220.5K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Tera Sarmaya Ho Episode 12

Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf

شایان نے لوکیشن اون کی کونین کی لوکیشن چیک کی جو اون تھی قسمت سے۔

اس نے گاڑی روکی وہ یہ سڑک نہیں تھی اور جو سڑک تھی وہ کس علاقے کو جاتی تھی اس کا دل کیا آسمان پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔

وہ گاڑی بھگاتا وہاں لایا تھا ۔۔۔۔۔لوکیشن رب العالمین نے زریعہ بنائی تھی اگر یہ زریعہ نا بنتا تو۔۔۔۔؟

ایک گاڑی دور سے دیکھی جا سکتی تھی۔

وہ گاڑی پہچانتا وہاں سے اترا اور بھاگتا آیا اسے لگا تھا اس کا جسم اس کا ساتھ نہیں دے رہا۔

لیکن وہ رُکا اور واپس مُڑ گیا گاڑی کی بیگ سیٹ کے نیچے سے پسٹل نکالا اور لہو چھلکاتی نگاہوں سے آگے بڑھا۔

کوئی آواز نا آئی تھی۔

“کونیننن!”

وہ چِلایا اور پاس آیا سامنے کا منظر دیکھتے اس کی روح پرواز ہونے کو تھی۔

اسے لگا کہ یہ قیامت تھی، وہ منظر قیامت خیز تھا وہ شخص اس پر جھکا تھا اور وہ بیہوش پڑی تھی گاڑی کا پچھلا دروازہ کھلا تھا جہاں وہ موجود تھی۔

وہ شخص اسے دیکھتا فوراً کھڑا ہوا۔

سر۔۔۔۔۔س۔۔۔۔۔اس کی زبان نے اس کا ساتھ چھوڑا تھا۔

شایان عثمانی نے ہاتھ اوپر اٹھائے اور اس شخص کے دل اور دماغ کے مقام کے علاؤہ ہاتھ اور ٹانگوں میں انگنت گولیاں چلائیں کہ اس شخص کو مہلت بھی نہ مل پائی۔

وہ تڑپ رہا تھا نیچے گرا۔

“تیری ہمت جیسے ہوئی غدادی کرنے کی؟ میری بیوی کو بے نقاب کرنے کی جرات کیسے آگئی تجھ میں؟”

شایان نے اس کی طرف بڑھتے اس کے چہرے پر اپنا بوٹ مارا اور پھر اس کے چہرے کا نقشہ بگاڑ دیا اس کے بازوں اور ٹانگوں کے علاؤہ اب اس کا چہرہ بھی خون سے بھر گیا تھا۔

“تیری سزا پتا ہے کیا ہے کہ تجھے قبر تک نا نصیب ہو” وہ اسے وہیں چھوڑتا اس کی طرف بڑھا جو ہوش میں آتی یہ سب دیکھ رہی تھی۔

اس کے چہرے پر تھپڑوں کے نشان تھے قمیض دو تین جگہوں سے پھٹی تھی اس کا دوپٹہ اس کے وجود پر نہ تھا جو ہمیشہ رہتا تھا بال بکھرے پڑے تھے۔

شایان کا دل پھٹ رہا تھا۔

وہ آگے بڑھا اور دوسری طرف کا دروازہ کھولا اور اسے باہوں میں بھرتا اپنی گاڑی میں اگلی سیٹ پر بٹھاتا اپنی جگہ پر بیٹھا اور گاڑی گھر کے راستے پر ڈالی۔

یہ کونین خاور کی زندگی بھر کی عبادتیں تھی اور رب العالمین نیک عورتوں کو یوں رسوا نہیں کرتا۔

وہ محفوظ تھی اس کی عزت محفوظ تھی وہ وقت پر پہنچ گیا تھا اس کے پاس، اسے لگا لوکیشن معجزہ تھی جس پر لوگ بھروسہ نہیں رکھتے اب۔

