220.5K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Tera Sarmaya Ho Episode 1

Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf

کسی کو نکاح کر کے سِر راہ نہیں چھوڑا جاتا شایان عثمانی۔۔۔۔وہ اکثر تنہائی میں یہ سوچا کرتی تھی۔

وہ آج واپس آئی تھی وہاں سات سالوں بعد اور اب کی بار دل خون کے آنسو رو رہا تھا کہ مت مانگو بھیک اس شخص سے جس نے تمہیں بے مول کر دیا جس نے نکاح کے سات سال میں مُڑ کر تمہیں نہیں دیکھا جس کے لیے تم اب بھی ایک ان پڑھ، گوار اور چھوٹی لڑکی ہو۔

کس سے ملنا ہے آپ کو؟ اس سے پوچھا گیا۔

شایان عثمانی۔۔۔!

آواز دھیمی تھی آنسوؤں سے بھری ہوئی جیسے ساتھ نہ دینا چاہ رہی ہو اس کا۔

میں بتا دیتا ہوں سر کو! اس لڑکے نے اسے دیکھتے سرسرسی سے انداز میں کہا۔

لیکن اسے بٹھایا گیا تھا۔۔۔۔انتظار۔۔۔۔ہاں وہ شخص ہمیشہ سے اسے انتظار ہی تو کرواتا آیا تھا۔

آجائیں!

وہ تھکے قدموں سے اٹھی اسے لگا نہیں تھا کہ سات سالوں بعد وہ وہیں آجائے گی جہاں نہ آنے کی قسم کھائی تھی اُس نے۔

وہ اندر داخل ہوئی جہاں وہ کسی لڑکی کے بے حد قریب بیٹھا باتیں کر رہا تھا۔

اس کی آنکھوں میں مرچیں بھر گئیں وہ اب بھی کہاں بدلا تھا۔

اسی طبیعت کا مالک تھا وہ! اس نے نقاب کو درست کرتے اندر قدم رکھا۔

جی کون؟

وہ اس کی طرف دیکھ کر بولا۔۔۔سیکرٹری کب کا جا چکا تھا اب صرف وہ لڑکی اور وہ شخص تھا سامنے۔

اس کے لبوں پر تلخ سی مسکراہٹ چھا گئی۔

پھر آنکھیں جھکاتے اپنا نقاب اتارا اور بھاری ہوتی پلکوں سے اسے دیکھا۔

شاید نام سے بھی وہ اسے نہ پہچانتا اسی لیے چہرے سے نقاب ہٹا دیا۔

کونین خاور نے اسے دیکھا جو اب اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا اس کے قریب آیا تھا فوراً۔

تمہیں اندر کس نے آنے دیا؟ وہ دھاڑا تو اس کا دل سہم گیا

اس جگہ پر میرا بھی اتنا حق ہے جتنا آپ کا۔۔۔۔!

وہ دھیمے سے بولی اور نقاب دوبارہ کر لیا۔۔۔وہ لڑکی اٹھ کر چلی گئی اب وہ دونوں رہ گئے تھے۔

ہاہاہاہا! سات سالوں میں ہمت آگئی ہے تم میں کونین خاور ماننا پڑے گا۔

لیکن ہمت بھی نہ کرنا یہاں گُھسنے کی۔۔۔۔یہ میرے باپ دادا کی بنائی جگہ ہے۔

جس میں حصّہ دار میرا باپ بھی ہے وہ چیخ پڑی۔۔۔۔اتنا فرق کیوں بھائیوں میں صرف اس لیے کہ انہوں نے خاندان کی روایت کو توڑتے اپنی پسند کی شادی کی تھی؟

جس کی وجہ سے میری آنی تڑپی ہو سالوں۔۔۔اس شخص کا تو میں نام سننا پسند نہ کروں کجا کہ اسے سامنے دیکھنا!

وہ ہنکارا بھر گیا اسے لگا نہیں تھا کہ سامنے موجود وہ چھٹانک بھر کی لڑکی ایک روز اس کے سامنے موجود اس سے اپنا حق طلب کرے گی۔

زیادہ نہیں بس مجھے میرے باپ کا حصّہ چاہیے۔۔۔۔یہ کہتے اس کا دل کیا کہ زمین پھٹے اور وہ اس میں جا سمائے۔

کیا کہا پھر سے کہنا زرا وہ تھوڑا قریب ہوا تو وہ فوراً سے پیچھے ہوئی جس پر شایان نے آئبرو اچکائی جیسے کہہ رہا ہو اتنی تم پاکیزہ!

میرے باپ کا حق۔۔۔۔۔۔

وہ جائیداد سے اور ہر رشتے سے اسی دن عاق کر دیا گیا تھا جس دن اس نے ہمارے خاندان کی روایات کا پاس نہ رکھا تھا کونین میڈیم۔۔۔۔۔۔۔۔!

