Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf NovelR50407 Mein Tera Sarmaya Ho Episode 4
Rate this Novel
Mein Tera Sarmaya Ho Episode 4
Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf
اگلے روز وہ معمول کے مطابق اپنے کام کر رہی تھی آج وہ کچھ مطمئن تھی کیونکہ شایان اس کے آنے سے پہلے جا چکا تھا۔
آج وہ اس کا دوسرا چھوٹا سا کمرہ جو اسی کمرے کے اندر تھا جو شایان نے اپنے کام کے لیے بنایا تھا وہ صاف کر رہی تھی۔
کمرے میں لگے ٹیلی فون کو بجتے محسوس کرتے وہ باہر نکلی۔
کون فون کر رہا تھا جبکہ سب جانتے تھے کہ کمرے میں وہ ہے اور شایان گھر پر نہیں۔
پہلے اس نے اسے یوں ہی بجتے رہنے دینے کا سوچا تھا لیکن جب مخالف ڈھیٹ ثابت ہوا تو اسے فون کان سے لگانا پڑا۔
“پہلی بار میں کیوں نہیں اٹھایا؟” شایان نے سرد انداز میں کہا۔
“مجھے کیا پتا تھا کہ آپ کال کر رہے ہیں۔۔۔۔!”
کونین نے آہستہ آواز سے کہا اس کا یہ سرد انداز اسے خوفزدہ کرتا تھا۔
“اب پتا چل گیا ہے نا۔۔۔پہلی بار میں ہی اب سے اٹھا لینا۔۔۔میرا جو دوسرا کمرہ ہے وہاں سے دائیں شیلف پر کچھ کاغزات پڑے ہیں وہ پہنچا دو” مجھے اور فون کٹاک سے کاٹ دیا۔
وہ تیزی سے اس کی بتائی جگہ پر پہنچی اور وہ کاغذات والی فائیل دیکھی۔۔۔۔۔اس نے اسے ڈیرے پر کاغزات پہنچانے کا کہا تھا۔
“ڈیرہ کہاں تھا؟” وہ حیران ہوئی۔
اور دوسرا کیا وہ خود جائے گی دینے یا ڈرائیور کے ہاتھ بھیج دے یہی سب سوچتے چادر لیتی وہ باہر نکل گئی۔
“چچا۔۔۔مجھے ڈیرے پر جانا ہے۔”
کیوں؟ ڈرائیور نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔۔گھر کی “عورتیں کبھی بھی وہاں نہیں گئیں تھیں۔”
“میں دے آتا ہوں۔۔۔۔”ڈرائیور چچا نے رسانیت سے کہا۔
لیکن کونین کو یاد آیا شایان عثمانی نے کہا تھا کوئی بھی اس کا کام نہیں کرے گا سوائے کونین کے۔۔۔۔وہ کسی کو اپنی وجہ سے تکلیف نہیں دینا چاہتی تھی۔
“نہیں انہوں نے مجھے کہا ہے۔”
آپ چلیں جلدی ۔۔۔نہیں تو وہ غصہ ہوں گے۔۔۔وہ کہتی تیزی سے پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی۔
وہ جگہ زیادہ دور نہیں تھی۔۔۔
“میں اندر دے آؤں”؟ ڈرائیور نے پھر سے پوچھا۔
“نہیں اب آگئی ہوں میں دے آتی ہوں۔۔۔۔آپ یہیں انتظار کریں!” وہ کہتی اندر چلی گئی۔