وہ پھر سے نیم بیہوشی کی حالت میں چلی گئی شایان دو گھنٹے کی ڈرائیو کرتا اسے واپس گھر لایا۔

اسے یاد آیا کیسے اس نے اسے کہا تھا اسے نہیں جانا لیکن وہ بضد تھا اسے بھیجنے پر۔

اسے اندر لٹاتے وہ نیم گرم پانی لایا اس کا وجود صاف کیا۔

پھر اس کے کپڑے اسکے بیگ سے نکالے اور اس کی طرف بڑھا۔

وہ اب بھی نیم بیہوش سی تھی شایان نے سائیڈ لیمپ بجھایا اور اس کے پکڑے بدلے اور لائٹس دوبارہ اون کی۔

اس کے بال باندھتے اس کے چہرے پر ہاتھ رکھا جہاں جابجا انگلیوں کے نشان تھے اس کا دل کیا واپس جائے اور اس شخص کی انگلیوں کو اپنے بوٹوں تلے مسل دے۔

وہ وہیں بیٹھ گیا اور اسے دیکھتا رہا۔

کیا یہ وہی کونین شایان تھی جسے وہ ساتھ لایا تھا، جو ابھی کل تک اس سے ڈھیر ساری باتیں کر رہی تھی، جس کی آنکھیں جذبات دِکھانے لگیں تھیں۔

اس نے نا کپڑے بدلے نا وہاں سے اٹھا بس اسے دیکھتا رہا اس کے گالوں کو تھامتے وہیں بیٹھا رہا کہ کمر اور ٹانگیں اکڑ گئیں۔

فجر کی آزان کی آواز گونجنے لگی تو کونین کا وجود کسمسایا وہ اسے وقت جاگتی تھی روز۔

اور پھر دیھیرے سے اس نے آنکھیں کھولیں اور شایان کو دیکھا۔

لبوں پر زرا بھر مسکراہٹ آئی اور اس نے پھر سے آنکھیں بند کی اور پھر دو، تین، پانج اور دس سیکنڈ بعد وہ چیخ مارتی اٹھی سب یاد آتے ہی وہ بے قابو ہوئی تھی۔

“کونیننن۔۔۔۔۔”

“دور۔۔۔دور رہو”

وہ اپنا آپ اس سے چھڑوا رہی تھی۔

“کونین یہ میں ہوں شایان۔۔۔۔”وہ اسے قابو میں کر رہا تھا کہ ایک دم کونین کا وجود تھما۔

پھر اس نے شایان کو دیکھا جیسے اسے پہچان لیا ہو۔

“کیا ہوا؟

اب نہیں بھیجنا مجھے؟ ایسا کرو ایک اور ڈرائیور بلاؤ جو بھروسے مند ہو مجھے ابھی جانا ہے” وہ کہتی بیڈ سے اترنے لگی کہ شایان نے اسے تھاما۔

“کونین!”

“نہیں میرا نام مت لو! میرا نام مت لو! وہ شخص آج وہاں تک پہنچ گیا تھا شایان عثمانی جہاں تک تم نہیں پہنچ سکے میرے نام نہاد شوہر ہوتے ہوئے بھی”

اس نے یہاں اور پھر وہ انگلی رکھتی گئی جہاں جہاں اس شخص نے چھوا تھا اسے۔

شایان نے خود کو انگاروں پر محسوس کیا۔

“مار دیا۔۔۔۔مار دیا اس شخص کو میں نے۔۔۔۔”

“اچھا کیا۔۔۔لیکن کیا اس کا لمس میرے وجود سے ہٹا سکتے ہو۔۔۔بولو؟”

وہ چیخی اور پھر رونے لگی پھوٹ پھوٹ کر۔

شایان نے اسے حصار میں لینا چاہا لیکن اس نے شایان کو جھٹک دیا ایک بار نہیں بار بار اور پانچویں بار وہ اس کے سینے سے لگی بُرے طریقے سے رو رہی ہو۔

جیسے ایک بچہ چوٹ لگنے پر نرم آغوش میں آتا رو رہا ہو۔

شایان نے اسے مضبوطی سے خود میں بھینچا تھا اس کے بالوں پر پاگلوں کی طرح بوسے دیتا وہ شخص اس کی قمر سہلا رہا تھا۔

وہ اپنے انجام کو پہنچ گیا۔

“آپ نے مجھے کیوں بھیجا شان؟”

وہ آنکھیں اٹھاتی بولی تو شایان عثمانی کا دل رُک گیا اور یہی وہ لمحہ تھا جہاں وہ سب دشمنی سب دعوے سب بھول گیا وہ سامنے بیٹھی لڑکی اس کی بیوی تھی، منکوحہ بچپن کی، محرم سب کچھ۔

“مجھے معاف کر دو! میری غلطی ہے میں۔۔۔۔!”

شایان کو لگا کہ معافی مانگنے کے لیے بنانے والے نے نہایت تھوڑے، چھوٹے اور بے معنی لفظ بنائے ہیں۔

شایان نے اس کا چہرہ سامنے کیا اور پھر پاگلوں کی طرح آہستگی سے اس کے چہرے کو چومنے لگا جیسے تکلیف کم کرنی چاہی ہو۔

“رب العالمین نے کونین شایان عثمانی کو محفوظ کر دیا کیا یہ بات کافی نہیں؟” شایان اسے دیکھ کر بولا تو اس نے تیزی سے سر ہلایا۔

شایان نے اس کی تھوڈی کو چوما جہاں زخم تھا ہلکا سا۔

“اگر آپ نہ آتے؟”

“تو رب العالمین کوئی اور ذریعہ بنا دیتا لیکن کونین آپ کو یوں رسوا نہ کرتا”

وہ بولا تو وہ مطمئن ہوئی شاید وہ صحیح کہہ رہا تھا۔

“مجھے نماز پڑھنی ہے شکر بھی تو ادا کرنا ہے!”

وہ بولی تو شایان نے سر ہلایا اس کے بعد اس نے نماز ادا کی تھی اور دونوں کے سر سجدے میں پڑے رہے تھے نجانے کتنی دیر۔

وہ محفوظ تھی اس کے ساتھ موجود تھی۔

وہ آ کر لیٹا اور اسے واپس سے حصار میں لیا تو وہ شایان کو دیکھنے لگی۔

“سو جاؤ!”

“میں کبھی باہر اکیلی نہیں نکلوں گی!”

وہ بولی تو شایان سے سر ہلایا وہ بہت ڈر گئی تھی اس واقعے کے بعد۔

شایان عثمانی کی شرٹ کو مٹھیوں میں بھینچتے وہ اس کے ساتھ لیٹی اس کے سینے پر اپنا سر ٹکایا۔

اس کی گرم سانسیں شایان کو خود کے سینے پر محسوس ہو رہی تھی۔

اس کا دل پُرسکون تھا اب۔۔وہ اس کو حصار میں لیے نجانے کتنی دیر تک اس کی قمر سہلاتا رہا، اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتا رہا کہ وہ سو جائے اور وہ سو گئی تھی۔

اس کی آنکھوں کے پپوٹے سوج گئے تھے۔

کچھ دیر بعد شایان کی آواز اپنے فون پر آتی کال سے کُھلی تھی اور اس کی خالہ کا فون تھا اس نے لب بھینچے وہ کل انہی کی باتوں میں تو آ گیا تھا اس نے فون بند کر دیا اور اسے دیکھا روشنی میں جس کے چہرے پر نشان بے حد واضح تھا۔

اس کا دل ڈوب کر ابھرا۔

یہ بات وہ جانتا تھا وہ دونوں ہمیشہ یاد رکھنے والے تھے آج کی تاریخ کو کچھ حادثے کبھی نہیں بھولتے اور جس طرح آج انہوں نے قیامت دیکھی تھی وہ ہمیشہ ان کے دماغوں پر نقش رہنی تھی۔

