220.5K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Tera Sarmaya Ho Episode 14

Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf

“ہم واپس کب جائیں گے؟” کونین نے اسے دیکھتے پوچھا۔

“واپس کیوں جانا چاہتی ہو؟”

وہ کھانا کھا کر اب سکون سے سب سمیٹتے وہاں بیٹھے تھے۔

“بابا کو مِس کر رہی ہوں ان سے ملنا چاہتی ہوں۔”

شایان کے تاثرات جامد ہوئے آنکھوں کے سامنے اپنی خالہ کا روتا چہرہ آیا۔

“کل چلیں گے!!!”

اوکے! وہ خوش ہو گئی اور سامنے ٹی وی پر موجود مووی کو دیکھنے لگی۔

“کونین۔۔۔۔”

ہممممم؟ وہ مصروف سی بولی۔

“اگر تمہیں مجھ میں یا اپنے باپ میں کسی ایک کو چُننا ہوا تو کِسے چُنو گی؟”

“آواز تو اونچی کریں!” کونین نے ٹی وی کی سکرین کو دیکھتے کہا۔

اس لیے اس کا سوال سُن نا پائی تھی شایان نے غصے سے ٹی وی بند کیا تو کونین نے اسے دیکھا۔

“میں بات کر رہا ہوں۔”

“ٹھیک ہے کیا پوچھ رہے ہیں؟ “

کونین کو اس کا غصہ ہونا اور سنجیدہ ہونا دونوں ڈرا دیتا تھا۔

“اگر تمہیں مجھ میں یا اپنے باپ میں کسی ایک کو چننا ہوا تو کِسے چُنو گی؟” سوال دہرایا گیا۔

“یہ کیسا سوال ہے؟” کونین نے حیرت سے اسے دیکھا۔

“جواب دو!”

“اس طرح کے بے مقصد سوالات کا کوئی جواب نہیں ہوتا شایان!” اس نے اٹھنا چاہا۔

شایان نے اس کے بازو سے پکڑتے اسے واپس بٹھایا۔

“جواب چاہیے مجھے!” شایان عثمانی بضد تھا۔

“کوئی بھی لڑکی اپنے باپ کو چُنے گی شایان!”

وہ سادگی سے بولی لیکن شایان عثمانی کی رگیں تن گئیں اور ہونٹ بھینچ لیے۔

یعنی وہ شخص جس نے اس کی خالہ کو دھتکارا تھا اب مستقبل قریب میں اُس شخص کی بیٹی، اس کی بیوی اسے دھتکارنے والی تھی۔

“کونین شایان عثمانی مجھے دھتکارنے کا کبھی مت سوچنا تمہیں جان سے مار دوں گا میں!!” وہ غرایا۔

“اٹھو سامان باندھو ہم جا رہے ہیں!”

کونین نے ہونق بنے اسے دیکھا ابھی تک تو سب بہترین چل رہا تھا اور اب۔۔۔

خیر شاید اس کا ناراض ہونا بنتا بھی تھا ہر شخص اپنے آپ کو کسی کی دوسری پرائورٹی بنتا دیکھنا پسند نہیں کرتا لیکن اسے صرف اپنے باپ سے ملنا تھا اسی لیے وہ سامان باندھنے لگی۔

شایان کا غصہ اتر گیا تھا یا شاید اس نے دبا لیا تھا اب وہ نارمل تھا۔

“شایان؟”

بولو؟

“کیا میں اب بھی کوئی جاب کروں گی آپ کے لیے؟”

نہیں!

“تو بابا کا علاج؟”

“وہ ایسے ہی چلے گا لیکن تم میرے ساتھ رہو گی اب سے!”

“لیکن۔۔۔۔۔”

“کیا تمہیں کوئی اعتراض ہے؟”

شایان عثمانی نے آئبرو اچکاتے سرد سے لہجے میں استسفار کیا تو وہ جھجکی۔

“مطلب ابھی رخصتی؟؟”

“تم میرے نکاح میں ہو اور رخصتی ہو گئی ہے۔”

“وہاں سب۔۔۔؟” اسے سمجھ نہ آیا کہ اس کے اس اچانک فیصلے پر کیا ردِعمل دے۔

“تم میرے فلیٹ پر رہو گی!” وہ لمحوں میں سب سوچ کر اسے فیصلہ سنا رہا تھا۔

کونین کو کیا اعتراض ہو سکتا تھا اس کے باپ کے بعد ایک وہی شخص تو تھا اس کا واحد رشتہ جس کے لیے دل بدلنے لگا تھا۔

ٹھیک ہے! کونین نے کہا اور اپنی انگلیوں سے کھیلنے لگی۔

“تم میری بیوی ہو کونین اور میں تمہیں ساتھ رکھنا چاہتا ہوں کیا یہ بات پریشانی طلب ہے؟”

شایان نے کونین کے ہاتھ تھامتے کہا۔

“نہیں!!!!”

