Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf NovelR50407 Mein Tera Sarmaya Ho Episode 16
Rate this Novel
Mein Tera Sarmaya Ho Episode 16
Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf
وہ سارا سامان خرید کر آ چکے تھے گھر کے باہر گاڑی روکی تو کونین نے اسے دیکھا۔
“تم جاؤ کونین میں دادا جان سے ملنے جاؤں گا” شایان نے کہا تو کونین نے کچھ سوچتے اسے دیکھا۔
“میں بھی ساتھ چلوں؟”
“تم کیا کرو گی جا کر؟” شایان نے حیرت سے پوچھا۔
“آپ کی بیوی ہوں آپ مجھے چُھپانا کیوں چاہتے ہیں؟” کونین نے سنجیدگی سے پوچھا۔
شایان نے سنجیدگی سے اسے دیکھا اور پھر گاڑی گھر کے راستے پر ڈال دی۔
وہ صحیح کر رہا تھا یا نہیں ابھی اسے معلوم نہ تھا لیکن اس کا یہ فیصلہ اسے جلد ہی گہرے نقصان سے آشنا کرنے والا تھا۔
اس نے پہنچتے گاڑی روکی اور اندر کی طرف روانہ ہوا آج سنڈے تھا تو تقریباً سب لوگ ہی گھر پر موجود تھے۔
کونین اس کے ساتھ قدم سے قدم ملانے لگی وہ اس جگہ صرف اپنی حیثیت منوانا چاہتی تھی جبکہ دل خوف سے لرز رہا تھا۔
آخر یہ وہی جگہ تھی جہاں اس کے باپ کو دھتکارا گیا تھا۔
وہ اندر داخل ہوئے تو سب لان میں موجود تھے۔
“آجاؤ شیر!”
جہانگیر عثمانی نے اسے دیکھتے پھر پیچھے اس لڑکی کو دیکھا جسے کل رات وہ بیوی کہہ رہا تھا۔
اور وہ لڑکی کون تھی وہ جانتے تھے۔
وہ دونوں گلے لگے تو کونین ایک سائیڈ پر کھڑی ہو گئی۔
“آج کل گھر کیوں آتے؟”
تہذیب عثمانی نے شکوہ کرتے اس کا ماتھا چوما کیونکہ وہ اب تک کونین کو نا دیکھ پائیں تھیں۔
“بس بھائی کی مصروفیات ہی حسین ہیں!” موحد نے شرارت سے کونین کو دیکھتے کہا۔
موحددد! شایان کے ٹوکنے پر بھی وہ باز نہ آیا اور کونین کے سامنے جا کھڑا ہوا۔
“ہیلو حسین لڑکی!” اس نے آگے ہاتھ کیا تو کونین نے ہونق بنے اسے دیکھا۔
“موحد وہ ہاتھ نہیں ملائے گی!” شایان نے سنجیدگی سے کہا۔
“لیکن کیوں بھائی؟ اتنی مشکل سے اس حسین لڑکی سے دوستی کی تھی میں نے پہلے اب یہ پھر بدل گئی ہے!”
