220.5K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Tera Sarmaya Ho Episode 7

Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf

گھر آتے وہ سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا تو کونین نے اس کی چائے بنائی۔

“حسین لڑکی!” موحد نے اسے پیچھے سے پُکارا۔

“جی!”

“یعنی تم مانتی ہو کہ تم حسین ہو؟” وہ شرارت پر آمادہ ہوا تو وہ مسکرا دی اور ایسا پہلی بار ہوا تھا۔

“نہیں میرے بابا کہتے ہیں کہ میں پیاری ہوں” وہ معصومیت سے بولتی چائے کپ میں ڈالنے لگی۔

“تمہارے بابا کہاں ہیں؟”

موحد نے پوچھا تو چائے چھلک کر اس کے ہاتھ پر گری تو اس کے منہ سے سسکی برآمد ہوئی۔

“اووو۔۔۔۔حسین لڑکی تم نے تو اپنا حسین ہاتھ جلا لیا ہے!” وہ آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھام کر دیکھنے لگا۔

کونین! شایان عثمانی کی آواز گونجی لیکن وہ جواب نہ دے سکی۔

“کچھ نہیں ہوا!” اس نے اپنا ہاتھ چھروانا چاہا۔

“دیکھنے تو دو۔۔۔بھائی کچھ نہیں کہیں گے رُکو!” وہ اس کا ہاتھ پانی کے نیچے رکھنے لگا۔

“کونین!” اب آواز اونچی تھی وہ شاید سیڑھیاں اتر رہا تھا۔

وہ اندر آیا تو موحد اس کا ہاتھ تھامے پانی سے دھو رہا تھا۔۔۔یہ منظر اسے نا جانے کیوں لیکن ناگوار گزرا تھا۔

آگے بڑھتے اس نے کونین کا ہاتھ تھاما بنا یہ دیکھے کہ اس کا ہاتھ وہاں سے ہلکا سا جلا ہے۔

“بھائی۔۔!” موحد نے کچھ کہنا چاہا۔

“اپنا کام کرو!” وہ اسے ٹوک گیا اور کونین کو لیتا کمرے میں چلا گیا۔

“کیا کہا تھا تمہیں میں نے۔۔۔۔اس گھر کے لوگوں سے دور رہو!” وہ سرد لہجے میں بولا۔

“میں نے نہیں بلایا تھا اُسے!”

وہ اپنے ہاتھ کو اس کے ہاتھ سے نکالتی بولی کیونکہ وہاں جلن ہو رہی تھی۔

شایان نے دوبارہ سے اس کا وہی ہاتھ ضد سے تھاما تھا اور اب کی بار شدت تھی اس پکڑ میں۔

“خود سے بلانے پر بھی مخاطب مت ہونا کسی سے۔”

“کیوں؟ اس لیے کہ کہیں وہ پہچان نہ لیں کہ میں ان کا خون ہوں۔۔۔تو بےفکر رہیں اس گھر کے لوگوں سے مجھے کوئی رشتہ کبھی بنانا ہی نہیں ہے”

وہ اپنا ہاتھ پھر چھرواتی پیچھے ہوئی اور اپنا ہاتھ دیکھنے لگی۔

“واپس آؤ!” شایان نے کہا تو کونین نے اسے دیکھا وہ ضدی تھا کسی چھ سالہ بچے کی طرح۔

“مجھے گھر جانا ہے۔۔۔ڈرائیور کو بتا دیں!”

“تم واپس آرہی ہو یا میں آؤں؟”

یہ وہی لڑکی تھی جسے پہلے روز دیکھنے پر وہ بھڑک گیا تھا۔

اس کے سرد انداز اور آنکھوں کی سنجیدگی پر بھی وہ آگے نہیں بڑھی تھی۔

وہ جانتی تھی وہ عارضی سہارہ ثابت ہو سکتا تھا کونین خاور کا۔۔۔جس خاندان نے اپنے خون سے وفا نہ نبھائی تھی وہ اس کی بیٹی سے کیسے نبھا کرتے تلخ سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر چھا گئی۔

شایان نے آگے بڑھتے اس کے چہرے کو اپنے دائیں ہاتھ سے تھاما تو وہ سہم گئی۔

“تم مجھے انکار نہیں کر سکتی!”

