Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf NovelR50407

Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf NovelR50407 Last updated: 29 November 2025

220.5K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf

Novel Code: NovelR50407

شام کو وہ اسے اپنے گھر لے جا رہا تھا اس وقت وہ گاڑی میں اس کے ساتھ بیٹھی تھی۔
"چلیں؟"
اس نے تیزی سے سر ہلاتے اس عمارت کو دیکھا جہاں وہ کتنی دیر سے تھی اسے یاد بھی نہیں تھا۔
سیٹ بیلٹ باندھیں ہنی! اس نے اپنی سیٹ بیلٹ لگاتے کہا۔
"وہ کیسے باندھتے ہیں؟"
وہ واپس مُڑا اور اسے دیکھتے جھک کر اس کی بیلٹ بغیر اسے چھوئے باندھی۔
"کیا آپ کے گھر میں جھولا ہے؟"
"نہیں! لیکن آپ کو پسند ہے تو لگا دوں گا آپ کو!" وہ اپنی گاڑی کے پیچھے دوسری گاڑی کو چلتے دیکھ مطمئن ہوا۔
نہیں تو فرشتے کو یہاں سے لے کر جانا خطرے سے خالی نہ تھا۔
اس نے تیزی سے ڈرائیو کیا تھا اور اپنے فلیٹ پر گاڑی روکی اور نیچے اترا پھر اس کی طرف کا دروازہ کھولا۔
آجاؤ!
"کیا یہ ہے آپ کا گھر؟"
بالکل! وہ اندر داخل ہوا تو وہ اسکے پیچھے اندر آئی۔۔۔۔اس نے فوراً سے دروازہ بند کر کے لاک کر دیا۔
"کیا کھاؤ گی؟"
"ابھی بھوک۔۔۔۔ نہیں ہے!" وہ اپنے ہاتھوں کو دیکھتی اسے بتانے لگی۔
"اچھا یہاں آئیں زرا ہنی!"
وہ صوفے پر بیٹھ کر اسے اپنے پاس بلانے لگا جو سامنے کے صوفے پر بیٹھی تھی۔
"نہیں۔۔۔۔می۔۔میں۔۔۔۔۔"
آجائیں ہنی۔۔۔۔وہ قدم قدم اٹھاتی آئی اور اس سے کچھ فاصلے پر بیٹھ گئی۔
"کیا مجھے آپ کی سب باتیں ماننی ہیں جیسے ماما بابا کی مانتی تھی؟"
بالکل!
"تو آپ بھی میری باتیں مانیں گے؟" وہ نجانے کیا سوچ رہی تھی۔
"بالکل!"
"امممم ۔۔۔۔۔پھر آپ میرے جوتے کے تسمے کھول دیں گے مجھ سے نہیں کھلتے۔۔۔۔۔"وہ بولی تو اس نے نگاہیں اٹھاتے اسے دیکھا جو ہاتھوں سے کھیل رہی تھی۔
وہ گھٹنوں کے بل نیچے جھکا اور اس کے جوتے کے تسمے کھولتے بنا اس کے پیروں کو ہاتھ لگائے اسکے جوتے اتار دیے۔
اس پر نظر ڈالی جو مسکرا رہی تھی۔
کیا ہوا؟ وہ پوچھے بنا نہ رہ سکا۔
"وہ بھی ایسا ہی کرتے تھے۔۔۔۔۔وہ کہتے تھے فرشتے کے جوتے صرف وہی اتار سکتے ہیں اور پتا ہے اپنے جوتے انہوں نے کبھی بھی مجھے پکڑنے نہیں دیے تھے۔۔۔"
وہ۔۔۔۔خاموش ہو گئی۔۔۔۔۔اس نے ہونٹ بھینچ لیے۔۔۔۔آنکھیں ضبط سے سر خ پڑ گئیں۔
وہ سو گئی تھی وہیں پر۔۔۔۔وہ اس پر جھکا اور اسے باہوں میں بھرتے سامنے کے کمرے میں اپنے بستر پر لٹایا۔
"وہ بیشک میرا بھائی سہی لیکن فرشتے ازلان اظہر تمہاری تو خوشبو تک نہ میں کسی کو دوں!" وہ آنکھیں میچ گیا۔
"بھائی کہاں ہیں اس وقت؟" اس نے باہر نکلتے ہی ڈرتے دل کے ساتھ کال ملائی۔
"وہ ٹریننگ پر ہے۔۔۔۔۔"
"کیا اس کی کوئی گرل فرینڈ نہیں ہے؟"
ہر بار کا پوچھا سوال اس نے پوچھا اس امید میں کہ کسی روز تو اسے کوئی کہے گا کہ ہاں اس کا بھائی کسی لڑکی کو اپنی زندگی میں شامل کر چکا ہے۔۔۔۔ کوئی اسے بتاتا کہ ازلان اظہر تمہارے بھائی نے فرشتے کے علاؤہ کسی اور کو چُن لیا ہے۔
"میں کسی کو نہیں دوں گا فرشتے۔۔۔۔وہ میری روح ہے حصّہ ہے۔۔۔۔آپ اسے چھوڑ گئے تھے جب اسے آپ کی سب سے زیادہ ضرورت تھی یہ بات جس دن اسے یاد آگئی وہ آپ کو یاد کرنا چھوڑ دے گی" وہ ہمکلامی کرتا بولا۔
فرشتے کی بات یاد کرتے اسے پھر سے جسم میں انگارے لوٹتے محسوس ہوئے سکون کی خاطر وہ واپس کمرے میں آیا جہاں وہ موجود تھی۔
اس کے پاس بیٹھتے اس کے چہرے سے کمفرٹر ہٹایا اسکے پھولے سفید گالوں پر اپنے ہاتھ کی پشت پھیری۔
فرشتے ازلان اظہر کی ہے بس! اور اگر تم نے مجھ پر کسی کو فوقیت دی تو مر جاؤں گا اور تمہیں بھی مار دوں گا وہ اس کو دیکھتا سوچ رہا تھا۔
پھر جھک کر اسکے ماتھے پر بوسہ دیا۔۔۔۔۔نگاہیں اب اس کی گردن پر جا ٹھہریں۔
"بہت انتظار کرنا پڑے گا میں جانتا ہوں۔۔"
"لیکن تمہاری بے خبری میں تمہارے قریب ہونے پر ازلان اظہر کو کچھ دوا اپنے دل کے لیے کام کرتی محسوس ہوتی ہے۔"
وہ جھک کر اس کی گردن میں اپنا چہرہ چھپا گیا۔۔۔۔۔شدت محسوس ہوتے ہی فرشتے نے رُخ موڑنا چاہا تھا۔
وہ فوراً سے پیچھے ہٹا۔۔۔۔۔
پھر اس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا۔۔۔۔اس کے جاگنے سے پہلے اسے یہاں موجود نہیں ہونا تھا اس کے سامنے۔