وہ اس کے چہرے کو آہستگی سے تھام گیا پھر لب رکھے رات کی طرح جیسے اس سے بہتر مسیحائی کوئی نہ ہو۔

اس نے مان لیا تھا کہ وہ لڑکی جو اس وقت اس کے پاس ہے جس کی سانسیں اس کی سانسوں کے ساتھ بڑھتی کم ہو رہی تھیں وہ اس کا سب کچھ ہے۔

اور سب کچھ کا مطلب معمولی کہاں ہوتا ہے۔

کسی شخص کے لیے خود کو مختص کر لینا کہ وہی سب کچھ ہے یعنی دل نے تمام دروازے بند کر لیے تھے اب تاقیامت وہاں کوئی بھی رسائی نہیں پا سکتا تھا۔

صبح اس نے جاگتے گہری سانس بھری تھی آنکھیں ایک بار پھر نم ہوئیں تھی وہ واقعہ اس کے زہن پر چپک سا گیا تھا۔

اس نے شایان کے چہرے کو دیکھا اسے یاد آیا کیسے اس نے اس شخص کو مار دیا تھا۔

شایان کی شرٹ کے بٹںون سے کھیلتی وہ اپنا دھیان بھٹکانا چاہتی تھی۔

پھر اس کے چہرے کو دیکھنے لگی اس کے چہرے کے نقوش کو حفظ کر رہی تھی شاید۔

“آپ میری نیند خراب کر رہی ہیں بیوی!”

شایان نے اس کی قمر سے پکڑ کر اسے ساتھ لگاتے کہا تو وہ ہوش میں آئی۔

کونین نے اسے سنجیدگی سے دیکھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسے نکلے گھنٹہ ہو چکا تھا برف باری تیز ہو گئی تھی وہ کانپ رہی تھی اسے لگا اس نے جذبات میں آ کر وہاں سے نکلتے غلطی کی ہے۔

لیکن وہ یہاں سے دور جانا چاہتی تھی۔

ازلان وہیں بیٹھا تھا بے حس و حرکت لیکن جیسے جیسے وقت بیت رہا تھا اس کا ملال بڑھنے لگا تھا۔

اس کا دل کہہ رہا تھا کہ ازلان اظہر ابھی معافی مانگ لو ابھی اپنے گناہ کی تلافی کر لو نہیں تو دیر ہو جائے گی بہت دیر۔

ازلان! اعظم کی آواز آ رہی تھی لیکن وہ باہر نہ نکلا۔

ازلان؟

ابھی مجھے کسی سے بات نہیں کرنی! وہ وہیں بیٹھا اعظم کی پکار کے جواب میں بولا تھا۔

“فرشتے کہاں ہے؟” اعظم نے اس کا دروازہ کھٹھٹاتے پوچھا تھا۔

“تمہارے کمرے میں ہو گی اب میرا دروازہ مت کھٹکھٹانا!”

“نہیں ہے وہ پورے گھر میں نہیں ہے!”

اعظم بولا تو ازلان کو لگا کسی نے اس کے جسم سے روح کو کھینچ نکالا ہو۔

دل اور دماغ کی جنگ لڑتے وہ دو، ڈھائی گھنٹے بعد دروازہ کھولتا باہر آیا۔

“کہاں ہے فرشتے؟” اندر نہیں ہے کیا؟ تم نے اسے نکالا ہے باہر؟

“میرا دماغ خراب نہیں ہے؟”

سچ میں؟ اعظم نے آئبرو اچکائی تو وہ اسے نظرانداز کرتا پورے گھر میں اسے دیکھنے لگا۔

گھر کون سا بڑا تھا بہت جو وہ ملتی نا۔۔۔اور پانچ منٹ میں ہی وہ اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ فرشتے وہاں نہیں تھی۔

ازلان جیکٹ پر کورٹ پہنتا دستانے پہنتے پاگلوں کی طرح باہر بھاگا تھا۔

اعظم نے بھی آنا چاہا تھا۔

“یہیں رکو! اگر میں کچھ دیر میں واپس نہیں آتا تو مدد بلا لینا!”