اندر جاتے اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا۔۔۔۔اسے لگا وہ غلط جگہ پر آگئی یے۔
وہ لوگ سگریٹ نوشی کرتے قہقہے اڑا رہے تھے کچھ کے ہاتھوں میں اس نے عجیب سا مشروب بھی دیکھا تھا کیا وہ وہی تھا جو وہ سمجھ رہی تھی۔۔۔اس کا دل بند ہوا۔
شایان عثمانی انہیں کے درمیان میں بیٹھا سگریٹ کے کش دے رہا تھا اور کسی بات پر مسکرا رہا تھا۔
“یہ پری پیکر کون ہے؟”
وہاں کسی مرد کی آواز گونجی تو سب نے بیک وقت دروازے پر دیکھا جو انہیں سب کو آنکھیں پھاڑے دیکھ رہی تھی۔
ان سب کی نگاہیں خود پر محسوس کرتے وہ سہم گئی اور چادر کو درست کرنے لگی۔۔۔۔
شایان عثمانی نے ہونٹ بھینچے۔۔۔اور تیزی سے چلتا اس کے قریب آیا اور پھر اس کے بازو سے تھامتا اسے باہر لے گیا۔
گاڑی کے پاس لے جاتے اسے دھکا دیا جہاں ڈرائیور کھڑا تھا۔
“یہ یہاں کیا کر رہی ہے؟” وہ اتنی اونچی دھاڑا کہ کونین کی ٹانگیں کانپ گئی۔
“صاب وہ۔۔۔۔۔۔۔”
“تمہیں نہیں معلوم گھر کے کیا اصول ہیں؟” وہ ڈرائیور کے قریب آتا اس کا گریبان تھام گیا۔
“ان کی غلطی نہیں ہے۔۔۔”وہ کانپتی آواز میں بولی۔
اسے گھر لے کر جاؤ۔۔۔۔میں کچھ دیر میں آتا ہوں پھر اس کا علاج کرتا ہوں اچھے سے۔۔۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کونین خاور کے ساتھ کیا کر ڈالتا۔
وہ فوراً بیٹھی اور ڈرائیور کو چلنے کا کہا اس کا دل سوکھے پتے کی مانند لرز رہا تھا۔
“آپ مجھے میرے گھر اتار دیں پلیز؟”
“نہیں بی بی جی۔۔۔میری نوکری چلی جائے گی۔۔۔انہوں نے آپ کو گھر لے جانے کا کہا ہے۔۔۔”ڈارئیور نے کہا تو اس نے تھوک نگلا۔
وہ صحیح تھا اگر وہ ضد کر کے گھر چلی جاتی تو وہ اس کے ساتھ ڈرائیور کو بھی نوکری سے نکال دیتا۔
وہ اس کے کمرے میں گئی اور جلے پیر کی بلی کی طرح یہاں وہاں چکر کاٹنے لگی۔
وہ خوفزدہ تھی حد سے زیادہ اس سے بھی اور اس ماحول سے بھی جس کا وہ حصہ تھا۔
“مجھے یہاں نہیں آنا چاہیے تھا!” آنکھوں نے آنسو ٹوٹ کر گِرا۔۔۔۔آدھا گھنٹہ گزر گیا تھا۔
باہر سے قدموں کی آواز آتے وہ واش روم میں گئی اور تیزی سے دروازہ لاک کیا۔
وہ اندر آیا اور دروازہ زور سے مارتے لاک کر دیا۔
وہ اس لڑکی کی آج کی حرکت بھولا نہیں تھا۔
“شان۔۔۔۔۔کون تھی وہ حسینہ! مجھے ملواؤ اس سے!”
