220.5K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Tera Sarmaya Ho Episode 18

Mein Tera Sarmaya Ho by Suneha Rauf

شایان اپنے کمرے میں موجود تھا سب اسے آرام کرنے کا کہتے جا چکے تھے وہ مسلسل چھت کو گھور رہا تھا۔

جو ہوا تھا اس کے متعلق سوچ رہا تھا۔۔۔۔۔

وہ کونین کو آغاز میں دھوکا دے رہا تھا اس کا ملنا، اسے اپنے ہی گھر نوکری پر رکھنا لیکن جذبات تب بدلے تھے جب اس نے اسے اس لڑکے کے ساتھ دیکھا تھا جس کی آواز سے وہ متاثر ہوتی اس کی طرف قدم بڑھا چکی تھی۔

تب اس کے دل نے اسے یہ بات بارہا باور کروائی تھی کہ وہ اس کی بیوی ہے، اس کی ملکیت لیکن ملکیت سمجھنے سے کیا ہوتا ہے فرض ادا کرنے پڑتے ہیں رشتے نبھانے کے لیے وہ سمجھ گیا تھا۔

اس کے بعد جو کچھ ہوا تھا ان کے رشتے میں اس میں کچھ بھی جھوٹ، کچھ بھی فریب کے زمرے میں نہیں آتا تھا۔

بیشک وہ غلط تھا لیکن کیا کونین کو اس کے سچے جذبات نہیں دِکھے تھے کبھی؟

شایان عثمانی کا اس کی طرف دیکھنا، اس کی طرف جھکاؤ، اس کے ساتھ قہقہے لگانا کیا اس کی قربت میں محو دنیا بھلا دینا کیا واقعی اسے فریب لگا تھا؟

اس کے دل نے پہلی بار درد محسوس کیا تھا جب کونین خاور نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھتے اسے خود سے دور دھکا دیا تھا۔

اور پھر اس کے وہاں سے نکلنے کا منظر دوبارہ یادوں کے پردے پر لہرایا تو وہ جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا ایسا کرنے سے اس کے سر میں شدید درد ہوا تھا۔

“وہ کہاں گئی ہو گی؟

“وہ اکیلی ہو گی؟”

“وہ میرے بغیر محفوظ نہیں ہے؟”

“وہ میری بیوی ہے میری شایان عثمانی کی!”

وہ سب خود سے کہتا چادر تھامتا باہر نکل گیا تھا۔

سب سے پہلے کسی احساس کے تحت اپنے فلیٹ میں آیا جہاں کا ویرانہ اور اندھیرا اسے بتا رہا تھا کہ یہ جگہ اب مکینوں سے خالی ہو گئی ہے۔

کونینن؟ اس نے پھر بھی آواز دی تھی۔

محبت والے تو معجزوں پر یقین رکھتے ہیں نا تو بس اس نے بھی اسے یقین کے ساتھ اسے آواز دے ڈالی تھی کہ شاید کسی کونے، کسی دروازے کے پیچھے سے وہ نمودار ہو جائے اور مسکرا دے۔

وہ بیس منٹ وہاں کھڑا رہا اس کے ساتھ گزارے خوشگوار لمحوں کو محسوس کرتا رہا تھا اور پھر باہر نکل گیا۔۔۔۔ یہ گھر نجنانے کب اب دوبارہ کونین شایان کی خوشبو اور آواز سے آباد ہوتا۔

اب اسے پتا تھا اسے کہاں جانا ہے۔

اسے پوری امید تھی وہ وہاں ضرور ہو گی۔

شایان عثمانی تمہارا گناہگار سہی لیکن تم سے دستبردار تو مر کر بھی نہیں ہو سکتا میں وہ ہسپتال میں داخل ہوا۔

“میرے پیشنٹ خاور عثمانی….؟” اس نے ریسیپشن پر پوچھا۔

“سر وہ جا چکے ہیں!”

“کیا مطلب ہے اس بکواس کا؟” وہ دھاڑا۔

“جی سر وہ جا چکے ہیں ان کی بیٹی انہیں یہاں سے لے جا چکی ہیں اور انہوں نے آپ کے بارے میں کچھ کہا ہے!”

وہ لڑکی سہم کر اسے پوچھنے لگی آیا وہ اس لڑکی کا دیا پیغام سُننا چاہتا ہے بھی یا نہیں۔

“کیا کہا اس نے؟” وہ دھڑکتے دل سے پوچھنے لگا۔

انہوں نے کہا کہ اپنے باپ کے علاج کے پیسے انہوں نے آپ کے ہاں نوکری کر کے پورے کر دیے ہیں۔

“کیا سر واقع ایسا ہے یا ان کے خلاف کوئی کارروائی کرنا چاہیں گے آپ؟”

اسے یوں الجھا دیکھ لڑکی نے اپنی رائے دینا ضروری سمجھا تھا۔

“اپنا کام کریں!” وہ سنجیدگی سے کہتا باہر نکل گیا تو لڑکی خجل سی ہوئی۔

وہ باہر نکل گیا لیکن فوراً واپس اندر آیا۔

“کیا اس لڑکی کے ساتھ کوئی اور بھی تھا؟” اس نے کسی احساس کے تحت پوچھا۔

“جی! ایک بزرگ تھے اور۔۔۔”

وہ باہر نکل گیا۔۔۔جہانگیر عثمانی جانتے تھے کونین کہاں ہے وہ تیزی سے گاڑی بھگاتا گھر گیا۔

وہ گھن چکر بنی گیا تھا اس کا سر درد سے پھٹنے کے قریب تھا لیکن وہ یوں ہار نہیں ماننا چاہتا تھا۔

دادا جان؟ رات کے بارہ بجے وہ ان کا دروازہ کھٹکھٹا رہا تھا۔

اندر موجود شخص آسودگی سے مسکرا دیا اپنے پوتے کی حالت ان سے کہاں دیکھی جانی تھی۔

“دادا جان پلیز دروازہ کھولیں!”

جب وہ دس منٹ بعد بھی نہ ہٹا تو انہیں مجبوراً اٹھ کر دروازہ کھولنا پڑا۔

“دادا جان کونین کہاں ہے؟” وہ اندر آتا ان کے ہاتھ تھامتا بولا۔

“ہم کیسے جانتے ہوں گے؟” انہوں نے نگاہیں چراتے کہا۔

“دادا جان پلیز! میں نے گرتے آپ کے قدم میری بجائے اس کی طرف بڑھتے دیکھے تھے یہی وجہ تھی کہ میں نے آنکھیں موند لی تھیں کہ آپ ہیں اس کے ساتھ۔۔۔۔”

جہانگیر عثمانی نے اسے حیرت سے دیکھا۔

وہ کہاں اُنہیں کسی سے خود سے زیادہ محبت نہیں کرنے دیتا تھا اور کہاں وہ مطمئن ہوا تھا درد میں بھی کہ وہ ساتھ ہیں اس کی بیوی کے۔

“کیا آپ نے اسے دھوکہ دیا ہے شایان؟”

وہ بیٹھ گئے تو وہ ان کے ہاتھ تھماتا گھٹنوں کے بل ان کی کرسی کے پاس بیٹھ گیا۔

“آغاز میں بس۔۔۔۔اس کے بعد سب سچ تھا۔۔۔وہ میری بیوی ہے دادا جان میں نبھانا چاہتا تھا اس کے ساتھ، میں نے کبھی کسی لڑکی میں وہ کشش نہیں دیکھی جو اس میں دِکھتی ہے مجھے اور اپنی طرف مائل کرتی ہے مجھے، میرا دل بغاوت پر اتر آیا تھا پہلی بار، میں نے اپنی زندگی کی پہلی اور آخری محبت اس لڑکی سے کر لی ہے، وہ مجھے میری لگتی ہے بس میری، وہ آس پاس تھی تو مجھے لگتا تھا میں مکمل ہوں دادا جان وہ کہاں ہے مجھے بتائیں میں معافی مانگ لوں گا اُس سے کچھ بھی کروں گا۔”

“کیا معافی مانگنا اتنا آسان ہے میری جان؟’

وہ کھوئے کھوئے سے بولے وہ دادا پوتے اُن باپ بیٹی کا کتنا نقصان کر چکے تھے انہیں اندازہ ہو گیا تھا۔

“میں مانگ لوں گا میں منا لوں گا اسے۔۔۔وہ مجھ سے محبت کرتی ہے مان جائے گی۔”

“وہ آپ سے محبت نہیں کرتی!”

انہوں نے جان بوجھ کر کہا اور پھر اپنے پوتے کے چہرے کو دیکھا جو یک دم تاریک پڑا تھا۔

“نہیں! میں نے محسوس کیا تھا اور کونین شایان عثمانی کے بارے میں میری حسیات غلط ہو ہی نہیں سکتیں!” وہ پُر یقین تھا۔

“سو جائیں جا کر!”

“آپ نے اسے چنا ہے مجھ پر دادا جان؟” وہ شکوہ کناہ نگاہوں سے دیکھتا انہیں بولا۔

“سالوں اسے محروم رکھا ہے ان سب سے میں نے اور کیا تم نہیں چاہتے کہ میں اسے چُنوں؟”

“میں چاہتا ہوں آپ سب پر اسے فوقیت دیں مجھ پر بھی لیکن پلیز مجھے بتا دیں وہ کہاں ہے تاکہ۔۔۔۔۔”

“میں وعدوں کا پاس رکھنے والا ہوں شایان عثمانی اور مجھے پوری امید ہے میرا شیر اپنے عشق کو ڈھونڈ لے گا”

وہ اس کا ماتھا چومتے بولے تو وہ سر ہلاتا اٹھ کھڑا ہوا یہ جنگ اس کی تھی اور اسے ہی اس وجود کو تسخیر کرنا تھا۔

وہ جانتا تھا یہ وعدہ بھی کونین نے ان سے کروایا ہو گا اب اسے خود ہی اپنی بیوی تک پہنچنا تھا، اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرنا تھا ہجر کی صورت۔

دوسری طرف کونین خاور صاحب کو دوا دینے کے بعد دوسرے کمرے میں آئی تھی اور چاند کو تکنے لگی۔

محبت کا روگ بہت جان لیوا ہے۔۔۔آپ کو سانس لینے میں بھی تکلیف محسوس ہوتی ہے ہجر میں اور ہم معجزوں کی امید میں زندگی گزار دیتے ہیں۔۔۔۔کوئی اس ازیت کو نہیں سمجھ سکتا، آپ بے بس ہوتے ہیں جب آپ کا دل کسی کے لیے بار ہاں بغاوت کر جائے، جس کے لیے آپ سب بھول جائیں، جس کے لیے آپ چاند کو دیکھتے ساری رات دعاؤں میں گزار دیں۔۔۔۔۔ازیت ناک ہے اختتام پر اس سوچ کے ساتھ جینا کہ وہ شخص جس پر سانسوں کی رفتار اتھل پتھک ہو جاتی ہے وہ آپ کے نصیب میں آئے گا بھی یا نہیں؟ اس خوف کے ساتھ جینا اور جیتے جانے کا مفہوم صرف وہی سمجھ سکتا ہے جس نے ہر سانس کے ساتھ اس شخص کے ساتھ کی چاہ اور دعا کی ہو۔

وہ چاند کو تکتی رہی۔

“عورت کو اتنا بے ضرر کیوں بنایا گیا ہے مرد کی نظر میں؟” سوال اس نے خود سے کیا تھا۔

لیکن کوئی نہیں تھا اسے یہ جواب دینے والا کہ وہ مرد بھی اتنی ہی ازیت میں تھا اسے کھو پر، گھنٹوں سڑکوں کی خاک چھانتا آیا تھا وہ اور اب بھی کہیں کھڑا سگریٹ پھونک رہا تھا۔

“شایان عثمانی ایک دن میں آپ کو میسر آجاؤں گی لیکن آپ کی اس سزا کی مدت پوری ہونے کے بعد۔”

اس کے دل سے آواز آئی تو وہ اسے جھٹلاتی پل میں آسمان سے نگاہیں ہٹا گئی۔

“اور اگر اس سزا میں اس نے دوبارہ ملن کی امید چھوڑ دی تو؟” اس کے اپنے ہی عکس نے اس سے سوال کیا تھا۔

“تو میں سمجھوں گی کہ محبت نام ہی وقتی جذبات کا ہے” اس نے خود کو مطمئن کرنا چاہا تھا۔

اب بس دیکھنا یہ تھا کہ شایان عثمانی اسے کتنے وقت میں ڈھونڈ نکالتا تھا۔

“کیا تمہیں اس پر ترس نہیں آیا؟” عکس نے سوال کیا تھا۔

“کیا اسے ترس آیا تھا مجھے دھتکارتے؟” وہ بھی اپنے خاندان کے سامنے؟

اس کے زہن کے پردوں ہر سائمہ نقوی کا وجود اتر آیا وہ جلد اپنے باپ سے اس عورت کے متعلق باز پرس کرنے والی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلی صبح اس کا فون مسلسل بج رہا تھا اس نے کسمساتے فون اٹھایا اور بند کر دیا اس بات سے انجان کے کیا قیامت ٹوٹ پڑی ہے اس پر۔

دس بچے اس کی آنکھ کھلی تو اس نے حیرانگی سے گھڑی کو دیکھا آج وہ یونیورسٹی بھی نہیں گئی تھی۔

اس نے فون اٹھایا اور اون کیا جہاں واٹس ایپ بھرا پڑا تھا بے شمار میسیجز اور کالز سے۔

“افف ایسا کیا ہو گیا ہے؟”

اس نے سٹیٹس چیک کیے تو دھر دھر آسمان اس کے سر پر آگرے تھے۔

یہ اس کی کل کی تصاویر تھی حسن سے وہ پیکٹ پکڑتے ہوئے کی یہ کیفے میں ہی کھینچی گئی تھیں۔

“یار رب العالمین! یہ کیا ہو گیا!” اسے نہیں پتا تھا یہ سب اتنا بھیانک روپ اختیار کر لے گا۔

اس نے کال لاگ چیک کیے لیکن آج وہاں اس شخص کی ایک بھی کال نہیں تھی تو کیا اسے نہیں پتا تھا جو ہو رہا تھا۔

اس کا دماغ درد سے پھٹنے لگا تھا۔

“میں کیا کروں؟” اسے یونیورسٹی سے کال آئی جو اس نے کانپتے ہاتھوں سے پک کی تھی۔

“آدھے گھنٹے بعد آپ کو وائس چانسلر سے ملنا ہے فرشتے ازلان اظہر اور اگر آپ نہیں آتیں تو نتائج کی زمہ دار آپ خود ہوں گی یاد رکھیے گا۔”

اسے بتا کر کال کاٹ دی گئی تھی۔

اس کا جواد زلزلوں کی زد میں تھا اب کیا ہونا تھا اسکی ڈگری کینسل کر دی جاتی اور یونیورسٹی سے نکالنے کے ساتھ ساتھ اس پر مقدمہ الگ کیا جاتا۔

اس کے ہاتھ پاؤں سن ہو گئے۔

“فرشتے بیٹا اٹھ گئی ہو؟” بوا اپنے دھیان اندر داخل ہوئیں تھیں اور اسے اس حالت میں دیکھتے تیزی سے اس کے قریب آئیں۔

“کیا ہوا؟”

“بوا یہ سب۔۔۔۔میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔وہ مجھے نکال دیں گیں۔۔۔۔جیل میں نہیں جانا مجھے۔۔۔”وہ رو رہی تھی پاگلوں کی طرح بدحواسی میں۔

بوا نے اس کا فون پکڑا اور پھر وہ بھی سُن ہی تو رہ گئی تھیں وہ تصاویر اور ویڈیوز دیکھ کر۔

“فرشتے آپ ۔۔۔۔؟” انہوں نے بمشکل استسفار کیا۔

“یہ جھوٹ ہے؟ میں نے تو بس۔۔۔۔۔”

“کیا بس۔۔۔؟ آپ کب سے نشہ کرنے لگیں؟”

“میں نہیں۔۔۔۔یہ بسسس۔۔۔۔۔۔۔”وہ رو رہی تھی۔

“ازلان کو ۔۔۔۔۔۔”

“نہیں۔۔۔۔۔انہیں نہیں۔۔۔۔۔۔”وہ ان کے ہاتھ تھامتی بولی۔

میں یونیورسٹی جا رہی ہوں میں انہیں سمجھاؤں گی کہ ایسا کچھ نہیں ہے وہ تیزی سے اٹھی تھی۔

اور پھر تیار ہوتی ڈرائیور کے ساتھ روانہ ہوئی وہ اپنی ڈگری پر سمجھوتہ نہیں کر سکتی تھی۔

یہ سب تو اس نے یونہی اس شخص کی ضد میں کر دیا تھا اس نے کال لاگز ایک بار پھر چیک کی جہاں اس انجان شخص کی کوئی کال نہ تھی۔

اس کا دل دھڑکنے لگا اس کی مدد کرنے والا کوئی نہ تھا۔

وہ یونیورسٹی میں داخل ہوئی تو لوگ اسے مختلف نگاہوں سے شک کی نگاہ سے دیکھنے لگے۔

اتنے لوگوں کی نگاہیں خود پر محسوس کرتے وہ سن ہوئی تھی تب ہی اس کا فون بجا۔

وہی نمبرررررر۔۔۔۔

آج اس نے تیزی سے پہلی ہی بار میں وہ کال اٹھائی تھی۔

آگے سے خاموشی تھی شاید مخالف بھی اس کی حالت سے محفوظ ہو رہا تھا اسے تو کم از کم ایسا ہی لگا۔

“سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے” وہ ٹوٹے لہجے میں بولی۔

“گاڑی موجود ہے باہر نکلو فوراً!” وہی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ پیدا کر دینے والی آواز۔۔۔۔

“لیکن۔۔۔۔”

فرشتے ازلان اظہر ابھی کہ ابھی وہاں سے نکلو اور یہ جو حرکت تم نے کل ہی ہے نا اس کا بدلہ تم سے سود سمیت لیا جائے گا۔

“میری ڈگریییی۔۔۔۔”وہ رو رہی تھی اور لوگ اس کی طرف متوجہ ہو رہے تھے۔

اس شخص نے کیمرے سے اس کو یوں دروازے پر ہی کھڑے روتا دیکھ ہونٹ بھینچے۔

“فرشتے باہر جاؤ میں سب سنبھال لوں گا” اب کی بار پہلی بار اس کی آواز میں نرمی تھی کچھ۔

وہ الٹے قدموں سے باہر نکل گئی اور اس کی بتائی گاڑی میں بیٹھ گئی جس نے اسے گھر پہنچا دیا تھا واپس۔

اس کے بعد سارا دن وہ اپنے کمرے سے نہیں نکلی تھی بوا نے اسے دودھ پلا دیا تھا ازلان کے کہنے پر جس میں بیہوشی کی دوا تھی۔

وہ شام کے سات اٹھی تھی سر اب بھی درد ہو رہا تھا اس نے فوراً فون اٹھایا اسے لگا اسے یونیورسٹی والوں کی طرف سے میل آ گئی ہو گی کہ اسے نکالا جا چکا ہے اور کسی طرح کے شدید ردعمل کی۔

لیکن نہ اسے کوئی میل آیا تھا بلکہ سب کچھ کلئیر کیا جا چکا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو وہ فون پکڑے وہیں بیٹھی رہی۔

یہ سب کیسے ممکن تھا یہ تو ایک بُرا خواب تھا۔

اس کا فون بجا میسیج رنگ تھی یہ اسی نمبر کی جانب سے تھا اب اس نمبر سے مانوس ہو گئی تھی وہ۔

“تم اب اس یونیورسٹی میں نہیں جاؤ گی تمہارا داخلہ کروا دیا گیا کل سے وہیں جاؤ گی۔۔۔۔”فرشتے نے وہ لفظ بار بار پڑھے تھے۔

اور پھر اس نمبر کو پریس کیا تو دوسری جانب سے اٹھا لیا گیا۔

“تم نے کیا ہے سب۔۔۔۔سب تمہاری وجہ سے ہوا۔۔۔اور تم کیسے میری زندگی کا کوئی فیصلہ کر سکتے ہو؟ ازلان اظہر” وہ چیخی تھی۔

مخالف آسودگی سے مسکرا دیا۔۔۔۔وہ اسے پہچان جائے گی لیکن اتنی جلدی اسے اندازہ نہیں تھا۔

“کل صبح ائیرپورٹ پر موجود ہونی چاہیے ہو تم!” مخالف اس کی باتوں کو نظرانداز کرتا پھر سے بولا۔

“کبھی نہیں!” وہ غرائی۔

“تمہارے تو فرشتے بھی آئیں گے فرشتے ازلان اظہر” اور کال کاٹ دی گئی تھی۔

فرشتے نے فون کو گھورا اور پھر دور پھینک دیا۔۔۔۔

کیا واقع وہ ازلان اظہر تھا یا اس نے غلط سمجھا تھا لیکن وہ ازلان اظہر کے علاؤہ ہو بھی کون سکتا تھا اس کے ہاتھوں کو یاد کرتی وہ تلخی سے مسکرائی تھی جو اس نے ویڈیو کال میں دیکھے تھے۔

“میں نہیں جاؤں گی!”

اس نے ساتھ پڑا لیپ ٹاپ اٹھایا اور ازلان اظہر کی اس حرکت کو یاد کیا۔۔۔۔۔اسے تو لگا تھا وہ اس سے بے خبر ہے لیکن وہ تو اسکے سانس لینے کی خبر بھی رکھتا تھا۔

اسے غصہ آیا شدید غصہ۔۔۔۔۔وہ اسے خوفزدہ کرنے میں کامیاب ہوا تھا اور اسی کی وجہ سے تو وہ اس بڑی مصیبت میں مبتلا ہوئی تھی۔۔۔۔

لیکن نہیں!

وہ تو اسے پہلے ہی حسن اور نوشین سے دور رہنے کی تلقین کر چکا تھا۔

اس نے جان لیا تھا کہ حسن اور نوشین کو یونیورسٹی سے ٹرمینیٹ کر دیا گیا ہے اور اس کا نام ہر جگہ سے ہٹا دیا گیا ہے۔

اس نے آنکھیں موندی پل کے لیے سب بجا لیکن اس دن کو یاد کرتے اس نے اس مہنگے لیپ ٹاپ کو دیکھا اور پھر نیچے پھینک دیا۔

تیز آواز سے وہ نیچے گرا تھا اس کی سکرین برے طریقے سے ٹوٹ گئی تھی۔

“آئی ہیٹ یو ازلان اظہر!”

وہ روتے تکیے پر سر رکھ گئی اور پھر کچھ دیر یوں ہی رونے کے بعد باہر نکل گئی رات کا کھانا کھایا اور بوا کو ساری تفصیل سے آگاہ کیا جو مطمئن تھیں جیسے انہیں اس سے پہلے پتا ہو سب انہیں۔

وہ واپس اپنے کمرے میں آگئی جہاں وہ لیپ ٹاپ اب موجود نہیں تھا۔

اس کا دل پھر سے خوفزدہ ہوا۔۔۔۔۔وہ تو یہاں موجود نہیں تھا تو پھر کون۔۔۔۔۔وہ واپس بوا کے پاس چلی گئی ان کے ساتھ سونے کے لیے۔

لیکن نجناے کس پہر اس نے خود کو ہوا میں محسوس کیا تھا اور پھر خود کو کسی انجان سفر پر کسی گاڑی میں۔۔۔۔۔

نجانے وہ کون تھا اور کیوں اس کے ساتھ سب ہو رہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“آپ کیوں؟ اعظم میرے ساتھ ہی کیوں؟’

“مجھے یوں ہی دھتکار دیا ہوتا لیکن وہ سب۔۔۔۔”

وہ اب تک یقین نہیں کر پا رہی تھی کہ اعظم اظہر نے اسے بلا کر اس سے بدتمیزی کی تھی۔

خود کی محبت کو یوں رسوا ہوتے دیکھنا اسے گہرے دکھ میں مبتلا کر گیا تھا۔

وہ رات اس نے کیسے گزاری تھی وہ جانتی تھی جب آپ کسی تکلیف میں ہوں تو راتیں زیادہ دردناک اور لمبی لگتی ہیں۔

اس نے تہجد پڑھی تھی لیکن آج ہمیشہ کی طرح اعظم اظہر کو نہیں مانگا تھا اور شاید اب ضرورت بھی نہیں تھی۔

اگلی صبح بھی معمول کی طرح تھیں جب اس کا بھائی خوشی سے واپس آیا تھا۔

اس کے والد کا انتقال ہو چکا تھا گھر میں اب بس والدہ دو بھائی جو شادی شدہ تھے اور وہ موجود تھی۔

اس کی والدہ بھی جو کسی کی عیادت کے لیے گئیں تھیں واپس آگئیں تھیں وہ انہیں کے پاس بیٹھی ان سے بالوں میں تیل لگوا رہی تھی۔

“کیا ہوا ہے اویس اتنے خوش کیوں ہیں؟” اس کی بڑی بھابھی نے اس کے بھائی سے پوچھا تھا۔

“خوشی کی خبر ہے جاؤ پانی پلاؤ پہلے” وہ بولا اور پھر آ کر امی کے پاس بیٹھ گیا۔

“امی ہماری گڑیا کی قسمت بہت اچھی ہے” وہ بولا تو زارا نے انہیں حیرت سے دیکھا۔

“کیوں کیا ہوا بھئی؟” اس کی والدہ نے اپنے بیٹے سے استسفار کیا۔

“اپنی گڑیا کا رشتہ آیا ہے!”

وہ مسرت سے بتا رہا تھا اس کی ماں بھی مسکرائی لیکن وہ مسکرا نہ سکی اب سب اکٹھے ہو گئے تھے۔

“مجھے شادی نہیں کرنی۔!”

وہ کھڑی ہوتے بولی تو اس کی بڑی بھابھی نے اس کا ہاتھ تھام کر دبایا اور اسے خاموش ہونے کو کہا۔

“اسے چھوڑو تم بتاؤ کون لوگ ہیں؟” اس کی والدہ نے اسے نظرانداز کرتے اس کے بھائی سے پوچھا۔

“یہ جو سامنے گھر میں اعظم اظہر رہتے ہیں ان کے والد صاحب کی کال آئی تھی وہ آنا چاہ رہے ہیں وہ بہت عزت دار لوگ ہیں اُن دونوں بھائیوں کو میں جانتا ہوں ہم بہت خوش قسمت ہیں ہماری گڑیا بہت خوش رہے گی وہ بہت شریف لوگ ہیں۔”

زارا کو لگا اس نے غلط سنا ہے۔۔۔۔یہ کوئی خواب تھا یا جھوٹ تھا یہ معجزہ تھا یہ کیسے ممکن تھا۔

“بھائی۔۔۔۔کیا نام بولا ہے آپ نے۔۔۔۔”

“اعظم اظہر۔۔۔۔۔!” کیا تم جانتی ہو انہیں؟”

“میرے سینئیر تھے سکول میں۔”

ازلان اظہر کا بھائی اور اظہر صاحب کا بیٹا وہ سب کو تفصیل بتانے لگا لیکن زارا تو اپنی جگہ سن تھی۔

یہ سب اچانک۔۔۔۔

ابھی کل ہی تو۔۔۔۔۔!

وہ کچھ بھی سمجھ نہیں پارہی تھی کیا دعائیں قبول کی جا چکی تھیں کیا اسے منع کرنا تھا یا جو ہو رہا تھا ہونے دینا چاہیے تھا؟

وہ اٹھ کر خاموشی سے اپنے کمرے میں بند ہو گئی جبکہ باہر سب آگے کے بارے میں بات چیت کرنے لگے اتنے اچھے گھرانے کا رشتہ وہ ٹھکرا نہیں سکتے تھے۔

“فون کر کے بلا لو انہیں” اس کے والدہ نے سوچ کر کہا تو اویس نے سر ہلایا اور انہیں فون کر کے تفصیلات سے آگاہ کرنے لگا۔

زارا اپنے ہاتھوں کو دیکھنے لگی کہا اسے یہ سب روکنا چاہیے تھا۔

نہیں سالوں جس شخص کی چاہت کی ہے اب وہ مل رہا ہے تو کیوں ناشکری کرتی وہ؟ اس کے دل نے اس کو روکا تھا اور خوش ہونے کی نوید سنائی تھی۔

کیا یہ سب اعظم اظہر کے کہنے پر ہو رہا تھا؟ اس کے دل میں یہ سوال تھا جس کا جواب اس کے پاس نہ تھا۔