اور فیصلہ ہو گیا تھا اس کے دل نے شایان عثمانی کو چُنا تھا وہ مسکرا دی۔

سفر تیزی سے کٹا تھا وہ اسے اپنے فلیٹ پر اتارتا چابی دیتا چلا گیا تھا۔

کونین نے اندر آ کر دیکھا جہاں صاف ستھرائی تھی وہ سیدھا سامنے موجود بیڈ روم میں چلی گئی اور فریش ہوتی سو گئیں کیونکہ سفر کی بہت تھکاوٹ تھی۔

شایان اپنی خالہ کے پاس آیا تھا سیدھا۔

“خالہ جانی؟”

وہ انہیں آواز دیتا گھر میں داخل ہوا۔۔۔۔۔جہاں اس کی نانی طاہرہ نقوی نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے اسے اپنی بیٹی اور اس کی خالہ کے کمرے کی طرف اشارہ کیا تھا۔

وہ دروازہ کھٹکھٹاتا اندر داخل ہوا۔

“کیسی ہے میری جان؟”

سائمہ نقوی نے اسے ساتھ لگاتے پیار دیا تو وہ مسکرا دیا وہ اپنی ماں سے زیادہ اپنی خالہ کے قریب تھا کیونکہ اس نے اپنے بچپن کا بیشتر حصہ اِنہیں کے ساتھ گزارا تھا۔

اور اُس حادثے کے بعد تو وہ اور زیادہ اپنی خالہ کے قریب ہو گیا تھا اور اس کی خالہ نے بھی اسے اپنے قریب کر لیا تھا۔

یہی وجہ تھی کہ شایان عثمانی کو اپنے مطابق چلاتی آئیں تھیں۔۔۔اپنے آنسوؤں کو نشانہ بناتے۔

“کیسی ہیں؟”

“وہ لڑکی کہاں ہے؟” وہ سیدھا مدعے پر آئیں تھیں۔

“حال احوال تو دریافت کر لیں تھکا ہوا ہوں!”

وہ شکوہ کناہ لہجے میں بولا تو انہوں نے ملازمہ کو آواز دیتے جوس لانے کو کہا۔

“اگر تم میری سگی اولاد ہوتے نا شان تو ایسا نا کرتے!” وہ نم لہجے میں بولی تو وہ تڑپ اٹھا۔

“خالہ میں آپ ہی کی اولاد ہوں!” وہ ان کے ہاتھ تھامتا بولا۔۔

“تم نے اس لڑکی کو واپس نہیں بھیجا اور نہ میری کالز کا جواب دیا ایسا کرتے تم نے مجھ سے زیادہ پہلی بار، پہلی بار کسی دوسری عورت کو فوقیت دی ہے اور عورت بھی وہ جس سے مجھے نفرت ہے۔”

شایان کو وہ سب پھر سے یاد آیا جو اس کو واپس بھیجنے پر ہوا تھا۔

“خالہ۔۔۔”

اور پھر وہ انہیں بتاتا گیا کہ کیسے کونین اُن سب سے گزری!

“تو مرنے دیتے اسے، چھوڑ دیتے جیسے اس کے باپ نے میری عزت سے کھیلا کوئی اُس ذلیل کی عزت سے کھیل لیتا تو مجھے چین تو پڑتا کم از کم۔”

وہ نفرت سے چِلائیں۔

خالہ! وہ دنگ رہ گیا اُن کی کونین کے لیے اتنی نفرت دیکھ کر۔

“کیا اس شخص نے آپ کی عزت۔۔؟”

“بس کرو شان! تمہیں فرق پڑتا ہے؟”

وہ مصنوئی آنسو صاف کرتی بولی لیکن شایان عثمانی تڑپا تھا۔

“بتائیں نا۔۔۔۔”

“نہیں کسی روز سہی۔۔۔۔ابھی تم جاؤ!”

