Inteqaam by Mahnoor Shehzad NovelR50602 Inteqaam (Episode 35,36)
Rate this Novel
Inteqaam (Episode 35,36)
Inteqaam by Mahnoor Shehzad
کیوں بلایا۔ فائیک نے پوچھا۔ یار بس ویسے ہی گھر بیٹھ کے بور ہورہی تھی ۔ نتاشا نے بتایا۔ اچھا بور ہو رہی تھی مجھے بلا لیا تاکے میرا سر کھاؤ۔ فائیک نے بولا۔ہاں نہ اب کچھ منگوا بھی لو مجھے بھوک لگ رہی ہے۔ نتاشا نے بولا۔ آچھا منگواتا ہوں فائیک نے بولا۔ اللہ حافظ خیال رکھنا اپنا اوکے۔رائنہ حرین کو گلے لگاتے ہوئے بولی تم بھی۔ حرین نے اسے کہا۔ہممممم وہ ہاں میں سر ہلاتی چلی گئ۔ بس تین دن اور ذیشان میرا۔ نتاشا نے مسکراتے ہوئے بولی۔ ذیشان حرین کو دن میں تین دفعہ دودھ تین دفعہ فروٹ کھیلاتا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔ فجر کا وقت جب ذیشان کی آنکھ کھولی ۔ حرین نماز ادا کررہی تھی۔ میرے اللہ مجھے جو بھی دے مجھے منظور ہے بس مجھے صحت مند اولاد دینا اور ہمارے گھر کو ایسی ہی خوش رکھیں ۔حرین نے دعا مانگی اور پھر آمین بول کے جائےنماز لپیٹنے لگی ۔پھر نظر بیڈ پہ پڑی تو ذیشان نہیں تھا ۔حرین پریشان ہوتی ادھر ادھر دیکھنے لگی کچھ دیر بعد ذپشان باتھ روم سے نکلا وضو کیا ہوا سر کو ٹوپی سے ڈھانپا ہوا۔ حرین اسے دیکھ کے مسکرانے لگی ذیشان نے جائے نماز اٹھائے اور بچھا کے پڑھنے لگا ۔ حرین اسے دیکھ کے بہت خوش ہو رہی تھی۔ اے اللہ میں جو کررہا ہوں مجھے اشارہ یا کوئی ایسی مدد کر جسے مجھے معلوم ہو کے میں ٹھیک کررہا ہوں یا غلط میں کیا کروں مجھ سے حرین کی پریشانی نہیب دیکھی جاتی میں جو بھی کررہا ہوں اسے خوش کرنے کے لیے کررہا ہوں اور میں چاہتا ہوں میری پہلی بیٹی ہو پھر میں بتاؤ گا کے بیٹی پہ یقین کیسے کیا جاتا ہے یا اللہ میری مدد فرما ذیشان نے کہتے ساتھ جائے نماز لپیٹی اور حرین کی جانب آگیا ۔ کیا مانگا۔ حرین نے پو ھا۔تمہیں اور تمہاری خوشیوں کو ۔ ذیشان حرین کا ہاتھ پکڑتا ہوا بولا حرین نے اپنا سر ذیشان کے کندھے پہ رکھ دیا۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے میں بہت خوش نصیب ہوں کے مجھے آپ جیسا شوہر ملا ہے۔ حرین نے بولا۔خوش نصیب تو میں ہوں جسے اتنی پیاری بیوی ملی ہے جو میری ہر بات مانتی ہے۔ذیشان نے بولا۔ مگر آپ میری بہت فکر کرتے ہیں مجھ سے بھی زیادہ اور میں آپ کا بلکل بھی نہیں سوچتی۔ حرین نے ذیشان کے کندھے پہ اپنا سر رکھا ہواتھا۔ اچھا جی آپ اپنے امی۔ابو اور بہن کے بارے میں تو سوچ لیں پھر کہیں ہم بھی یاد آئیں گے۔ذیشان نے اسے بولا۔آپ کو کیسے پتہ۔حرین نے اس سے پوچھا۔میں تمہارا چہرہ دیکھ کے بتادوں تم کیا سوچ رہی ہوں۔ذیشان نے اس کا چہرہ تھپتھپاتے ہوئے بولا۔کاش میں بھی آپ کو سمجھ سکتی۔ حرین افسردگی سے بولی۔ میرے بارے میں زیادہ سوچو گی تو جان لو گی۔ذیشان نے بتایا۔ٹھیک ہے پھر جہاں تک میرا خیال ہے آپ بہت پریشان ہیں کسی بات سے مگر بات کا نہیں پتہ ۔ حرین نے بتایا۔نہیں بس تمہارے لیے ہوں کے تم ٹینشن بھی لے رہو اور ماں بھی بننے والی ہو ذیشان نے اسے بتایا۔ اب ٹینشن نہیں لوں گی۔ اور مجھے میرے اللہ پر پورا یقین ہے ایک دن سچ سامنے۔ضرور آئے گا۔حرین نے بتایا۔ہان بلکل۔ ذیشان نے اس کی بات پہ ہامی بڑھی۔اور دونوں نے آنکھیں بند کرلی۔آپ کو پتہ ہے حارث مجھے برف دیکھنے بہت شوق تھا مگر ماما بابا نہیں آنے دیتے تھے۔ رائنہ برف سے کھیلتے ہوئے بول رہی تھی اور حارث دیکھنے میں مصروف تھا۔اچھا چلو بیمار نہ ہو جاؤ وہاں چل کے بیٹھتے ہیں۔ حارث نے بولا۔کچھ دیر پلیز ۔رائنہ نے ضد میں بولا۔ اچھا مگر صرف پانچ منٹ پھر ہم دوبارہ ہوٹل چلیں گے۔حاث نے بولا۔اوکے ۔رائنہ اس کی مانتی دوبارہ برف سے کھیلنے لگ گئی۔ اور حارث اسے دیکھ کےمسکرانے لگا۔
جاری ہے۔
Episode 36
نتاشا دکان میں تھی اپنے نکاح کے لیے ڈریس لے رہی تھی ۔نہیں بھائی وہ والا دیکھائی۔ نتاشا نے دکان والے کو کہا۔ جی۔دکان والا کہتا وہ ڈریس نکالنے لگا ۔ہاں یہ پیارا ہے اسے پیک کر دیں ۔نتاشا نے کہا۔ تو اس دکان والے نے اپیک کر دیا وہ لیتی دکان سے نکل گئی۔تو کب تک آئے گا واپس۔ ذیشان نے۔حارث سے پوچھا۔ بھائی۔پڑسوں ۔حارث نے۔بتایا گڈ بس صبح صبح پہنچ جائیں۔ ذیشان نے بولا۔ کیوں بھائی خیریت۔ حارث پریشان ہوتا ہوا پوچھنے لگا۔ہاں خیریت ہی ہے بس تو آجائیں اس دن خیریت ہی ہونی ہے۔ ذیشان نے بتایا۔ اوکے بھائی۔حارث نے کہتے ساتھ فون رکھا۔ اس دن سب کو بلانا ہے میں نے ماموں اور مامی کو کس طرح بلاؤ۔ ذیشان سوچنے لگا۔ اللہ بس میں جیسا سوچ رہا ہوں ویسا ہی ہو۔ذیشان نے دل میں کہا۔حرین کو فون کر کے طبیعت کا پوچھتا ہوں۔ذیشان نے کہتے ساتھ فون اٹھایا اور حرین کا نمبر ڈائل کیا مگر دوسری طرف سے فون نہیں اٹھایا گیا ذیشان نے پھر شکیلا کا نمبر ڈائل کیا پہلی رنگ میں فون اٹھا لیا گیا۔ امی حرین کہاں ہے میرا فون کیوں نہیں اٹھا رہی۔ذیشان نے شکیلا سے پوچھا۔کمرے میں ہے شآید نماز ادا کررہی ہو گی۔شکیلا نے بتایا۔ اچھا ٹھیک ہے اس سے کہنا مجھے کال کریں۔ ذیشان نے کہا۔ٹھیک ہے بیٹا۔ شکیلا نے کہتےساتھ فون رکھا۔ فائیک پڑسوں تین بجے تم میرے گھر آؤ گے۔ذیشان نے اس کے بعد فائیک کو کال ملائی۔ جی ٹھیک ہے لیکن کیوں۔فائیک نے پوچھا ۔ جو کہا وہ کرنا اور وہ ریکارڈنگ میرے نمبر پر سینڈ کرو۔ذیشان نے بولا۔اوکے ۔ فائیک نے بولا۔یاد سے آجانا تمہاری بہت ضرورت ہے مجھے۔ ذیشان نے بتایا
جی ضرور آؤں گا میں۔فائیک نے بولا۔اوکے۔ ذیشان نے کہا۔
نتاشا اس سوٹ کو پہن کے چیک کردہی تھی اور خود کو شیشے میں دیکھ کے مسکرا رہی تھی۔ مجھ جیسی لکی لڑکی بھی اس دنیا میں نہیں ہو گی پہلے ماڈلنگ کا سوچا وہ ہوگئی پھر ذیشان کو پانا کا سوچا وہ بھی ملنے والا ہے اور حرین سے بدلہ بھی لے لیا تھپڑ کا نتاشا سوچتے سوچتے چھ سال دس چلی گئی۔ حرین اتر جھولے سے میں نے لینا ہے۔ نتاشا نے بولا نہیں آپی میں لوں گی آپ نی ابھی اتنی دیر تو لے لیا میں ابھی آکے بیٹھی ہوں ۔حرین نے بولا۔اترو مجھے لینا۔ نتاشا نے کہتے ساتھ حرین کو جھولے سے دکھا دیا اور وہ نیچے گڑ گئی وہ روتے روتے وہاں سے چلی گئی۔
حرین ںیٹا کیا ہوا۔فاطمہ حرین کو روتا دیکھ کے پوچھنے لگی۔کچھ نہیں۔حرین آنسو صاف کرتے ہوئے پوچھا۔ نتاشا نے کچھ کہا۔فاطمہ جی نے پوچھا۔ انہوں نے مجھے جھولے سے دکھا دیا مجھے چوٹ لگ گئی ۔حرین نے بتایا۔فاطمہ جی نتاشا کے پاس گئی۔نتاشا تم نے کیوں مارا اپنی چھوٹی بہن کو جھوٹی میں نے کب مارا خود گڑی اور الزام مجھ پہ لگا دیا۔نتاشا جھولے سے اتر کے حرین کو منہ پہ ہلکا سا تھپڑ مار دیا۔ فاطمہ جی نے حرین کو پیچھے کیا اور نتاشا کے منہ پہ زور سے تھپڑ مارا۔ شرم کرو تمہاری چھوٹی بہن ہے چلی جاؤ اب اندر نتاشا ۔ انہیں نے ڈانٹتے ہوئے کہا۔ نتاشا اپنے منہ پہ ہاتھ رکھتے رونے لگی۔ تم نے اچھا نہیں کیا مجھے تھپڑ پڑوا کر حرین ایک دن اس تھپڑ کا بدلہ ضرور لوں گے۔ نتاشا اپنے آنسو صاف کیے۔ نتاشا اپنے خیال سے واپس آئی۔بہت زور سے تھپڑ مارا تھا تجھے جب میں بتاؤ گی کے ذیشان میرا ہو گیا پھر تو کیسے ٹوٹ جائے گی پوری پوری تیری ہار اور میری جیت ہو گی۔ نتاشا نے خود میں بولا اور باتھ روم چلی گئی۔
جاری ہے۔
