Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf NovelR50407 Mein Tera Sarmaya Ho Episode 28
Rate this Novel
Mein Tera Sarmaya Ho Episode 28
Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf
“کیا کریں گے پوچھ کر؟”
“مزاق بنائیں گے میری محبت کا؟”
” یا مجھے مزید رسوا کریں گے اور مجھے بتائیں گے کہ لڑکی کا کسی لڑکے کو اپروچ کرنا گناہ ہے یہ کام صرف لڑکے کر سکتے ہیں۔”
“یا یہ بتائیں گے کہ کتنی عام ہوں میں آپ کی پہلی محبت کے سامنے؟
یا یہ بتائیں گے کہ۔۔۔۔۔۔”
“چپپپپ!” وہ دھاڑا! اتنی ہمت کی توقع کہاں کی تھی اس نے زارا سے۔
“مجھے صرف میرے پوچھے سوالوں کا جواب چاہیے؟
نہیں تو تمہیں پتا ہے میں کیا کر سکتا ہوں؟”
“ہمم! میں جانتی ہوں آپ کیا کر سکتے ہیں مجھے رسوا اور مجھے دھتکار سکتے ہیں مجھے کبھی بیوی نہیں مانیں گے اور۔۔۔۔”
“ارےےے بس! اتنا سا ہی میں تمہیں بتاتا ہوں میں کیا کر سکتا ہوں کبھی تم نے سوچا ہے نئی نویلی دلہن سسرال سے واپس جا کر گھر بیٹھ جائے تو کیا ہوتا ہے؟” اسے زارا کا یہ سب بولنا بے حد ناگوار گزرا تھا اور اس نے غصے میں جو بولا تھا وہ بھی انتہائی برا تھا۔
زارا نے جھٹکے سے سر اٹھایا بے یقینی ہی بے یقینی تھی۔
کیا وہ شخص اتنا گِر رہا تھا یا شروع سے ایسا تھا اس نے پہچاننے میں غلطی کر دی۔
اس کی آنکھوں سے موتی ٹوٹ کر گرنے لگی وہ سسک پڑی محبت کی اس تذلیل پر۔
“میں معافی مانگتی ہوں! پلیز ایسا کچھ مت کریں میرے بھائی اور ماما بہت خوش تھے۔۔۔۔۔
میں سب کروں گی جو کہیں گے آپ کچھ بھی نہیں بولوں گی آپ سے کچھ نہیں مانگوں گی خاموش رہو گی اور پھر جب مجھے لگے گا کہ اب میں آپ سے الگ۔۔۔۔
آپ چاہتے ہیں میں یہ سب کہوں آپ سے! غلط فہمی ہے آپ کی!”
اعظم اظہر نے قریب کرتے اس کے بھیگے چہرے پر لب رکھنے شروع کیے تو وہ کانپ گئی۔
کیا یہ رشتہ صرف اتنا سا ہی رہنا تھا۔
اس نے جنبش نہ کی۔۔۔۔دل خود کو سو کوڑے مارنے کا کر رہا تھا۔
میں چاہتی ہوں جب تک ہم ساتھ ہیں اپنی حدود میں رہیں میں نہیں چاہتی کہ ہم اس رشتے کو آگے۔۔۔۔۔
اعظم اظہر کی آنکھوں میں ابھرتی وحشت کو دیکھتے وہ خاموش ہوئی۔
اس کے دل نے اس کو نکاح میں لیتے ہی نبھاہ کرنے کا سوچ لیا تھا کیونکہ فرشتے ازلان ساتھ تھے اسے بھی آگے بڑھنا تھا زندگی میں۔
“یہ رشتہ میری مرضی سے بنا ہے اور ٹوٹے گا بھی میری مرضی سے سو مسز اعظم اظہر اس بارے میں فکر چھوڑ دیں!”
“جاؤ چینج کرو جا کر!”