“بکواس بند کرو!” وہ دھاڑا۔
اس کے ایک دوست نے کہا تو وہ سب کو دھاڑ کر خاموش کرواتا اپنا کام آدھا چھوڑتا گھر آیا تھا۔
اسے کمرے میں نا پا کر اس کا دماغ گھوما۔۔۔لیکن واش روم کا دروازہ بند تھا جس کا نوب گھمایا جو لاک تھا۔
“باہر نکلو کونین خاور؟”
وہ تیز آواز میں بولا تو کونین کو رونا آنے لگا وہ کیوں یہاں آئی تھی کیوں اس سے اپنا حق مانگا تھا کیوں؟
“میں نہیں۔۔۔۔۔”وہ منمنائی لیکن وہ سُن چکا تھا۔
وہ اپنی سٹڈی میں گیا جہاں اس کے کمرے کی چابیاں موجود رہتی تھی وہاں سے واش روم کے دروازے کی چابی نکالی اور اس کی طرف بڑھا۔
دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ سہم گئی۔
شایان نے دروازہ کھولتے اسے دیوار کے ساتھ لگایا۔
“کیا کرنے آئی تھی وہاں؟”
“چھوڑو۔۔۔۔۔”
اس کے اتنا قریب آنے پر وہ مزید سہم گئی۔۔۔پلکیں لرزنے لگی تھی جو پہلے ہی نم تھیں اس کے گال سرخی مائل تھے۔
کالی شلوار قمیض میں بالوں کی چٹیا بنائے چادر سے اپنا آپ چھپائے۔۔۔۔وہ چھوٹی سی کوئی لڑکی لگ رہی تھی جو کچھ غلط کرنے کے بعد خوفزدہ سی تھی۔
شایان عثمانی کے کسرتی جسم کے آگے وہ چھپ سی گئی تھی۔
کونین نے نگاہیں اٹھائیں۔۔۔۔وہ پچیس سالہ مرد اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
سفید شلوار قمیض اس کے لگاتار جم جانے سے کسرتی جسم پر خوب جچ رہی تھی۔۔۔۔وجیہہ اور تنے ہوئے نقوش اور مونچھوں کے بعد آنکھوں کے سر پن کو دیکھتے وہ نگاہیں جھکا گئیں۔
بولو! اس کے بازوؤں پر گرفت سخت کرتا بولا۔
“آپ نے کہا تھا آپ کے سب کام میں۔۔۔۔”
“وہاں آنے کا بولا تھا میں نے؟”
” میں نے بھیجنے کو بولا تھا وہ کاغذات۔۔۔۔۔وہاں عورتوں کا جانا ممنوع ہے۔۔۔سارے مرد موجود تھے وہاں میں وہاں موجود نہ ہوتا تو تم جانتی ہو کیا ہو سکتا تھا” وہ اس کے بازوؤں پر گرفت سخت کرتا جا رہا تھا۔
“مجھے نہیں پتا تھا۔۔۔”
وہ یہ کہتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔۔۔وہ کہاں پھنس گئی تھی۔
“رونا بند کرو فوراً”
وہ بولا لیکن یک دم روشنی گُل ہونے پر کونین نے سہمتے یہاں وہاں دیکھا۔
“شایان۔۔۔!”
“رُکو۔۔۔۔۔۔!”
وہ اسے کہتا دیوار پر سوئچ بورڈ ڈھونڈنے لگا تاکہ ایمرجنسی لائٹ جلا سکے لیکن ہاتھ لگنے سے شاور کھل گیا تھا جس میں شایان تو نہیں لیکن وہ بھیگ گئی تھی۔
شایان! وہ پھر سے بولی تھی اندھیرے میں۔
شایان نے تیزی سے لائٹ ڈھونڈ کر جلائی اور پھر اسے دیکھا جو بیوقوفوں کی طرح اسی ٹھنڈے پانی کے نیچے کھڑی تھی۔
“تم میں عقل ہے یا نہیں؟” اس کے بھیگے کپڑوں کو دیکھ کر وہ ذِچ ہوا۔
“مجھے گھر جانا ہے!” وہ نم لہجے میں بولی۔
شایان باہر نکلا تو وہ بھی باہر نکل گئی۔۔۔۔جہاں روشنی بالکل نا ہونے کے برابر تھی۔
شایان اپنی الماری سے کچھ نکالتا پلٹا تو وہ پیچھے ہی کھڑی تھی وہ اسے نہ تھامتا تو وہ دونوں گِر جاتے وہ آج اسے حد سے زیادہ طیش دلا گئی تھی۔
“آئیم سوری!” اس کے ہاتھ اپنے اوپر سے یک دم اس نے ہٹائے۔
شایان نے اسے کچھ دیر دیکھا پھر اس کی قمر میں اپنا ہاتھ ڈال کر اپنے قریب کیا۔
شایان! وہ لرزتی بولی۔۔۔۔
“یہ چینج کر کے آؤ۔۔۔”اسے کچھ پکڑاتے کہا تو وہ تیزی سے اندر چلی گئی جو اسی کا کوئی کوئی کُرتا شلوار تھا کالے رنگ کا۔
وہ پہن کر باہر آئی اور اپنی چادر اتار کر سائیڈ پر رکھی اور اس کی چادر دیکھنے لگی جو وہ ابھی رکھ کر گیا تھا۔
شایان واپس آیا اور اسے ہاتھ سے تھام کر اس کا چہرہ اپنی طرف کیا۔
“آئیندہ اُس جگہ پر کبھی بھی مت آنا۔۔۔اور یہ بات میں آخری بار بتا رہا ہوں تمہیں۔۔۔۔”اس کے بالوں پر نظر ڈالتے اس نے سنجیدگی سے کہا۔
کونین نے تیزی سے سر ہلایا اور اپنی چادر کو دیکھا پھر اس کو۔۔۔۔ وہ بیچین سی ہوئی۔
“کیا مسئلہ ہے؟” وہ بیٹھتے بولا۔
“وہ چادر دے دیں!” اس نے شایان ہی کی چادر کو دیکھتے کہا۔
“کیوں میرے سامنے تم ایسے بھی رہ سکتی ہو!” وہ تیکھی نگاہوں سے دیکھتا بولا۔۔۔اس کی چادر سے اسے چِڑ ہوئی۔
نہیں! وہ سنجیدگی سے بولی تو وہ جو بیٹھا ہوا تھا اسنے کھینچ کر اسے اپنے ساتھ بٹھایا۔
“کونین خاور تم اپنے آپ کو بہت پاکیزہ سمجھتی ہو؟”
“جی! کیونکہ میں حرام چیزوں سے بہت دور رہتی ہوں!” وہ صاف گوئی سے ڈیرے کے منظر کو یاد کرتی بولی جو شایان سمجھ گیا تھا۔
“کہا نا وہاں کا زکر دوبارہ مت کرنا”
شایان نے اس کے بالوں کو تھامتے اس کا چہرہ اپنے سامنے کیا۔
وہ دونوں یہ بات فراموش کر گئے تھے کہ ایک دوسرے کی نفرت میں وہ زیادہ سے زیادہ وقت ساتھ گزارنے لگے تھے۔
“میں جاؤں؟”
“میرے جوتے کل کے لیے صاف کر دو پھر چلی جانا” وہ اس کے چہرے کو دیکھتا کچھ سوچ کر بولا۔
“میں وہ نہیں کر سکتی باقی سب کام کر دوں گی۔۔۔۔”
وہ کھڑی ہوتی اس کی چادر کو اپنے گرد لپیٹتی بولی۔
شایان نے فون نکالا اور کان سے لگایا۔
“خاور عثمانی کی کیا پروگریس ہے؟ ہاں بس زیادہ نہیں ایک دو دن کے لیے ان کی دوائیں روک۔۔۔۔۔”
کونین نے اس کے ہاتھ سے اس کا فون لیتے کال کاٹ دی اور اس کے جوتوں کے سٹینڈ کی طرف بڑھی۔
اس کے جوتے تھامے جب اس کی آواز گونجی۔
“یہ کالے والے دے دو پہلے مجھے ابھی باہر جانا ہے۔۔۔۔”وہ بولا تو کونین نے آنسو پیتے اس کے جوتے اٹھائے اور اس کے پاس رکھے۔
“پہنا دو!” وہ اتنا کیسے گر سکتا تھا۔۔۔؟ یہ سوال یک دم اس کے ضمیر نے کیا تھا اس سے۔
کونین نے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا جہاں سے آنسو اب بہنے لگے تھے اور شایان عثمانی تھم گیا تھا۔
“جاؤ!”