وہ شکوہ کرتے بولا تو ملائکہ اٹھ کر آئی اور شایان کے ساتھ لگتے ملی۔
کونین نے کِن اکھیوں سے انہیں دیکھا اور پھر اس نے موحد کا بڑھا ہاتھ تھام لیا تو شایان نے ہونٹ بھینچے۔
“دیکھا بھائی آپ غلط تھے!” موحد نے کہا تو شایان نے کونین کو دیکھا جو اس کو نہیں دیکھ رہی تھی۔
“یہ لڑکی کیا کر رہی ہے تمہارے ساتھ؟”
سائمہ نقوی جو وہیں موجود تھیں باہر آتی بولی تو شایان عثمانی کا دل رُک گیا۔
اس نے خود پر ملامت کی کونین کو آج ساتھ لانے پر۔
“خالہ بعد میں بات کریں گے!” شایان نے شائستگی سے کہا۔
“کیوں؟”
“بتاؤ سب کو کہ یہ تمہاری بیوی ۔۔۔۔”
“خالہ پلیززز!” شایان نے کہا تو کونین نے اس عورت کو دیکھا جو اسے ہی نفرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔
“شایان اپنے کمرے میں جائیں آپ اِن کو کے کر!” جہانگیر عثمانی نے ان دونوں کو دیکھتے کہا۔
“کہیں نہیں جائے گا یہ۔۔۔۔بلکہ یہ لڑکی جائے گی” سائمہ نقوی چِلائی اب وہاں موت جیسا سناٹا تھا۔
“شان کیا تم نے اسے اب تک نہیں بتایا کہ جو سب تم نے کیا وہ ایک ڈرامہ تھا، اسے دھتکارنے کا؟؟”
کونین کو لگا اس نے غلط سنا ہے سب پر سکتہ طاری ہو گیا تھا باقی سب کو تو یہ ہضم نہیں ہوا تھا کہ وہ لڑکی جو اس کے کام کرنے کے لیے آئی تھی وہ اس کی بیوی تھی۔
“خالہ اپنے کمرے میں جائیں ہم یہ سب اکیلے میں۔۔۔۔”
“اکیلے میں کیوں؟”
“بس اس لڑکی کو نکالو اب۔۔۔۔میرے کہنے پر تم نے اس کے ساتھ یہ ساتھ رہنے کا اور شوہر بننے کا ناٹک کیا تھا نا تو اب میں کہہ رہی ہوں ختم کرو طلاق دو اِسے اور دھتکار دو اسے بھی ویسے ہی جیسے سالوں پہلے اس کے باپ نے مجھے دھتکارا تھا” ان کے لہجے میں نفرت کی تپش کے سوا کچھ نہ تھا۔
کونین نے دھڑکتے دل اور سوکھے ہونٹوں کے ساتھ شایان کو دیکھا اور قدم آگے بڑھائے۔
“شایان؟” کونین اس کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔
“بتاؤ اس کو شان! کہ اس کو ساتھ رکھنا، بیوی کہنا سب ایک ڈرامہ تھا تم جلد اسے عادت لگوا کر چھوڑنے والے تھے اس کے باپ کے در پر ۔۔۔۔”سائمہ نقوی کی آواز پھر سے گونجی۔
“بیٹی تم جاؤ!” جہانگیر عثمانی نے اسے دیکھتے کہا جو پتھر کی ہو گئی تھی۔
اس نے ہاتھ اٹھائے اور شایان کا کارلر تھاما۔
“یہ سچ ہے کہ وہ سب فریب تھا؟ بولو؟”
وہ چیخ اٹھی تو شایان نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور کونین خاور کو تمام جوابات مل گئے تھے۔
اس نے آنکھیں بند کیں اور اس کا نازک ہاتھ اٹھا اور شایان عثمانی کے سینے پر پڑا اور پھر لگاتار وہ اپنے آپے میں نہیں تھی۔
“تم نے، تم نے میرے ساتھ دھوکا کیا، تم تو مجھ سے نبھا چاہتے تھے نا؟ کیوں؟ کیوں میں اپنے باپ کے علاج کے بدلے تو پہلے ہی تمہاری نوکر بننے کو تیار تھی پھر کیوں تم نے میرے جذبات سے کھیلا؟” وہ رو رہی تھی۔
جہانگیر عثمانی کو اس پر ترس آیا۔۔۔اپنے بچھرے بیٹے کی اکلوتی اولاد کو یوں تڑپتا دیکھ وہ بھی تڑپ اٹھے تھے۔
سالوں پہلے کی رنجشیں وہ بھول گئے تھے اور قدم آگے بڑھائے اور کونین کو سینے سے لگانا چاہا۔
“ہاتھ نہیں لگائیں مجھے! میرے کچھ نہیں لگتے آپ! ہمارے درمیان صرف ایک خون کا رشتہ ہے میرا بس چلتا تو میں اپنے جسم کا سارا خون نکال دیتی کیونکہ یہ آپ کے اس سرد خاندان کا ہے۔۔۔”
کونیننن!شایان کو اس کا یہ لہجہ اپنے دادا سے برداشت نہ ہوا تو دھاڑا ۔۔۔۔۔۔
“آواز اونچی کرنے سے کچھ نہیں ہو گا شایان عثمانی مجھے حقیقت بتا لینے دیں آج آپ کے معزز دادا کو۔”
“تو سنیں محترم جہانگیر عثمانی!”
“آپ ہی کے بیٹے خاور عثمانی کی اولاد ہوں میں۔۔۔۔وہی اولاد جس نے آپ کی فرسودہ روایات کا پاس نہ رکھا اور میری ماں سے محبت کی شادی کر لی آپ کی غیرت نے گوارہ نہ کیا اور آپ نے انہیں جائیداد، اس محل نما گھر اور ہر رشتے، ہر آسائش سے محروم کر دیا۔”
“میرے باپ نے زندگی اکیلے گزاری ہے کبھی آپ لوگوں سے اپنا حق نہ مانگا اس بزنس میں اس دولت میں جس پر آپ سب، آپ کے بیٹے آج بادشاہوں کی طرح زندگی گزار رہے ہیں اس میں میری باپ کی بھی محنت تھی، میری ماں کے گزرنے پر بھی آپ کا دل اپنے بیٹے کی محرومیوں پر نہیں تڑپا بلکہ آپ کو تو پتا بھی نہیں کہ وہ زندہ بھی ہیں یا۔۔۔۔۔خدا آپ جیسا باپ کسی کو نا دے۔!!”
اس کی آواز رندھ گئی کئی سال پہلے جہانگیر عثمانی ایسے دھاڑ رہے تھے خاور عثمانی پر اور آج اس کی بیٹی اپنے باپ کے حق میں یوں بولی تھی کہ خاموشی چھا گئی تھی۔
سارے بھائی اپنے بچھڑے بھائی کی بیٹی کو ہمدردی سے دیکھ رہے تھے۔
“میرا باپ ہسپتال کے بستر سے نجانے کتنے سالوں سے لگا ہے، آپ لوگوں کا تو خون سفید ہو گیا ہے کہ پلٹ کر پوچھا تک نہیں کہ اس شخص کے پاس دوا کے لیے بھی پیسے ہیں یا نہیں آپ سب تو اپنے بزنس کو آسمانوں پر لے جانے کے لیے دن رات کوشاں ہیں۔”
“میں نے، میں نے!!” اس شخص اس نے شایان عثمانی کی طرف دیکھا۔
“اس سے مدد کی امید کی، مجھے پتا تھا اس شخص کے نکاح میں ہوں میں اور پتا ہے یہ بھی آپ جیسا نکلا۔”
“اس نے شرط رکھی کہ میں ایک نوکرانی کی طرح اس کا ہر کام کروں تو ہی بدلے میں یہ میرے باپ کا علاج کروائے گا اور میں نے کِیا، سب کیا۔
لیکن پھر اسے یہ رشتہ نبھانا تھا میرا خدا گواہ ہے ہر بار پہل اس نے کی اور آج۔۔۔آج یہ شخص۔۔۔۔۔۔”اس نے شایان کو دیکھا جو اسے یوں بکھرا دیکھ خود بھی بکھر رہا تھا۔
اس نے آگے بڑھنا چاہا۔
“شایان عثمانی اپنے قدم وہیں روک لو، نہیں تو خود مر جاؤں گی یا تمہیں مار دوں گی۔”
سالوں کی سہی ازیت پر وہ خاموش تھی لیکن آج شایان عثمانی کے دھوکے پر وہ پھٹ پڑی تھی، ٹوٹ کر بکھری تھی کہ شور سب کے کانوں نے سُنا تھا۔
وہ قدم بڑھاتی جہانگیر عثمانی کے پاس آ کھڑی ہوئی “سالوں پہلے میری باپ نے روایات کا پاس نہیں رکھا تھا تو انہیں سزا ملی تھی آج آپ کی پوتی کو اس شخص نے نکاح میں رکھتے دھوکا دیا ہے، دھتکارا ہے مجھے یوں لوگوں میں تذلیل کا نشاں بنا دیا ہے اس کو کیا سزا دیں گے؟”
“اس کو بھی خاور عثمانی کی طرح دھتکاریں، ہر چیز سے عاق کریں ہر رشتہ ختم کریں اور لاتعلق بن جائیں اس سے تو میں دیکھوں کہ انصاف ہوتا ہے جہانگیر عثمانی کے محل میں یا نہیں۔۔۔۔”
خاموشی چھائی رہی۔
کوئی کچھ نہ بولا تو وہ مسکرا پڑی۔۔۔اور پھر خشک سا قہقہہ لگایا۔
“مجھے رب سے شکوہ رہے گا کہ خاور عثمانی کو اس گھر میں پیدا کیا گیا اور میرے لیے، اس نے خود پر انگلی رکھی میری لیے اس شخص کو چُنا گیا!”
اس کے لہجے میں تضحیک تھی شایان عثمانی کے لیے ،ان کے درمیان موجود رشتے کے لیے۔
شایان آگے بڑھا اور اس کے کندھے تھامے۔
“ایسا کچھ نہیں ہے تم میری بیوی ہو اور شایان عثمانی تمہیں کبھی نہیں چھوڑے گا!”
“میں سب بھول جاؤں گی شایان بس ایک بات کا جواب دیں!”
بولو! شایان نے اپنے ہاتھ اس کے چہرے پر رکھے جو رو کر سرخ پڑا تھا اس کے دل پر گھوسا پڑا۔
اس لڑکی سے اس نے عشق کیا تھا اس پر الہام ہو گیا تھا کہ اس کا یوں رونا اور ٹوٹ کر بکھرنا اسے بھی توڑ رہا تھا۔
“یہ جو عورت اس نے سائمہ نقوی کی طرف انگلی سے اشارہ کیا انہوں نے جو کہا کیا اس میں زرا بھی سچائی تھی؟”
کیونکہ وہ اتنا تو جان گئی تھی کہ سالوں پہلے جس عورت پر اس کے باپ نے اس کی ماں کو ترجیح دی تھی وہ وہی عورت تھی تہذیب عثمانی کی بہن اور شایان عثمانی کی خالہ۔
شایان عثمانی نے آنکھیں بند کر کے کھولیں۔
“کونین تم سے نبھا کیا ہے میں نے شایان عثمانی تمہیں مر کر بھی دھتکار نہیں سکتا تم میری بیوی ہو میں نے پہروں تمہیں سوچا ہے میں نے تم سے محبت کی ہے اور۔۔۔۔۔۔”
“کیا آپ نے مجھے دھوکا دیا شایان؟ کسی بدلے کے عوض۔۔۔۔”
“وہ آغاز میں۔۔۔۔اس کے بعد جو ہوا وہ سب حقیقت۔۔۔۔۔”
کونین نے اس کے ہاتھ جھٹکے اور اس کے سینے پر ہاتھ رکھتے اسے دھکا دیا۔
“تم میرے لیے نہیں بنے شایان عثمانی۔۔۔۔کیونکہ کونین خاور کو اس کی صاف اور شفاف زندگی کے بدلے تم جیسا شخص نہیں مل سکتا۔۔۔۔ بلکہ یہ محل نما کوٹھری، یہ دولت، یہ شہرت، یہ عزت یہ سب نا خاور عثمانی کے لیے تھا اور نہ کونین خاور کے لیے ہے۔”
وہ اپنے نام کے آگے سے شایان عثمانی کا نام ہٹا گئی تو شایان کو لگا اس کے دل پر گہری ضرب لگائی گئی ہو۔
کونین نے قدم آگے بڑھائے۔
لیکن پھر پیچھے مُڑی اور جہانگیر عثمانی کو دیکھا۔
“میرا باپ شاید آپ کو معاف کر دے لیکن یاد رکھیے گا روزِ محشر کونین خاور آپ سے ہر ناانصافی کا جواب طلب کرے گی!” اور پھر اس نے شایان کو دیکھا۔
“میں نے غلطی کر دی آپ پر بھروسہ کر کے، آپ سے محبت کر کے کیونکہ تم تو میری نفرت کے قابل بھی نہیں شایان عثمانی!”
اور پھر سناٹہ چھا گیا وہ گھر کی دہلیز پار کر گئی کبھی واپس نہ آنے کے لیے۔
کونیننننن!
شایان عثمانی کا ہاتھ دل پر تھا اور پھر اس نے برداشت نہ ہوتے درد سے اپنی خالہ کو دیکھا جو اسے سہارا دیے کھڑی تھیں۔
ان کا ہاتھ جھٹکا تو زمین پر گھٹنوں کے بل گر پڑا۔
“وہ میری بیوی ہے، میری، میں نے اسے دھوکا نہیں دیا میں نے زندگی جی ہے اس کے ساتھ، میں تو اسے تب بھی چھوڑنے کو تیار نہ تھا جب مجھ پر اس کی محبت کا الہام نہ ہوا تھا تو اب تو میں اسے مر کر بھی نہیں چھوڑوں گا لیکن وہ، وہ خود کو مجھ سے دور کر لے گی اور یہ کافی ہے میری سانسوں کی رفتار کو بند کر ے کے لیے، میں نے عشق کیا ہے اس سے مجھے وہ چاہیے، وہ مجھ سے نفرت کرے گی میں مر جاؤں گا!”
وہ ہزیانی کیفیت میں چیخنے لگا تو سب اس کی طرف بڑھے سوائے ایک شخص کے۔
جہانگیر عثمانی نے اسے چھوڑتے اپنے قدم باہر کی طرف اپنی پوتی کی طرف بڑھائے تھے۔
کونین خاور اور شایان عثمانی کی کہانی کا اختتام اتنا بھیانک ہو گا کون جانتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سات بجے اس کا فون مسلسل بجنے لگا اس نے نیند میں ہی دو بار کال کاٹی تھی۔
لیکن فون مسلسل بج رہا تھا اس نے نیند میں تنگ آتے کال اٹھائی وہ ویڈیو کال تھی اس نے کان کے ساتھ فون لگایا۔
“کیا ہے؟ میں سو رہی ہوں بعد میں کال کیجیے گا۔”
“ہنی تم دس منٹ لیٹ ہو ریاضی کی کلاس کے لیے سزا کے لیے تیار رہو؟”
وہی وحشت سے بھری سرد اور سنجیدہ سی آواز اس کے کانوں میں پڑی تو وہ ہوش میں آئی اور جھٹکے سے فون کان سے ہٹاتی نمبر دیکھنے کی نیت سے فون سامنے کیا تو اندازہ ہوا کہ وہ ویڈیو کال ہے۔
اففففف!
“حلیہ درست کرو مزید پانچ منٹ ہیں تمہارے پاس۔۔۔۔”مخالف نے بولا اور کال کاٹ دی۔
اب فرشتے کو پتا تھا کہ واقع اسکے پاس پانج منٹ ہیں اس سے زیادہ نہیں وہ تیزی سے اٹھی اور منہ ہاتھ دھو کر فریش ہو کر باہر آئی اپنے لیپ ٹاپ کو نکالا اور اس کی کال کا انتظار کرنے لگی۔
وہ ایسا صرف اس کے خوف سے کر رہی تھی۔
کال آتے ہی اس نے کنیکٹ کی اُس کی طرف کی سکرین پر اندھیرا تھا جبکہ وہ پوری کی پوری کیمرہ میں دیکھی جا سکتی تھی۔
“کیا کتابوں کے بغیر تم اتنی لائق ہو کہ ریاضی سمجھ سکو؟”
وہی آواز وہ ڈر کر اچھلی اور پھر ریاضی کی کتاب پین اور ڈائیری لے آئی۔
مخالف نے میز پر پڑا لیمپ اون کیا تو اس کے صرف ہاتھ اور اس کی ڈائری نظر آنے لگی جس پر وہ اسے سمجھانے والا تھا۔
اسے ان ہاتھوں میں کسی کی مشابہت محسوس ہوئی لیکن ایسا کیسے ممکن تھا۔
اس شخص کی یاد پھر سے آتے اس کا دل دھڑکا۔
“تم سُن رہی ہو؟”
“نہیں!”
