Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf NovelR50407 Mein Tera Sarmaya Ho Episode 24
Rate this Novel
Mein Tera Sarmaya Ho Episode 24
Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf
اگلی صبح شایان کی آنکھ کھلی تو اس نے کمرے کو خالی پایا۔
کیا وہ واقعی چلی گئی تھی؟ اس میں سناٹے اتر گئے۔
وہ اٹھ کر بیٹھا اب وہ کافی بہتر محسوس کر رہا تھا۔
تب ہی دروازہ کُھلا اور وہ اندر داخل ہوئی چادر میں خود کو ڈھکے ہوئے۔
شایان نے اسے دیکھا اور پھر جہانگیر عثمانی بھی اندر داخل ہوئے۔
“برخودار کیا حال ہے؟”
ٹھیک ہوں! اس نے کونین پر نگاہیں ٹکائے ہی جواب دیا۔
“مجھے گھر جانا ہے اب دادا جان پلیز!”
“تم چل نہیں سکو گے کچھ دن جانتے ہو نا؟”
“بالکل! پر پلیز مجھے گھر جانا ہے یہاں رہ کر میں کون سا چل لوں گا!”
“ٹھیک ہے ہم ڈاکٹر سے بات کرتے ہیں!’
وہ کہتے باہر نکل گئے تو کونین بھی اپنا سامان سمیٹنے لگی۔
شایان نے اس کو سامان سمیٹتے دیکھا تھا لیکن کچھ کہا نہیں۔
“چلو! ہو گئی ہے بات ڈاکٹر سے!”
ڈرائیور کو بلا لیا ہے میں نے لیکن تم سہارے کے بغیر بالکل نہیں چل سکتے اور بہت دھیان دینے کی ضرورت ہے۔
“یہ ہمارے ساتھ جائے گی دادا جان!” اس نے کونین کی طرف اشارہ کرتے کہا۔
“نہیں وہ گھر جائے گی اب خاور انتظار کر رہا میں نے ایک رات کی اجازت۔۔۔”
“وہ میرے ساتھ رہے گی۔۔۔۔اس کے باپ کو بتا دیں۔۔۔میری بیوی ہے یہ، شوہر کے ساتھ ہی رہے گی۔’
“شایان غلط بات نہیں کرو۔۔۔۔خاور ابھی کچھ نہیں جانتا اور ۔۔۔”
“مجھے فرق نہیں پڑتا دادا جان کہ وہ کچھ جانتے ہیں یا نہیں۔۔۔۔یہ میری بیوی ہے تو میرے ساتھ ہی رہے گی اور ہم پہلے بھی ساتھ ہی رہ رہے تھے آپ جانتے ہیں۔”
کونین۔۔۔؟ انہوں نے کونین کو دیکھا۔
“گڑیا جو تم کہو گی وہی ہو گا۔۔۔!”
انہوں نے ایک بار پھر کونین کو فوقیت دی تھی شایان عثمانی پر۔
“میں گھر جاؤ گی بابا انتظار۔۔۔۔۔”
“کونین خاور اب تم اپنے گھر ہی رہو گی یہ بات یاد رکھنا!” وہ سرد لہجے میں بولا تھا کہ کونین کانپ گئی۔
“دادا جان؟”
وہ رونے والی ہو گئی کہاں پھنس گئی تھی۔
وہ غلطی پر تھا وہ کیسے اسے سمجھاتی لیکن اس کی طبیعت۔۔۔۔۔
نہیں اس کا خیال رکھنے کو پورا خاندان تھا لیکن اس کے باپ کے پاس اس کے سوا کوئی نہیں تھا۔
اور اس کی طبیعت کی خاطر وہ اپنی عزتِ نفس کو نہیں روند سکتی تھی۔
“شایان اتنے سخت الفاظ مت بولو!”
“یہ فیصلہ کر لے دادا جان! میں ہر غلطی کا ازالہ کر لوں گا اگر یہ میرے ساتھ جاتی ہے تو۔۔۔۔میں ہزار بار اسے سمجھا چکا ہوں اور کیا اس کی حسیات غلط تھی جو یہ جان نا پائی کہ میرے جذبات اور احساسات پاکیزہ تھے اس کے لیے لیکن پھر بھی، پھر بھی میں مانتا ہوں میری طرف سے غلطی ہوئی ہے میں وہیں پر کھڑا ہو کر اس سے معافی مانگ لوں گا” وہ سانس لینے کے لیے رکا۔
“لیکن اگر یہ آج جاتی ہے تو بھول جائے کہ شایان عثمانی اسے واپس لائے گا۔”
“مجھے منظور ہے!”
