Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf NovelR50407 Mein Tera Sarmaya Ho Episode 3
Rate this Novel
Mein Tera Sarmaya Ho Episode 3
Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf
میر نے آزان کی آواز سنتے ہی اپنی نگاہیں اس سے ہٹائیں تھیں۔۔۔اس پر کمفرٹر برابر کرتے وہ بنا آواز اٹھا اور باہر نکل گیا۔
نماز ادا کرنے کے بعد آنکھیں نیند سے بھری تھیں اسی لیے بستر پر گرتے ہی سو گیا۔
فرشتے نے جاگتے اردگرد دیکھا تو گھبرا گئی اس ماحول سے مانوس نہ تھی وہ۔
جب کتنی ہی دیر اسے وہ سامنے نہ دِکھا جو یہاں لایا تھا تو تو رونے والی ہو گئی پھر کمرے سے باہر نکل گئی۔
گھر سارا سنسان پڑا تھا۔۔۔۔۔وہ روتی وہیں صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔خوف پھر سے دل پر غالب ہونے لگا تھا۔
“ازززززز!۔۔۔۔!!!!”
اسے صحیح سے تو اس مسیحا کا نام بھی نہیں یاد تھا جس نے اسے کہا تھا وہ اس کا سب کچھ ہے۔
وہ اب کی بار ہچکیوں سے رونے لگی تھی۔۔۔۔بالوں کو کھینچتے وہ پاگل ہونے کو تھی۔۔۔۔ایسا اس کے ساتھ خوف کے عالم میں اکثر ہوتا تھا۔
اسے نیند میں شائبہ گزرا تھا کہ اسے پکارا گیا ہے لیکن چند لمحوں بعد سسکیاں سنتے اس نے آنکھیں کھولیں۔
پھر یاد آنے پر خود پر ہزار بار لعنت بھیجتے کمفرٹر دور پھینکا اور باہر کی طرف بھاگا۔
“ہنی!”
صوفے پر اسے روتے دیکھا تو وہ فورا اس کے قریب گیا۔
“کیا ہوا؟”
“ڈر گئی ہو؟ یہاں دیکھو۔۔۔۔”
“تم سب کی طرح ہو۔۔۔مجھے یہاں نہیں رہنا۔۔۔”
وہ اس کے ہاتھوں کو دور کرتی خوفزدہ ہوتی چیخنے لگی۔
“فرشتے!”
اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھتے ازلان نے بے بسی سے اسے دیکھا۔۔۔۔اس کا دل چاہا خود کو اپنی اتنی لاعلمی پر سزا دے۔
“میری طرف دیکھو! آئیم سوری۔۔۔۔”اس کے گھٹنے پر نامحسوس انداز میں ہاتھ رکھتے وہ بولا۔
“تم بھی سب۔۔۔کی طرح۔۔۔ہو۔۔۔۔۔۔گندے۔۔۔۔”
“سب کی طرح نہیں ہوں میں ۔۔۔۔۔مجھے نیند آگئی تھی۔۔۔میں معافی مانگ رہا ہوں۔۔۔۔آئندہ ایسا نہیں ہو گا۔”
“تم میرے کمرے میں سو گے اب سے!” وہ اسے بتانے لگی تو مسکرا دیا۔
وعدہ رہا! پھر اس کے ہاتھوں کو بنا تھامے جھکا اور ہلکے سے لب رکھے۔
تم۔۔۔۔۔وہ کانپی نہیں تھی لیکن جھجکی ضرور تھی۔
“کیا ناشتہ کرے گی میری ہنی؟”
“کیا تمہیں حلوہ پوری بنانی آتی ہے؟”
وہ ہچکی لیتے بولی تو ازلان نے ٹشو کے ڈبے سے ٹشو نکالتے ہلکے ہاتھ سے اس کا چہرہ صاف کرنا چاہا تو وہ پیچھے ہٹی۔
ازلان نے اسے سنجیدگی سے دیکھا۔
“کیا میرا ایسا کرنا بُرا لگا ہے؟”
اممممم۔۔۔۔پتا نہیں!
ازلان نے دوبارہ سے ہاتھ بڑھایا اور اب کی بار اس کا چہرہ ٹشو سے صاف کر دیا۔
“نہیں ہنی مجھے نہیں آتی حلوہ پوری بنانی لیکن تمہیں پتا ہے میں پراٹھا اچھا بناتا ہوں۔”
“کیا سچ میں؟ وہ بھی بنا لیتے تھے پراٹھا اور بابا بھی!”
ازلان خاموش ہو گیا لیکن پھر اٹھ گیا تو وہ بھی کھڑی ہوئی۔
“میں یہاں اکیلی نہیں بیٹھوں گی!”
“یہ میرا گھر ہے ہنی۔۔۔یہاں کوئی نہیں آئے گا کبھی میرے علاؤہ! وہ اس کا ڈر ختم کرنا چاہتا تھا۔”
“پکا وعدہ؟”
“پکا والا! آؤ ناشتہ بنا دوں۔۔۔۔”
ازلان کچن میں گیا تو وہ پیچھے پیچھے گئی اور وہیں بیٹھتی اسے کام کرتا دیکھنے لگی۔
ازلان نے اپنا اور اس کا ناشتہ میز پر رکھا اور نامحسوس انداز میں اپنی کرسی کھینچ کر تھوڑی اس کی کرسی کے قریب کی۔
کھاؤ!
“امممممم! مجھے تو بوا کھلاتی تھیں۔۔۔میرے ہاتھ گندے ہو جائیں گے انڈے سے۔۔۔۔”وہ کسی دس سالہ لڑکی کی طرح منہ بسوڑتی بولی۔
ہاں حالات نے اسے دس سال کی بچی ہی تو بنا دیا تھا۔۔۔۔۔زندگی اس کے ساتھ بہت سختی کر گئی تھی اتنی سی عمر میں۔
“میں کھلا دیتا ہوں!” ازلان نے لقمہ بناتے اس کے آگے کیا تو وہ کھا گئی۔
پھر ایسے ہی ناشتے میں اس نے مزید کوئی بات نہ کی۔
پھر اپنا لیپ ٹاپ تھام کر بیٹھ گیا اور اسے اس کی دوا دی جو اب صوفے پر بیٹھی اسے دیکھتی اور کبھی کمرے کو، کبھی اردگرد کی چیزوں کو۔
“ازززز! تم جھولا کب لگواؤ گے؟”
“آج شام کو لگوا لوں گا۔۔۔”وہ کہہ کر اپنے لیپ ٹاپ پر دیکھنے لگا۔
“یہاں آؤ!”
ازلان نے فرشتے کو دیکھتے کہا۔۔۔وہ چاہتا تھا کہ وہ اسے اتنی اپنی عادت لگا دے کہ وہ کچھ گھنٹے بھی اس کے بغیر نہ رہ پائے اور اعظم اظہر کے آنے کے بعد بھی وہ اسی کے لیے پاگل رہے۔
فرشتے نے تیزی سے سر ناں میں ہلایا۔
“جھولا لگوانا ہے یا نہیں؟” وہ اسے لالچ دے رہا تھا۔
وہ کچھ سوچتی رہی لیکن اٹھی نا تو ازلان بھی اپنا کام کرنے لگا لیکن نظر اس پر ہی تھی جسے اب دوا کی وجہ سے پھر سے نیند آرہی تھی۔
“فرشتے یہاں آئیں میرے پاس!” ازلان نے ایک اور کوشش کی اور وہ کامیاب رہا تھا۔
وہ اٹھتی اس کے پاس گئی اور اس کے سامنے کھڑی ہو گئی۔۔۔ازلان نے اپنے سے فاصلہ رکھتے صوفے پر ہاتھ رکھا تو وہ وہیں بیٹھ گئی۔
نیند میں اونگتے اس کا سر صوفے کی ٹیک سے ڈھلکنے لگا تو ازلان نے اپنا لیپ ٹاپ ہٹایا اور اس کا سر دھیمے سے اپنی گود میں رکھا۔
وہ کتنی ہی دیر سوتی رہی اور وہ کام کرتا اسے دیکھتا رہا۔
یہ ازلان اظہر کی زندگی کا مکمل دن تھا۔
اسے وہیں سوتا چھوڑ کر وہ اس کے چہرے پر بھی کمفرٹر دیتا دروازہ کھولتا انہیں خاموشی سے اپنے پیچھے آنے کا کہتا اپنے ٹیرس پر گیا اور وہاں جھولہ لگوایا۔
ایسا ممکن نہ تھا کہ فرشتے کچھ بولتی اور ازلان اظہر اسے پورا نہ کرتا۔
وہ اٹھ گئی تو وہ پھر موجود نہیں تھا اب کی بار وہ سامنے موجود کمرے میں گئی جس کا دروازہ کُھلا ہوا تھا۔
“ازززز؟” یہ آپ کا کمرہ ہے؟ اس نے اس خوبصورت کمرے کو دیکھتے کہا۔
ازلان نے فوراً شرٹ کے بٹن بند کرتے رُخ پھیرا اور چہرے کی سنجیدگی کو مسکراہٹ میں تبدیل کیا۔
“تمہیں پسند آیا؟”
بہت!
“تو تم لے لو!”
کیا سچ میں؟ وہ پہلی بار کل سے اب تک اس کے سامنے خوفزدہ نہیں تھی۔
بالکل!
“تمہارے لیے ایک اور تحفہ ہے۔”
کیا فرشتے کے لیے؟ وہ اپنے اوپر انگلی رکھتی حیرت سے بولی۔
“ہاں آؤ!” وہ بار بار اسے اپنے پاس بلاتا تھا وہ یہ محسوس کر گئی تھی شاید۔
وہ چلتی اس کے پاس آئی تو ازلان نے اسے دیکھا پھر مسکرا دیا اور باہر ٹیرس کو دیکھا جہاں وہ اب بھی اس کی نظروں کے ارتکاز کی سمت دیکھنے کی بجائے اس کے چہرے کو غور سے دیکھ رہی تھی۔
فرشتے ازلان اظہر ان نگاہوں کو چومنے کی شدت میرے دل میں بڑھ گئی ہے وہ دل میں سوچتا بولا پھر اس کے ناک کو دباتا ٹیرس پر چلا گیا۔
فرشتے کئی لمحے سن کھڑی رہی۔۔۔۔ہاں اس نے اسے ہاتھ لگایا تھا ۔۔
ازلان اس کی بدلتی کیفیت ٹیرس سے دیکھ سکتا تھا۔۔۔
وہ جھولہ دیکھتی سب بھولتی تیزی سے باہر آئی۔
“یہ کس کا ہے؟”
“میرا!” ازلان نے سنجیدگی سے کہا۔
“یہ مجھے دے دو!” وہ جھولے کو دیکھتے بولی۔
“مجھے کیا دو گی بدلے میں؟”
“آپ کو کیا چاہیے؟” معصومیت سے استسفار کیا گیا۔
“مجھے فرشتے چاہیے!”
“لیکن فرشتے تو اعظ کی ہے” وہ بولی تو وہ تیزی سے اس کے قریب آیا۔
“فرشتے ازلان کی ہے کسی اعظ کی نہیں دوبارہ بولا تو جان سے مار دوں گا۔۔۔۔”اسے جھٹکے سے بازوؤں سے تھامتا غرایا۔
فرشتے نے خوف سے اسے دیکھا پھر جھٹکے سے پیچھے ہٹی۔۔۔۔آنکھیں نم ہونے لگی تو وہ ہوش میں آیا۔
فرشتے!
“مجھے یہاں نہیں رہنا۔۔۔۔”وہ رونے لگی تھی پھر سے۔۔۔۔
وہ آسان نہیں تھی۔۔۔اس کو سنبھالنے کے لیے ازلان اظہر جیسا حوصلہ مقصود تھا۔
“بیٹھو یہاں آ کر میں جھولا دیتا ہوں۔۔۔”ازلان نے اسے دیکھتے آنکھیں بند کرتے خود کو نارمل کیا پھر مسکراتے کہا۔
“تم مجھے مارو گے۔۔۔۔”
“میں کیوں ماروں گا اپنی فرشتے کو؟ کیونکہ فرشتے تو ازی کی ہے نا۔۔۔۔۔”وہ اسے کہتا پچکارتا بولا۔
ام ہمممممم۔۔۔۔۔وہ آنکھوں کو رگڑتے سر ناں میں ہلانے لگی۔
“میں خود بیٹھ جاتا ہوں۔۔۔۔”ازلان بیٹھ کر جھولہ جھولنے لگا وہ کئی لمحے اسے دیکھتی رہی پھر قریب آئی۔
“آپ یہ مجھے دے دیں۔”
“مجھے کیا دیں گی آپ ہنی؟”
“کچھ بھی۔۔۔لیکن ابھی اٹھیں!”
“سچ میں دیں گی؟”
“وعدہ نا اب اٹھیں۔۔۔۔۔”
وہ فوراً اٹھ گیا پھر وہ بیٹھی تو وہ جھولا جھلانے لگا۔
“یہ بہت اچھا ہے ازی۔۔۔۔”وہ اس کے بتائے نام سے اسے بلانے لگی۔
“تمہیں اچھا لگ رہا ہے ؟”
بہت؟
“آہستہ جھلاؤ ازی۔۔۔میں گر جاؤ گی۔۔۔۔”
تمہارہ ازی کبھی بھی نہیں گرنے دے گا تمہیں وہ اس سے زیادہ خود کو باور کروا رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ باہر گئی اور کچن کی طرف دیکھنے لگی جو سامنے ہی موجود تھا اسے یہاں کوئی اور نظر نہ آیا تھا ملازموں میں سے لیکن ایسے کیسے ممکن تھا۔
وہ اندر داخل ہوئی۔
“آپ کون؟” ملازمہ نے اس سے پوچھا۔
“اب سے شایان کے کام میں کروں گی۔۔۔۔”وہ اس سے زیادہ کچھ نہ کہہ پائی۔
ملازمہ نے حیرت سے اسے دیکھا شایان عثمانی کے لیے؟ یہ بات حیرت انگیز تھی۔
“آپ کو نیا رکھا گیا ہے؟”
کونین نے اسے دیکھا۔۔۔۔اس بات کا کیا جواب دیتی وہ۔
“کیا آپ ان کی کچھ لگتیں ہیں؟” ایک اور سوال۔
نہیں! وہ سنجیدگی سے بولی۔
“بوا بس یہ میرا کام کرے گی اب سے۔۔۔۔۔اور سارے کام یہی کرے گی اس کی کوئی مدد نہیں کی جائے گی۔۔۔میر ہر چھوٹا بڑا کام اسے ہی کرنا ہے” وہ کہہ کر باہر نکل گیا اور میز پر بیٹھ گیا۔
“کیا کھائیں گے یہ؟” کونین نے ملازمہ سے ٹھنڈے لہجے میں پوچھا۔
“سیلڈ اور اس کے بعد کافی۔۔۔۔۔”وہ بتاتی گئی تو وہ بناتی گئی کیونکہ یہ سب اسے کہاں ہی بنانا آتا تھا۔
یہ لیں! کونین نے بناتے اس کے آگے رکھا جو فون پر مصروف تھا اور واپس جانے لگی۔
“کہاں؟”
جی؟ کونین نے اسے حیرت سے دیکھا اب وہ کیا چاہتا تھا۔
“جب تک میں مکمل نہیں کرتا یہیں کھڑی رہو!
اور تمہارے پاس کوئی کام ہے بھی نہیں۔۔۔۔” واپسی تک “میرا کمرہ صاف ہونا چاہیے۔۔۔میری الماری کو سیٹ کر۔دینا اچھے سے۔” وہ شاید اس کی تذلیل کے لیے یہ سب کر رہا تھا۔
اس نے سر ہلایا۔
برووو! وہ ابھی کچھ سوچتی جب کوئی داخلی دروازے سے تیزی سے اندر آیا۔
“موحد؟ آرام سے آؤ!” اس نے دیکھا جہاں سے اس کی پوری فیملی آرہی تھی۔
“آہاں۔۔۔یہ حسینہ کون ہے؟” اس نے کونین کو دیکھتے کہا جو انہیں دھیان سے دیکھ رہی تھی۔
“موحد سٹاپ!” شایان نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔کونین نے اپنی چادر جو اچھے سے پھیلا رکھی تھی ماتھے سے مزید نیچے کی۔
ملائکہ نے آتے پیچھے سے اپنے ہاتھ شایان کے گرد باندھے اور اس کے چہرے کے ساتھ اپنا چہرہ لگایا۔
کیسے ہو؟
“ٹھیک ہوں تمہارا ٹوور کیسا رہا؟”
“زبردست!!!!!”
کونین نے حیرت سے یہ منظر دیکھا۔۔۔۔پھر بھنویں سکیڑیں ناگواری سے اور پھر نگاہیں جھکا لیں۔
کاش یہ حویلی والے اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرتے۔۔۔یہی بات اس کے دماغ میں آئی۔
آہستہ آہستہ سب اندر آنے لگے تھے اور صوفوں پر بیٹھ گئے۔
وہ ان سب کو جانتی تھی لیکن شاید وہ اسے نہیں جانتے تھے بس بچوں کو وہ نہیں جانتی تھی۔
اس کے باپ سے بڑے شاہ زیب عثمانی ان کی اہلیہ تہذیب عثمانی جن کی ایک ہی اولاد تھی شایان عثمانی۔۔۔۔ پھر کونین کے والد صاحب آتے تھے خاور عثمانی جن کی وہ اکلوتی اولاد تھی اور پھر منور عثمانی جن کی اہلیہ تھی کلثوم عثمانی جن کی دو اولادیں تھیں ملائکہ اور موحد۔۔۔۔ذس سب کی ایک ہی بہن تھی فاطمہ عثمانی جو باہر کے ملک میں رہائش پزیر تھیں اپنے شوہر اور تین بچوں عالیہ، فارس اور فیضان کے ساتھ۔
گھر میں سب سے بڑے تھے جہانگیر عثمانی جن کی اہلیہ کی وفات چند سال پہلے ہی ہو گئی تھی لیکن ان کا رعب و دبدبہ ابھی بھی ویسے ہی قائم تھا اس محل نما گھر میں جیسے سالوں پہلے تھا۔
“کیسا ہے ہمارا شہزادہ؟”
جہانگیر عثمانی نے کہا تو وہ ان کے قریب جھکتا ان سے پیار لیے ساتھ بیٹھ گیا تو انہوں نے اسے اپنے حصار میں لیا۔
وہ ان کا سب سے بڑا پوتا تھا اور سب سے قریب بھی کیونکہ موحد ابھی پڑھ رہا تھا یونیورسٹی میں اور ملائکہ جاب کرتی تھی وہ دونوں ان سے اتنا قریب نہ تھے جتنا شایان جو ان سے اپنی ہر بات ڈسکس کرتا تھا اور انہیں سے مشورے لیتا تھا اور اپنی ہر بات بھی انہیں سے منواتا تھا۔
“وہ لڑکی کون ہے؟”
انہوں نے کونین کو دیکھتے کہا جو ان سب کو بیٹھتے دیکھ اور شایان کو اٹھتے دیکھ واپس کچن میں چلی گئی تھی۔
“اسے میں نے اپنے کاموں کے لیے رکھا ہے۔۔۔۔بس یہ میرا فیصلہ تھا میرے آج سے سارے کام وہی کرے گی اور مجھے نہیں لگتا میں اس سے زیادہ کسی کو وضاحت دینے کا روادار ہوں۔۔۔۔”
اس نے سیدھے سے سب کو باور کروا دیا تو سب خاموش ہو گئے اس کی طبیعت کے بارے میں سب ہی جانتے تھے۔
“لیکن بیٹے تم کسی لڑکے۔۔۔۔۔؟”
“اس کے باپ کو ضرورت تھی بدلے میں یہ یہاں کام کر لے گی لیکن صرف میرے۔۔۔۔”
اس نے “میرے” پر زور دیتے کہا تو سب نے ہاں میں سر ہلایا اور اپنی باتوں میں مصروف ہو گئے کسی کو کہاں فرق پڑتا تھا۔
جہانگیر عثمانی نے غور سے کونین کے چہرے کو دیکھا پھر شایان کے دیکھنے پر نگاہوں کا رُخ پھیر گئے۔
میں چلتا ہوں۔۔۔شام میں آپ سے ملوں گا!
“کونین؟” اس نے کچن میں دیکھتے کہا۔
جی؟
“کمرے میں آؤ!”
وہ سب کو دیکھتی اس کے پیچھے گئی جہاں کسی کا بھی دھیان اس پر نہیں تھا وہ سب کے لیے ایک عام ملازمہ جیسی ہی تھی لیکن سب کی نہیں صرف شایان عثمانی کی۔
اور اس گھر میں سب جانتے تھے کہ شایان عثمانی کے نام کی چیز لینا گناہ تھا وہاں۔
وہ اپنی جوٹھی چیزیں تک کسی کو نہیں دیتا تھا۔
“میرے کمرے میں موجود رہنا۔۔بے مقصد گھر میں گھومنے کی ضرورتوں نہیں ہے۔”
“میں کیوں گھوموں گی آپ کی گھر میں؟”
وہ تلخ ہوئی۔۔۔اس ہنستے بستے گھرانے کو دیکھتے تلخی سی گُھل گئی تھی اس میں۔
“پہلی بار دیکھا ہے اتنا بڑا محل اور اتنی سہولیات سے بھری زندگی تو میں نے سوچا شاید۔۔۔۔”وہ اس کو دیکھتا اس پر طنز کر گیا۔
“کونین خاور کو یہ چیزیں کبھی بھی متاثر نہیں کیں۔۔۔۔یہ سب وہ نہیں ہے جو میں نے چاہا ہو۔”
“تو کیا چاہا ہے تم نے؟” وہ اس کی طرف قدم بڑھاتا ناچاہتے ہوئے بھی استسفار کر گیا۔
“میں اپنی نجی زندگی کسی بھی غیر سے ڈسکس نہیں کرتی۔۔۔۔”اس نے اپنے گال سے بال ہٹاتے کہا۔
شایان نے اس کے بالوں کی اسی لٹ کو انگلی پر گھمایا تو اس نے سانس روک لیا۔
“تمہاری نجی زندگی میں سب سے نجی پہلو یہ ہے کہ تم اس وقت اپنے سب سے قریبی اور محرم رشتے کے قریب ہو۔۔۔۔”وہ ہنسا۔۔۔۔۔جیسے اس کے مزاق اڑا رہا ہو۔
کونین دو دن پیچھے ہوئی۔۔۔شایان کے ہاتھ سے اس کی بالوں کی لٹ چھوٹ گئی۔
“آپ میری زندگی کا حصہ کبھی نہیں رہے نا ہوں گے کبھی!” وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتی بولی۔
اور شایان عثمانی کو یہی تو نہیں بھاتا تھا اس کا آنکھوں میں دیکھ کر بات کرنا اور اسکی زات کو بار بار دھتکارنا۔
شایان نے اس کا ہاتھ کھینچا اور اسے اپنے سے فاصلے پر ہی کھڑا کیا۔
“اور اگر میں تمہیں اپنی نجی زندگی کا حصہ بنا لوں تو؟”
“یہ ممکن نہیں!” وہ ایک بار پھر اسے چیلنج کر گئی۔
شایان عثمانی نے اس کے وجود کو دیکھا۔۔۔ایک کالج کی وہ چھوٹی سے لڑکی اسے دھتکار رہی تھی اس کی زات کی مسلسل نفی کر رہی تھی بیشک اسے بھی اس رشتے سے کوئی وابستگی ہرگز نہیں تھی لیکن وہ یہ سب کیسے کہہ سکتی تھی شایان عثمانی کے سامنے۔
شایان نے اسکی قمر پر ہاتھ رکھا تو اس نے جھٹکے سے نگاہیں اٹھاتے بے یقینی سے اسے دیکھا۔
“کونین شایان عثمانی مجھے چیلنج کبھی مت کرنا۔۔۔۔نہیں تو شایان عثمانی تمہیں بتائے گا کہ تمہاری نجی زندگی میں سب سے زیادہ حق کون رکھتا ہے۔”
کونین نے اپنی قمر سے اس کا ہاتھ ہٹانا چاہا۔
“پلیزززز!”
“میرا ہاتھ لگانا بُرا لگا ہے کونین خاور کو؟”
“بہت برا!” وہ صفائی سے بولتی اسے طیش دلا گئی تھی۔
شایان نے اسے مزید قریب کیا اور اس کی سر سے چادر اتارتے اس کی آنکھوں میں دیکھا جیسے کہنا چاہ رہا ہو کہ اب کیا کرو گی۔
“آئم سوری!”
اس سے زیادہ وہ اسے ضد دلاتی تو کوئی اپنا ہی نقصان کرتی اس لیے آنکھیں جھکا گئی۔
“میری واپسی سے پہلے تمہیں جانے کی اجازت نہیں”
شایان عثمانی نے جھٹکے سے اسے چھوڑا جیسے وہ کوئی فضول یا ناپاک شہ ہو اور باہر نکل گیا۔
اس نے نم آنکھوں کو جھپکا۔۔۔۔۔اسے رونا نہیں تھا اس محل والوں کو اپنے آنسو کبھی نہیں دکھانے تھے۔
وہ اپنے باپ کو فون کر کے ان سے طبیعت کا پوچھ کر مطمئن ہوتی اس کے کمرے کی صفائی کرنے لگی۔
نجانے زندگی میں آگے کیا ہونے والا تھا۔