“تم رُکو میں جاتا ہوں!” اعظم نے کہا تو ازلان اسے سنے بغیر تیز قدموں سے سامنے جاتی سڑک پر بھاگا۔

“فرشتے!”

اس بلاک سے نکلتے اس نے آواز دی تھی جہاں چار بجے ہی اندھیرا ہونے لگتا تھا برف باری تیزی سے ہو رہی تھی۔

لیکن فرشتے کا کوئی اتا پتا نہیں تھا اور یہی بات اس کا دل دھڑکا رہی تھی وہ اپنا فون نا لائی تھی ساتھ اگر لائی بھی ہوتی تو اس کے پاس یہاں کا نا نمبر تھا نا سِم ۔۔۔۔۔

تف ہے! وہ خود پر ملامت کرتا اسے پاگلوں کی طرح ڈھونڈ رہا تھا ایک بلاک اور پھر پاس کے پانچ بلاک، لیکن اس کا کوئی پتا نہیں تھا۔

وہ دل میں رب کا نام لیتے اب اس جنگل کی سڑک پر گیا تھا۔

اگر وہ یہاں بھی نہ ہوئی تو۔۔۔۔اندھیرا بڑھنے لگا تھا اور یہ جنگل بھی خطرناک تھا وہ تیزی سے اسے ڈھونڈ رہا تھا جبکہ وہ خود برف سے گیلا ہو چکا تھا پیر برف میں دھنس رہے تھے۔

“فرشتے؟”

ازلان!

فرشتے نے ازلان کی آواز سنتے ہی اس سمت جانا شروع کیا تھا اس کو سانس بھی اب مشکل سے آ رہا تھا وہ برف سے ڈھکی تھی سردی سے وجود کانپ رہا تھا وہ اس جنگل میں ابھی داخل ہی ہوئی تھی غلطی سے راستے کی تلاش میں جب اسے ازلان کی آواز سنائی دی تھی۔

ازی! اس نے پوری قوت سے اس شخص کو پکارا تھا جس سے بھاگ کر وہ یہاں آئی تھی۔

ازلان پاگلوں کی طرح یہاں وہاں دیکھ رہا تھا کیونکہ اسے آس پاس ہی کوئی حرکت محسوس ہو رہی تھی۔

“فرشتے آواز دو مجھے ہنی!”

فرشتے!

لیکن فرشتے جاتے سانسوں سے وہیں گر گئی برف پر گرتے ہی اس کے ہوش و حواس صلب ہو گئے تھے۔

ازلان نے اس کے گرتے ہی اس آواز کی سمت قدم بڑھائے اور اسے سامنے دیکھتے اسے لگا تھا جیسے اسے زندگی کی نوید سنائی گئی ہو۔

اس کے پاس جاتے اسے دیکھا جس کے ہونٹ نیلے پر چکے تھے سردی سے اور وجود جم چکا تھا۔

ازلان نے اپنا کورٹ اتار کر اسے پہنایا اور اپنے دستانے اسے پہنائے فوراً پھر اسے بمشکل اٹھاتا واپسی کے راستے پر گامزن ہوا کیونکہ وہ راستے جانتا تھا یہاں کے۔

وہ خود بھی بمشکل چل رہا تھا۔

واپس لاتے اس نے اعظم کو دیکھا جو وہیں کھڑا تھا۔

فرشتے؟ وہ بھاگتا ان کی طرف آیا تھا۔

“ازی تم ٹھیک ہو؟”

“جی بھائی!” وہ اسے اپنے کمرے میں لے آیا جہاں اعظم پیچھے ہی داخل ہوا تھا۔

“بھائی مجھے وقت دیں پلیز!” وہ آہستگی سے بولا تو اعظم اسے دیکھنے لگا۔

اعظم نے اس کی آواز کی پختگی اور فرشتے کے وجود پر حق محسوس کیا تو پیچھے ہو گیا اور اپنے کمرے میں چلا گیا وہ خاموش ہو گیا تھا۔

کچھ ایسا تھا جس سے لاعلم تھا وہ شاید۔

ازلان نے لاتے اسے بیڈ پر لٹایا جس کی سانسوں کی روانی نہایت سست تھی۔

اس کے منہ کے پاس انہیلر لگایا اور اس کی قمر سہلائی دونوں کے وجود جم چکے تھے۔

اس نے جا کر شاور اون کیا اور پانی گرم ہوتے ہی وہ واپس فرشتے کے پاس آیا اور اسے اٹھا کر واپس واش روم کے فرش پر کھڑا کیا جو اس کے سہارے کھڑی تھی۔

گرم پانی گرتے ہی وہ کانپ اٹھی تھی لیکن ازلان نے اسے ساتھ لگائے رکھا اس وقت اس میں بھی ہمت نہ تھی کسی چیز کی۔

فرشتے نے ہوش میں آتے ہی اسے دیکھا اور پھر آنکھیں موند کر سر اس کے سینے پر رکھا تو وہ اسے ساتھ لیتا شاور بند کر کے اس کے کپڑے چینچ کرواتے اسے لٹا کر تین کمفرٹر اوڑھ چکا تھا اس کے ہاتھوں میں دستانے اور پاؤں میں دو جرابیں پہنا کر اب وہ مطمئن ہوا اور خود چینج کرنے کے بعد آ کر وہیں ڈھے گیا۔

اس کا وجود ٹوٹ رہا تھا درد سے لیکن اس کی تمام حسیات ساتھ موجود وجود پر تھی۔

اسے کھینچ کر ساتھ لگایا۔

وہ جانتا تھا ہوش میں آنے کے بعد ہی وہ وجود اس سے دور کو جائے گا، اس سے پھر سے نفرت کا اظہار کرے گا جو اسے برداشت کرنا تھا۔

وہ اس کے بالوں کو دیوانہ وار چومنے لگا، اپنی بے خبری میں جو اس کے ساتھ کیا اور اس کے بعد اسے کھونے کے ڈر نے اس کے حواس طلب کر دیے تھے۔

ائیم سوری ہنی!

وہ اس کے دستانوں والے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں تھام کر انہیں رب کر رہا تھا۔

اس کے پاؤں پر اپنے پاؤں رکھے تھے وہ جیسے اسے اس کی گے خبری میں بھی خود سے دور کرنے کا روادار نہ تھا۔

ازی! اعظم نے دروازہ کھٹکھٹایا تو ازلان بمشکل اٹھا اور دروازے تک گیا۔

“اب ٹھیک ہو کچھ چاہیے؟”

نہیں! ازلان نے تھکے سے لہجے میں کہا۔

“ایک ہی کمرے میں رہو گے؟” اس نے پیچھے فرشتے کے وجود کو کمفرٹر دیکھ کر کہا۔

“بیوی کو اسی کے شوہر کے ساتھ ہی رہنا چاہیے بھائی اور اس وقت میرے علاوہ فرشتے ازلان کو کوئی نہیں سنبھال سکتا” وہ کہتا دروازہ بند کر گیا۔

اعظم اظہر وہیں کھڑا رہ گیا اسے لگا اس نے غلط سنا ہے۔

اپنے کمرے میں آتے وہ صوفے پر ڈھے گیا فون مسلسل بج رہا تھا لیکن اسے ہوش کہاں تھی۔

بیوی ۔۔۔۔فرشتے بیوی تھی اس کے بھائی کی اور وہ تو شادی کی پلیننگ۔۔۔۔

اسے کیوں نہیں بتایا گیا تھا۔۔۔۔اس نے دل پر ہاتھ رکھا جہاں درد واضح محسوس ہو رہا تھا لیکن وہ ازلان کی طرح چیزوں کو توڑتے، پھینکتے اپنا غصہ نہیں اتارتا تھا یہی وجہ تھی کہ درد اس میں جڑیں مضبوط کر رہا تھا۔