اس کا اس جگہ پر حصہ تو کیا پھوٹی کوڑی تک نہیں ہے ۔۔۔۔۔نکلو اور یہاں کا راستہ دوبارہ کبھی مت دیکھنا۔۔۔

نکلو ۔۔۔۔اس کی دھاڑ پر وہ پاؤں تک کانپ گئی۔

شایان! وہ لرزتے ہوئے بولی۔۔۔۔آنسو چہرہ بھگونے لگے نقاب اب گیلا ہونے لگا تھا۔

ہمارے درمیان رشتے کا واسطہ آپ کو!

مجھے کچھ رقم چاہیے۔۔۔۔میرا باپ مر جائے گا ۔۔۔وہ کہتی اپنی بے بسی پر پھوٹ پھوٹ کر رو دی تو وہ شخص اسے دیکھنے گا جیسے اس کے آنسوؤں سے بیزار ہو رہا ہو۔

بدلے میں مجھے کیا ملے گا؟ وہ مسکراتا مطلب پر آیا پھر اسے سر تا پاؤں دیکھا۔

سب دے دوں گی جو آپ کو چاہیے۔۔۔۔۔وہ منمنائی۔

تم سے جو چاہیے وہ تو میں کسی لمحے بھی پا سکتا ہوں کونین شایان۔۔۔وہ کیا کہہ رہا تھا وہ سمجھ گئی۔

کونین کا دل کیا اس شخص کا گریبان پکڑے اور اس سے پوچھے کہ کیا بیوی کو صرف اسی لیے گھر لایا جاتا ہے؟ کیا بیویوں کو یوں رسوا کیا جاتا ہے؟ کیا نکاح کر کے مُڑ کر نہیں دیکھا جاتا۔۔۔۔کیا سالوں صرف دشمنی میں گزار دیے جاتے ہیں؟

کل گھر پر آجانا صبح آٹھ بجے۔۔۔۔۔

لیٹ ہوئی تو قدم نہ رکھنا وہاں۔ میرا وقت بیت قیمتی ہے۔۔۔۔اور۔۔۔قیمت ایک ساتھ نہیں ملے گی بھاگ گئی اگر تم تو؟

کونین نے ہچکی بھرتے اسے دیکھا۔۔۔۔نکاح کے سات سال وہ دور رہی تھی اسے فرق نہیں پڑا تھا لیکن قیمت جانے پر وہ اسے قبر سے نکال لیتا وہ جانتی تھی۔

میں۔۔۔۔آجاؤں گی۔۔۔۔۔۔وہ کہتے پلٹ گئی۔۔۔۔۔

میں اور کوئی رشتہ نہیں نبھانا چاہتی میں بس ایک اچھی بیٹی بننا چاہتی ہوں۔۔۔۔میرے باپ پر میرے خون کا ہر قطرہ وار دوں گی لیکن آنچ نہیں آنے دوں گی وہ خود کو مضبوط کرتی کل کے لیے خود کو تیار کرنے لگی۔

اس کا بس چلتا تو وہ کبھی بھی شایان عثمانی سے دوبارہ نہیں ملتی جو جب ملتا تھا اس کی زات کی تذلیل یوں کرتا تھا کہ وہ ریزہ ریزہ ہوتی بکھر جاتی تھی۔

آج مجبوری نہ ہوتی تو وہ وہاں قدم رکھنے سے پہلے مرنا پسند کرتی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اسے خود پھنسا رہا تھا ان سب میں۔۔۔اسے لگا تھا یہ اتنا مشکل نہ ہو گا لیکن اب اسے تکلیف میں دیکھ کر پاگل ہو رہا تھا وہ۔

یہ تمہارا اپنا فیصلہ تھا ازلان کہ تم اسے ان سب سے گزارو تاکہ وہ مضبوط ہو سکے۔۔۔۔

ہاں لیکن میں برداشت نہیں کر پا رہا۔۔۔۔اس کا ایک ایک آنسو میرے دل پر گر رہا ہے۔۔۔۔۔میں پاگل ہو رہا ہوں۔۔۔۔وہ رو رہی ہے اور وجہ میں ہوں۔۔۔۔

لیکن اسے ان سب سے تم نے نکالنا ہے اپنے ماں باپ کے بعد وہ جس طرح ڈرپوک بن گئی ہے کہ لوگوں سے دور بھاگتی ہے ایسا نہیں چلے گا نا ہمیشہ۔۔۔۔اس کا سب تُو ہے تو ہی اسے ان سب سے نکال سکتا ہے۔۔۔۔

میں جانتا ہوں اسی لیے اسے ان سب سے نکال رہا ہوں۔۔۔۔وہ اندھیرے میں دو چار بار بیہوش ہوئی ہے ناجانے کتنے زخم اس نے خود کو دیے ہیں مجھے اپنی جان جاتی محسوس ہوتی ہے جب وہ یہ سب کرتی ہے۔۔۔

میری روح ازیت میں ہے بہت۔۔۔۔میں ان دُکھوں کا مداوا کیسے کروں۔۔؟

خود کو مضبوط بنا۔۔۔۔۔۔وہ سب بھول گئی ہے۔

وہ آنکھیں میچ گیا ہاں وہ سب ہی تو بھول گئی تھی۔۔۔یاد تو اسے صرف اس کی زندگی کی تلخیاں تھیں۔

وہ قدم قدم چلتا اس کے کمرے میں گیا جہاں وہ کچھ دیر کے لیے رُکی تھی۔

اس کے آتے ہی اس نے ٹانگیں سمیٹی اور دوپٹہ سر پر رکھتے آنکھیں جھکا لیں۔

آپ کو مجھ سے ڈر لگتا ہے ہنی؟

وہ تھر تھر کانپ رہی تھی۔۔۔۔وہ شخص چاہتا تھا اسے پناہوں میں لے لے لیکن ایسا کرتا تو وہ چیختی شاید صدمے سے ہی بیہوش ہو جاتی۔

آپ مجھ سے کیوں ڈرتی ہیں ہنی؟

اس نے اس کے ہاتھ تھامنے چاہے جو اس نے جھٹ سے اپنی قمر پر باندھ لیے۔

ہاتھ دکھائیں۔۔۔۔۔وہ سنجیدگی سے بولا۔

ہنی اپنا ہاتھ کسی لڑکے کو نہیں دیتی۔۔۔وہ منمنائی۔۔۔۔۔سولہ سالہ وہ لڑکی دس سال کی بچی معلوم ہوتی تھی اس کے ساتھ کیا کیا ہوا تھا ان سولہ سالوں میں کوئی سنتا تو اس پر غشی طاری ہو جاتی۔

مجھے دِکھا سکتی ہیں! اس نے آہستگی سے کہا۔

کیوں؟ وہ آنکھیں کھولتے حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔ کانپنا کچھ کم ہوا تھا کیونکہ وہ اسے باتوں میں الجھا رہا تھا۔

کیونکہ میں آپ کا اچھا والا دوست ہوں! وہ اور کچھ نہ کہہ پایا۔

اممم۔۔۔ہمممم۔۔۔ماما کہتی تھیں لڑکے دوست نہیں ہوتے۔۔۔۔وہ اس کی اس بات کو بھی رد کر گئی تھی۔

تو میں آپ کا سب کچھ ہوں بس اتنا سمجھ لیں۔۔۔۔میں آپ کو ہاتھ لگا سکتا ہوں۔۔۔۔آپ صرف مجھ سے بات کریں گی، میری بات مانیں گی، مجھ سے فرمائشیں کریں گی جیسے آپ کی ماما آپ نے بابا سے کرتی تھیں۔

تو وہ تو میری ماما کی زندگی کے “لو” تھے نا!

وہ اسے دیکھتے بولی ہاتھ اب جھولی میں رکھ لیے تھے۔

تو میں بھی آپ کی زندگی کا سرمایہ ہوں۔۔۔۔لَو ہوں۔۔۔۔شاید یہ لفظ اس نے چھوٹے ہوتے سے ہی اپنے باپ کے منہ سے ماں کے لیے سنا تھا۔

اووووووو! وہ اب بھی اس کی بات پر یقین لائی تھی یا نہیں وہ سمجھ نہیں پایا۔

انہیں پرانی باتیں یاد کروانا ضروری ہے نہیں تو یہ ساری زندگی اسی ازیت میں گزار دیں گی اسے ڈاکٹر کی بات یاد آئی تو وہ دُکھتے دل سے کھڑا ہونے لگا۔

یہ لیں۔۔۔!

اسے لگا وہ ناراض ہو گیا ہے اسی لیے اپنے ہاتھ آگے کیے۔

ہنی۔۔۔۔۔!

وہ اس کے ہاتھ تھامتا وہاں موجود زخم دیکھنے لگا۔۔۔پھر اس کی بھوری آنکھیں جنہیں وہ شدت سے چومنا چاہتا تھا جو سوجی تھی ہلکی سی ہمیشہ کی طرح۔

فرشتے!

اس کا نام لبوں سے ادا کرتا وہ اس کے ہاتھوں پر جھکنے لگا جب اس نے تیزی سے اپنے ہاتھ کھینچ لیے اور جسم ہلکا ہلکا کانپتا شروع ہو گیا۔

کیا کھائیں گی آپ؟

آپ مجھے یہاں سے لے جائیں۔۔۔مجھے یہاں ڈروانے خواب آتے ہیں وہ اسے بتانے لگی۔

آپ میرے گھر چلیں گی؟ وہ یک دم کچھ سوچتا پوچھنے لگا۔

اممممم۔۔۔۔۔۔آپ میرے کیا لگتے ہیں؟

اس کے اس سوال پر وہ اسے بہت سے جوابات دینا چاہتا تھا لیکن خاموش ہو گیا۔

بس کچھ۔۔۔۔۔میں آپ کا سب کچھ ہوں۔۔۔۔ہم میرے گھر چلیں گے میرے ساتھ شام تک۔۔۔

وہ کہتا باہر نکل گیا۔