خالہ۔۔۔۔

“پلیز شان ۔۔تم نے پرانے زخم ادھیڑ دیے ہیں جن سے خون رسنے لگا ہے اس سے پہلے کہ وہ زخم ناسور بن جائے میں دھو کر خود کو اس تکلیف سے نکالنا چاہتی ہوں۔”

“لیکن اس لڑکی کے بارے میں مت سوچنا!”

“وہ تباہ ہو گی۔۔۔تباہ۔۔۔!!”

وہ بولی اور واش روم میں بند ہو گئیں تو وہ تھکے قدموں سے اٹھ کر کمرے سے او پھر اس گھر سے نکل گیا۔

اس کا سر درد سے پھٹ رہا تھا وہ کیا کرتا ایک طرف وہ عورت تھی جس سے اسے ماں سے زیادہ محبت تھی جو ماں سے بڑھ کر تھی اور ایک وہ جو بچپن سے اس کے نکاح میں تھی اور جذبات بدلنے لگے تھے اس کے لیے۔

جذبات نہ بھی بدلتے تب بھی شاید اس سے دستبردار ہونا اس کی غیرت گوارہ نہ کرتی۔

وہ ڈیرے کے لیے نکل گیا اس وقت وہ کسی سے نہیں ملنا چاہتا تھا۔

اس نے ڈرائیور سے ڈیرے پر چلنے کا کہا تو ڈرائیور نے سہمتے اسے دیکھا۔

“کیا کچھ مسئلہ ہے تو میں خود چلا جاتا ہوں!” وہ سخت تیور لیے بولا۔

“نہیں سر۔۔۔بس واش روم سے آتا ہوں۔۔”

ڈرائیور نے فون نکالا اور نمبر ملایا ڈیرے کا جو اٹھایا نہیں گیا تھا پھر تیزی سے میسیج کیا اور بھیج دیا۔

اب وہ سست روی سے گاڑی چلاتا بیک ویو مرر میں شایان عثمانی کو دیکھ رہا تھا جو فون پر مصروف تھا۔

کیا تم گاڑی چلانا بھول گئے ہو؟

وہ دھاڑا تو ڈرائیور نے ہڑبڑاتے گاڑی کی اسپیڈ تیز کی۔

“بھائی آرہے ہیں!”

یہ پیغام پڑھتے وہاں سنسنی سی مچ گئی تھی کیونکہ وہاں کا ماحول شایان عثمانی کبھی پسند نہ کرتا۔

شراب اور شباب سے بھری پڑی تھی وہ جگہ اور یہ سب شایان کے جانے پر ہی ہوتا تھا کیونکہ وہ ان سب چیزوں کے سخت خلاف تھا لیکن اس کے جانے پر یہ سب چیزیں کی جاتی تھیں۔

اور پھر وہ جگہ تیزی سے خالی کی گئی تھی اس کے آنے سے پہلے۔

وہ وہاں پہنچا اور وہاں بنائے اپنے کمرے میں چلا گیا اس وقت اسے کوئی اپنے آس پاس نہیں چاہیے تھا۔

“کیا یہاں شراب پی گئی ہے پھر سے؟” وہ بدبو محسوس کرتا سختی سے استسفار کرنے لگا۔

“نہی۔۔۔نہیں۔۔۔۔!”

سب ڈرتے آگے آنے کو تیار نہ تھے شایان عثمانی کے غصے سے کون واقف نہ تھا وہاں۔

“یہ آخری وارننگ تھی اس کے بعد یاد رکھنا معافی کا گمان مت کرنا مجھ سے نکلو سب یہاں سے فوراً!”

وہ دھاڑا تو وہ سر جھکائے نکل گئے۔

کونین سو کر جاگی تب بھی وہ نہیں آیا تھا اس نے باورچی خانے کا چکر بھی لگایا تھا لیکن کھانے کو کچھ نہیں تھا۔

“اففف! اب کیا کروں؟”

“کیا خود لے آؤں؟”

وہ اسی کشمکش میں تھی کیونکہ اسے بے حد بھوک لگی تھی اور شام ہو گئی تھی شایان عثمانی واپس نہیں آیا تھا۔

اس نے چادر اوڑھی اور وہیں سے گیٹ کی چابی اٹھائی جو ایک شایان رکھ کر گیا تھا اور گیٹ بند کرتی پیسے لیتی باہر نکل گئی۔