“میرے ڈیوٹی کے گھنٹوں کا اختتام ہو گیا ہے” اس نے “گھڑی کو دیکھتے شائستگی سے کہا۔

ڈیوٹی کے گھنٹوں کے بعد بھی نہیں کبھی بھی نہیں۔۔۔۔”وہ اپنی بات پر اڑا اس پر جھکا تھا۔

“کیوں؟”

“کیونکہ میں تم پر حق رکھتا ہوں!”

“کیا میں آپ پر حق رکھتی ہوں؟” وہ دوبدو بولی۔

“نہیں!” وہ صاف گو تھا بے انتہا۔

“اگر میں آپ پر کوئی حق نہیں رکھتی تو جان لیں شایان عثمانی کے آپ بھی مجھ پر کوئی حق نہیں رکھتے”

وہ کہتی اپنا آپ اس سے چُھرواتے پیچھے ہوئی لیکن وہ اسے چھوڑنے کے موڈ میں ہرگز نہیں تھا۔

اب کی بار اسے قمر سے تھامتے اپنے سامنے کھڑا کیا۔

“کس قسم کا حق چاہیے تمہیں؟”

شایان عثمانی نے معنی خیزی سے کہا لیکن اس کی یہ بات کونین کے سر پر سے گزری تھی۔

“وہ سارے جو آپ مجھ پر رکھنا چاہتے ہیں” وہ بولی تو شایان پیچھے ہوا اور اس کا ہاتھ دیکھا جو موحد نے تھاما تھا۔

“مجھے کل اسلام آباد جانا ہے اور تم ساتھ جا رہی ہو میرے” وہ اس کے ہاتھ کو تھامتا بیڈ کے ساتھ پڑی میز تک لایا اور ٹیوب نکالتا اسے پکڑا گیا۔

“یہ لگا لینا!”

کونین خاور کے دل نے یک دم خواہش کی تھی کہ وہ اسے وہ ٹیوب خود لگاتا لیکن فوراً دل کو ڈبٹ دیا۔

وہ دو لوگ ایک پاکیزہ رشتے کی حِدّت میں ایک دوسرے کے نزدیک آرہے تھے ناپسندیدگی کا لبادہ اوڑھے یا شاید خود کو باور کرواتے کہ وہ ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے۔

“وہ الماری سے وہ چادر لیتی جاؤ!”

“اس کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ابھی ہیں میرے پاس” اس نے کہا اور کمرے کے دروازے تک پہنچی۔

“ٹیوب لگا دیتا ہوں!” وہ نجانے کیوں لیکن اسے پیشکش کر گیا تھا۔

“میں لگا لوں گی۔۔۔”

“تم مہری ہر بات سے انکاری کیوں رہتی ہو کونین خاور؟” وہ جوتے اتارتا اس تک آیا اس کے ہاتھ سے ٹیوب لیتا اس کے ہاتھ پر لگا کر واپس اسے تھما گیا۔

“جاؤں؟”

کونین نے آنکھیں اٹھاتے استسفار کیا ایسے کرتے وہ شایان عثمانی کے دل میں ہلچل مچا گئی تھی۔

شایان نے سر ہاں میں ہلایا پھر اس کی چادر کو ماتھے تک کھینچا اب وہ ایسا لاشعوری طور پر کرنے لگا تھا۔

“جاؤ!”

اس کے کہتے ہی وہ نکل گئی تو وہ کھڑکی میں کھڑا ہو گیا اس کے جانے تک اسے دیکھتا رہا۔

پھر سرد آہ بھری۔۔۔۔وہ اس کے سامنے کیوں بے بس ہو رہا تھا ۔۔وہ وہ شایان عثمانی تو نہیں رہا تھا جس سے وہ پہلے دن ملی تھا۔

اس نے اپنے کمرے میں اردگرد دیکھا وہ وہاں نہیں تھی اس کا دل بیچین ہوا۔۔۔

“نہیں شایان عثمانی وہ تمہاری منزل نہیں ہے ہرگز نہیں۔۔۔۔۔” اس کے دل سے آواز آئی۔

“لیکن وہ کسی اور کی بھی نہیں ہے” اس نے فوراً دل کی سرزنش کی تھی پھر کپڑے لیتا واش روم میں گھس گیا۔

سب کے ساتھ کھانا کھایا لیکن دماغ اب بھی اسی میں الجھا تھا۔

سب کے ساتھ وقت گزارتا واپس آیا جب فون بجنے لگا۔۔۔

“میں کل اسلام آباد جا رہی ہوں ڈیڈی بتا رہے تھے تم بھی آرہے ہو کیا کہتے ہو ساتھ چلیں؟” کومل نے اس کے کال اٹھاتے ہی خوشی سے کہا۔

“نہیں میں وہیں ملوں گا تم سے!” وہ بولا۔

“ہم وہاں تمہارے گھر پر قیام پزیر۔۔۔۔”

“نہیں تم ہاٹل میں رہو گی ہمیشہ کی طرح۔۔۔۔”

وہ بات ختم کرتا کال کاٹ گیا۔۔۔۔وہ ہمیشہ کومل کو اپنے گھر دعوت دیتا تھا وہ اس کی اچھی دوست تھی لیکن اس بار وہ منع کر گیا تھا کیونکہ شاید کونین خاور بھی تھی اس بار اس کے ساتھ۔

اس نے سر تکیے پر رکھا اور اس کے لمس کو محسوس کرنے لگا۔۔۔

پھر خود کو ملامت کرتا سو گیا۔۔۔۔دوسری طرف کونین خاور تو پوری رات نہ سو پائی تھی اپنی قمر پر اس کی انگلیوں کا لمس اسے جیسے اب بھی ویسے ہی محسوس ہو رہا تھا۔

شایان عثمانی کو سوچتے اس نے رات گزار دی تھی آنکھوں میں نیند دور دور تک نہ تھی۔

“کیا وہ اختتام پر مجھے دھوکا دے دیں گے؟”

اس کے دل نے اس سے سوال کیا جس کا جواب اس کے پاس فلحال تو نہیں تھا۔

وقت سے پہلے ہی اس نے اپنا بیگ تیار کیا اور کپڑے بدلتی چادر اوڑھتی اپنے پراٹھے کا رول تھامتی اپنے باپ سے ملنے کو چلی گئی۔

جہاں کی صورتحال دیکھ کر مطمئن ہوئی انہیں ناشتہ کروایا اور اپنا پکڑتے وہ وہیں سے شایان عثمانی کے گھر کی طرف روانہ ہوئی جس کی گاڑی باہر ہی موجود تھی یعنی وہ نکلنے لگا تھا۔

“اسلام علیکم!”

وہ ڈرائیور سے کچھ کہہ رہا تھا جب اس کی آواز گونجی۔

شایان نے مُڑ کر اسے دیکھا۔۔۔وہ اس کی دلوائی چادر میں ڈھکی ہوئی تھی۔

“عورتیں یوں ہی اچھی لگتی ہیں خاص طور پر وہ عورت جو آپ کی ہو!” شایان عثمانی پر یہ الہام ہو چکا تھا۔

“وعلیکم السلام؟ بیٹھو! ہم نکل رہے ہیں بس۔۔۔”

وہ سب سے مل کر آگیا تھا آج وہ ڈرائیور کے ساتھ نہیں جا رہا تھا۔

“آگے آ کر بیٹھو!”