فرشتے نے کہتے کال کاٹ دی اور سب چیزیں خود سے دور کرتی باہر اپنے کمرے سے منسلک ٹیرس پر چلی گئی۔
ازلان اظہر پھر سے اس کے دل و دماغ پر چھا گیا تھا اس کا فون مسلسل بج رہا تھا لیکن اسے کہاں پرواہ تھی۔
اسے وہ دن یاد آیا تو پھر سے کانپ گئی اور گہرا سانس بھرا اب دماغ اس شخص کی طرف چلا گیا۔
وہ کون تھا اور کیوں اسے ڈرا رہا تھا؟ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کیا اسے کسی کو بتانا چاہیے؟ لیکن اس کے پاس کون تھا اس کی مشکلات کو سننے والا؟ تلخ سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر چھا گئی۔
وہ رات تک وہیں ٹیرس پر موجود رہی جب بوا نے کھانے کا بتایا تو باہر نکل گئی کھانے کے بعد ان سے بالوں میں تیل لگواتی وہ کتنی ہی دیر ان کے ساتھ رہی اور پھر دس بجے کمرے میں داخل ہوئی۔
سامنے کا منظر دیکھ کر اس کی روح فنا ہوئی اس کا لیپ ٹاپ ٹوٹا پڑا تھا زمین پر۔
وہ قریب آئی ٹوٹی سکرین پر سٹکی نوٹ چپکا تھا جس پر کچھ لکھا تھا۔
“اگر اس کا استعمال نہیں کرو گی تو ضرورت نہیں ہے اسے پاس رکھنے کی اور اگلی بار میری کال کاٹنے پر نقصان اتنا سا تو بالکل نہیں ہو گا ہنی!” یہ چند الفاظ اس پر تحریر تھے۔
اس نے چیخ کر لیپ ٹاپ کو خود سے دور کیا تو بوا فوراً اندر داخل ہوئیں۔
“کیا ہوا فرشتے؟”
“یہ کیسے ٹوٹا؟” انہوں نے فرشتے کے ہاتھ میں دبا وہ کاغذ نہیں دیکھا تھا صرف لیپ ٹاپ کے ٹکڑے دیکھے تھے۔
“پتا نہیں جب میں باہر تھی۔۔۔۔”
“تو آپ نے ٹھیک سے نہیں رکھا ہو کا اسی لیے گِر کر ٹوٹ گیا اب کام کس پر کرو گی ازلان کو بتانا پڑے گا وہی نیا بھیجے گا”
وہ سب کہہ رہی تھیں لیکن وہ تو اب تک لفظ ازلان اور اس لیپ ٹاپ کو دیکھتے تھمی تھی۔
پھر گہرا سانس بھرا اور کھڑی ہوئی۔
“بوا ازلان کو بولیں مجھے کل ہی لیپ ٹاپ چاہیے۔”
“بیٹا اتنی جلدی۔۔۔”
“ابھی فون کریں اسے میرا کام ہے کرنے والا! اور اب کی بار مجھے مہنگے والا چاہیے میری پسند کا۔”
بوا نے فون کیا اور اسے بتایا تو وہ کچھ بولا کہ بوا حیران ہوئیں۔
“بیٹا کل اتنی جلدی وہاں سے کیسے بھیجو گے؟” فرشتے نے ہونٹ بھینچے۔
“مجھے کل ہی چاہیے!” وہ اتنی تیز آواز میں تو بولی ہی تھی کہ مخالف سُن سکتا اور وہ سن چکا تھا۔
“بوا میں کل بھجوا دوں گا!”
اور اگلی صبح لیپ ٹاپ ان کے گھر ڈیلیور کر دیا گیا تھا اور وہ کوئی عام لیپ ٹاپ نہیں تھا وہ یہاں کا سب سے مہنگا لیپ ٹاپ تھا۔
فرشتے نے دیکھ لیا تھا لیکن ہاتھ نہیں لگایا تھا ابھی تک۔
پھر یونیورسٹی چلی گئی اور لاشعوری طور پر حسن اور نوشین کے ساتھ بیٹھ گئی وہ بھول گئی تھی کہ ان کے ساتھ رہنے پر بھی اس انجان شخص کی طرف سے پابندی لگائی گئی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“میں دیکھنا چاہتا ہوں مجھ سے کتنی محبت کرتی ہو تم اور پتا ہے میں تمہیں کیسی لڑکی سمجھتا ہوں؟”
اعظم نے اسے دیکھتے کہا جو دیوار کے ساتھ لگی اب کانپ رہی تھی۔
“مجھے جانے دیں۔۔۔۔”
“کیوں؟ کسی انجان شخص کے ایک بار بلانے پر چلی آئی ہو اور اب یوں ڈرامے۔۔۔۔”
زارا کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے۔
“کیسی لڑکی سمجھتے ہیں آپ مجھے؟”
“جو یوں ہی انجان لڑکوں سے فون پر باتیں کرتی ہو اور کسی کے بھی ایک بار بلانے پر چلی آئے۔”
“انجان لڑکوں سے؟ میرا خدا گواہ ہے میں نے آپ کے علاؤہ کسی سے کبھی بات نہیں کی میری محبت کی یوں تذلیل نہ کریں اور مجھے جانے دیں۔”
“اپنی محبت کا اظہار تو کرتی جاؤ” اعظم نے اس کے قریب قدم بڑھائے۔
“جو محبت تھی وہ ختم ہو گئی کیونکہ مجھے نہیں پتا تھا کہ میں نے سالوں جس شخص کی محبت کا دم بھرا ہے وہ اتنا گِرا ہوا ہو گا۔”
“آپ کو آپ کی محبت اسی لیے نہیں ملی کیونکہ آپ محبت کے قابل نہیں ہیں اور قدر نہ کرو تو چھین لیا جاتا ہے عشق بھی، رزق بھی۔”
اعظم نے قریب آتے اس کے بازو تھامے تو وہ سہم گئی اس نے سانس تک روک لیا اور آنکھیں زور سے میچ لیں۔
“کتنی محبت ہے مجھ سے؟” سوال دہرایا گیا۔
“بالکل بھی نہیں!”
“کتنی محبت ہے مجھ سے اور کب سے جانتی ہو مجھے؟” اعظم اس پر ہلکا سا جھکا تھا۔
“جب ہم سکول میں تھے میں آپ کی جونئیر تھی تب سے” وہ سر جھکائے روتے ہوئے جیسے اپنے جرم کا اعتراف کر رہی تھی۔
“لیکن مجھے تم سے محبت نہیں ہے اور نہ کبھی ہو گی یہ فضول قسم کی حرکتیں کرنا بند کرو اور مجھے تم پر بالکل یقین نہیں ہے نجانے کتنے اور لڑکوں سے۔۔۔۔”
زارا نے تڑپتے جھٹکے سے سر اٹھاتے اس کی طرف دیکھا تو وہ مزید کچھ نہ بول سکا۔
“کم از کم آپ کی طرح کسی شادی شدہ انسان پر تو نظر ۔۔۔۔۔”وہ کہتے رُک گئی اور اپنے کندھوں سے اس کے ہاتھ جھٹکے۔
“مجھے جانے دیں!”
جاؤ!
اعظم نے کہا اور ویسے ہی کھڑا رہا صرف اپنے ہاتھ ہٹا لیے اس کے کندھے سے تو وہ دروازے کی طرف بڑھی۔
“اب آپ بے فکر رہیں آپ نے ایک قدر کرنے والا شخص کھو دیا ہے میں اب کبھی آپ کو تنگ نہیں کروں گی کیونکہ میرے پاس تو اور بھی بہت سے لڑکے ہیں بات کرنے کے لیے آپ کے بقول۔۔یہاں بُلا کر عزت دینے اور میری آنکھوں کو کھولنے کا شکریہ خدا حافظ!”
زارا نے یہ الفاظ رندھے لہجے میں کہے اور باہر نکل گئی جبکہ اعظم اظہر وہیں کھڑا رہ گیا۔
