجھ گئے تھے آج اتنے مہینوں بعد بھی۔
“دوا لے لی تھی!” ازلان کہتا چھت کو گھورنے لگا۔
خاموشی کا دورانیہ بڑھا۔۔۔۔کہنے کو بہت کچھ تھا لیکن لفظ ترتیب نہیں دے پارہے تھے وہ۔
چلتا ہوں! ازلان نے کہتے اسے دیکھا۔
“میرا سانس پھول رہا تھا ۔۔۔۔”
وہ کہتی اپنا تکیہ اس کے تکیے کے قریب کرتی بولی تو ازلان اظہر اُٹھ نہ سکا وہ سمجھ گیا تھا کہ اس کی بیوی نہیں چاہتی کہ وہ اس وقت اس سے دور جائے۔
“اب کیسا محسوس کر رہی ہو؟” ازلان اظہر نے دل کا پہلا پہرہ توڑ دیا تھا۔
“آپ کو فرق پڑتا ہے؟”
“فرشتے!”
تنبیہ کی گئی تو فرشتے نے اسے دیکھا جو اس کی طرف ہاتھ بڑھاتا اس کے بال کان کے پیچھے اڑس رہا تھا دل پر بٹھایا دوسرا پہرہ بھی توٹ گیا تھا۔
آج میرے لمس سے کانپی نہیں تم فرشتے حیدر؟
میں نے سیکھ لیا ہے کہ کچھ لمس ہمارے اپنوں کے ہوتے ہیں! وہ سادگی سے بولی تو وہ مسکرا دیا اس کی مسکراہٹ کتنے ہی لمحے فرشتے دیکھتی رہی پھر خود بھی مسکرا دی۔
ازلان نے ہاتھ بڑھاتے اسے اپنی طرف کھینچا اور اس کے گرد حصار بنایا اور یوں دل پر بٹھایا آخری پہرہ بھی ٹوٹ گیا تھا۔
فرشتے نے اپنا چہرہ اس کی شرٹ میں چھپایا تھا جیسے آخری جائے پناہ ہو وہ جگہ۔
ازلان نے اس کے بالوں میں انگلیاں چلائیں تو وہ پُرسکون ہوئی۔۔۔مہینوں سے اسی لمس کو ترسی تھی تھی وہ۔
“اچھا لگ رہا ہے ازی!”
“مجھے خوشی ہوئی۔۔۔۔”ازلان نے کہتے اس کا چہرہ سامنے کیا تو وہ مسکرا رہی تھی دل سے اور اسی مسکراہٹ کی دعائیں تو اس نے سالوں سے کی تھی۔
“اب سانس ٹھیک سے آرہا ہے؟”
فرشتے نے سر نفی میں ہلایا جیسے مزید اس سے توجہ چاہتی ہو۔
ازلان اظہر نے جھکتے اس کے بالوں میں ہاتھ پھنسایا تو وہ یک دم پیچھے ہوئی۔
“آرہا ہے؟”
ازلان نے سخت نگاہوں سے اسے گھورا اور اس پر جھک گیا۔