اس نے نمبر دیکھے بغیر کال اٹھا لی اور کان سے لگاتے صوفے کی پشت پر سر ٹکا لیا۔

“کیا تم کسی مصیبت میں ہو”؟ زارا نے کہا تو وہ تڑپ اٹھا۔

“تم کیسے جان لیتی ہو؟”

یہ وہی لڑکی تھی جو اس کو نجانے کب سے تنگ کر رہی تھی اس سے اظہارِ محبت کرتی تھی اس کے ڈانٹنے پر تلخ باتیں کرنے پر بھی پیچھے نہیں ہٹتی تھی۔

“مجھے آپ محسوس ہو جاتے ہیں!” اس نے آہستگی سے کہا تو وہ آنکھیں موند گیا۔

“کاش میں اس کو بھی محسوس ہوتا!”

“وہ آپ کا مقدر نہیں ہے اسے کسی اور کے لیے لکھا گیا ہے” مخالف نے کہا۔

“تو تمہارا مقدر میں بھی نہیں ہوں مجھے مت سوچا کرو اور نا محسوس کیا کرو” وہ دھاڑا تو دوسری طرف خاموشی چھا گئی۔

“زارا آپ کے لیے ہمیشہ موجود رہے گی اعظم! بس ایک بار بلائیے گا دنیا تمہیں چھوڑ سکتی ہے زارا نہیں” وہ نم لہجے میں بولی اور کال کاٹ گئی تو وہ وہیں پڑا رہا۔

“مجھے کبھی بھی چھوڑنا نہیں!”

وہ پوری رات یہی ورد کرتا رہا تھا اس سے جو سو گئی تھی۔

وہ اس کے جاگنے سے پہلے اٹھا اور باہر نکل گیا پہلے اس نے فیصلہ کیا تھا یہاں آنے کا سب چھوڑنے کا اب کی بار فیصلے کا حق فرشتے ازلان کا تھا اور اس کا سانس سوکھا تھا وہ جانتا تھا وہ بہت ظالم ہے اور جو اس نے کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔اس کے بعد فرشتے اسے اتنی جلدی معاف نہیں کرے گی۔

وہ بلا مقصد ہی گاڑی گھما رہا تھا شاید واپسی پر وہ اسے وہاں نہ ملے لیکن۔۔۔۔۔

“مجھے منظور ہو گا سب فرشتے ازلان!”

اس نے کہا اور واپسی کے راستے ٹہر گاڑی موڑ لی۔

وہ اٹھی اور یہاں وہاں دیکھا جو ہوا تھا وہ یاد آنے لگا تو آنکھوں سے آنسو پھر سے سیلاب بہنے لگے۔

وہ باہر نکلی وہ اس وقت ازلان اظہر کو دیکھنا تو دور اسکا نام بھی نہیں سُننا چاہتی تھی۔

باہر صوفے پر اعظم موجود تھا کافی پی رہا تھا جس کی خود کی آنکھیں سرخ تھیں۔

“اعظم بھائی؟”

وہ اس کے سامنے آئی۔

“مجھے واپس جانا ہے!”

“کیا ازلان جانتا ہے؟” وہ عجیب سے انداز میں بولا۔

“نہیں!”

“اور مجھے فرق نہیں پڑتا اس شخص سے میں اس سے، اس گھر سے، اس ملک سے واپس جانا چاہتی ہوں بس ابھی ٹکٹس کروائیں” وہ کہتی اندر چلی گئی تو اس نے گہرا سانس بھرا۔

شاید قدرت اس کو ایک اور موقع دے رہی تھی۔