کونین نے اسے دیکھا اور اپنے گال زور سے رگڑ ڈالے کہ اس کا وہ گال سرخ پڑا جو اس کی نگاہوں سے مخفی نہ رہ سکا تھا۔
“جاؤ! حامد (ڈرائیور) کو بولو چھوڑ آئے تمہیں گھر” وہ بولا تو کونین تیزی سے باہر نکلنے لگی۔
“کل جلدی آجانا مجھے آفس جانا ہے کل اور تم میرے ساتھ جاؤ گی۔”
وہ سن کر سر ہلاتی باہر نکل گئی جبکہ وہ کئی لمحے وہیں بیٹھا رہا پھر سر جھٹکتا باہر نکل گیا جہانگیر عثمانی کو اپنے کل جانے کا بتایا اور سب کے ساتھ شام کی چائے پی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ وہیں بیٹھی تھی جب اس کا فون مسلسل بجنے لگا تو وہ کمرے میں آیا۔
“تمہیں فرشتے کو واپس وہیں بھیجنا ہو گا۔’
نہیں! اس نے کھڑکی سے باہر فرشتے کو دیکھا آنکھیں شدتِ ضبط سے سرخ پر گئیں۔
“ابھی میں کچھ وقت۔۔۔۔۔۔”
“ازلان اتنا ہی وقت تم نے مانگا تھا جو تمہیں دیا گیا۔۔۔۔اور پھر تین مہینوں کی توبات ہے ایک آخری سیشن اور شاید فرشتے کو سب یاد آجائے۔۔۔۔”وہ ڈاکٹر تھی فرشتے کی اور ازلان کی دوست بہتر جانتی تھی سب۔
ٹھیک ہے! مٹھیاں بھینچ لی۔
“کل صبح لے آؤں گا اسے۔۔۔۔۔”وہ کہہ کر کال کاٹ گیا۔۔۔۔اور واپس باہر چلا گیا جہاں وہ جھولے پر بیٹھی اب ڈھلتی شام کو دیکھ رہی تھی۔
“کیا کھاؤ گی فرشتے؟” اسنے سنجیدگی سے پوچھا تو فرشتے نے اسے دیکھا۔
“امم۔۔۔۔آپ نے مجھے ہنی کیوں نہیں بولا؟”
“میرا دل نہیں چاہا!” وہ بولتا دوبارہ اسے دیکھنے لگا۔
سینڈوچ!
اوکے! وہ فون وہیں رکھتا خود کچن کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔فرشتے نے اس کا رویہ محسوس کیا تھا لیکن خاموش ہو گئی۔
تھوڑی ہی دیر میں اس کا فون پھر سے بجنے لگا تھا۔۔۔۔۔فرشتے وہیں بیٹھی سامنے میز پر پڑا اس کا فون دیکھنے لگی پھر اسکا فون تھاما۔
اور تصویر کو دیکھتی وہ سن رہ گئی۔۔۔۔”اعظ کا فون ہے۔۔۔!”
وہ خوشی سے چہکی تو ازلان فوراً کچن سے آیا جہاں وہ فون اپنے سامنے رکھتے ویڈیو کال آن کر چکی تھی۔
اعظ
“فرشتے؟” مخالف بے یقین تھا۔۔۔۔۔
“کہاں ہو اس وقت؟ ازی کے گھر پر ہو؟ ازلان کہاں ہے؟” وہ ایک ساتھ سارے سوالات کر گیا تو وہ مسکرائی۔
وہ جب سے یہاں آئی تھی یہ پہلی مسکراہٹ تھی جو ازلان اظہر کو بے حد بّری لگی تھی۔
“اعظ۔۔۔۔تم کہاں ہو کب آؤ گے؟” وہ تڑپی تھی۔۔۔ازلان اظہر نے مٹھیاں بھینچی۔
“بس کچھ دن۔۔۔۔پھر میں اپنی فرشتے کے پاس موجود ہوں گا۔۔۔۔۔”وہ مسکراتے بولا۔
“آپ کیوں گئے تھے مجھے چھوڑ کر؟” وہ سنجیدگی سے استسفار کرنے لگی۔
“مجھے کام تھا۔۔۔لیکن آ کر فرشتے کو منا لوں گا” وہ اسے پچکارتے لگا۔۔۔۔اس سے پہلے فرشتے کچھ بولتی ازلان نے اس کے ہاتھ سے فون لیا اور کال کاٹ دی۔
“اعظ بات کر رہا تھا ابھی۔۔۔۔”فرشتے نے کہا تو ازلان نے اسے دیکھا۔
فرشتے نے بھی اس کی نگاہوں میں دیکھا۔۔۔۔۔پھر کسی احساس کے تحت پلکیں جھکا گئی۔
“تمہیں اعظم چاہیے یا ازلان؟” وہ چانک پوچھ گیا حالانکہ جواب جانتا تھا۔
“اعظ!”