پاس ہی کی دکان سے چیزیں لیں تھیں اس نے۔۔۔اسے کچھ دور سے ہی شایان کی گاڑی دِکھ گئی۔

اس نے بھی شاید کونین کو دیکھ لیا تھا اس لیے پاس لا کر گاڑی روکی۔

“بیٹھو!” وہ سنجیدہ تھا۔

وہ بیٹھ گئی اور سامان اندر شایان ہی لایا تھا۔

“کیا کرنے گئی تھی باہر؟ کیا میں نے باہر جانے کی اجازت دی تھی؟”

“کھانے کو کچھ نہیں تھا شایان مجھے بھوک لگی تھی اور کیا آج کے بعد مجھے باہر جانے کے لیے بھی آپ کی اجازت درکار رہے گی؟”

“نہیں!”

“لیکن یہاں سب مجھے جانتے ہیں۔۔۔۔”

“تو آپ چاہتے ہیں کہ کسی کو پتا نا چلے کہ میں آپ کے ساتھ رہتی ہوں؟” وہ استہزایہ انداز میں بولی۔

شایان نے آنکھیں بند کر کے کھولیں۔

“کچھ بنا لو بھوک لگی ہے!”

“آئیں میرے ساتھ وہیں بیٹھ جائیں!”

“فریش ہو کر آتا ہوں!”

وہ فریش ہونے کے بعد وہیں کچن میں چلا گیا تھا۔

اس کے چہرے سے تھکاوٹ صاف جھلک رہی تھی اور اس کے سنجیدہ پن کی یہی وجہ دریافت کی تھی کونین نے۔

تیاری کرتے اس نے دال بننے رکھ دی تھی اور چاول وہ دھو رہی تھی۔

اس نے پانی کا گلاس شایان کے آگے رکھا جو میز پر سر ٹکائے ہوئے تھا۔

“یہ لیں!” اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا تو شایان نے سر اٹھایا پھر پانی پیا۔

تھک گئے ہیں؟

شایان نے محض سر ہلایا تھا۔

“آپ آرام کر لیں کھانا بن جائے گا تو میں بتا دوں گی!”

“نہیں ٹھیک ہوں یہاں!”

“اور تم نے باہر جاتے پھر سے اپنی پرانی چادر کیوں اوڑھی تھی؟”

کونین کو جھٹکا لگا وہ اتنا غور کرنے لگا تھا اس پر، اس کی چیزوں پر؟

“آپ نے جو دلوائیں ہیں وہ اچھی والی ہے نا میں نہیں چاہتی خراب ہو جائے تو بس کسی خاص موقعے۔۔۔۔”

“کونین شایان عثمانی تم پاگل ہو؟ جاؤ وہ ساری نکال کر رکھو وہی استعمال کرو گی تم انہیں پھینک دو دوبارہ نہ دیکھوں میں یہ تم پر اور خراب ہو جائیں تو نئی آجائیں گی۔”

اوکے! وہ ہلکا سا مسکرا دی۔

“اور ابھی یہ اتارو! گھر میں ہو تم!”

شایان نے کہتے اس پر سے چادر اتاری اور سائیڈ پر رکھ دی تو وہ کام میں مصروف ہو گئی۔

شایان کو گھر سے فون آرہا تھا اس کے دادا اس سے ملنا چاہتے تھے لیکن اس وقت وہ بس سکون چاہتا تھا۔

کھانا کھانے کے بعد وہ کمرے میں چلا گیا تھا اور کونین نے کچن سمیٹا اور پھر اندر داخل ہوئی جہاں وہ بیڈ پر لیٹا تھا۔

وہ فریش ہونے چلی گئی لیکن دل کی دھڑکنوں کی رفتار سست تھی کہ وہ کہاں سوئے گی۔

وہ باہر آئی اور انگلیاں مڑوڑتی یہاں وہاں دیکھنے لگی کمرے میں بیڈ کے علاؤہ کرسیاں تھیں کوئی صوفہ نہیں تھا۔

“کونین لیٹو اور لائٹ اوف کرو آنکھوں میں پر رہی ہے۔”

“شایان پر۔۔۔۔”

“فوراً لیٹو!”

وہ تیزی سے لائٹ بند کرتی دوسری طرف آئی یہ سب نیا تھا لیکن منفرد اور ممتاز۔

وہ سمٹ کر لیٹ گئی اور چھت کو گھورنے لگی۔

“کیا تمہیں مجھ سے ڈر لگتا ہے؟”

کچھ لمحوں بعد شایان نے اسے کھینچ کر اپنے پاس کیا تو اس کے منہ سے چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی۔

“آپ جاگ رہے ہیں؟”

کونین اب بھی سیدھی لیٹی تھی جیسے پتھر کا مجسمہ ہو۔

“تم ایزی ہو جاؤ کونین اور ان سب کی عادت ڈال لو!” اس کی آنکھیں ابھی بھی بند تھیں۔

کونین نے اس کا بازو دیکھا جو اس سے تھوڑا دور تھا اور پھر دل کو بُری طرح ڈبٹا۔

لیکن اگلے ہی لمحے اس کا دل بند ہوا کیونکہ شایان اپنا بازو اس کے اوپر سے گزار کر بیڈ کی دوسری طرف رکھ چکا تھا۔

اس نے سانس تک روک لی تو شایان نے آنکھیں کھولیں۔

“کونین تم مجھے سختی پر مجبور مت کرو سانس چھوڑو!”

کونین نے تھوک نگلا اور سانس چھوڑتے اسے دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ دونوں اپنے راستے پر چل نکلے تھے اب نجانے ان کی قسمتیں انہیں کب ملاتیں؟

ازلان واپس آگیا تھا اُسی کمرے میں جہاں پر موجود رہتے اسے وحشت ہو رہی تھی خود سے بھی اور اس جگہ سے بھی۔

وہ لمحے بار بار اس کی آنکھوں کے سامنے آ ٹھہرتے جس میں فرشتے رو رہی تھی اور وہ آنکھیں میچ جاتا۔

اور پھر دن ہفتوں میں اور ہفتے مہینوں میں تبدیل ہونے لگے اُن دونوں نے ایک دوسرے کو کال تک نہ کی تھی۔

اعظم فرشتے کی بہت کئیر کرتا تھا لیکن وہ ہمیشہ اس سے دوری برقرار رکھتی تھی اس نے آگے پڑھائی شروع کر دی تھی۔

بزنس میں داخلہ لیتے اس نے خود کو بے حد مشغول کر لیا تھا ازلان اظہر کی سوچوں کو بھی جیسے اس نے خود پر حرام کر لیا تھا۔

وہ ڈر گئی تھی اس دن سے، اس کے اُس روپ سے وہ دوبارہ اسے اپنے قریب نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔

“تم کیا چاہتی ہو زارا؟” اعظم نے تنگ آتے کہا۔

“آپ کو چاہتی ہوں!” جواب فوراً آیا تھا۔

“یہ جانتے ہوئے کہ میں تم میں بالکل بھی دلچسپی نہیں رکھتا؟”

وہ تنگ آگیا تھا اس لڑکی سے جو نمبر بدل بدل کر اس کو فون کر لیتی تھی۔

بالکل!

“بلکہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ آپ کسی اور سے محبت کرتے ہیں اور پتا ہے آپ غلط ہیں۔”

“میں غلط ہوں لیکن تم نہیں جو انجان شخص کو جانے اور ملے بغیر اس کے عشق میں مبتلا ہونے کا اعتراف دن رات کرتی ہو؟” وہ سگریٹ سلگاتا بولا۔

“سگریٹ نوشی صحت کے لیے مضر ہے!”

وہ بولی تو اعظم نے حیرت سے فون کی سکرین کو دیکھا جیسے اسے دیکھا ہو۔

“تمہیں کیسے پتا۔۔۔۔؟

“آپ کے بارے میں سب معلوم ہو جاتا ہے مجھے!”

وہ دلفریبی سے بولی اور کھڑکی سے چھپ کر اس کا عکس دیکھا جو حیران تھا اب بھی۔

“اب مجھے کال مت کرنا دوبارہ نہیں تو یہ نمبر بھی بلاک کر دوں گا!”

“نہیں کریں اعظم۔۔۔۔اب تو دُکان والا بھی مجھے مشکوک سمجھتا ہے جب میں دوسری سم لینے جاتی ہوں ہر دوسرے دن بعد۔”

وہ معصومیت سے بولی تو اعظم اظہر کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔

اور ایسا پہلی بار ہوا تھا بالکل پہلی بار!

دور کھڑی زارا نے اس کی مسکراہٹ کو دیکھتے اپنے رگ و پے میں سکون اترتا محسوس کیا تھا۔

زارا نے آنکھیں بند کی اور لفظ ادا کیے۔

نجانے لوگوں کو خوبصورتی پر لفظ کیوں نہیں ملتے

ہمارا بس چلے تو ان کی مسکراہٹ پر غزلیں لکھ ڈالیں

از قلم خود۔

“کال کاٹ رہا ہوں میں!” اعظم نے خاموشی کے بعد کہا۔

یہ پہلی بار تھا کہ اس نے زارا سے اس تحمل سے بات کی تھی نہیں تو وہ ہر بار اسے ڈانٹتے اور دھتکارتے بلاک کر دیتا تھا۔

“ٹھیک ہے بس نمبر مت بلاک کیجئے گا نہیں تو وہ دکان والا نومی شومی مجھے سم نہیں دے گا اور گھر والوں کو الگ بتا دے گا۔”

“تم وہاں جاتی ہو اس سے لینے؟” اعظم نے سنجیدگی سے استسفار کیا۔

“جی اسی سے تو ملتی ہے اور۔۔۔۔”

نمبر بلاک نہیں کر رہا دوبارہ اس کی دکان پر مت جانا اعظم اظہر کے زہن میں اس لڑکے کا عکس لہرایا جو نہایت گھٹیا اور لوز کیریکٹر کا تھا۔

“ٹھیک ہے!”

زارا کے لیے تو ویسے بھی اعظم اظہر کی بات پتھر پر لکیر ہوتی تھی۔

“اعظم سگریٹ اور مت پئیں اور کھانا کھا لیں جا کر!”

وہ کہتی کال کاٹ گئی تو اعظم اظہر وہیں کھڑا رہ گیا۔

ایسی ہی قدر تو وہ فرشتے کی کرتا تھا لیکن وہ تو اس سے سیدھے منہ بات تک نہ کرتی تھی۔

فرشتے نے یونیورسٹی میں دو ہی دوست بنائے تھے حسن طالب اور نوشین علی۔

اسے بزنس پڑھنے میں کافی دِقّت کا سامنا تھا کیونکہ اسے ریاضی سے سخت چِڑ تھی اور اب اسے وہی سب پڑھنا پر رہا تھا لیکن وہ پوری محنت کر رہی تھی اور تھا بھی کیا اس کے پاس کرنے کو۔

وہ اب بھی بوا کے پاس ہی رہ رہی تھی اور اس کا خرچہ ازلان اظہر اٹھا رہا تھا وہ جانتی تھی۔

وہ اسائنمنٹ بنا رہی تھی جب اس کا فون بجنے لگا اس نے بنا نمبر اور نام دیکھے کال اٹھا لی۔

“ہیلو!”

جواب نداد۔

“ہیلو کون؟”

اب بھی جواب نہ ملا تو اس نے کان سے ہٹایا تو کوئی نمبر تھا۔

“بھئی بات نہیں کرنی تو نمبر کیوں ملایا ہے؟”

“اگر نہیں چاہتی ہو کہ تمہارے دوستوں کو کوئی نقصان پہنچایا جائے تو اُن سے دور رہو۔”

“تم کون ہو؟”

اس کے ہاتھ سے پین چھوٹ گیا وہ آواز وحشت میں ڈوبی تھی کہ وہ پور پور کانپ گئی۔

“میں کون ہوں فرشتے ازلان اظہر یہ بات جاننا تمہارے لیے ضروری نہیں لیکن ان دوستوں سے دور رہو۔”

“لیکن کیوں؟”

“کیونکہ وہ ڈرگز لیتے ہیں اور تمہیں تو دھویں سے بھی الرجی ہے اور یاد رکھو تمہیں نقصان پہنچا تو میری طرف سے بھی تمہیں بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔”

“اور ریاضی اگر نہیں آتی تو داخلہ کیوں لیا؟”

“سکائپ پر روز تمہاری گھنٹے کی کلاس ہو گی میرے ساتھ اور میری باتوں کو حفظ کر لو!”

وہ کہتا کال کاٹ گیا جبکہ وہ تو اب تک سُن تھی۔

“وہ شخص اسے کیسے جانتا تھا؟”

“اور اس کی آواز؟ اتنی وحشت؟”

کیا وہ ٹھیک کہہ رہا تھا حسن اور نوشین ڈرگز لیتے تھے؟ وہ سوچتے اسائمنٹ چھوڑتے سونے کے لیے لیٹ گئی۔