“میں یہیں ٹھیک ہوں!” وہ منمنائی۔

لیکن شایان عثمانی کی ایک نگاہِ غلط پر وہ پیچھے سے اترتی آگے آ کر بیٹھی تو وہ گاڑی کی اسپیڈ بڑھاتا اسے منزل کی اور بڑھانے لگا۔

تھوڑی دیر بعد کونین نے اپنا پراٹھا کھولا اور کھانے لگی شایان عثمانی کو اس نے پوچھا تھا جس نے انکار کر دیا تھا۔

کھا کر وہ باہر کے مناظر دیکھتی انگلیاں رگڑ رہی تھی۔۔۔اسے مرچیں لگ گئی تھی لیکن پانی وہ نہیں لائی تھی۔

شایان اس کے ہاتھوں کو گاہے بگاہے دیکھ رہا تھا۔

“کیا مسئلہ ہے؟”

اس کے ہاتھوں پر یک دم اپنا ہاتھ رکھتا وہ سختی سے بولا تو کونین نے سر نفی میں ہلایا۔

اب وہ بنا حرکت کیے باہر دیکھ رہی تھی جب کہ وہ ہاتھ ہٹا چکا تھا۔

“کونین خاور کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ؟” وہ کچھ دیر بعد پھر سے بولا تھا۔

“مجھے پانی کی بوتل چاہیے!”

اس نے کہا تو شایان نے اسے سنجیدگی سے دیکھتے گاڑی سائیڈ پر لگائی پھر اترے بغیر سامنے دُکان والے کو پانی کی بوتل کا کہا۔

کونین نے فوراً اپنے بیگ سے پانچ سو کا نوٹ نکال کر اس کے آگے کیا تو وہ آئبرو اُچکا گیا۔

“کیا ہے یہ؟”

“پیسے پانی کے! باقی کر دیں۔۔۔”

وہ معصوم تھی یا شاید بن رہی تھی وہ فیصلہ نہ کر پایا لیکن ملاوٹ تو رتی برابر نا تھی اس لڑکی کی زات میں کسی چیز کی۔

میں نے دے دیے ہیں وہ کہتا اس کا پانچ سو کا نوٹ اسے پکڑانے لگا۔

“لیکن کیوں دیے ہیں آپ نے۔۔۔میں نے لڑکوں کے پیسوں سے کبھی کوئی چیز نہیں لی” وہ زِچ ہوتی بولی۔

“میں عام لڑکا ہوں؟” وہ سرد سے لہجے میں بولا تو وہ خاموش ہو گئی وہ اس کا مطلب جان گئی تھی۔

“مجھے ابھی بیڈیج بھی لینا تھا۔”

“کہاں چوٹ لگی ہے؟”

وہ اسے دیکھتا پوچھنے لگا ۔۔ان کی آنکھیں بار بار ایک دوسرے سے ٹکراتی جو کونین خاور فوراً بدل جاتی تھی۔

“مجھے جوتے لگ رہے ہیں اپنے۔۔۔۔بابا نے نئے دلوائے تھے آج وہ پہن لیے ہیں اسی لیے” وہ اسے تفصیل بتانے لگی۔

“بھائی بینڈیج بھی دے دیں۔۔۔”اس نے کھانے کی ایک آد چیز لیتے پیسے دیے اور اسے پکڑائیں۔

“آپ کے چالیس روپے میں وہاں جا کر آپ کو دے دوں گی” وہ مصروف سی اپنے پاؤں پر بینڈیج لگاتی بولی تو شایان عثمانی نے مان لیا کہ وہ بے حد معصوم ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ گھر میں داخل ہوا تو خاموشی کا راج تھا۔۔۔۔اسے صبح ہی اپنے والدین کو بتانا تھا کہ وہ فرشتے کو لا رہا ہے۔

اپنے کمرے میں جاتے ہی بستر پر ڈھے گیا۔۔۔۔دوا اسے فرشتے دے چکی تھی۔۔۔۔وہ دوا اسے نا بھی دیتی تو اس کے دل کو اسے دیکھتے ہی قرار آ گیا تھا۔

وہ کتنے ہی لمحے اسے سوچتا رہا تھا۔۔۔۔اسے سوچتے سوچتے ہی نیند کی وادیوں میں کھو گیا۔

دوسری طرف فرشتے نے صبح اٹھتے ہی اپنی پیکنگ شروع کر دی تھی اپنا ضروری سامان رکھ رہی تھی وہ۔

“فرشتے؟ کہاں جا رہی ہو؟”

بوا نے اس سے استسفار کیا۔

“آپ کو نہیں پتا؟” وہ خوشی سے چہکی۔

“نہیں بتاؤ گی تو معلوم ہو گا نا۔۔۔۔۔”وہ اس کی خوشی سے دمکتا چہرہ دیکھتی مسکراتی بولیں۔

“ازلان آئے تھے کل رات کو۔۔۔اب وہ مجھے لینے آئیں گے آج۔۔۔۔”وہ خوشی سے انہیں بتاتی گئی سب۔

بوا نے اس کی مسکراہٹ کے دائمی رہنے کی دعا کی تھی۔

پھر ناشتہ کرتے وہ انتظار کرنے لگی تھی جو شاید انتظار ہی رہنا تھا۔

اس نے ناشتے کی میز پر اظہر سلطان اور اپنی ماں نازیہ سلطان کو دیکھا پھر گلہ کھنگارا۔

“بولو!” اس کے باپ نے کہا۔

“آپ دونوں جانتے ہیں میرا نکاح جن حالات میں ہوا تھا۔۔۔”وہ وہ بات شروع کر گیا جو شاید اس کے باپ کو پسند نہ آتی۔

“کیا کہنا چاہتے ہو؟” اظہر سلطان نے سنجیدگی سے استسفار کیا۔

“میں اُسے۔۔۔۔”

لیکن ان کا فون بجنے لگا۔۔۔ان کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ اس بات کا تعین کرتی تھی کہ وہ اعظم اظہر کی کال تھی۔

جسے وہ فوراً اٹھا گئے۔

اس کی ماں نے ازلان کو دیکھا جو اب سنجیدگی سے ناشتہ کر رہا تھا۔

“کب آرہے ہو شہزادے؟”

انہوں نے کہا تو ازلان نے نظر اٹھا کر ان کے لہجے کی شیرینی محسوس کی پھر سر جھکا لیا۔

“اگلے مہینے کیوں؟ ابھی آجاو۔۔۔سب تمہارے ہی انتظار میں ہیں۔”

“ہاں تمہاری ماں میں اور ازلان۔۔۔سب۔۔۔”

آگے سے اس نے نجانے کیا کہا تھا کہ وہ خاموشی ہو گئے۔۔۔۔پھر کال اسپیکر پر ڈالی اور ایک نظر ازلان پر ڈالی۔

“میرے آنے کے بعد میں فرشتے سے فوراً شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔میں نے اسے بہت مِس کیا ہے” وہ فرطِ جذبات سے بول رہا تھا۔

ازلان اظہر کی پکڑ چمچ پر مضبوط ہو گئی۔

“تو وہ اب آپ کو ملنے سے رہی بھائی” وہ کہتا اٹھا اور اپنے کمرے میں چلا گیا۔

“ڈیڈ یہ کیا کہہ رہا ہے؟ یہ بہت بدلحاظ ہو گیا ہے۔۔۔مجھ سے بات تک نہیں کرتا سیدھے منہ۔۔۔”اعظم اظہر نے کہا تو اس کے باپ نے اسے حوصلہ دیا۔

جبکہ نازیہ اظہر کی نگاہیں سیڑھیوں سے اوپر گُم ہوتے اپنے بیٹے پر تھی۔

“تم آجاؤ پھر دیکھتے ہیں کیا کرنا ہے۔۔”

“ہاں ہاں شہزادے جیسا تم کہو گے ویسا ہی ہو گا۔۔۔۔”وہ کہتے ایک آد اور بات کرتے کال کاٹ گئے۔

“اپنے لاڈلے کو بلاؤ زرا۔۔۔آج اس سے بھی کُھل کر بات ہو جائے۔”

“پھر کبھی کر لیجیے گا۔۔۔ابھی وہ غصے میں ہے۔۔۔”وہ بتانے لگی۔

“مجھے اس کے غصے سے فرق پڑتا ہے؟” وہ استہزایہ مسکرائے۔۔۔میں باپ ہوں اس کا وہ باپ نہیں ہے میرا۔

“آپ کو کبھی بھی میری کسی چیز سے فرق نہیں پڑا ڈیڈ تو اب کیوں پڑے گا۔”

“بولیں میں آگیا ہوں! جلدی کریں مجھے کام پر بھی جانا ہے۔۔۔”

“ہاں جانا ہے تمہیں خبریں پڑھنے۔۔۔۔!!” ازلان اظہر ایک نیوز اینکر تھا۔۔۔باپ کے بزنس کے خلاف جا کر اس نے یہ سب کیا تھا۔

ایسا نہیں تھا کہ اسے بزنس نہیں پسند تھا لیکن ۔۔۔جس چیز پر اعظم اظہر اپنی حکمرانی جما لیتا تھا اس چیز کو وہ مر کر نہ دیکھتا تھا۔

“اعظم واپس آرہا ہے کچھ دنوں میں۔”

“تو۔۔۔۔۔؟”

“بھائی ہے تمہارا۔۔۔۔”

ہاں مجھے معلوم ہے۔۔۔وہ گھڑی پر وقت دیکھنے لگا جیسے ان کی بات کے ختم ہونے کا انتظار کر رہا ہو۔

“تو فرشتے۔۔۔۔”

“تم اسے علیحدہ کر دو۔۔۔تاکہ۔۔۔۔۔”

ازلان اظہر کو لگا اس نے غلط سنا ہے۔۔۔۔اس نے جھٹکے سے سر اٹھاتے اپنے سامنے کھڑی اس بارعب شخصیت کو دیکھا تھا بے یقینی سے۔

دیکھا تو انہیں نازیہ اظہر نے بھی تھا اسی بے یقینی سے۔

“آپ مجھے اپنی بیوی کو طلاق دینے کا کہہ رہے ہیں؟” اس کی آواز اب کی بار قدرے اونچی تھی۔

“منکوحہ ہے تمہاری۔۔۔۔بیوی نہیں بنی ابھی۔۔۔”وہ عام سے انداز میں بولے۔

“اور ایسا میں کیوں کروں گا؟” وہ وجہ جانتا تھا لیکن ایک بار اپنے باپ کے منہ سے سننا چاہتا تھا۔

“کیونکہ وہ اعظم کی پسند رہی ہے اور فرشتے کی بھی پسندیدگی اعظم سے تھی۔۔۔وہ تو حالات ایسے ہو گئے کہ حیدر نے تمہیں چُنا اس وقت نکاح کے لیے۔۔۔نہیں تو وہ اعظم کے نکاح میں ہوتی اب۔”

وہ مسکرانے لگا۔۔۔تلخی اس کے پورے جسم میں سرایت کر گئی۔

“تو جیسے میں بچپن سے اپنی چیزیں چھوڑتا آیا ہوں اپنے بڑے بھائی کے لیے آج میں اپنی بیوی چھوڑ دوں؟” وہ دھاڑا۔

“ازلان اظہر آواز آہستہ رکھو۔۔۔باپ ہوں میں تمہارا۔”

کاش وہ کہہ پاتا کہ کبھی آپ میرے باپ بنیں بھی ہیں؟ وہ نازیہ اظہر کو دیکھنے لگا جن کی آنکھیں نم تھیں اس کے لیے۔

“یہ طلاق آپ جیسوں کے لیے عام بات ہو گی ڈیڈ۔۔۔ہمارے دین میں تو آسمان اور زمین کانپ جاتے ہیں اس عمل پر۔۔۔تو یہ آپ بھول جائیں کہ فرشتے حیدر کو ازلان اظہر کبھی بھی طلاق دے گا یا اس سے دستبردار ہو گا۔”

“ہونا تو پڑے گا! اعظم اظہر تم سے اپنی امانت واپس لے لے گا تب کیا کرو گے؟” اسے ان کی آواز پیچھے سے سنائی دی تھی۔

کہنے کو وہ باپ تھا اس کا۔

“آپ اس کے ساتھ سختی نہ کریں۔۔۔وہ دونوں نکاح میں ہیں اب۔۔۔اور طلاقیں کوئی عام بات نہیں ہے۔”

“تو تم ہی اسے سمجھاؤ۔۔۔میں نہیں چاہتا کہ اعظم کے آنے کے بعد کوئی بدمزگی ہو” وہ کہتے خود بھی نکل گئے۔

وہ اسپیڈ سے گاری چلا رہا تھا۔۔۔یا وہ دنیا کو ختم کرنا چاہتا تھا یا خود کو۔۔۔۔

یعنی وہ اب اپنے بڑے بھائی کے لیے اپنے بیوی سے دستبردار ہو جائے۔

“تمہارا بھائی مجھے پسند ہے۔۔۔”ماضی کی بھولی بھٹکی یاد اس کے زہن کے پردے پر لہرائی جہاں فرشتے ازلان کو کہہ رہی تھی۔

اچھا! وہ سنجیدہ تھا۔۔۔۔بے حد۔۔۔۔میں چلتا ہوں۔۔وہ تب بھی تو کنارہ کر لیتا تھا جب فرشتے حیدر اعظم اظہر کی بات کرتی تھی۔

وہ وہاں گاڑی روکتا ہارن پر ہاتھ رکھتا اٹھانا بھول گیا تو وہ جو تیار بیٹھی تھی فوراً سے پہلے باہر نکل آئی۔

بوا بھی آئیں تھی اس سے ملنے۔۔۔۔

“بوا آپ واپس چلی جائیں۔۔۔میں آپ سے ملنے آؤں گا۔۔۔”وہ بس اتنا ہی کہہ پایا فرشتے کے سامان رکھنے کے لیے بھی وہ گاڑی سے نہیں اترا تھا۔

وہ بیٹھ گئی تو وہ گاڑی پھر سے بھگا لے گیا۔

“آہستہ چلائیں ازلان۔۔۔”فرشتے نے اسے دیکھتے کہا۔

“مر تو نہیں جاؤ گی تم؟” وہ پھنکارا تو فرشتے دنگ رہ گئی اس کے انداز پر، اس کے لفظوں کے چناؤ پر۔

“اممم۔۔۔ہم کہاں جا رہے ہیں؟”

“بس جہاں میں تم سے جواب طلب کر سکوں!” وہ گاڑی کی اسپیڈ مزید بڑھاتے خطرناک تیور لیے کسی بلڈنگ کے سامنے رکا۔

“یہ۔۔۔؟”

فرشتے جو ڈری بیٹھی تھی اس کے اشارے پر نیچے اتر گئی تو وہ اس کا ہاتھ اپنے فولادی ہاتھ میں تھامتا اسے اپنے ساتھ لیتا لفٹ میں گیا اور ایک فلیٹ کے سامنے رکتا چابی سے دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا اور اسے اندر کرتے دروازہ جھٹکے سے لاک کیا۔

“ازلان۔۔۔۔۔”

ازلان نے سارے فلیٹ کی لائٹس چلا دیں۔

یہ اس نے ابھی کچھ دیر پہلے ہی اپنے پیسوں سے خریدا تھا۔۔۔۔یہ جگہ اسکی واحد ملکیت تھی جہاں وہ اپنا حق سمجھتا تھا۔

یہ۔۔۔۔

“اعظم اظہر تمہیں اب بھی پسند ہے؟” وہ اس کی طرف قدم بڑھاتا چیختے اسے سوال کرنے لگا۔

فرشتے حیدر کا روم روم کانپ رہا تھا۔

وہ کیا کہتی اس شخص کو۔۔۔۔

“ازلان۔۔۔۔”

جواب دو۔۔۔۔وہ چیخا۔۔۔۔

“مجھ سے ایسے بات۔۔۔”

وہ سہمتی نگاہیں نم کرتے اسے دیکھنے لگی۔

“رونا کیوں آرہا ہے تمہیں۔۔۔اظہار کرو اگر وہ تمہیں پسند ہے تو۔۔۔”

“نہیں۔۔۔۔”

“کیا نہیں؟” وہ اس کے قریب آتا بالکل انچ کا بھی فاصلہ مٹا چکا تھا۔۔۔وہ اپنے ہوش میں نہیں تھا شاید۔۔

ازلان۔۔۔۔ہوش میں آئیں۔۔۔فرشتے نے اسے خود سے دور کرنے کے لیے اس کے سینے پر ہاتھ رکھے اور اسے پیچھے کی طرف دھکیلنا چاہا۔

“کیا ہوا میری قربت کیوں بُری لگی تمہیں؟ میں تو شوہر ہوں تمہارا۔۔۔۔”

“ازلان میں اس لیے نہیں آئی یہاں۔۔۔”وہ اب رونے لگی تھی۔

ازلان اظہر نے اسے دیکھا۔۔۔پھر اسے کمرے میں لے جاتے اپنے سامنے کھڑا کیا۔

“مجھ سے محبت ہے؟”

وہ اسے دیکھتا پوچھنے لگا جو روتی اپنے ہاتھ پر اس کے نشانوں کو دیکھ رہی تھی۔

“سے اِٹ۔۔۔۔مجھ سے محبت ہے؟”

“نہیں۔۔۔۔”

“نہیں ہے محبت۔۔۔”

وہ اس کے اس جلاد روپ کو دیکھتی پھٹ پڑی۔۔۔اور روتے اسے دیکھنے لگی جو اب سنجیدگی سے اسے تَک رہا تھا۔

“اووو ۔۔۔تو مطلب تمہیں بھی ازلان اظہر نہیں چاہیے۔۔۔طلاق چاہیے تمہیں مجھ سے؟ ہے نا؟”

فرشتے نے سسکیاں بھرتے اسے دیکھا۔۔۔وہ رات والا ازلان اظہر تو بالکل نہ تھا۔۔۔۔۔محبت کرنے کا موقع کیا اسے دیا تھا اب تک ازلان اظہر نے۔۔۔؟ وہ خود سے سوال کرنے لگی۔

“ازلان۔۔۔مجھے واپس جانا ہے؟” وہ سنجیدگی سے آنسو صاف کرتی بولی۔

“ٹھیک ہے!”

وہ قدم بڑھاتا اس کی طرف آیا پھر اسے کھینچ کر دیوار کے ساتھ لگایا اور اس پر جھکا تو وہ خوف سے آنکھیں میچ گئی۔

“فرشتے ازلان اظہر اب اگر تم مر بھی رہی ہوئی تو ازلان اظہر کبھی نہیں آئے گا تمہارے بلانے پر بھی نہیں ۔۔۔ہمارا تعلق بس یہیں تک کا تھا۔۔۔۔ازلان اظہر نے سالوں تم سے محبت میں گزارے ہیں اسے چاہ کر بھی میں نفرت میں نہیں بدل سکتا لیکن ہاں تم اب میری پسند نہیں رہی۔۔۔میری پسندیدگی تم سے ختم ہوئی آج اب میری ناپسندیدگی اور گریز دیکھو گی تم اپنی زات کے لیے بس۔۔ازلان اظہر کی پسند ختم ہوئی آج فرشتے ازلان اظہر سے۔”

وہ اس کے کان کے پاس زہر خند لہجے میں بولا اور اس پر سے ہٹتا اس کا ہاتھ تھامتا گاڑی میں بٹھا کر اسے واپس وہیں چھورا جہاں سے لیا تھا۔

“مجھے آپ کی آفر قبول ہے سر۔۔۔۔لیکن مجھے آج ہی اپنی ٹکٹ چاہیے!” وہ بولا۔

اس کے سینیئر چاہتے تھے وہ وہاں جا کر جانچ پڑتال کے بعد آرٹیکل لکھے اور لوگوں کی حقیقتوں کو سامنے لائے اس نے اپنے لیے فیصلہ کر لیا تھا۔

شام کے سات وہ گھر میں داخل ہوا اپنی ماں کے کمرے میں گیا جہاں وہ سو رہی تھی۔

ان کے ماتھے کو چومتا اپنا سامان لیتا دوبارہ نکل گیا تو اس گھر کو مُڑ کر نہ دیکھا۔

رات کے گیارہ وہ اس شہر تو کیا ملک سے ہی چلا گیا تھا کبھی واپس نہ آنے کا عزم لیے۔

“ازلان اظہر اور فرشتے ازلان اظہر کی کہانی کا ختتام شاید یوں ہی لکھا تھا۔”