فرشتے نے سر جھکائے ہی کیا جیسے اسے دیکھ کر بتایا تو وہ آنکھوں سے ہی اسے مار دے گا۔۔۔۔
اور بس ازلان اظہر کی ہمت یہیں تک تھی۔۔۔۔اس سے زیادہ وہ سامنے موجود لڑکی کو کیا کچھ دیتا۔
“تم واپس جا رہی ہو!”
“کہاں؟”
” جہاں سے لایا تھا میں تمہیں” وہ اس کا ہاتھ تھامتا بنا کچھ کہنے کا موقع دیے اسے اپنے ساتھ گھسیٹتا لے جانے لگا اور پھر گاڑی میں بٹھایا اور گاڑی کی اسپیڈ بڑھا دی۔
“مجھے وہاں نہیں رہنا۔۔۔۔۔۔”وہ رونے لگی تھی۔
“تمہیں پتا ہے تم اتنی بچی بھی نہیں ہو۔۔۔۔۔تم سب سمجھتی ہو لیکن بیوقوف ہو۔۔۔وہ شخص تمہیں چھوڑ گیا تھا جب تم نے۔۔۔۔وہ رُک گیا آنکھیں بند کر کھولیں۔
جب تم نے وہ سب دیکھا جس کی وجہ سے تمہاری یاداشت چلی گئی۔۔۔۔تب کون تھا وہاں۔۔۔کوئی نہیں۔۔۔کوئی نہیں تھا تمہارے پاس فرشتے حیدر۔۔۔تب تمہیں میں نے اپنایا تھا اور آج اگر تمہیں اعظم چاہیے تو ٹھیک ہے تمہاری سزا اب یہی ہے کہ تم اعظم اظہر کا انتظار کرو۔۔۔۔”وہ اسے گاڑی سے اترنے کا کہتا خود وہیں بیٹھا رہا۔
اس کے اترتے ہی گاڑی دوڑا لے گیا۔۔۔۔فرشتے حیدر نے اس کی گاڑی کو خود سے دور جاتے تک دیکھا تھا وہ سب کیا کہہ کر گیا تھا۔
اس پر کپکپی سی طاری ہو گئی۔
“نہیں۔۔۔۔وہ جھوٹ بول رہا ہے۔۔۔ایسا کچھ نہیں ہوا۔۔۔۔۔کوئی میرے پاس کیوں نہیں ہے۔۔۔”
وہ چیخ رہی تھی۔۔۔۔۔اندر سے بوا بھاگی آئی تھی جہاں وہ گر گئی تھی اور پھر اسے بیہوش ہی رکھا گیا تھا۔
نجانے کتنے گھنٹے دن اور پھر مہینے گزرتے چلے گئے۔۔۔۔۔کوئی بھی نہیں آیا تھا۔۔۔۔اسے سب یاد آرہا تھا آہستہ آہستہ وہ کمزور ہو گئی تھی۔
“بوا کیا وہ دوبارہ کبھی نہیں آیا؟”
اس کی حالت اب سنبھلتی جا رہی تھی اتنے مہینے کے علاج کے بعد سب یاد آگیا تھا اسے اور سب تکلیف دہ بھی رہا تھا۔
بوا خاموش رہیں!
آج آٹھ ماہ اور دس دن ہو گئے تھے اس دن کو۔۔۔۔ہاں فون اس کا ہر ایک دن آیا تھا لیکن اس نے دوبارہ یہاں کا رُخ کبھی نہیں کیا تھا لیکن یہ سب بتانے کی اجازت انہیں نہ تھی۔
“نہیں!” وہ بس اتنا ہی بولی۔
“آپ کس کی بات کر رہی ہیں؟ اعظم اظہر کی یا ازلان اظہر کی؟” بوا نے پوچھا۔
تلخ سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر پھیل گئی۔
“وہ دونوں ایک جیسے ہیں لیکن “وہ”۔۔۔”
اس نے آنکھیں بند کر کے کھولیں جیسے خود کو سمجھانا چاہ رہی ہو کہ فرشتے حیدر خود کو بے مول مت کرنا۔
“آپ ان سے ملنے چلی جائیں!” بوا نے کچھ سوچتے کہا۔
“ہرگز نہیں!” وہ بول کر اپنی کتابیں اٹھاتی کمرے میں بند ہو گئی۔
سترہ سال کی ہو گئی تھی اب وہ۔۔۔۔۔اپنی زندگی کی محرومیوں کو یاد کرتے وہ کئی کئی راتیں سو نہیں پاتی تھی۔
لیکن اس شخص کے آخری ملاقات میں بولے جانے والے لفظ اسے زہن نشین ہو گئے تھے روز یاد کر کے۔
“تمہیں پتا ہے تم اتنی بچی بھی نہیں ہو۔۔۔۔۔تم سب سمجھتی ہو لیکن بیوقوف ہو۔۔۔وہ شخص تمہیں چھوڑ گیا تھا جب تم نے۔۔۔۔جب تم نے وہ سب دیکھا جس کی وجہ سے تمہاری یاداشت چلی گئی۔۔۔۔تب کون تھا وہاں۔۔۔کوئی نہیں۔۔۔کوئی نہیں تھا تمہارے پاس فرشتے حیدر۔۔۔تب تمہیں میں نے اپنایا تھا اور آج اگر تمہیں اعظم اظہر چاہیے تو ٹھیک ہے تمہاری سزا اب یہی ہے کہ تم اعظم اظہر کا انتظار کرتی رہو۔۔۔”اس کے لفظ حفظ ہو گئے تھے فرشتے حیدر کو۔
“ہاں میں واقع بیوقوف تھی۔۔۔۔لیکن تم نے سچ کہا تھا اعظم اظہر کا انتظار انتظار ہی رہے گا۔۔۔۔”وہ خشک سا قہقہ لگا گئی۔
“وہ پوچھ رہی تھی آج پھر آپ کا۔۔۔۔”بوا نے اس کی کال آنے پر اسے بتایا۔
اچھا! وہ بس اتنا کہہ پایا۔
“آپ آ کیوں نہیں جاتے؟”
“اسے میری نہیں بھائی کی تلاش ہے بوا۔۔۔۔۔اور اس احساس سے مجھے نفرت ہے۔۔۔۔جو میرا ہے وہ میرا ہے لیکن اگر کوئی میری چیز میرے پاس رہنے کی متمحل نہیں تو میں زور زبردستی کرنے کا قائل نہیں۔”
“اس کی پڑھائی کیسی جا رہی ہے؟”
“اچھی! سب ٹھیک ہے یہاں۔”
“کیا اعظم صاحب نہیں آئے؟”
“آگئے ہیں جلد تلاش ختم ہو گی آپ کی لاڈلی کی۔۔۔”وہ زہرخند لہجے میں بولا۔
“کچھ چیزوں کی بھی ضرورت تھی۔۔۔_
“ڈرائیور کو بولیے گا۔۔۔۔وہ سب لا دے گا۔۔۔شاید کل کال نہ کر پاؤں کام بہت ہے۔۔۔خیال رکھیے گا خدا حافظ۔”
ہاں اب ایسا ہی تو ہونے لگا تھا کہاں وہ روز کال کرتا تھا لیکن اب ناغے ہو جاتے تھے کہاں وہ فرشتے حیدر کی ہر دوا کا نام رٹے ہوئے تھا اور اب کہاں فرشتے کا زکر بھی نہیں کرتا تھا۔۔۔سب وقت کا تقاضا تھا سب بدل گیا تھا۔
