Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Inteqaam (Episode 04)

Inteqaam by Mahnoor Shehzad

ہاں تو کیا بات کرنی تھی تمہیں۔ نتاشا نے بولا۔ میں کہ رہا تھا تم نے مجھے کہا تھا نہ کہ تمہیں ماڈلنگ بہت پسند ہیں ۔ فائیک نے اسے یاد دلایا ۔ ہاں کہا تھا تو۔ نتاشا نے پوچھا ۔ تو میرے دوست کو ماڈل چاہئیے تم کہو تو میں بات کروں ۔ فائیک نے بتایا ۔ہاں فوراً بلکہ ابھی میرے سامنے کرو بات۔نتاشا نے بولا ۔ اچھا اچھا کرتا ہوں۔

فائیک نے بولا۔

________________________________

ذیشان بیٹا مجھے نتاشا کو اپنی بہو بنانے میں کوئی اعتراض نہیں ہیں ۔شکیلا نے کہا۔کیا امی سچ میں کب جائیں گی رشتہ لے کہ۔ ذیشان خوشی سے پوچھنا لگا۔ ایک دو دن میں۔ شکیلا نے بتایا۔ تھینکیو امی آپ دنیا کی سب سے اچھی امی ہے۔ذیشان نے شکیلا کو گلے لگاتے ہوئے کہا۔ کس بات پہ امی کی اتنی تعریفیں ہورہی ہے۔حارث گھر میں آتا ہوا پوچھنے لگا ؟۔ تیرے بھائی کا رشتہ کرنے جا رہی ہوں ۔شکیلا نے بتایا۔نہ کرے کدھر ۔حارث ںے خوشی سے پوچھا۔تیرے ماموں کے گھر۔شکیلا نے کہا۔ ماموں کے گھر۔ حارث کو دھچکا لگا۔ہاں نتاشا کو تیری بھابھی بنانے کیلیے ۔ شکیلا نے اس کی پریشانی کم کی۔ اوہ اچھا بھائی یہ تو اچھی بات ہے ۔ حارث نے کہا۔ ہیلو۔نتاشا نے کال کرکے کہا۔ ہائی ۔ ذیشان نے جواب دیا۔کیا بات کرنی تھی بولو۔ نتاشا نے کہا۔ میں نے اپنی امی کو سب کچھ بتا دیا کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں ۔ ذیشان نے بتایا۔( اس کو بھی ابھی بات کرنی تھی )نتاشا نے دل میں کہا۔ تو پھوپھو نے کیا کہا۔ نتاشہ نے پوچھا۔ پہلے انہوں ںے منع کر دیا۔ مگر پھر بعد میں انہوں نے کہا کہ میں ایک دو دن میں رشتہ لے جاؤ گی۔ ذیشان نے پوری بات بتائیں ۔اچھا ۔ نتاشا نے کہا۔ تمھیں خوشی نہیں ہوئی۔ ذیشان نے پوچھا۔ نہیں مجھے بہت خوشی ہوئی ہے میں آپ سے بعد میں بات کرتی ہوں۔ نتاشا نے کہا ۔ اوکے بائے۔ذیشان نے کہہ کہ کے فون رکھا۔ اس سے بھی آج ہی بات کرنی تھی پھوپھو سے جب آنے لگے گی نہ میں بول دوں گی مجھے اپنے آپ کو دیکھنا ہے میں ابھی شادی نہیں کر سکتی۔ نتاشا نے خود میں کہا۔ کیا سوچ رہی ہوں آپی۔ حرین کمرے میں آتے ہوئے بولی۔ نہیں کچھ نہیں تو بتا تو کہاں سے آرہی ہے ۔ نتاشا نے پوچھا۔ نماز پڑھ کے۔ آر ہی ہوں۔حرین نے بتایا۔ اچھا صحیح مجھے تو بہت نیند آرہی ہے میں تو سونے لگی۔ نتاشا نے کہتے ساتھ بلینکٹ اٹھایا۔ مجھے خود بھی بہت آرہی ۔حرین نے بولا۔

_________________________________

کیا ہوا اتنے پریشان کیوں ہوں ۔ حارث نے پوچھا۔ یار میں نے نتاشا کو بتایا تو۔وہ اتنی خوش نہیں ہوئی جتنا میں نے سوچا تھا۔ ذیشان نے بتایا۔ نہیں بھائی ایسی کوئی بات نہیں ہے آپ ذیادہ سوچ رہے ہیں۔ حارث نے اسے تسلی دی۔ ہاں تو ٹھیک کہ رہا۔ ذیشان کہتا چلا گیا۔ امی میں جا رہی ہوں۔ حرین کہتی چلی گئی۔ اوٹو ۔ اوٹو۔ وہ کھڑی اوٹو کا ویٹ کررہی تھی۔ ایک اوٹو آگے جارہا تھا اس کے پیچھے بھاگی اس ںے نہیں دیکھا گاڑی کو اور اس کا ایکسیڈینٹ ہوگیا۔ ایم ریلی سوری۔ ذیشان کار سے باہر آتے ہوئے کہا۔ ذیشان بھائی آپ۔ حرین نے ذیشان کو دیکھتے ہوئے کہا۔ گڑیا تو اتنی تیز کہا جا رہی تھی۔ ذیشان نے اس سے پوچھا ۔ وہ سکول کیلیے دیر ہورہی ہو رہی تھی اوٹو کے پیچھے بھاگ رہی تھی۔ حرین نے بتایا۔ اس کے پیچھے خود کو اتنی چوٹ لگا دی بہت چوٹ آئی ہیں چل ہاسپیٹل جانا ہو گا۔ذیشان اس کا ہاتھ تھام کر اسے کھڑا کرنے لگا۔ نہیں ذیشان بھائی میں ٹھیک ہوں بس تھوڑا سا ریسٹ کرو گی ٹھیک ہو جاؤ گی۔ حرین نے کہا۔ میں نے آپ سے پوچھا نہیں بتایا ہیں کہ ہم ہاسپیٹل جا رہے ہیں۔ ذیشان نے کہتے ساتھ اسے گاڑی میں بٹھائیا پھر سیٹ بیلٹ باندھی اور کار سٹارٹ کی۔

________________________________

یار کیسے منع کرو میں ذیشان کو وہ بہت پوذیذو ہیں میرے لیے اگر میں نہ کی تو کوئی نقصان نہ پہنچا دے خود کو ویسے مجھے کیوں ٹینشن ہورہی ہے جو کرے میری بلا سے اپنے سا تھ لیکن نہیں سب گھر والوں کو بری تو میں لگو گی کچھ اور سوچ نتاشا۔ نتاشا خود میں الجھتی ہوئی بولی۔ دھیان سے آؤ۔ ذیشان اسے گھر میں لاتا ہوا بولا۔ ہائی اللہ کیا ہوا۔ فاطمہ جی پریشان ہوتے ہوئے بولی۔ کچھ نہیں بس موچ آئی ہے آج ریسٹ کروائے گا اسے ٹھیک ہو جائیں گی۔ ذیشان نے کہا ۔ ادھر بیٹھ تیرے لیے دودھ ہلدی بنا کے لاتی اور ذیشان بیٹا تم نہ جانا ابھی۔ فاطمہ جی کہتی کچن کی جانب گئی۔ بہت شکریہ ذیشان بھائی آج آپ نے میرے لیے جو کیا۔ حرین نے ذیشان کو۔کہا۔ یہ تو میرا فرض تھا اور اب دھیان رکھنا اپنا۔ ذیشان نے بولا تو حرین مسکرائی ۔ آپ بہت اچھے ہیں۔ حرین ںے کہا۔ شکریہ۔ ذیشان نے مسکراتے ہوئے بولا۔ جو تو سوچ رہی نتاشا بلکل ٹھیک سوچ رہی ۔ نتاشا نے مسکراتے ہوئے کہا اور نیچے اتر گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *