Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Inteqaam (Episode 28,29)

Inteqaam by Mahnoor Shehzad

گھر آچکے تھے ذیشان بہت دھکا ہوا تھا اس لیے سو گیا اور حارث پھی چپچاپ اپنے کمرے کی جانب چل دیا اور حرین بھی سو گئ تھی صبح ذیشان کی آنکھ پہلے کھلی تھی اور وہ اٹھ کے باتھ روم کی جانب چلا گیا۔ حرین اٹھ جاؤ میری جان۔ ذیشان باتھ روم سے باہر آتا ہوا حرین کو اٹھانے لگا۔ حرین ٹس سے مس نھیں ہوئی۔حرین ذیشان نے پھر آواز دی حرین اس دفعہ اٹھ گئی۔ کیا آپ کو سونا بلکل پسند نہیں ۔حرین نے اٹھتے ہوئے پوچھا۔ ذیشان اس کے سوال پہ ہنسنے لگا ۔وہ کیوں۔ذیشان نے سوال کے بدلے سوال کیا۔ جو آپ مجھے سونے نہیں دیتے۔حرین نے اس سے بتایا۔ نہیں مجھے آفس کے لیے دیر ہورہی ہے نہ میرے پیچھے سو جانا۔ذیشان نے اسے سمجھایا۔اچھا۔حرین کہتی باتھ روم کی جانب چل دی۔ناشتے کی ٹیبل پہ سب موجود تھے۔ بھائی پھر راجپوت والی ڈیل کیا کیا ہوا۔حارث نے ذیشان سے پوچھا۔ ہاں ہم ان کے پارٹنرز ہیں بتایا تو تھا۔ ذیشان نے اسے پوچھا۔ اچھا میں نے دھیان نہیں دیا۔ حارث نے بولا۔ اچھا۔ذیشان نے کہا جی ۔حارث نے ہاں میں سر ہلایا۔

ذیشان نے کل رات سے فون آف کیا ہوا تھا اور آفس میں کام زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کے ذہن میں نہ تھا۔سر سات بج گئے ہیں آپ کا آف تو کب کا ہو گیا ابھی تک نہیں گئے۔ سوئپر نے پوچھا۔ نہیں بس تھوڑا سا کام رہتا ہے وہ کر لوں پھر جاتجاتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ذیشان اپنے کام میں مگن جواب دینے لگا۔ اور آپ کیا کر رہے ہیں ۔راننہ نے حارث سے پوچھا۔ انتظار جس دن تم میرے ساتھ ہوگی۔ حارث نے پیار بھرے انداز میں بولا۔ کوئی جواب نہ آیا۔ تمہیں میرا تم کہنا برا تو نہیں لگا نہ۔ حارث جواب نہ پا کر پوچھنے لگا۔نہیں آپ کچھ بھی بلا سکتے ہیں۔رائنہ نے بولا ۔شکریہ۔حارث نے بولا ۔ وہ کیوں۔رائنہ نے پوچھا۔ میری زندگی میں آنے کے لیے مجھے سمجھنے کے لیے سب کے لیے تمہارا بہت شکریہ۔ حارث نے اسے بتایا۔ تو رائنہ مسکرا دی۔ میں آپ سے بعد میں بات کروں ابھی ماما بلا رہی ہے۔رائنہ نے کہا۔ہاں۔حارث نے ہامی بڑھتے ہوئے فون رکھا۔ ذیشان کمرے میں داخل ہوا تو حرین کھڑکی کے پاس کھڑی تھی ذیشان تھوڑا پریشان ہوا۔ یہاں کیوں کھڑی ہو۔ ذیشان اس کے پاس آتا ہوا پوچھنے لگا۔ کچھ نہیں ویسے ہی بس تازہ ہوا لے رہے تھی۔ حرین نے بتایا۔ اچھا میں فریش ہو کے آتا ہوں کھانا لگا دو بہت بھوک لگ رہی ہے ۔ ذیشان کہتے باتھ روم چلا گیا اورحرین کچن کی جانب چل دی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ذیشان کھانے کی ٹیبل پہ بیٹھا ۔ تم نے کھانا کھایا۔ذیشان نے حرین سے پوچھا۔ نہیں ۔حرین مختصر بولی۔ چلو پھر اکٹھے کھاتے ہے۔ ذیشان نے پلیٹ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔ میرا دل نہیں کر رہا ۔حرین نے بتایا۔ نہ بول رہی ہو نہ کھانا کھا رہی ہو چلو بتاؤ بات کیا ہے۔ذیشان نے اس چہرہ اپنی طرف کیا۔ آج امی کی سالگرہ ہے اور آج پہلی دفعہ ایسا ہوا کے میں اس دن ان کے ساتھ نہیں ہوں۔حرین کی۔آنکھوں سے آنسو گرنے لگے۔ انہوں نے تمہیں اس سن بھی یاد نہیں کیا حرین اور تم ان کے لیے اتنے قیمتی آنسو بہا رہی ہو۔ذیشان نے اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا پلیز رونا بند کرو مجھے تم روتے ہوئے بلکل اچھی نہیں لگتی چلو شاباش جلدی۔ذیشان نے بولا۔ میرا رونے کا بہت دل کر رہا ہے پلیز تھوڑی دیر۔حرین نے بتایا۔ میں نے کہا نہ کے تم ان لوگوں کے لیے ایک آنسو نہیں بہاؤ گی انہیں تمہاری اتنی بھی یاد نہیں آتی اور تم ہو پلیز چپ چاپ آنسو صاف کرو اور پھر ہم دونوں روٹی کھائے گے۔ ذیشان نے حرین سے بولا۔ذیشان میرا دل نہیں کررہا کھانے کو پلیز آپ کھا لیں۔ حرین نے اپنے آنسو صاف کررے ہوئے کہا۔ اگر تم نہیں کھاؤ گی تو میں بھی نہیں کھاؤ گا ذیشان نے پلیٹ خؤد سے دور کر کے کہا۔ ذیشان۔حرین نے ذیشان کا نام پکارا۔ حرین۔ذیشان نے بھی اس کی طرح ںولی جس سے اس کے چہرے پہ مدکراہٹ آئی شکر ہے تم مسکرائی تو سہی۔ ذیشان اس کی مسکراہٹ دیکھتے ہوئے بولا۔ اب کھائیں۔ذیشان نے کھانی کی طرف اشارہ کیا۔حرین نے ہاں میں سر ہکا یا۔پھر دونوں کھانا کھانے لگے۔ فائیک کال کر رہا تھا اور مسلسل فون بند جارہا تھا فائیک پریشان ہوا مگر وہ اور کر بھی کیاسکتا تھا۔ اور ذیشان کو ابھی تک اپنے فون کا حوش نہیں تھا کیونکہ آفس میں کافی دیر سے آیا تھا اور پھر گھر آکے حرین کے پاس ہی تھا اس وجہ سے فون کا پتہ بھی نہیں تھا۔

