220.5K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Tera Sarmaya Ho Episode 10

Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf

کونین نے ویسا ہی کیا تھا جیسا اس نے کہا تھا پھر وہیں بیٹھ کر اسے دیکھنے لگی۔

خود کے گرد اس کا لمس اب بھی وہ محسوس کر سکتی تھی۔

شایان خود پر اس کی جمی نظریں محسوس کر سکتا تھا یک دم نظر اٹھا کر اسے دیکھا تو وہ خجل سی ہوتی نگاہیں پھیر کر اٹھنے لگی۔

“بیٹھی رہو!”

کونین واپس بیٹھ گئی۔

شایان نے اپنا آخری نوالہ اس کے آگے کیا۔۔۔۔کونین نے بے یقینی سے اسے دیکھا لیکن نہیں اس کا شوہر اس سے نبھاہ چاہتا تھا۔

اس کے چھوٹے سے دماغ میں یہ چیز نصب ہو گئی تھی اور اگر اس کا شوہر اس سے نبھاہ چاہتا تھا تو وہ کیوں نہیں۔

ایک عام عورت کی طرح اس نے اپنے سارے اعتراضات ایک طرف کر دیے تھے اسے بس اتنا سمجھ آگیا تھا کہ اسے یہ رشتہ نبھانا ہے اس کا پہلا اور آخری کسی مرد سے رشتہ، اس کے کچے دماغ نے شایان عثمانی پر مہر ثبت کر دی تھی۔

اس نے منہ کھولتے نوالہ منہ میں لیا اور مسکرا دی۔

شایان عثمانی نے اس مسکراہٹ کو دیکھا وہ شاید پہلی بار اس کے سامنے اس کے لیے یوں مسکرائی تھی۔

اسے بازو سے کھینچ کر اپنے ساتھ صوفے پر کرتا وہ اسے دیکھ کر رہ گیا۔

“اب سے میں یہی کھاؤں گا!”

وہ پراٹھے کا بتا رہا تھا۔

“آپ کی باڈی خراب نہیں ہو گی؟”

وہ دلچسپی سے سوال کر گئی تو وہ ہلکا سا مسکرا دیا۔۔۔بالکل ہلکی سی مسکراہٹ تھی وہ۔

“میں سنبھال لوں گا!”

“کیا تمہیں اب بھی ٹھنڈ لگ رہی ہے کونین؟” اسے مسلسل ہلتے دیکھ وہ پوچھ بیٹھا تو وہ سر ہاں میں ہلا گئی۔

“کیا میں اندر جاوں؟”

“نہیں اندر سے بلینکٹ لے کر آؤ!” وہ اسے نیا حکم صادر کرتا خود ہیٹر چلانے لگا۔

وہ واپس آئی تو وہ اپنے ساتھ جگہ پر ہاتھ رکھتے اسے بتانے لگا کہ اسے کہاں بیٹھنا ہے وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس کے نزدیک آئی اور پھر تھوڑا سا فاصلہ رکھتی بیٹھ گئی۔

شایان نے ٹی وی اون کیا اور دونوں نے نگاہیں سکرین پر جما دیں۔

کونین کی نظریں بھٹک کر اس کے چہرے پر چلی جاتیں جو آج شاید اسے کچھ زیادہ ہی خوبرو لگ رہا تھا۔

کرتا شلوار پر چادر اوڑھے، بھاری ہوتی بھیرڈ، اور خوبصورت نقوش ماتھے پر بال بکھرے ہوئے جو عموماً سیٹ کیے جاتے تھے، کھڑا ناک اور بھینچے ہونٹ وہ خوبصورتی کی مثال آپ تھا۔

شایان نے اس کی نظروں کا ارتکاز محسوس کرتے اسے یک دم کھینچا اور اپنے ساتھ بٹھایا۔

کونین کا دل یوں دھڑکا جیسے مانو ابھی باہر آجائے گا۔

“مجھے دیکھنا ہے تو قریب سے دیکھو اتنی دور سے اچھے سے سمجھ نہیں پاؤ گی!”

وہ اس کے کان کے پاس ہلکا سا بولتا سائیڈ دیوار پر لگا سوئچ بند کر گیا اب صرف سکرین کی روشنی تھی۔

شایان لائٹ چلائیں پلیز۔

“خاموشی سے بیٹھی رہو!”

مجھے ڈر لگتا ہے! وہ منمنائی۔

“میرے ساتھ بیٹھ کر کس سے ڈر لگ رہا ہے تمہیں؟”

وہ اپنا ہاتھ اس کے پیچھے سے لے جاتے اس کے کندھے پر رکھتا ہلکا سا حصار اس کے گرد بنا چکا تھا۔

“یہ سب بند کریں۔۔۔۔”

وہ سکیریں پر چلتی ہارر مووی کو دیکھتی بولی جس پر کب سے تو اس نے دھیان ہی نہیں دیا تھا۔

“کونین شایان عثمانی خاموشی سے بیٹھی رہو!”

اور پھر کونین واقع خاموش ہو گئی تھی لیکن نگاہیں سکرین کے علاؤہ باقی سب چیزوں پر تھی کسی ہارر منظر پر جب آواز بلند ہوتی تو وہ اپنی جگہ اچھل کر رہ جاتی۔

اس نے اپنی زندگی میں ایک بھی ہارر مووی نہیں دیکھی تھی وہ فطرتاً ڈرپوک تھی۔

شایان پوری دلجمعی سے سکرین کو دیکھ رہا تھا جس کے تاثرات ایک بار بھی نہیں بدلے تھے۔

کونین اسے ہی دیکھ رہی تھی جب اپنے کندھے پر اسکی انگلیوں کا لمس، سکرین پر خون کے ساتھ چیخوں کی آواز پر خود بھی چیخ مارتی اٹھ گئی۔

“ہاہاہاہا ۔۔۔۔۔۔”

شایان عثمانی کا قہقہہ بلند ہوا۔۔۔۔پہلی بار وہ یوں ہنسا تھا اس کے سامنے بلکہ اب سب ہی پہلی بار تو ہو رہا تھا۔

وہ اس کی نظریں اردگرد اور کبھی خود پر محسوس کرتا آواز تیز کرتا یہ سب کر گیا تھا جس سے وہ بُری طرح ڈر گئی تھی۔

کونین نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔

شایان نے سنجیدگی سے اس کے آنسوؤں کو دیکھا اور آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھامنا چاہا جو وہ جھٹک گئی تھی۔

“کونین!” آواز میں تنبیہ تھی۔

اسے واپس کھینچ کر اپنے حصار میں لیا تھا اور اب کہ حصار کافی مضبوط تھا۔

“اتنی سی بات پر کون روتا ہے؟”

“ہم۔۔۔۔!”

وہ کہتی اس کے سینے میں سر چھپا گئی تو وہ شایان عثمانی تھم گیا جیسے۔۔۔اتنی نزدیک تو آج تک کسی کی رسائی نہ ہوئی تھی جتنی نزدیک وہ تھی۔

اس کے دل نے شور مچایا تھا جیسے وہ بھی باغی ہوا تھا اس لڑکی کے لیے۔

“رونا بند کرو فوراً!” وہ اس کے بالوں کو اس کے چہرے سی ہٹاتا بولا۔

سکرین پر دیکھو اسے سیدھا کر کے بٹھاتے اس کا چہرہ سکرین کی طرف کیا۔

“نہیں!” وہ اب بھی اسی کے سینے میں منہ دیے بیٹھی تھی۔

کونیننن! اس کے سخت لہجے کا بھی اس پر کوئی اثر نہ ہوا تھا۔

“کبھی بھی نہیں!” مجھے یہ سب نہیں پسند۔۔۔۔پلیزززز شایان ۔۔!

وہ کسی طور اس کی بات ماننے کو تیار نہ ہوئی تو وہ اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتا آواز ہلکی کرتا خود دیکھنے لگا۔

لیکن دل اس لڑکی کی قربت پر پاگل ہونے کو تھا۔۔۔۔اسے لگتا تھا وہ پتھر دل ہے صنفِ نازک کی کوئی جگہ نہیں ہے اسکے دل میں لیکن آج اپنے باغی ہوتے دل پر وہ حیرت زدہ تھا۔

وہ سو گئی تھی اور مووی بھی ختم ہو چکی تھی۔

شایان کئی لمحے سر جھکائے اسے دیکھتا رہا جس کے لب نیم وا تھا۔

اس کی تھوڈی پر انگلی رکھتے اس کے لبوں کو بند کرنا چاہا جو اس کے ہاتھ ہٹاتے ہی پھر کُھل گئے تھے۔

“دلچسپ ہو تم بہت کونین شایان عثمانی۔”

وہ خود نہیں جانتا تھا کہ وہ اس لڑکی کی اصل حیثیت قبول کر چکا ہے۔

اسے جھٹکے سے باہوں میں اٹھاتے کمرے میں لے گیا کمفرٹر اوڑھاتے الماری سے دوسرا نکالا کیونکہ جتنی ٹھنڈ اسے لگتی تھی وہ رات کو شاید برف بن جاتی۔

دونوں اس پر اوڑھنے کے بعد وہ ایک سائیڈ پر لیٹ گیا تھا۔۔۔۔۔

لیکن جب دل کے شور سے تنگ آگیا تو آنکھوں میں سرد پن چھا گیا۔۔۔۔وہ یہ سب ٹھیک نہیں کر رہا تھا۔

وہ اٹھا اور دوسرے کمرے میں چلا گیا بنا اس کی طرف پلٹے۔

صبح اٹھتے سب یاد کرتے وہ شرمندہ ہوئی لیکن اسے یہ سب بُرا ہرگز نہیں لگا تھا۔

وہ فریش ہوتی دیکھنے لگی وہ باہر کہیں نہیں تھا پھر سر جھٹکتی آٹا گوندھنے لگی کیونکہ اس نے کہا تھا وہ روز اب سے پراٹھا کھائے گا۔

اس نے پراٹھا بنانے سے پہلے اسے ڈھونڈا تاکہ اسے اٹھا سکے کیونکہ دس بج چکے تھے۔

وہ ساتھ موجود کمرے میں گئی جہاں اندھیرا تھا لائٹ چلاتے اس کے نزدیک گئی جو اوندھے منہ کمفرٹر سر پر تانے سو رہا تھا۔

“شایان؟”

لیکن شایان کو حرکت نہ کرتے دیکھ وہ جھجکتے آگے بڑھی اور اس کے سر سے کمفرٹر ہٹایا وہ گہری نیند میں تھا۔

کونین کے دل نے بیٹ مِس کی وہ سوئے ہوئے بھی بے حد حسین لگ رہا تھا۔

شایان اٹھیں آگے بڑھتے اس نے ہمت کی اور اس کے بازو پر ہاتھ رکھ کر اسے پکارا تو وہ مندی مندی آنکھیں کھول گیا۔

“کیا ہوا؟”

“آٹھ جائیں دس بج رہے ہیں” کونین نے کہا تو وہ اٹھ کر بیٹھا۔

“اوکے چلو میں آرہا ہوں” وہ بولا تو وہ اس کا پراٹھا بنانے چلی گئی اور وہ فریش ہونے۔

اس کے باہر آتے اس کا ناشتہ آگے رکھا۔

“چائے پئیں گے؟”

نہیں!

“کافی لیکن تھوڑی دیر میں۔”

اوکے!

خاموشی سے ناشتہ کرتے شایان نے فون اٹھایا اور کسی سے میٹنگ کی تفصیلات لینے لگا۔

کونین اسے بھی دیکھ لیتی۔۔۔شایان نے آخری نوالہ بناتے اس کے آگے کیا وہ مصروف تھا فون پر لیکن کونین نے مسکراتے منہ کھولا تو وہ اسے آخری نوالہ کھلاتے خود اٹھ کر باہر نکل گیا۔

وہ پیچھے مسکرا گئی وہ شخص اسے پیارا ہوتا جا رہا تھا۔۔

اس کے بعد وہ یونہی بیٹھی رہی تھی جبکہ وہ اپنے کمرے میں گھسا لیپ ٹاپ پر تیزی سے کام کرنے میں مصروف تھا۔

اس نے گھڑی پر وقت دیکھا ایک بج رہا تھا۔

وہ دھیرے سے اٹھی اور دروازہ کھولتی اندر داخل ہوئی۔

“شایان؟”

ہمم! وہ مصروف تھا۔

“کیا کھائیں گے؟”

“کچھ بھی!” وہ مصروف سا بولا۔

اوکے! وہ باہر چلی گئی پھر قورمہ بناتے اب وہ پھر فارغ بیٹھی تھی کیونکہ شایان کو ابھی بھوک نہ تھی۔

وہ پھر سے دروازہ کھولتی اندر داخل ہوئی تو شایان نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔

“کیا میں یہاں آپ کے پاس بیٹھ جاؤں؟”

وہ ہمت کرتی معصومیت سے بولی تو شایان کو اس پر بے حد پیار آیا۔

“آجاؤ!” اسے صوفے پر اپنے ساتھ بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ قدم قدم چلتی اس کے ساتھ آ کر بیٹھ گئی۔

“بور ہو رہی ہو؟”

اس نے تیزی سے سر ہلایا۔

“یہاں بھی بور ہو گی مجھے یہ فائل رات تک مکمل کرنی ہے کل میٹنگ کے لیے۔”

“کوئی بات نہیں!”

وہ اسے دیکھ کر مسکرایا اور پھر کام میں مصروف ہو گیا تو کونین کبھی اسے دیکھتی کبھی اس کی کی پیڈ پر تیزی سے حرکت کرتی انگلیوں کو۔

“شایان؟”

ہممم۔۔۔۔

“کیا آپ کو برف باری پسند ہے؟”

ہاں!

“مجھے تو بالکل پنسد نہیں پتا ہے کتنا ڈر لگتا ہے اس میں پاؤں دھنس جاتے ہیں انسان مر بھی سکتا ہے” وہ جھرجھری لیتی اسے بتا رہی تھی۔

شایان نے اسے دیکھا پھر مسکرا دیا۔

“اچھا یہاں آؤ!” اپنی چیزیں اٹھاتے اسے بالکل پاس بلایا اب کی بار وہ جھجکتے آگئی تھی۔

“اور کیا پسند نہیں ہے تمہیں؟” وہ دلچسپی سے پوچھنے لگا اتنا تو وہ سمجھ گیا تھا وہ لڑکی اس کا وقت چاہتی تھی اس وقت۔

“بہت زیادہ پانی بالکل نہیں اس میں بھی ڈوب کر مر سکتے ہیں اور آگ تو بالکل نہیں اس سے بھی جل کر مر جائیں گے۔”

وہ اس کے گال کھینچتا مسکرا دیا۔

کونین نے اس کے گھٹنے پر پڑا اس کا ہاتھ دیکھا پھر اس کے ہاتھ کی پشت پر انگلی پھیرنے لگی تو شایان عثمانی تھم گیا۔

کیا وہ کامیاب ہو رہا تھا اس لڑکی کو اپنی عادت لگوانے میں؟

“آپ کے ہاتھ کتنے پیارے ہیں!”

وہ صاف گوئی سے بولی تو شایان نے اس کے ہاتھ دیکھے جو اس کے ہاتھوں کے سامنے بالکل چھوٹے سے لگ رہے تھے۔

“شایان؟” وہ آج اس سے باتیں کرنا چاہتی تھی وہ اپنا کام روکتا اس کی طرف متوجہ ہوا تھا۔

“بولو!”

“آپ کتنی لڑکیوں کو جانتے ہیں مطلب کتنی لڑکیاں آپ کی دوست ہیں؟”

“کیوں پوچھ رہی ہو؟” شایان نے اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیتے پوچھا۔

“کیونکہ میرا تو کوئی لڑکا دوست نہیں۔”

“اچھی بات ہے ہونا بھی نہیں چاہیے!” وہ اس کے بالوں کو دیکھنے لگا۔

“تمہیں اپنے بالوں کو کلر کرنا چاہیے اچھے لگیں گے” وہ اس کے بالوں کی لٹ کو پکڑتے بولا۔

“آپ مجھے کروا دینا” وہ معصومیت سے بولی تو وہ مسکرا دیا۔

دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔

شایان نے اس پر جھکتے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا تو وہ مسکرا دی لیکن شایان عثمانی مسکرا نہ سکا۔

“آنکھیں بند کرو!” حکم صادر کیا گیا۔

“کیوں؟”

وہ اس کی طرف دیکھتا اس کی گردن پر جھکا اور وہاں لب رکھ گیا۔

کونین نے کھلکھلاتے اسے دور کیا۔۔۔گدگدی ہو رہی ہے۔۔۔شایان نے اسے گھورا اور پھر سے جھکتے اس کی گردن پر لب رکھے وہ ہنس رہی تھی مسلسل۔

اور شایان عثمانی نے مان لیا تھا کہ وہ اس لڑکی کی مسکراہٹ پر جلد پاگل ہو جائے گا۔

“تمہیں کم مسکرانا چاہیے” وہ اسے گھورتا بولا۔

“کیوں؟”

“سوال مت کیا کرو جو کہہ رہا ہوں اس پر عمل کرو”

وہ سختی سے بولا تو کونین نے ہونٹ سکیڑے اور پھر ۔۔۔ہاہاہا۔۔۔قہقہ لگاتی ہنس پڑی تو وہ اسے کھینچتا خود بھی مسکرا پڑا۔

وہ مسلسل مسکرا رہی تھی کہ اس کی آنکھوں میں پانی جمع ہونے لگا۔

شایان عثمانی اپنا دل ہار بیٹھا تھا اس لیے خاموش بیٹھا رہا۔

“اففففف! میرے گال درد ہو رہے ہیں۔”

شایان نے اس کے گال چومے تو وہ چھوئی موئی سی ہوتی اس سے دور ہوئی۔

“چلو کھانا کھائیں!”

وہ اس کے ہاتھ سے پکڑتا اٹھ گیا کیونکہ اس سے زیادہ وہ خود پر پہرے اور اس لڑکی پر خود کے دل کو بے قرار ہوتا نہیں دیکھ سکتا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“فرشتے۔۔۔!” اس کے لب ہلے۔

فرشتے نے اپنے ہاتھ اس کی گردن میں ڈالے تو ازلان اظہر نے اس کے ماتھے پر لب رکھ دیے اور پھر وہ ہوش میں نہیں تھا وہ اس کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں بھرتا اپنے لب اس کے چہرے پر بار بار رکھتا چلا گیا کہ گنتی تک بھول گئی اسے۔

وہ دونوں اپنے ہوش و حواس میں نہیں تھے اور نا آنا چاہتے تھے یہ تڑپ تھی ان کی تین مہینوں کی جو ایک دوسرے سے دور رہتے انہوں نے سہی تھی۔

ازلان!

“میں نے آپ کو بہت مِس کیا!”

وہ اسے دیکھتی بولی تو وہ جیسے ہوش میں آیا اور اسے اس کے قدموں پر کھڑا کرتے سنجیدہ ہوا۔

“آپ ایسا نہیں کر سکتے” اسے خود سے قدم پیچھے کرتے دیکھ وہ بولی تھی۔

“میں کر سکتا ہوں فرشتے!”

“نہیں! نہیں کر سکتے آپ بالکل نہیں کر سکتے” وہ اس کے پاس آتی اس کے سینے پر مُکے برساتی بولی تو ازلان نے اس کے ہاتھ تھامے۔

ازی! اعظم کی آواز پر وہ دونوں سیدھے ہوئے تھے۔

میرے بھائی! اعظم نے آگے بڑھتے اسے خوش دلی سے گلے لگایا تھا وہ ابھی اچھے سے ملا تھا لیکن سنجیدگی ہنوز برقرار تھی۔

“گڑیا مل لیا ازلان سے؟” اس نے فرشتے کا ہاتھ تھامتے پوچھا۔

فرشتے نے نگاہیں اٹھائیں تو ازلان سخت نگاہوں سے اسے ہی گھور رہا تھا۔

فرشتے نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکلوایا اور سر ہاں میں ہلایا۔

“ابھی ہوٹل چلنا ہے یا۔۔۔۔”

“میں آج یہیں رہوں گی” وہ کہتی ازلان کے پیچھے موجود کمرے کی طرف چلی گئی۔

“اسے نجانے کیا ہو گیا ہے بہت کم بولتی ہے ضِدی بھی ہو گئی ہے” اعظم نے کہا تو ازلان صرف اسے دیکھتا رہ گیا۔

فرشتے نے یا باقی لوگوں نے اسے کیوں نہیں بتایا تھا سب؟ وہ مٹھیاں بھینچ گیا لیکن وہ بھی بھائی تھا بڑا۔

“آپ کا کمرہ فری ہے بھائی آپ آرام کر لیں!”

“اور فرشتے کہاں رہے گی؟”

“میں دیکھ لیتا ہوں آپ آرام کریں سفر سے آئیں ہیں!” اس نے کہا تو اعظم سر ہاں میں ہلاتا اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔

وہ اندر داخل ہوا جہاں وہ بالکونی میں کھڑی تھی بال ہوا کے دوش اڑ رہے تھے سیاہ جینز پر سفید کرتا پہنے جیکٹ اور مفکر گلے میں لپیٹے وہ خوبصورت لگی تھی اسے ہمیشہ کی طرح۔

اس کے بھورے بال ہوا میں اڑ رہے تھے خوبصورت نقوش کسی بھی قسم کی بناوٹ سے پاک تھے۔

“اندر آئیں فرشتے!”

اس نے فرشتے کو آواز دی جو اسے دیکھتی بالکونی کا دروازہ بند کرتی اندر آگئی۔

ازلان کے پاس آ کر کھڑے ہوتے اسے دیکھنے لگی تو ازلان کو وہ منظر یاد آیا جب اعظم نے اس کا ہاتھ تھاما تھا۔

فرشتے کے اسی ہاتھ پر گرفت سخت کی تو فرشتے نے نگاہیں اٹھاتے اسے دیکھا۔

“تو تم فیصلہ کر چکی ہو؟”

“کیسا فیصلہ!” وہ خوفزدہ تھی نجانے وہ کیا کہہ دیتا۔

“یہاں کیوں آئی ہو؟” وہ سوال بدل گیا۔

“آپ کے لیے!”

“میرے لیے کیوں؟”

ازلان پلیز۔۔۔۔وہ اس کے چہرے کی طرف ہاتھ بڑھاتی بولی لیکن وہ اس کے ہاتھ جھٹک گیا۔

“یہ بتانے کے ہمیں یہ رشتہ ختم کر دینا چاہیے؟”

ازلان! فرشتے نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا پھر گہرے سانس بھرنے لگی ازلان اس کی بدلتی حالت کو خاموش بیٹھا دیکھ رہا تھا۔

“میں۔۔۔یہ۔۔۔یہاں۔۔۔۔آپ۔۔۔ک۔۔کے۔۔۔لیے۔۔۔آئ۔۔۔آئی ہوں۔۔۔آپ نے تین مہینے ۔۔۔مجھے۔۔۔یاد نہیں۔۔۔کیا۔”

ازلان نے اسے اپنے قریب کیا جس کی آنکھوں سے اب آنسو گر رہے تھے۔

“یہاں دیکھو مجھے!” اس کے گال پر ہاتھ رکھتے اس کے گال تھپتھپائے۔

ہنی مجھے دیکھو! لیکن اس کا سانس پھول رہا تھا۔

اعظم دروازہ کھولتا مسکراتا اندر آیا تھا لیکن فرشتے کو دیکھ کر دوڑتا ان کی طرف آیا۔

“اس کے بیگ سے انہیلر نکالو!”

اعظم نے اس کے قریب بیٹھتے ازلان کو ہٹاتے کہا تو ازلان نے سنجیدگی اوڑھتے اس کے بیگ سے انہیلر نکالا اور سائیڈ پر کھڑا ہو گیا۔

اعظم نے فرشتے کے لبوں سے انہیلر لگایا وہ گہری سانس بھرتی اٹھ کر بیٹھی تو منظر واضح تھا ازلان سامنے کھڑا تھا جبکہ اعظم اس کے نزدیک بیٹھا تھا۔

“میں ٹھیک ہوں!” وہ سیدھی ہوئی

“مجھے وقت دیں تھوڑا پلیز!” اس نے کہا تو اعظم ازلان کو اشارہ کرتا باہر چلا گیا۔

“تمہیں یہاں آنے کی ضرورت نہیں تھی تم وہیں ٹھیک تھی”

وہ سرد پن سے کہتا خود بھی باہر نکل گیا تو فرشتے سسکیاں بھرتی وہی اس کے بستر پر لیٹ گئی۔

اس کے کمفرٹر کو اوڑھتی اس کی خوشبو خود میں اتارنے لگی۔

اس کا چھوٹا سا دماغ یہ سب حل نہیں کر پا رہا تھا۔۔۔کوئی اسے کیوں نہیں سمجھ رہا تھا وہ روتی وہیں سو گئی تھی۔

“کیا کھاؤ گے؟” ازلان نے استسفار کیا۔

“باہر سے کھا لوں گا دوستوں سے ملنے کا پلین ہے آج رات میں۔۔۔فرشتے یہاں آنے کی ضد کر رہی تھی اسی لیے اچانک آگئے۔”

ازلان نے سر ہلایا تو اعظم اپنے کمرے میں چلا گیا۔

ازلان وہیں بیٹھا رہا۔۔۔اعظم تیار ہو کر گھر سے نکل گیا تو وہ گہری سانس بھرتا واپس اپنے کمرے میں آیا۔

جہاں بستر میں وہ محوِ خواب تھی دروازہ بند کرتا اس کے قریب آیا۔

اس کی حالت پر اس کا دل تڑپا تھا لیکن اعظم اظہر کا اس کے نزدیک جانا اسے آگ میں ہی تو جھونک چکا تھا۔

وہ اس کے پاس آیا اور کمفرٹر اس کے چہرے سے ہٹاتے اس کے گالوں پر اپنے ہاتھ کی پشت پھیری۔

“میری جان ہیں آپ فرشتے ازلان اظہر!”

“تین مہینے میرے دل نے بُرے طریقے سے آپ کے قرب کی تمنا کی ہے” وہ اس کے بال چہرے سے ہٹاتا اس کے ماتھے پر لب رکھ گیا۔

“لیکن آپ نے بھائی کو کیوں نہیں بتایا سب؟ میرے پاس آنا تھا تو سب ختم کر کے آتی یہ دیواریں ہمارے درمیان حائل نہ ہوتی کم از کم!”

وہ سوچتا رہا لیکن وہ چھوٹی سی لڑکی معصوم جان وہ کیا کیا برداشت کر سکتی تھی جبکہ بوا نے بتایا تھا کہ وہ بیمار رہنے لگی ہے۔

اس کے انہیلر کو دیکھتے وہ آنکھیں میچ گیا وہ تکلیف خود بھی محسوس کر رہا تھا اس کی۔

پھر اس کے ماتھے پر کئی بار لب رکھے دل پاگل سا ہونے کو تھا اسے قریب دیکھ کر۔

“از۔۔۔ازلان۔۔۔!”

وہ نیند میں بھی اس کی موجودگی محسوس کر چکی تھی۔

ازلان نے اسے ساتھ لگاتے اپنے ہونے کا احساس دلایا چہرہ اب سپاٹ تھا وہ سو گئی تھی لیکن وہ سو نہ پایا۔