کونین نے بھرے لہجے میں کہا اور باہر نکل گئی۔
وہ دونوں جزباتی تھے اور اپنی اپنی جگہ دونوں غلط لیکن دونوں انا کو مارنے کو تیار نہ تھے۔
کونین کے باہر نکلتے ہی شایان نے ساتھ پڑے برتن ہاتھ سے نیچے گرا دیے۔
اسے امید نہیں تھی کہ وہ اسے اس حال میں چھوڑ کر جائے گی لیکن حقیقت یہی تھی کہ وہ جا چکی تھی۔
اسے وہیل چیئر پر گاڑی میں اور پھر گھر پہنچاتے مشکل سے کمرے میں پہنچایا گیا تھا۔
اس سب میں اسے خاصی تکلیف ہوئی تھی لیکن وہ دوا لیتا سو گیا تو سب باہر نکل گئے۔
“کیا وہ لڑکی نہیں آئی؟” ملائکہ نے موحد سے پوچھا جس نے کندھے اچکا دیے۔
“بابا تو بتا رہے تھے شایان بھائی نے انہیں جانے نہیں دیا تو اب کیوں نہیں آئیں وہ گھر؟” موحد بھی حیران تھا۔
“اچھا ہی ہوا۔۔۔۔وہ شایان کو ڈیسرو بھی نہیں کرتی۔”
ملائکہ نے کہا کیونکہ کہیں نا کہیں اسے شایان پسند تھا لیکن اس کے بچپن کے نکاح کا سُنتے وہ کبھی ایک حد سے آگے نہیں بڑھ سکی تھی۔
“لیکن وہ کافی اچھی ہے اسے آنا چاہیے۔۔۔۔۔”
تمہیں وہ پسند ہے؟ ملائکہ نے اسے کندھا مارتے پوچھا۔
اوفووو۔۔!
“وہ بھابھی ہے ہماری اور مجھے وہ اچھی لگی اور شایان بھائی کے ساتھ اس سے زیادہ کوئی سوٹ نہیں کرتا۔”
اتنی تعریف اس لڑکی کی سن کر ملائکہ نے آنکھیں گھمائی اور شایان سے ملنے اس کے کمرے میں چلی گئی جہاں سب باہر نکل رہے تھے۔
کیا ہوا؟
“وہ سونا چاہتا ہے!”
اووو! اچھا میں دیکھ لوں! وہ کہتی اندر داخل ہوئی۔
کیسے ہو شایان؟
بہتر ہوں! وہ چھت کو دیکھتا بولا۔
“تمہاری بیوی نہیں آئی؟”
“ملائکہ اس وقت میں سونا چاہتا ہوں!”
“اوووکے! کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتانا!”
وہ کہتی باہر نکل گئی اس سے زیادہ وہ کسی کو منہ بھی نہیں لگاتی تھی۔
کونین گھر چلی گئی تھی دل خالی سا تھا اب۔
کیسا ہے اب شایان؟
“ٹھیک ہیں گھر چلے گئے ہیں!”
“کیا آپ اس سے پہلے ملی ہیں؟”
جی! آپ کا علاج وہی کروا رہے تھے! وہ آنکھیں چراتے بولی۔
“آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں؟ وہ مجھ سے ملا بھی نہیں۔”
“ہاں کیونکہ اسے لگتا ہے آپ گناہگار ہیں!’
وہ کھڑکی کے پاس ان کی طرف پیٹھ کر کے کھڑی ہو گئی جیسے آنکھوں میں چبھی ٹوٹی کرچیاں نہ دیکھ سکیں وہ۔
“گناہگار کس کا؟”
“ان کی خالہ کے! سائمہ نقوی نے ان سالوں میں ان کے دماغ میں آپ کے خلاف بغاوت اور نفرت بھر دی ہے بابا۔۔۔۔۔وہ آپ کو اپنا چچا نہیں بلکہ اپنی خالہ کے گناہگار سمجھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ انہوں نے۔۔۔۔۔”
کیا۔۔۔؟
“کیا آپ کے ساتھ کچھ غلط۔۔۔؟”
ان کی آواز کانپی۔۔۔۔
پھر وہ انہیں سب بتاتی چلی گئی تو خاور عثمانی کے ہاتھ لرزے۔۔۔۔۔
“وہ ایسا کیسے کر سکتا ہے؟ ہم چھوڑیں گے نہیں اسے۔۔۔۔۔ان سب کا بدلہ آپ سے لیا اس نے۔۔۔۔اس پاکیزہ رشتے کا تو احترام کر لیتا۔۔۔”وہ کانپنے لگے تھے چہرہ غصے سے سرخ پڑ گیا تھا۔
“بابا پلیزززز!”
“وہ محبت بھی تو کرتے ہیں مجھ سے۔۔۔۔اسی لیے آج مجھے واپس نہیں۔۔۔۔۔”
“ہاں اسی لیے اس نے کہا کہ جاؤ گی تو واپس مت آنا!’ وہ دھاڑے تو وہ سہم گئی۔
ان سب میں وہ اکیلی پڑ گئی تھی اور خالی دامن چہرہ آنسوؤں سے بھیگنے لگا اسے خود پر ترس آنے لگا۔
اپنے ہی شوہر سے محبت کی کیسی سزا اسے مل رہی تھی۔
یہ مردوں کی لڑائی تھی جہاں اسے تو کوئی نہیں سمجھ رہا تھا۔
اس کا دل بھر گیا تو وہ بنا کچھ بولے اپنے کمرے میں قید ہو گئی۔
پھر وضو کیا اور نماز ادا کی نماز میں بھی آنسو گرنے لگے پھر سجدے میں سر رکھتے وہ رونے لگی ہچکیوں سے۔
“محبت کی سزا یوں بھی ملتی ہے اسے اندازہ نہ تھا۔
محبت میں محبوب کی غلطیوں سمیت اس سے محبت کی جاتی ہے جیسے رب ہم سے ہزار گناہوں کے بعد بھی ویسی ہی محبت کرتا ہے یہ رب کا حوصلہ ہے کہ ہمارے گناہوں کے بعد صرف ایک آنسو اور ہلکی سی توبہ پر ہمیں معاف کرتا واپس سے مسکرا دیتا ہے۔۔۔۔انسانوں کے اتنے حوصلے کہاں ہوتے ہیں۔۔۔۔یہ رب ہی کی زات ہے جو ہماری ہر صحیح، غلط بات کو سنتی ہے ہمیں ٹوکتی نہیں، ہمیں دھتکارتی نہیں۔”
“کاش کسی کو کبھی محبت نہ ہو۔۔۔۔کم از کم اتنی محبت نہیں کہ اپنی عزتِ نفس کو مجروح کر دو، اس شخص کی ہزار غلطیوں کے باوجود بھی آپ کا دل اس کے لیے دھڑکنا نہ چھوڑے، اس کی ایک بات پر آپ دس بار رو لو تب بھی وہ شخص بُرا نہ لگے کاش کسی کو ایسی محبت نہ ہو کہ اس کی بے رُخی پر بھی آپ کو وہ شخص برا نہ لگے۔۔۔۔۔محںت اتنی زور آزما نہیں ہونی چاہیے کہ درد سیدھا دل میں ہو جس کی کوئی دوا نہ ہو، کم از کم محبت کے احساس کو اتنا حوصلہ تو دینا چاہیے کہ اگر کوئی شخص آپ کے احساسات کو مجروح کر دے تو آپ بھی بدلے میں ویسا کر سکو! محبت اتنا حوصلہ تو دے کہ دل میں اٹھتے درد کو آپ تکیے میں منہ دیتے برداشت کر سکو!”
محبت اتنے حوصلے کیوں نہیں دیتی۔۔۔۔ اس نے خود سے سوال کیا۔
“ہاں اس لیے نہیں کیونکہ اگر وہ حوصلہ دے دے تو لوگ رب العالمین کے آگے محبتوں کی خاطر جھکنا بھول جائیں دل میں اٹھتے درد کو ایک سجدہ کافی ہے اور اس سجدے کے لیے اگر تہجد کا وقت مقرر کر لیا جائے تو یقین کرو تم دنیا جہاں کے درد بھول جاؤ گے پھر ایک وقت رب کی محبت میں ایسا آئے گا کہ تمہیں یاد بھی نہیں رہے گا کہ کسی شخص کی محبت تمہیں یہاں لائی ہے۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دن کیسے گزرے تھے اندازہ بھی نہیں ہوا۔۔۔۔ آج مہندی تھی اعظم اور زارا کی۔
فرشتے کو ڈریس پہنچا دیا تھا یہ کہہ کر کہ ازلان نہیں آئے گا اسے بے حد برا لگا تھا لیکن اس نے اظہار نہیں کیا تھا۔
وہ کمرے میں جاتی اس ڈریس کو دیکھنے لگی جو بھاری کام سے بھرا نارنجی رنگ کا شرارہ تھا جس کی شرٹ گھنٹوں سے اوپر نفیس کام سے بھری تھی دوپٹہ گلابی اور نارنجی رنگ کا امتزاج تھا وہ نفیس جوڑا اپنی قیمت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
“یہ میں کیسے پہنوں گی؟”
اسے وہ جوڑا بے حد پسند آیا تھا لیکن وہ اس کے نازک سراپے کے لیے بے حد بھاری تھا اور اس نے پہلے ایسا کچھ کبھی نہیں پہنا تھا۔
اس نے ازلان کو کال کی۔
بولو؟ وہ کچھ مصروف لگ رہا تھا۔
“میں یہ ڈریس کیسے پہنوں گی؟” وہ پریشانی سے پوچھنے لگی۔
جیسے پہنتے ہیں!
وہ بولا تو فرشتے نے فون کو گھورا اور ماتھے پر بل پڑے۔
“یہ بہت بھاری ہے میں کچھ اور۔۔۔۔”
“خبردار یہی پہنو!”
“لیکن کیا فرق پڑتا ہے اور۔۔۔۔”
“تمہیں فرق نہیں پڑتا مجھے پڑتا ہے میں نے چاہت سے خریدا تھا بٹ سٹل اگر نہیں چاہتی تو مت پہنو!” وہ کہتا کال کاٹ گیا۔
اففف! فرشتے نے منہ بسوڑا اسے کیا ہوا اب؟
پھر کپڑے پہن کر دیکھے وہ یہاں نہیں تھا لیکن پھر بھی اس نے وہ جوڑا پہن لیا تھا شاید لاشعوری طور پر بھی اسے خفا نہیں کرنا چاہتی تھی۔
اب وہ گول گول گھومتی خود کو دیکھ رہی تھی وہ ڈریس خوبصورتی کی مثال آپ تھا۔
“بہت بھاری ہے لیکن بہت خوبصورت ہے!”
وہ اقرار کرتی بولی اور پھر دوپٹہ اٹھاتی باہر نکل گئی تاکہ بوا کو دکھا سکے۔
“بہت پیاری لگ رہی ہو فرشتے بیٹا!” وہ اس کو ساتھ لگاتی اسے بوسہ دیتی بولی تو وہ شرما گئی۔
لیکن یہ بہت بھاری ہے! وہ بولی۔
کوئی بات نہیں تھوڑی دیر کی تو بات ہے اور ازلان نے بہت محبت سے بھیجا ہے۔
لیکن وہ خود تو نہیں آرہے نا!
وہ منہ بناتی بولی تو بوا نے اسے دیکھا۔
“آپ چاہتی ہیں وہ آئے؟’ وہ شرارت سے بولی تو فرشتے نظریں چرا گئی۔
“میں تیار ہو جاتی ہوں پھر نکلنا بھی ہے آپ بھی تیار ہو جائیں!”
“میں نہیں جاؤں گی بیٹا میرے سر میں درد ہے۔۔۔ عمر آپ کو چھوڑ دے گا جلدی سے تیار ہو جائیں۔”
وہ بولی تو فرشتے ان کو خیال رکھنے کا کہتی کمرے میں چلی گئی ہلکے سے ائیرنگ اور بالکل لائیٹ سا میک اپ کرتی باہر آئی۔
یہ کیا کر رہی ہو فرشتے؟ انہوں نے اسے شرارے کے نیچے شوز پہنتے دیکھ حیرت سے پوچھا۔
“اس میں میں کمفرٹیبل رہوں گی نا!”
وہ مسکرا کر بولی تو بوا اسے باہر تک چھوڑنے آئیں اسے خدا حافظ کر کے اندر آئیں تو ان کا فون بج رہا تھا۔
“بوا کیا نکل گئی ہے فرشتے؟” ازلان نے عجلت میں پوچھا۔
ابھی نکلی ہے!
اوکے! ازلان نے گاڑی کی اسپیڈ بڑھائی اور عمر کو میسیج کر دیا۔
فرشتے اپنے فون پر مصروف تھی جب عمر نے گاڑی روکی۔
کیا ہوا؟
عمر بنا جواب دیے باہر نکل گیا تو اس نے حیرت سے اسے دیکھا لیکن حیرت کا دوسرا اور بڑا جھٹکا اس مخصوص خوشبو کو محسوس کرتے لگا تھا۔
“آگے آ کر بیٹھو!”
ازلان نے مُڑ کر فرشتے کو نہیں دیکھا تھا لیکن فرشتے تو جیسے کچھ لمحوں کے لیے تھم گئی تھی۔
کتنے عرصے بعد وہ یوں اپنی تمام تر وجاہت کے ساتھ اس کے پاس تھا۔
پچھلی بار وہ ہوش میں کہاں تھی جب وہ اسے میسر آیا تھا۔
“میں یہیں۔۔۔۔۔!”
فرشتے نے ہوش میں آتے کہنا چاہا لیکن ازلان کی نگاہیں خود پر محسوس کرتے وہ بمشکل باہر نکلی اور آگے آ کر بیٹھی۔
وہ اب تک اس کی خوشبو محسوس کر رہی تھی وہ اسے کے ڈریس کے ہم رنگ شلوار کُرتے میں تھا اوپر ویسٹ کورٹ پہنا تھا بال اچھے سے سیٹ تھے ہلکی بھری سی بیئرڈ جو اس پر سوٹ کر رہی تھی بے حد وہ لمحوں اسے دیکھے گئی تھی تو ازلان نے اپنی مسکراہٹ پر قابو کیا لیکن دل جیسے پل میں مطمئن ہوا تھا یہی توجہ تو وہ چاہتا تھا سالوں سے۔
“کچھ کھایا تھا؟”
ہممم۔۔۔! وہ جیسے خواب سے جاگی تھی۔
“کچھ کھایا تھا؟”
اممم۔۔۔نہیں!
کیوں؟ ازلان نے سامنے روڈ سے نگاہیں ہٹاتے اسے دیکھا جو پزل سی تھی۔
“بھوک نہیں تھی۔”
“تمہاری چوڑیاں کہاں ہیں؟” ازلان نے سامنے کی طرف دیکھتے استسفار کیا۔
فرشتے کا منہ حیرت سے کّھل گیا وہ اس کا جائزہ بنا دیکھے بھی کافی باریکی سے لے گیا تھا۔
“ڈریس کی وجہ سے نہیں پہنیں!”
وہ جو اس سے ملنے پر اس سے بولنے کا عہد کیے بیٹھی تھی اب اس کی آواز بھی گھٹ گھٹ کر نکل رہی تھی۔
ازلان نے مارکیٹ کے پاس گاڑی روکی اور اتر کر گیا تو فرشتے نے گہرا سانس بھر کر اس کی خوشبو کو خود میں اتارا اور اپنے آپ کو قابو میں کرنا چاہا جبکہ ہتھیلیاں پسینے سے بھیگیں تھی، دھڑکنوں کا شور اس کے کانوں میں گونج رہا تھا اور گال پر حدت سے تھے۔
وہ واپس آیا اس کے ہاتھ میں چوڑیاں تھیں۔
یہ پہنو! ازلان نے اس کے آگے کی اور سیٹ بیلٹ باندھنے لگا۔
لیکن۔۔۔۔۔۔
ازلان نے اس کا ہاتھ تھاما اور اسے سنجیدگی سے چوڑیاں پہنانے لگا۔
“مجھ سے دوری پر تم بہت زیادہ نفی کرنے لگی ہو میری باتوں کی نہیں؟”
وہ دونوں ہاتھوں میں اسے بھر بھر کر چوڑیاں پہناتے آئیبرو اچکاتا سنجیدگی سے پوچھنے لگا۔
“میں نے بوا سے مہندی بھی لگوانے کو کہا تھا!”
فرشتے تو بس خاموش بیٹھی تھی اسے کہاں اندازہ تھا کہ وہ آئے گا لیکن دل کے کسی کونے میں کی گئی خواہش یوں پوری ہو گی اسے اندازہ نہ تھا۔
اب اپنی حالت دیکھ کر اسے خود پر غصہ آرہا تھا کیوں ہی اس نے خواہش کی تھی اس نے آنے کی۔
کل لگوا لینا اب! وہ بولا لیکن فرشتے کچھ نہ بولا پائی۔
ہاٹل کے باہر گاڑی پارک کرتے ازلان باہر نکلا اور اس کی طرف آتے دروازہ کھولا اور اس کے آگے ہاتھ کیا تو فرشتے نے اپنا لرزتا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھا۔
ازلان نے مضبوطی سے اس کا ہاتھ تھاما اور اسے باہر نکالا اور پچھلی سیٹ پر پڑا اس کا دوپٹہ اٹھایا۔
فرشتے کو خود پر مزید غصہ آیا جو تب سے یوں ہی بیٹھی تھی اور اسے اندازہ بھی نہ ہوا تھا کہ وہ دوپٹہ پچھلی سیٹ پر بھول آئی ہے۔
اس پر دوپٹہ اوڑھتے اسے لیتا آگے بڑھا۔
لیکن فرشتے کافی آرام سے چل رہی تھی۔
یہ بہت بھاری ہے! وہ نم لہجے میں بولی تو ازلان نے اس کی طرف دیکھا۔
“تھوڑی دیر گزار لو پھر واپس چلیں گے۔۔۔”
ازلان کو اب واقع احساس ہو رہا تھا وہ ڈریس اسے پہلی ہی نظر میں بہت پسند آیا تھا لیکن اب اسے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ واقعی بھاری تھا اور فرشتے نے کبھی ایسے ڈریسز نہیں پہنے تھے۔
فرشتے نے سر ہاں میں ہلایا اور اسکے ہاتھ کو مضبوطی سے پکڑتی چلنے لگی ازلان آہستہ سے چل رہا تھا اس کے ساتھ۔
“تم اپنا کاجل خراب کر چکی ہو فرشتے ازلان!”
ازلان نے اس کی طرف دیکھا اور سائیڈ پر موجود واش روم میں لاتے اپنی جیب سے ٹشو نکالا۔
فرشتے اس کی اس قدر توجہ پر گھبراہٹ کا شکار تھی یہ سب بالکل بنا نہیں تھا وہ سالوں سے اس کی چھوٹی سے چھوٹی چیز کا دھیان رکھتا آیا تھا۔
لیکن اب اس کے خود کے جذبات بدل گئے تھے اسی لیے وہ ان سب کو اچھے سے محسوس کر پا رہی تھی نا صرف محسوس کر رہی بلکہ اس کے چہرے سے جھلکتا گلال لازماً ازلان بھی دیکھ سکتا تھا۔
آگے بڑھتے اس کی آنکھوں کے نیچے ہلکا سا رب کیا اور اس کے بال پیچھے سے اٹھاتے کچھ آگے کیے اور دوپٹہ اچھے سے اسے دیا اور ایک تنقیدی نگاہ اس پر ڈالی۔
چلو! فرشتے کا ہاتھ اب پھر سے اس کے ہاتھ میں تھا۔
اندر جاتے بہت سے لوگوں کی نظر ان کی طرف مڑی تو اس کا دل دھڑکا۔
اسے نظر لگ جانے پر بہت بھروسہ تھا۔
“فکر نہیں کرو تمہیں تو کم از کم نظر نہیں لگنے دوں گا!”
ازلان اس کی طرف جھک کر بولا تو فرشتے اسے دیکھ کر رہ گئی۔
سب دعوے کہیں جا سوئے تھے۔
ازلان نے اسے سائیڈ پر بٹھاتے جوس اس کے آگے کیا
“پیو فوراً! پھر بھائی سے ملتے ہیں”
وہ صرف اسے حکم دے رہا تھا اور وہ اس کا ہر حکم سر جھکائے بجا لا رہی تھی۔
اس نے آدھا گلاس پیتے سائیڈ پر رکھ دیا تو ازلان نے اسے گھورتے وہی گلاس اٹھاتے باقی بچا جوس پیا اور اسے لیتا اسٹیج کی طرف جانے لگا۔
فرشتے کو لگا یہ اس کی زندگی کے مکمل لمحات ہیں۔