سامان سارا ڈریسنگ روم میں موجود ہے اور جو چیز چائیے ہو کل صبح ملازمہ کو بتا دینا۔
زارا نے تیزی سے سر ہاں میں ہلایا اور واش روم سے ملحقہ ڈریسنگ روم میں بند ہو گئی۔
اعظم اظہر نے ہاتھ سامنے کانچ کے میز پر دے مارا۔
کیا ہو رہا تھا؟
وہ کیوں سب صحیح کرنے کی نیت رکھتے ہوئے بھی اپنے ہاتھوں سے خراب کر رہا تھا۔
وہ تو اس کی محبت آزمانا چاہتا تھا تو پھر کیوں وہ کر نہیں پا رہا تھا کیوں اس کے آنسو دیکھتے اور علیحدگی کا سنتے اس کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔
یہی سب تو سوچا تھا اس نے تو کیوں پھر اس کا دل راضی نہیں ہو رہا تھا اس کا ساتھ نہیں دے رہا تھا کیوں وہ اس کے آنسوؤں کے آگے تھم گیا تھا۔
اس نے تو یہ سوچا تھا کہ اس کی پہلی اور آخری محبت فرشتے تھی اگر وہ اس کی نہیں بھی تھی تو بھی اس کی محبت کبھی نہیں بدل سکتی تھی۔
وہ ان سب میں اس مومی گڑیا کو بھول گیا تھا یا جان بوجھ کر فراموش کر گیا تھا یہ جانتے ہوئے کہ وہ لڑکی اس سے محبت کی دعوے دار ہے۔
وہ اسے کیسے توڑ رہا تھا ریزہ ریزہ!
سگریٹ کی ڈبی تھامتے وہ ٹیرس میں نکل گیا۔
زارا دروازے کے ساتھ بیٹھتے ہچکیوں سے رودی۔۔۔۔اتنی بےقدری، اتنی تذلیل!
جھوٹ بولتے ہیں لوگ کہ محبت پا لینے کے بعد انسان جنت میں اپنے آپ کو محسوس کرتا ہے اسے لگا تھا وہ جہنم واصل کر دی گئی ہے۔
ٹوٹ کر بکھیر دی گئی ہے اور کبھی سمٹ نہیں پائے گی۔
اس نے لبوں پر رکھتے اپنے ہاتھ دبائے اور کپڑے لیتے واش روم میں بند ہوگئی سب اسنے بے دھیانی میں کیا تھا اور پھر واپس اسے دروازے کے ساتھ بیٹھ گئی باہر نہیں جانا چاہتی تھی وہ۔
اپنی محبت کا اتنا بھیانک روپ اس سے سہن نہیں ہو پا رہا تھا۔
وہ وہیں بیٹھی رہی تھی بے حس و حرکت آنکھیں سوکھ گئی تھی۔
وہ دو گھنٹوں بعد اندر داخل ہوا تو کمرہ خاموش اور خالی تھا وہ اب تک نہ نکلی تھی۔
اسے کیا پرواہ تھی وہ دل کو پتھر کرتا اپنی جگہ پر لیٹ گیا اور فون پر مصروف ہو گیا۔
مزید ڈیڑھ گھنٹہ سِرکا تو وہ اٹھا اور ڈریسنگ روم کے دروازہ کو کھٹکھٹانے لگا۔
ایسے تو نہیں بیگانہ ہو سکتا تھا اس لڑکی سے وہ!
“زارا باہر نکلو! مجھے جانا ہے!”
جواب نداد!
خاموشی!
زارا!
اس نے فوراً اپنے بیڈ کے ساتھ والے دراز سے چابی نکالی اور دروازہ کھولنا چاہا جو تھوڑا سا کُھلا تھا کیونکہ آگے زارا کا وجود تھا۔
وہ بمشکل اندر داخل ہوا اور اسے دیکھا۔
جو دروازے سے ٹیک لگائے ایک طرف لڑکھی سی تھی لائم کلر کے سادہ جوڑے میں میک اپ سے پاک چہرہ لیے وہ اس کے سامنے موجود تھے۔
دوپٹہ گلے میں تھا اور چہرے پر آنسوؤں کے مٹے نشان تھے۔
وہ اسے بہت درد میں مبتلا کر گیا تھا اور اس سے بہتر کون جانتا تھا دل کے درد اور ازیت کو، انسان بڑی سے بڑی بیماری سے لڑ سکتا ہے لیکن دل میں اٹھتے درد کی بے بسی سے مر کر نہیں لڑ سکتا اس پر صرف صبر کر کیا جاتا ہے
اور زارا اعظم کو بھی تو صبر ہی کرنا ہے جب تک اعظم اظہر کو اس سے محبت نہ ہو جاتی۔
وہ اس کے نزدیک ہوا اور اسے جھٹکے سے باہوں میں اٹھایا۔
اس کا خوشبوؤں میں نہایا وجود اسکے نزدیک تھا وہ لمحے بھر کے لیے رُک گیا ایسی خوشبو اس نے خود میں اترتی کبھی محسوس نہیں کی تھی۔
اسے اسی وقت ادراک ہوا تھا کہ وہ لڑکی بہترین خوشبو کی مالک تھی جو کسی کے بھی حواس معطل کر سکتی ہے
اسے بیڈ پر دوسری طرف لٹاتے کمفرٹر اوڑھا اور اے سی چلایا اور دوسری طرف رخ کر کے لیٹ گیا۔
لیکن بے چینی حد سے سوا تھی وہ کروٹیں بدلتا آخر میں اس کی طرف متوجہ ہوا۔
وہ نیند میں بھی بے چین تھی اور یہ بے چینی اسی کی تو مرہونِ منت تھی۔
اس کے دل میں پھانس چبھی تو وہ آنکھیں موند گیا حقیقت کا سامنا کرنا آسان کہاں تھا۔
رات کو بے چینی کے تحت زارا کی آنکھ کُھلی دل و دماغ کہاں عادی تھا اس بستر اور جگہ کا۔
اس نے اعظم کو دیکھا جو اسی کی طرف رخ کیے سو رہا تھا۔
اس کا دل خالی تھا اس وقت،کوئی بھی جذبہ نہیں تھا وہ مسلسل اس شخص کو تکے گئی۔
اعظم جو ابھی سویا ہی تھا کچی نیند میں ہی خود کو کسی کی نظروں کے ارتکاز میں محسوس کرتے آنکھیں کھولیں تو نظروں کا زبردست تصادم ہوا۔
“سو جاؤ!”
“صبح ولیمہ بھی ہے!”
وہ کہتا رُخ پھیر گیا تو زارا اس کی پشت کر دیکھتی رہی اور نیند کی وادیوں میں کھو گئی۔
کیا یہ گھر، یہ کمرہ، یہ شخص اس کا ہو سکتا تھا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“کیوں۔۔۔۔۔؟”
“میرے ساتھ ہی کیوں؟”
وہ گھنٹوں وہیں پڑا رہا پھر ریش ڈرائیونگ کرتے اس گھر پہنچا جہاں اسے صرف نفرت کرنا سکھایا گیا تھا ہمیشہ۔
جہاں اسے سکھایا گیا تھا کہ اپنی ہی بیوی کو دھوکا کیسے دینا ہے! جہاں اسے بتایا گیا تھا کہ کیسے لوگوں کی محبت سے بھاگنا ہے اور ان سے نفرت کرتے انہیں خود سے نفرت کروانی ہے۔
خالہ!
“سائمہ نقوی!”
وہ چلایا کہ طاہرہ نقوی اور اس کی خالہ سائمہ نامی وہ عورت باہر نکل آئے اور اس کی ٹوٹی بکھری حالت دیکھنے لگے۔
“میرے بچے! میرے شہزادے کیا ہوا؟”
“اس لڑکی نے کچھ کہا؟ وہ اپنے باپ جیسی ہے؟”
“چپپپپ! اس کے خلاف ایک لفظ بولا تو مار دوں گا جان سے تمہیں!” وہ بولا اور جیب سے گن نکالی اور اس عورت پر تانی۔
شایان!
طاہرہ نقوی نے اسے تھامنا چاہا۔
“ہاتھ نہیں لگانا مجھے ہاتھ نہیں لگانا نہیں تو اس وقت سب کو مار دوں گا میں جس نے مجھے خود ساختہ نفرت میں جھلساتے میرا بچپن، میری جوانی، میری شخصیت سب مسخ کر دی!”
سائمہ نقوی کے سامنے وہ کاغذات پھینکے تو وہ تھم گئی اور قدم پیچھے ہٹا لیے۔
“اتنی بڑی سزا! کس چیز کی؟”
“آپ کی بہن کا بیٹا ہونے کی؟ آپ کو اپنی ماں سے زیادہ مان، احترام اور پاگلوں کی طرح محبت کرنے کی؟”
بولیں؟
“کیا یہ سچ ہے؟
اتنا گر گئی آپ؟ بلکہ آپ تو سالوں سے یہ سب کرتی آرہی ہیں؟ کبھی سوچا ہے خدا کو منہ کیسے دکھائیں گی؟
عورت ہو کر بدعائیں دیتے کسی کا ہنستا بستا گھر برباد کر دیا شرم نہیں آئی؟”
“اچھا ہوا وہ شخص آپ کو نہیں ملا۔۔۔۔۔۔آپ جیسی عورتیں خاور عثمانی جیسے مرد ڈیسرو نہیں کرتیں جس نے بیوی سے نبھاہ کی، محبت نبھائی اور بنا آپ کی زات پر کیچر اچھالے اپنے حق سے عاق ہو گئے اور گھر سے نکال دیے گئے، جس نے بیوی کے بعد بھی کسی اور عورت کا نہیں سوچا، جس نے آپ جیسی عورت کی گناہ کی کُھلے عام دعوت ہر بار مسترد کرتے آپ کے منہ پر دے ماری۔”
“اور بدکردار کہلاتی رہی آپ انہیں مجھ سے!’
“بدکرادر پتا ہے کون ہے؟’
وہ دھاڑا لیکن کہہ نا سکا کہ سائمہ نقوی تم جیسی عورتیں ہیں بدکردار!
“نفرت ہے مجھے آپ سے!”
“ہاں کِیا میں نے یہ سب؟
تو کیا غلط کیا محبت کی اور اسے حاصل کرنا چاہا تم بھی تو پاگل ہو اپنی محبت کے لیے؟” وہ صوفے پر بیٹھتی بولی جیسے سب عام ہو۔
“ہاں میں پاگل ہوں کیونکہ وہ لڑکی منکوحہ تھی میری، بیوی ہے میری میں حق رکھتا ہوں اس پر۔۔۔وہ محبت ہے میری آخری!”
“آپ پوچھ رہی ہیں کیا غلط کیا؟” وہ حیرت میں تھا۔
“ابھی تمہارا دماغ خراب ہے ابھی جاؤ! بعد میں بات کریں گے۔”
“آخر تم نے بھی اس لڑکی کو دھوکا۔۔۔۔”
“نہیں دھوکا دیا میں نے اسے!”
“آپ کے کہنے پر بھی کسی لمحے دھوکا نہیں دیا میں نے اسے جس دن میرے دل نے اسے قبول کرتے اس سے نبھاہ کی سوچی اس کے بعد کا ایک بھی لمحہ فریب نہیں تھا، ایک بھی لمحہ میں نے اس سے جھوٹی محبت نہیں کی۔
وہ میری رگوں میں اترتی گئی، میری دل کا اطمینان اور درد دونوں بن گئی وہ وہ سانسیں بن گئی جس کے بغیر اب میں جی بھی نہیں سکتا اور وہ مرنے بھی نہیں دیتی!”
“میرا کیا قصور تھا، میں نے تو بے لوث محبت کی تھی آپ سے! مجھے کیوں گھسیٹا، مجھے کیوں اس شخص سے نفرت کروائی جو مجھ سے اتنی محبت کرتا تھا کہ بچپن میں ہی اپنا سب سے قیمتی شخص مجھے سونپ دیا،بنا فرمائش کیے میری جھولی میں ڈال دیا اور بدلے میں میں نے کیا کیا۔”
میں نے سائمہ نقوی کے بھانجے ہونے کا ثبوت دیا اور اس کی طرح گِر گیا۔
ہاؤ کین آئی ڈو دس؟
“رب مجھے معاف نہیں کرے گا!’
“وہ مجھے معاف نہیں کرے گی؟’
“سن رہی ہیں آپ میری محبت مجھے معاف نہیں کرے گی اور خدارا مجھ سے کبھی بھی محبت کی ہے تو دعا کیجیے گا وہ مجھے اپنا لے نہیں تو میں تو بنا گناہ کے ہی مارا جاؤں گا۔”
شایان ریلیکس!جو بھی تھا وہ بھانجا تھا اس کا وہ محبت کرتی تھی اس سے۔
وہ خالی ہاتھ رہ جاتی اس کے بغیر!
ایک وہی تو تھا جو ان سے بے لوث محبت کرتا تھا۔
“بس یہیں تک تھا ہمارا سفر۔۔۔۔۔۔آپ سے بلکہ اس گھر سے، اور اپنی ماں کی ماں اور بہن سے بھی مجھے نفرت ہے اب سے شدید نفرت!”
وہ کہتا ہر چیز کو ٹھوکر کی زد میں لاتا باہر نکلتا چلا گیا۔
جبکہ سائمہ نقوی وہیں ڈھے سی گئیں یہی حال طاہرہ نقوی کا تھا کاش وقت پر اپنی بیٹی پر لگام ڈالی ہوتی تو آج پچھتاوے مقدر نہ ٹھہرتے۔
وہ جانتی تھی شایان عثمانی اپنی زبان کا کتنا پکا ہے وہ اب قیامت تک ان سے نہیں ملنے والا تھا ان سے واحد محبت کرنے والا بھی چلا گیا تھا وہ اٹھ کر کمرے میں بند ہو گئیں۔
“یہیں روک دیں میں چلی جاؤں گی!’
“نہیں میم! بھائی کی عزت ہیں آپ!”
بھابھی! وہ بولا تو کونین جو کچھ غصے میں بولنے لگی تھی تھم گئی۔
“آپ کو پتا ہے آپ بہت خوش قسمت ہیں آپ کو وہ شخص ملا جس کے لیے محبت جیسی سب چیزیں خرافات تھیں۔۔۔۔۔جو لڑکیوں میں اٹھتے بیٹھتے تھے آپ کے بعد وہ شایان عثمانی تو وہ رہا ہی نہیں جسے ہم جانتے تھے۔
اس شخص نے آپ سے پہلی اور آخری محبت کی ہے اس سے پہلے میں نے انہیں کسی کے لیے اتنا پاگل اور جذباتی ہوتے نہیں دیکھا۔”
“میں ان کے بہت نزدیک رہا ہوں وہ اکثر وہاں آ کر بھی نیند میں ایک ہی نام کا ورد کیا کرتے تھے اور وہ نام تھا کونین!
انہوں نے اپنا ایک گھر بیچ دیا جو انہوں نے اپنی کمائی سے بنایا تھا اس گھر سے انہیں بہت انسیت تھی۔
انہوں نے کہا وہ آپ کے ساتھ رب کے گھر جائیں گے کیا اس سے زیادہ کوئی کسی کی زندگی میں اہمیت رکھ سکتا ہے۔”
“ان کی خالہ نے شروع سے ہی انہیں آپ کے والد صاحب سے نفرت کرنے پر مجبور کیا ہے۔
کیا کوئی بچہ خود سے کسی سے نفرت کر سکتا ہے اور آپ جانتی ہیں انہوں نے آپ کو ایک پل کے لیے بھی دھوکا نہیں دیا۔
ہاں شروع میں نوکری آپ کو خاور عثمانی کی بیٹی کی وجہ سے دی تھی تاکہ اس شخص کو تکلیف پہنچا سکیں لیکن جب آپ سے نبھانے کی بات کی اس کے بعد کا ایک بھی لمحہ جھوٹ نہیں تھا خدا گواہ ہے!”
وہ شخص کونین کو دیکھتا سب حقیقتوں سے پردہ اٹھا رہا تھا۔
“ہر فیصلے کا حق آپ کے پاس محفوظ ہے لیکن اس شخص کو مت کھوئیے گا جس نے دن رات کونین خاور کے نام کا ودر کیا ہے۔
جس نے نماز تک پابندی سے نا پڑھیں تھی اس شخص نے نوافل پڑھے ہیں راتوں کو اس شخص نے تلاوت سیکھی ہے آدھی رات کو اونلائین کلاسس سے آپ کو سنانے کے لیے!”
اور کونین خاور کے آنسو اس کا چہرہ بھگونے لگے۔
وہ شخص اسے معتبر کر گیا تھا۔
وہ نم آنکھوں سے مسکرا دی تو کریم نگاہیں پھیر گیا۔
یہ دلکش منظر دیکھنا شایان عثمانی کا حق تھا صرف!
“چلیں خدا حافظ!”
” امید ہے آپ میرے دوست اور بوس دونوں کو زیادہ نہیں تڑپائیں گی!” وہ بولا تو کونین مسکرا دی۔
اور اتر کر اندر چلی گئی تو وہ شخص بھی لوٹ گیا۔
اچھی شایان عثمانی کو بھی تو سیمیٹنا تھا۔
