Inteqaam by Mahnoor Shehzad NovelR50602 Inteqaam (Last Episode)
Rate this Novel
Inteqaam (Last Episode)
Inteqaam by Mahnoor Shehzad
تو شروع۔ تم نے اس دن وہ دروازہ اور وہ لائٹ آف کی تھی کیونکہ تم مجھ سے چھٹکارا پانا چاھتی تھی رائٹ۔ذیشان بھی اس کے ساتھ بیٹھ کے پوچھنے لگا۔نتاشا کو جھٹکا لگا۔بتاؤ نتاشا ۔ذیشان کا لہجہ تھوڑا سخت تھا ۔ ہاں۔نتاشا نے ڈر ڈر کے بولا ۔اور کس لیے تم نے اپنی بہن کی عزت کا جنازہ نکالا۔ذیشان نے اس سے پوچھا۔ ذیشان میں نے اس سے بدلہ لیا تھا جب بچپن میں اس نے تھپڑ مروایا۔نتاشا نے بتایا۔ بس اس لیے تم نے یہ سب کیا۔ذیشان نے بہت خطرناک تیور لیے بولا۔ ہممممممم۔ نتاشا نے ہاں میں سر ہلایا ۔
آجائیے آپ سب لوگ۔ ذیشان نے بولا تو حرین رائنہ فائیک حارث عاقب صاحب فاطمہ جی اور شکیلا باہر آگئے۔ ذیشان یہ کیا ہے۔نتاشا نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔میں بتاتا ہوں۔ ذیشان نے بولا۔ ایک دن فائیک نے مجھے کال کی۔اس نے مجھے کہا کے مجھے آپ سے ملنا ہے میں نے ہاں کردی تو ادھر اس نے مجھے ایک ریکارڈنگ سنائیں فائیک اگر تم وہ ریکارڈنگ چلا دو تو ۔ سب نے جب ریکارڈنگ سنو تو حیران رہ گئے نتاشا وہاں پریشان کھڑی تھی۔ پھر میں نے فائیک کے ساتھ پلان بنایا وہ جو فائیک کا دوست خرم تھا اسے میں نے کہا تھا کہ نتاشا کے ساتھ تھوڑی بد تمیزی کرنی ہے شاید اسے احساس ہو جائے گا مگر نہیں تم اگلے دن میرے پاس آکے مجھے کہتی ہو کہ مجھ سے شادی کر لوں نتاشا میں نے ہامی بڑھی کے حرین اور اپنے اوپر لگے داغ کو مٹانے کے لیے میں نے۔ہامی بڑھی مگر افسوس کے تمہیں اتنا سا بھی فرق نہیں پڑا تم بدلے کی آگ میں اتنی آندھی ہو گئی تھی کے تمہیں کوئی نہیں دکھا تمہیں کیا لگا تم پہلے کی طرح مجھے اب بھی بے و قوف بنا سکتی ہو نہیں میں نے تم سے جھوٹ کہا میں حرین کے ساتھ بہت خوش ہوں اور حرین سے محبت کر کے مجھے معلوم ہوا محبت ہوتی کیا ہے میں تم سے کبھی شادی نہیں کر سکتا تم نے بدلہ لیا اور میں نے انتقام لیا تم سے اتنی نفرت لے کے تم زندہ کیسے ہوں تمہیں تو ڈوب کے مر جانا چاہیے۔ذیشان نے چلا کے کہا۔
بہت شکریہ فائیک تم نے میری مدد کی ذیشان نے فائیک سے کہا۔نہیں یہ تو میرا فرض تھا ۔ فائیک نے کہا۔ تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے ذیشان۔ نتاشا اس کے پاس آتے ہوئے چلائی۔میں ایسا کر چکا ہوں۔ ذیشان نے اسے دور کرتے ہوئے بولا۔ میرے پہ لعنت ہے کہ میں نے تجھ پہ یقین کیا شرم کر ۔عاقب صاحب نے زور دار تھپڑ دے کے نتاشا کو ماڑا۔ بے حیا شرم نہیں آئی تجھے یہ حرکت کرتے ہوئے کہا تجھے مر جانا چاہیے تو زندہ کیوں ہے۔فاطمہ جی نے چلا کے بولا۔آپی میں تو اتنی پریشان تھی کے آپی کی شادی ہوئی ہو گی یا نہیں یہاں تو آپ میرا گھر برباد کرنے میں لگی ہوئی تھی مجھے شرم آتا ہے کہ آپ میری بہن ہے نفرت ہونے لگی ہے مجھے آپ سے۔ حرین نے نتاشا کے پاس آکے کہا۔حرین تم زیادہ سٹریس نہ لوں تمہاری طبیعت خراب ہو جائے گی۔ ذیشان اس کے پاس آتا ہوا بولا ۔اب چلی جاؤ تمہاری کوئی ضرورت نہیں ہے۔ادھر ۔ذیشان نے نتاشا سے۔کہا وہ چپ چاپ گھر سے باہر نکل گئی۔مجھے معاف کردے حرین میں نے تجھے غلط سمجھا۔فاطمہ جی حرین کے پاس آتے ہوئے بولی ۔نہیں امی۔آپ کو معافی کی۔ضرورت نہیں میرے دل میں کبھی آپ کے لیے کچھ غلط نہیں آیا آپ لوگ پلیز سب بھول جاؤ۔حرین عاقب صاحب اور فاطمہ جی کے پاس آتے ہوئے بولی عاقب صاحب نے حرین کے سر پہ ہاتھ رکھا وہ بہت خوش ہوئی پھر انہوں نے ذیشان کو بلایا ذیشان ان کے پاس آیا تو انہوں نے ان دونوں کو دعائیں دی ۔نتاشا گھر آئے اور سیدھا چھت پہ اور سب کی باتیں یاد کرنے لگی تم زندہ کیسے ہو تمہیں ڈوب کے مر جانا چاہیے یہ باتیں اس کے دماغ میں پھر رہی تھی آنکھیں بند کر کے وہ چھت پہ بنی ریڑھ پہ کھڑی ہوئی آنکھوں بند کی اور چھلانگ لگا دی وہ اتنی اونچائے سے گری تھی کے بچنا نا ممکن تھا وہ زمین پہ گری پڑی تھی اور اس کے سر سے خون بہ رہا تھا لوح ایٹھے ہو گئے تھے اسی وقت فاطمہ جی اور عاقب صاحب نتاشا کے پاس آئیں مگر آنے دیر ہو گئی تھی وہ اس دنیا سے جا چکی تھی شاید جو اس نے کیا سو کیا اور جاتے جاتے حرام کی موت مری ۔
چھ سال بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حریم کدھر ہو۔ حرین نے حریم کا نام پکارا جو پانچ سال کی تھی ۔ ماما ۔حریم بس اتنا ہی کہ سکتی تھی وہ حرین کے پاس آئی۔ چلو اب ہم کپڑے چینج کریں گے پہلے نہا لیں۔حرین نے کہا۔ ہاں ٹھیک ہے۔حریم نے کہتے ساتھ کپڑے اتارے اور باتھ روم میں گھس گئی حرین بھی آئی حرین نے شاور کھولا تھا کے اس کا فون بجا۔ حریم یہی رہنا کوئی شرارت نہ کرنا میں بس دو منٹ میں آئی ۔ حرین کہتے ساتھ کمرے میں آئی اور فوں اٹھایا۔ ہیلو مائی بیٹوفل وائف۔ دوسری طرف یقیناً ذیشان تھا۔ جی۔حرین نے بولا۔ میں کراچی آرہا ہوں تو کچھ سپیشل بنانا میرے لیے۔ ذیشان نے بتایا۔ اچھا آپ کی بیٹی کچھ کرنے دے تو میں کچھ کروں ۔حرین نے خفگی سے کہا۔ میری حریم کے بارے میں کچھ مت کہنا بچی ہے ٹھیک ہو جائے گی۔ ذیشان ناراض ہوتے ہوئے بولا۔جی بلکل آپ کی اجازت میں ہو تو میں فون رکھو اور آپ کی بیٹی کو نہلا لوں۔ حرین نے بولا۔جی۔ ذیشان نے کہتے ساتھ فون رکھا۔
شیلا شیلا کی جوانی ایم ٹو سیکسی فور یوں میں تیرے آنی۔ یہ آوازیں باتھ روم سے آرہی تھی۔ حریم یہ کیا کررہی ہو۔حرین نے غصے میں کہا ۔ ڈانس۔حریم نے بول کے انگلی ہونٹ پہ رکھ دی اور آنکھوں جکھا لی۔نہاتے وقت اس کے بعد وہ کچھ نہیں بولی تھی اس کے کپڑے چینج کیے پھر اسے رائنہ کے پاس چھوڑ کر کچن میں آگئی تھی حارث اور رائنہ کا ایک بیٹا تھا جس کا نام ارحم تھا وہ بہت سلجھا ہوا تھا تین سال کا رھا بلکل تنگ نہیں کرتا تھا۔ مگر حریم تو پورے گھر میں چھلانگے مار رہی ہوتی تھی۔ ذیشان گھر آیا اس نے کھانا کھایا اور اب وہ کمرے میں آیا۔ کیسا ہے میرا بچہ ۔ذیشان نے حریم کو اپنے پاس بلاتے ہوئے پوچھا۔ٹھیک مگر آپ کے بچے نے بابا کو بہت مس کیا۔حریم اس کے گلے لگتے ہوئے بولی۔ اب تو بابا آ گئے ہیں نہ۔ذیشان نے بتایا۔ جی ۔ حریم نے کہا پھر ذیشان اسے گود میں اٹھایا حریم چلو کھانا کھا لو۔حرین اندر آتے ہوئے بولی ۔نہیں مپں اور بابا آئسکریم کھانے جارہے ہیں۔ حریم نے بتایا۔ ہاں جی میری بیٹی نے کہ دیا تو جائیں گے۔ذیشان حریم کی گال کو دباتے ہوئے بولا۔ ہاں زیادہ آپ ہی نے بگڑ کے رکھا ہے۔حرین منہ بناتے ہوئے بڑبڑائی۔ بابا ماما مجھ سے جیلس ہو رہی ہیں۔ حریم نے ذیشان کو کہا۔ نہیں ماما کو ایسا نہیں کہتے ماما کو سوری کہو۔ ذیشان نے۔اسے نیچے اتار کے کہا۔ سوری ماما میں آپ کو آئندہ تنگ نہیں کرو گی۔حریم حرین کو گلے لگتے ہوتے ہوئے بولی۔توحرین مسکرا کے حریم کے۔ماتھے کو چومہ اور ذیشان وہاں کھڑا مسکرا دیا ۔سچ کہتے ہیں اگر انسان کی نیت اچھی ہو تو زندگی بھی اچھی لگتی ہے۔
اختتام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