جاری ہے۔

Episode 29

آج حارث اور رائنہ کا مہندی کا دن تھا سب تیاریوں میں مصروف تھے آج ذیشان نے آفس سے چھٹی کی تھی کوئی نہ کوئی کسی نہ کسی تیاری میں میں مصروف تھا شکیلا نے سب کے ذمے ایک ایک چیز لگائی تھی کیونکہ مہندی کا فینکشن چھوٹا سا تھا ویسے بھی شکیلا کا اس کے بھائی کے علاوہ اور کوئی بھی اس دنیا میں تھا اور اس کے بھائی نے آنے سے منع کر دیا تھا فاطمہ جی کا تو بہت دل تھا حرین سے ملنے کا مگر وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ ذیشان ڈیکوریشن کروانے میں مصروف تھا حرین کچن میں مصروف تھی پکوان کو ساتھ ساتھ دیکھ رہی تھی شکیلا بد بنا رہی تھی سب تیاریاں مکمل ہو چکی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب چھ بج چکے تھے اور ذیشان اور حرین تیار ہو نے جارہے تھے اور حارث بھی تیار ہو رہا تھا۔ حرین نے اورنج کلر کا پلازو اور ییلو کلر کی شرٹ پہنی تھی بالوں کو کھولا لپسٹک لگائی تھی لیکن پھر بھی بہت پیاری لگ رہی تھی ذیشان نے بلیک کرتا شلوار پہنا جس میں وہ بہت ڈیسنٹ لگ رہا تھا اس میں کوئی شک نہیں تھا کے وہ ہمیشہ ڈیسنٹ ڈریسنگ کرتا تھا ۔حارث نے بلیک اور وائٹ شلوار قمیض پہنی تھی جس میں وہ بہت اچھا لگ رہا تھا ۔رائنہ کی فیملی اور رائنہ آچکے تھے ان کی طرف سے بھی بس دو چار لوگ ہی تھے رائنہ نے گرین کلر کا لہنگا اور پنک کلر کی چولی اور بالوں کو کھولا ہوا بلکل لائٹ سے میک اپ میں وہ بہت اچھی لگ رہی تھی جب حارث نے اس کو دیکھا تو بس دیکھتا ہی رہ گیا کیونکہ حارث نے اسے پہلی دفعہ تیار ہوتے دیکھا تھا اب ان دونون کو سٹیج پہ بیٹھا دیا تھا ۔ بہت حسین لگ رہی ہوں ۔حارث نے اس کے کان کے قریب سرگوشی کی تھی جانتی ہوں رائنہ نے اکڑ کے کہا ۔تو وہ دونوں ہنس دیے میں کیسا لگ رہا ہوں حارث نے اس سے پوچھا ۔ ہمممم اچھے لگ رہے ہیں ۔رائنہ نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر بولا ۔ یہ میری بڑی بہو۔شکیلا نے بولا۔ اسلام علیکُم ۔حرین نے بولا وسلام ماشاءاللہ بہت پیاری۔کلثوم نے کہا۔ اور ذیشان کی نظر حرین سے ہٹ ہی نہیں رہی تھی حرین نے محسوس تو کر لیا تھا اسے عجیب بھی لگ رہا تھا مگر وہ کیا بولتی ذیشان کو اس لیے اس نے اگنور کرنا شروع کر دیا۔ سب نے مہندی کی رسم ادا کی ۔مہنفی کا فینکشن بہت اچھا ہوا رائنہ اور حارث کا کپل کا ڈانس بھی ہوا جس سے سب بہت خوش ہوئے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ذیشان آپ کے فون میں پتہ نہیں کس کی کال آرہی ہیں۔ حرین نے ذیشان سے کہا۔ذیشان نے اس کے ہاتھ سے فون لیا اور وہی نمبر دیکھ کے تھوڑا پریشان ہوا اور باہر چلا گیا ذیشان نے اس نمبر پر کال ملائی تو فون دوسری طرف سے اٹھالیا گیا۔ جی کون۔ذپشان نے پوچھا۔ میں فائیک نتاشا کا فرینڈ مجھے آپ کو بہت ضروری چیز دیکھانے ہین ذیشان میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں پلیز انکار مت کیجیے گا ۔فائیک نے اسے ساری بات بتائی۔مگر کیوں ۔ذیشان نے پوچھا۔ جو الزام آپ پہ اور حرین پہ لگے ہیں اس الزام سے نجات صرف میں ہی دلوا سکتا ہوں آپ کو۔فائیک نے بتایا۔ ٹھیک ہے میں دو تین دن میں تم سے ملتا ہوں ابھی میرے بھائی کی شادی ہے وہ ختم ہوجائے پھر میں تم سے ملتا ہوں ذیشان نے اس کی بات منتے ہوئے کہا۔ تھینکس ۔فائیک نے کہتے ساتھ فون رکھا اور ذیشان کمرے میں آیا ۔کس کا فون تھا۔ حرین نے پوچھا۔ وہ آفس سے۔ ذیشان نے جھوٹ بولا ۔اچھا۔ حرین کہتی سو گئی ذیشان شرٹ اور ٹراؤزر اٹھارا ڈریسنگ روم میں چلا گیا۔ پھر واپس آیا کمرے کی لائٹ آف کی اور اپنی جگہ پہ آکے لیٹ گیا حرین کا رخ ذیشان کی طرف ذیشان نے حرین پہ نظر جو کافی اداس لگ رہی تھی۔حرین میری جان اب تم اداس نہیں رہو گی اداس تو اب تمہارے دشمن ہوں گے ذیشان دل میں کہا اور پھر گرین کے ماتھے پہ اپںے ہونٹ رکھ دیے اور پھر آنکھیں بند کر کے سو گیا اور فاءیک کو بھی سکون مل گیا کے بکاخر ایک مہینے سے جو وہ کوشش کررہا تھا آج اس پہ کامیاب ہوگیا یہ سب وہ پتہ نہیں کیوں اور کس لیے کررہا تھا اور فاطمہ جی بہت اداس ہوگئی تھی کیونکہ وہ حرین کے بغیر ایک دن نہیں رہ سکتی تھی اور آج دو نہینے گزر گئے اس کا چہرہ دیکھے ہوئے انہوں نے عاقب صاحب سے بہت کہا مگر وہ نہ مانے اس لیے وہ بھی بہت اداس تھی۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *