Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf NovelR50407 Mein Tera Sarmaya Ho Episode 26
Rate this Novel
Mein Tera Sarmaya Ho Episode 26
Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf
تہذیب عثمانی نے فوراً سائمہ نقوی کو اطلاع دی تھی خاور عثمانی کے آنے کی۔
شاہ زیب عثمانی اور منور عثمانی بھی فوراً کھڑے ہوئے تھے بھائی کے لیے۔
“آجاؤ! خاور کیوں کھڑے ہو؟”
جہانگیر عثمانی کے لہجے کی تڑپ وہاں موجود سب لوگوں نے محسوس کی تھی۔
خاور عثمانی اندر داخل ہوئے اور وہیں ٹی وی لاؤنچ میں رُک گئے اس گھر کی در و دیوار اور خوشبو آج بھی ویسی ہی تھی۔
بھائیوں نے انہیں گلے لگایا سب کی آنکھیں نم تھیں لیکن وہ سنجیدگی سے کھڑے اُس ایک شخص کو دیکھ رہے تھے جو ان کے احترام میں کھڑا ہونا تو دور سر بھی نہیں اٹھا پایا تھا۔
“کیا گھر کے چھوٹوں کو یہاں کے رسم و رواج نہیں معلوم؟”
انہوں نے شایان عثمانی کو دیکھتے طنز کیا تو سب کا دھیان شایان کی طرف گیا۔
موحد اور ملائکہ جا چکے تھے یونیورسٹی اسی لیے اب صرف وہاں گھر کے بڑے بچے تھے۔
“آپ کو میں نہیں جانتا اور انجان لوگوں کو میں اتنی عزت و تکریم نہیں بخشتا!”
وہ نگاہیں اٹھاتا سرد سے لہجے میں بولتا سب کو حیران کر گیا تھا۔
“شایان!”
شاہ زیب عثمانی دھاڑے تھے تہذیب عثمانی ہلکا سا مسکرائی تھی۔
ان کی بہن کا کمال تھا یہ کہ آج ان کا بیٹا باغی بنا شیر کی طرح اپنی ہی بڑوں کے خلاف آواز بلند کر گیا تھا۔
“انجان تو ہم نہیں رہے کبھی شایان شاہ ذیب عثمانی نہ کبھی ماضی میں اور نہ حال میں۔”
“آخر میری بیٹی منکوحہ ہے تمہاری، میرے ناکردہ گناہوں کا بدلہ لیا ہے تم نے میری اولاد سے تو انجان تو ہم کسی صورت نہیں ہوئے۔”
وہ بولے تو شایان اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا کچھ آگے آیا۔
“بیٹھیں پھر تو! اپنی بیوی کے نام پر عزت دینا تو بنتا ہے پھر میرا۔”
“بیوی نہیں منکوحہ برخودار! جو زیادہ دیر نہیں رہے گی۔۔۔”
وہ سالوں بعد دھاڑے تھے کہ حویلی میں ان کی آواز گونجتی پتوں میں سرسراہٹ پیدا کر گئی تھی۔
شاید اتنے سالوں پہلے وہ خود کے لیے بولتے تو آج اس مقام پر نہ ہوتے۔
“میری بیوی کو ان سب میں نہ لائیں وہ تیزی سے آگے آیا تھا۔”
شاہ زیب عثمانی نے ہاتھ سے روکتے اسے شعلہ بار نگاہوں سے گھورا۔
“خاور بیٹھ کر بات کرتے ہیں!” جہانگیر عثمانی موقعے کی مناسبت دیکھتے بولے تھے۔
“یہاں میری جگہ نہ سالوں پہلے تھی اور نا اب ہے میں یہاں صرف آپ کے پوتے کو بتانے آیا ہوں کہ میری بیٹی اب مزید اس رشتے میں نہیں رہے گی۔”
“اسے اِس رشتے سے جلد از جلد آزاد کرے۔۔۔اس کے بعد میں اس ملک سے اپنی اولاد کو لیتا چلا جاؤں گا۔”
شایان عثمانی کو لگا اس نے کچھ غلط سنا ہے جبکہ جہانگیر عثمانی اور شاہ زیب عثمانی نے شایان کو دیکھا تھا۔
وہ جانتے تھے اس کی محبت کے بارے میں اور شایان عثمانی کی عادت کو بھی وہ تو اپنا جوٹھا کسی کو نہیں دیتا تھا یہاں تو پھر اس کی بیوی کی بات ہو رہی تھی جس کے لیے اس کی بے چینی اور جنون وہ دیکھ چکے تھے۔
“یہ ممکن نہیں ہے!” وہ لمحوں بعد خود کو کمپوز کرتا بولا تھا۔
“اسے ممکن میں بنا دوں گا برخودار مجھے سختی پر مجبور نہ کرو! کیس عدالت میں جائے گا تو کیا عزت رہ جائے گی تمہارے خاندان کی؟” وہ سختی سے بولے تھے۔
شایان نے انہیں طیش کے عالم میں دیکھا۔
“مت بھولیں آپ بھی اسی خاندان سے ہیں!”
“بالکل نہیں! یہ خاندان مجھے سالوں پہلے عاق کر چکا ہے اپنے نام سے، اب میرا اور میری بیٹی کا تم جیسوں لوگوں سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔”
“اپنے لیے آواز نہیں اٹھائی میں نے لیکن اپنی بیٹی کے ساتھ وہی سب ہونے دوں گا یہ بھول ہے تمہاری۔
اسے آزاد کرو اپنے نام سے نہیں تو اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا میں یہاں۔”
“اسے آزاد تو مر کر بھی نہیں کروں گا میں وہ بیوی ہے میری اور شایان عثمانی اپنی بیوی کو تو مر کر نہ چھوڑے اسی لیے یہ بات زہن سے نکال دیں۔۔۔عدالت جائیں یا دنیا کی کوئی بھی طاقت لگا لیں ناکام ٹھہریں گے اس کے نام کے آگے سے میرا نام ہٹانے میں!” وہ ان کے قریب جاتا چیلینج کرتا بولا۔
خاور عثمانی نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھتے اسے دھکا دیا تھا پیچھے کی طرف کہ وہ لڑکھڑایا۔
شاہ زیب عثمانی نے اسے فوراً تھاما تھا۔۔۔عورتوں نے منہ پر ہاتھ رکھا تھا۔
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بیٹی کو دھوکا دینے کی؟”
وہ آگے آتے اس پر ہاتھ اٹھاتے کہ جہانگیر عثمانی اور منور عثمانی نے انہیں تھاما۔
“بالکل ویسے ہی جیسے آپ کی ہمت ہوئی میری خالہ کو دھوکا دینے کی۔”
“اس گھٹیا عورت کا نام مت لو!”
“زبان سنبھال کر خاور صاحب!” وہ دھاڑا تھا۔
“میری خالہ کے بارے میں کچھ مت بولنا۔۔۔۔”
“بلکہ اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کریں ان سے نکاح کر کے!” وہ بولا تو سب نے جھٹکے سے مُرتے اسے دیکھا جیسے اس کی دماغی حالت پر شک ہو۔
“کیا بکواس کر رہے ہو شایان؟” شاہ زیب عثمانی دھاڑے تھے۔
“میں وہی کہہ رہا ہوں جو کہنا چاہیے۔۔۔۔اس شخص کو بولیں میری خالہ کو اپنا نام دیں۔۔۔۔۔”
خاور عثمانی اپنا آپ چھرواتے پھر اس کی طرف بڑھے تھے ماحول کا تناؤ بڑھتا جا رہا تھا۔
تہذیب عثمانی نے ساری خبر ساتھ ساتھ سائمہ نقوی تک پہنچائیں تھی جو بے حد خوش تھی۔
“کونین سے میں بات کر لوں گا!” شایان اپنا آپ چھرواتے بولا تھا۔
“کونین خاور پر تو اب میں تمہارا سایہ نہیں پڑنے دوں گا شایان عثمانی اور یہ جو تمہارے اور تمہاری خالہ کے دماغ میں گند بھرا ہے اسے نکال دو۔”
“اس عورت کو نا سالوں پہلے میں نے اپنا نام دیا تھا اور نہ اب دوں گا یہ میرے نزدیک گناہ ہے اس عورت کو اپنانا۔”
وہ بولے تھے اور قدم پیچھے ہٹاتے دور کھڑے ہوئے۔
وہ دونوں ایک دوسرے کو زخمی شیروں کی طرح دیکھ رہے تھے۔
شایان عثمانی اس سے پہلے کے کچھ مزید کہتا شاہ زیب عثمانی بول پڑے تھے۔
“اپنے کمرے میں جاؤ شایان اس سے پہلے کہ میں بھول جاؤں کہ تم میری ہی اولاد ہو!”
شایان اپنے کمرے میں چلا گیا تو خاور عثمانی بھی دروازے کی طرف بڑھے۔
“خاور رک جاؤ!”
جہانگیر عثمانی نے کہا لیکن وہ رُکے نہیں۔
شاہ زیب عثمانی نے جاتے ہاتھ پکڑا اور انہیں واپس اندر لائے منور عثمانی بھی ان کے پاس ہی بیٹھے۔
“میں بہت شرمندہ ہوں تم سے خاور!” شاہ زیب عثمانی بولے تو خاور نے انہیں دیکھا۔
“بھائی میں نے خود پر سب برداشت کیا ہے لیکن اپنی بیٹی پر میں کچھ بھی برداشت نہیں کروں گا یہ بات اسے سمجھا دیں۔”
جہانگیر عثمانی نے کونین کو فون کرتے سب بتا دیا تھا کہ وہ وہاں سے فوراً نکل آئی تھی۔
اس نے دادا جان سے پوچھا تھا کہ شایان کہاں ہے اور انہیں سے پتا چلا تھا کہ وہ ڈیرے کی طرف نکل گیا ہے۔
اب وہ سب باپ بیٹے ساتھ بیٹھے تھے اور سب ہی خاور عثمانی سے شرمندہ دِکھتے تھے۔
“آپ نے سنا اس نے کیا کہا؟ اس عورت نے آپ کے بیٹے میں بھی اپنے جیسا ذہر بھر دیا ہے بھائی!”
خاور عثمانی بولے تو شاہ زیب نے ہونٹ بھینچتے سر ہاں میں ہلایا۔
“میں جانتا ہوں خاور!”
“اسے اس عورت سے دور رکھیں بھائی۔۔۔۔۔”خاور صاحب بولے۔
اور پھر ماضی کھول کر ان کے سامنے رکھ دیا تو سب آبدیدہ اور شرمندہ ہوئے اپنے کیے پر۔
لیکن ان سب کے بعد کونین کیا کرنے والی تھی شایان عثمانی بالکل نہیں جانتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہندی کا رنگ دیکھ کر اس نے سکھ کا سانس لیا کیونکہ ازلان اظہر نے اس کا قصوروار بھی اسے ہی ٹہرانا تھا وہ چینج کرتی فریش ہوتی باہر آئی تھی۔
جہاں وہ اس کے بیڈ پر نیم دراز تھا آنکھیں بند تھیں یقیناً وہ بہت تھک گیا تھا۔
ازلان؟
ہممم۔!
ازلان نے سیدھے ہو کر بیٹھتے اس کے آگے ہاتھ کیا تو وہ جھجکتی اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ گئی۔
“خوبصورت!”
ازلان نے اس کے ہاتھوں کو اپنے ناک کے نتھنوں کے پاس لے جاتے گہری سانس بھری جس نے اس پر کافی اچھا تاثر چھوڑا تھا۔
“پاؤں کی دکھاؤ!”
ازلان نے کہا تو فرشتے نے اپنا ٹراؤزر اونچا کیا جہاں اس کے خوبصورت سفید فام پیر مہندی کے گہرے رنگ سے اٹے تھے۔
ازلان نے سنجیدگی سے اسے دیکھا۔
“تھک گئی ہو؟”
فرشتے نے تیزی سے سر ہلایا تو ازلان نے اسے جھٹکے سے اپنی طرف کھینچا۔
اور پھر رُخ موڑتے اسے بیڈ پر کیا۔
ازلاننننن!
“تم سے میرے کافی حساب نکلتے ہیں ہنی!”
ازلان نے دلبرانہ انداز میں جھکتے اپنی بیرڈ اس کے گال پر رگڑی۔
ازلان!
بولو!
“حساب تو میرے بھی بہت سے ہیں۔۔۔بتائیں سزا کب دوں آپ کو؟”
فرشتے نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے کہا لیکن زیادہ دیر اس کی طرف نہ دیکھ پائی کیونکہ اس شخص کی آنکھوں میں انگنت جذبے اور چاہت کے جگنو ٹمٹما رہے تھے۔
وہ مرد حسین تھا۔۔۔اگر نہ بھی ہوتا تو بھی اسے وہ شخص اب اتنا ہی حسین ہوتا۔
“جب تم چاہو گی ہنی!”
“اب آپ واپس جائیں گے؟” وہ اسے کینیڈا واپس جانے کا پوچھ رہی تھی۔
فرشتے اتنے اس شخص میں کھو گئی تھی کہ اپنی پوزیشن اور خود پر اس کے بھار کا احساس بھی نہیں ہوا تھا۔
“بس پرسوں فنکشن سے واپسی پر چلا جاؤں گا!”
ازلان نے اس کے بالوں کو انگلی پر لیٹتے اس کے ہر نقش کو حفظ کیا تھا۔
“لیکن کیوں؟” وہ ترپتے استسفار کرنے لگی۔
“تم چاہتی ہو میں نا جاؤں؟”
ازلان نے جھک کر اس کی گردن پر ناک سہلایا تو اسے اپنے گال جلتے محسوس ہوئے۔
“ازلان ہٹیں! میرا سانس رُک رہا ہے!” فرشتے نے اسے خود سے ہٹانا چاہا۔
“خاموش رہو!” ازلان نے اسے گھورتے کہا اور اس کے بالوں کی خوشبو سونگھی۔
“تمہارا شیمپو لے آیا ہوں اب دوبارہ یہ مت لگانا۔”
“اوکے! اب جائیں۔’
“کل میں کچھ فیصلہ کرنے والا ہوں!” وہ بولا تو فرشتے کا سانس سوکھا۔
“کیا وہ اسے چھوڑنے والا ہے؟”
کیا؟
“کل پتا چل جائے گا!’ ازلان اس کے گالوں پر چٹکی بھرتے بولا اور اٹھنے لگا۔
“کیا ہم علیحدہ ہو رہے ہیں؟” فرشتے نے اس کا کارلر تھامتے تڑپتے پوچھا تھا۔
ازلان نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر اس پر جھکتے اس کی سانسوں میں اپنی سانسیں ملائیں تو فرشتے نے آنکھیں بند کر لیں۔
وہ ایک دوسرے میں بالکل کھو گئے تھے ایک دوسرے کی دل کی تیز ہوتی دھڑکنیں وہ باقاعدہ سن سکتے تھے۔
ازلان اظہر اس کی سانسوں کو خود میں نرمی سے اتارتا اسے باور کروا رہا تھا کہ ازلان اظہر تمہیں چھوڑ ہی نہیں سکتا۔
اس کے دور ہوتے فرشتے نے آنکھیں کھولیں جہاں وہ اسے ہی دیکھتا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
“کل ملاقات ہو گی؟”
فرشتے نے دھڑکتے دل کے ساتھ اسے دیکھا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔
اس نے میری بات کا جواب کیوں نہیں دیا؟
فرشتے ان خوبصورت لمحات کا پوشیدہ مطلب اپنی کم عقلی کے باعث اخذ نہیں کر پائی تھی۔
“تم نے کھانا کھایا تھا؟”
اس کے پیچھے آتے اس نے ازلان سے پوچھا تھا۔
ازلان نے مُر کر اسے گھورا۔
“بہت جلدی خیال نہیں آگیا تمہیں اپنے شوہر کا اور یہ تم کیا ہوتا ہے؟”
“تم بھی تو مجھے تم کہتے ہو؟”
وہ بازو کمر پر رکھے لڑاکا عورتوں کی طرح ہاتھ نچا کر بولتی اسے پیاری لگی تھی۔
خوبصورت مسکراہٹ ازلان اظہر کے عنابی لبوں پر چھا گئی۔۔۔وہ بہت دیر بعد مسکرایا تھا۔
اس کی مسکراہٹ چھینتی بھی وہی تھی اور واپس انہیں لبوں کی زینت بناتی بھی وہی تھی۔
“ہاتھوں کو منہ پر نہ رکھانا سٹین نہ لگ جائے مہندی کا۔۔۔۔کل کا ڈریس میں بھیج دوں گا اور۔۔۔۔’
“کھانا کھا لینا!”
فرشتے نے اس کی ساری باتوں کے جواب میں یہی کہا تھا فکرمندی سے تو وہ اسے آنکھوں میں بساتا سر ہلا گیا۔
یہی تو چاہتا تھا وہ کہ فرشتے بھی اس سے محبت کرے اس کی ویسے ہی کئیر کرے جیسے وہ اس کی کرتا تھا۔
اور اس کے ماتھے پر بوسہ دیتا خدا حافظ کہتا باہر نکل گیا تو فرشتے نے دروازہ لاک کرتے اسے کھڑکی سے جاتے دیکھا اور پھر اندر آگئی۔
کل کا کیا سرپرائز تھا۔
نہیں وہ مجھے چھوڑ ہی نہیں سکتا!
اپنی سانسوں میں بسی اسکی خوشبو محسوس کرتے اس نے خود میں پلتے اس خوف کو جڑ سے ختم کیا تھا۔
آخر وہ سالوں سے اس کی محبت رہی تھی لیکن بدلے میں اس نے کیا دیا تھا ازلان اظہر کو۔
تکلیف!
اس کا دل دُکھا۔
کل وہ اچھے سے اس کے لیے تیار ہونا چاہتی تھی۔
لیکن وہ اب بھی ازلان اظہر سے کہیں نا کہیں اس کی معافی کی امیدوار تھی۔
وہ بستر پر لیٹے اسے کے بارے میں ہی سوچتی سو گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اعظم؟”
وہ واپسی پر اسے گھر چھوڑنے آیا تھا گاڑی میں صرف وہی دو تھے۔
ہم۔۔۔۔
“میں کیسی لگ رہی تھی آج آپ نے بتایا ہی نہیں؟”
وہ کچھ سوچتی بولی تھی شاید اسے شرمندہ کرنا چاہا تھا۔
“اچھی لگ رہی تھی!”
وہ بس اتنا ہی بولا تھا لیکن زارا شکریہ بھی نہ کہہ پائی اس نے کونسا اس کی تعریف خوشی سے کی تھی۔
“آپ بہت اچھے لگ رہے تھے یہ رنگ آپ کے لیے بنا ہے اور آپ کی بیئرڈ کل تھوڑی سے ٹرم ہونی چاہیے” وہ اسے اس کے بارے میں سب تفصیل سے بتا رہی تھی۔
اعظم نے اس کی آنکھوں میں دیکھا جہاں انگنت جگنو روشن تھے اس کی محبٹ کے۔
“کیا وہ ٹھیک کر رہا تھا؟”
خود کے دل کے خلاف جاتے صرف اس لڑکی کی محبت آزمانے کی خاطر اس سے شادی کر کے؟
“کل میں چاہتی ہوں پارلر سے واپسی پر آپ مجھے پِک کریں! کریں گے نا؟”
“فری ہوا تو کر لوں گا!” وہ بولا تو زارا کی خوشی ماند پڑی۔
وہ کتنا دل کو سمجھا رہی تھی کہ جیسا اسے وسوسے آرہے ہیں ویسا کچھ نہیں ہے۔
“ازلان بھائی اور فرشتے کتنے اچھے لگ رہے تھے نا آج؟” وہ تھوڑی دیر بعد بولی تھی اور نگاہیں اعظم پر ٹِکا دیں۔
وہ مسکرایا اور پھر بولنے لگا۔
“ہاں بہت اچھے! ازلان نے مجھے ان دونوں کے کپڑے دکھائے تھے پہلے۔۔۔مجھے پتا تھا فرشتے کو وہ ڈریس بہت پسند آئے گا لیکن وہ بہت بھاری تھا اس نے کبھی ایسے ڈریسز نہیں پہنے لیکن آج وہ بالکل باربی ڈول لگ رہی تھی اور۔۔۔۔۔۔”
زارا کی آنکھیں بھیگنے لگی۔
اس کے پوچھنے پر اس نے بمشکل کہا تھا کہ “وہ اچھی لگ رہی تھی” اور فرشتے ازلان کی تعریف میں اس نے قصیدے پڑھ ڈالے تھے۔
اعظم نے بھی محسوس کیا تھا اس نے خاموش ہو گیا۔
وہ بس پہنچ گئے تھے اس کے گھر کے سامنے گاڑی روکتے ازلان نے اسے دیکھا۔
“اندر آئیں گے؟”
“نہیں! خدا حافظ!”
“اعظم کیا آپ خوش ہیں اس شادی سے؟” اس نے پھر سے وہی سوال کیا تھا۔
“زارا تم پاگل ہو؟ کیوں ایک ہی فضول سوال پوچھتی رہتی ہو؟ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ سب میری مرضی سے ہو رہا ہے۔۔۔۔کچھ بھی میری چاہ کے خلاف نہیں ہو سکتا نہ کوئی زبردستی میری زندگی میں تمہیں شامل کروا سکتا تھا۔”
زارا سہمتے اسے دیکھنے لگی آنسو پلکوں کی بار توڑتے باہر نکل آئے تھے۔
“لیکن مجھے لگتا ہے میں نے اپنے ساتھ کچھ بُرا کر لیا ہے بہت برا۔
آپ میرے نہیں ہیں اعظم اظہر آپ اب بھی فرشتے کے ہیں۔۔۔۔کاش۔۔۔۔میں دل کو منا لیتی کہ آپ میرے نہیں ہیں۔۔۔”
“تو اب منا لو اور مت کرو یہ شادی اترو مجھے جانا ہے!” اس لڑکی کے آنسوؤں پر وہ بے چین ہوتا جو منہ میں آیا بول گیا تھا۔
کاش اپنے لبوں سے ادا ہوئے لفظ ہمیں اسی رفتار سے دل پر مارے جائیں تاکہ ہمیں احساس ہو کہ مخالف نے کتنا درد برداشت کیا ہو گا۔
زارا نے جھٹکے سے سر اٹھاتے اسے دیکھا بے یقینی ہی بے یقینی تھی۔
وہ باہر نکلی اور پھر تیزی سے اندر چلی گئی لیکن دروازے کے پاس رُکی۔
اعظم اظہر اس کی پشت بخوبی دیکھ سکتا تھا۔
اس نے آنسو صاف کیے اور آسمان کی طرف دیکھتے گہرے سانس بھرے جیسے اپنی حالت کو نارمل کرنا چاہا ہو۔
اس کے وجود میں بے چینی سی بھر گئی تو تیزی سے گاڑی وہاں سے بھگا لے گیا۔
وہ رات جہاں دو لوگوں کے لیے خوش آئیند تھی ایک دوسرے کی محبت میں بھیگتے تو دو لوگوں کے لیے اتنی ہی کٹھن تھی۔
زارا کو بخار ہو گیا تھا اس نے گھر جا کر بھی زیادہ کسی سے بات نہیں کی تھی سارے لوگ تھکاوٹ سمجھے تھے۔
لیکن صبح تک وہ بخار میں پھنک رہی تھی۔
“زارا میری بچی!”
اس کی والدہ اسے اٹھانے آئیں تھیں اسے یوں سرخ پڑتے سکڑی سمٹے لیٹے دیکھ وہ اس تک آئیں تھی جب اسے ہاتھ لگاتے پتا چلا کہ وہ اسے کتنا تیز بخار ہے۔
ماما؟ وہ ان کے گود میں سر رکھ گئی۔
“کیا ہوا میری بچی”؟ وہ تڑپ گئی تھی۔
“کچھ نہیں بس تھک گئی ہوں!”
وہ بتا نہ پائی کہ تھک گئی ہے اس ایک بے حس شخص سے محبت کرتے۔
“اٹھو ناشتہ کرو اور دوا لو!”
“تیار ہونے بھی جانا ہے!” سب مہمان موجود ہیں۔
“نہا لو پہلے شاید بخار کا زور ٹوٹ جائے” وہ اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے اس کی چیزیں نکالنے لگی۔
تو وہ بھی فریش ہو کر ناشتہ کرتی دوا لیتی پارلر چلی گئی۔
آج اس کی زندگی کا اہم ترین دن تھا اور وہ بیمار پڑ گئی تھی۔
تیار بھی وہ بمشکل ہوئی تھی لیکن وہاں موجود تمام لڑکیوں نے اسے کافی سراہا تھا وہ لگ ہی اتنی خوبصورت رہی تھی۔
لیکن کیا فائیدہ تھا اتنی تیاری کا جس کے لیے وہ تیار ہوئی تھی وہ تو اسے نظر بھر کر نجانے دیکھنے والا بھی تھا یا نہیں۔
