Inteqaam by Mahnoor Shehzad NovelR50602 Inteqaam (Episode 18)
Rate this Novel
Inteqaam (Episode 18)
Inteqaam by Mahnoor Shehzad
آکھیاں میری پوچھ رہی ہے دل کو میرے چین نہیں ہے تو کتھے لڑایا وے آنکھیں یہ کہتی ہے تو سامنے میرے رہنا ایک تو ہی یار میرا مجھ کو کیا دنیا سے لینا۔ ذیشان اور علینہ کپل ڈانس کر رہے تھے اور ادھر حرین کو بہت زیادہ غصہ آرہا تھا حرین ذیشان اور علینہ کے ڈانس کو اگنور کرتے ہوئے سامنے دیکھنے لگی ۔ذیشان نے علینہ کو کمر سے پکڑا پھر گال کو چھونے لگا حرین خود میں بے قابو ہو کے سٹیج پہ آئے اور علینہ کو دکھا دیا جس سے سب لوگ حیران ہو کے دیکھنے لگے۔ علینہ اٹھی اور حرین کو غصے سے دیکھنے لگی۔ اوہ ایم ریلی سوری کیا ہے وہ میں اپنے ہسبنڈ سے بات کرنے آرہی تھی کے اچانک آپ کو دکھا لگ گیا۔ حرین نے بولا۔ نو اٹس اوکے۔ علینہ کہتی وہاں سے چلی گئی ۔اور ذیشان اس سب ڈرامے کا بہت مزہ لے رہا تھا۔ چل تیرا اور ایک بھابی کا رومینٹک ڈانس ہو جائے۔ارسلان نے کہا۔ تو ذیشان نے حرین کا ہاتھ پکڑا اور پھر کمر سے کھینچ کے اپنے قریب کیا حرین کنفیوز ہوئی۔اب کیوں کنفیوز ہو رہی ہو علینہ کو دکھا دیتے ہوئے کنفیوز نہیں ہوئی۔ ذیشان نے اسے پوچھا۔ می میں نے جان کے دھکا نہیں دیا۔ حرین گھبراتے ہوئے بولی۔ جانتا ہو میں سب۔ ذیشان نے اسے سمائل دیتے ہوئی کہا۔ نہیں بس ۔ حرین کہتی وہاں سے چلی گئی۔ حرین ۔ ذیشان اس کا نام پکاڑتا اس کے پیچھے گیا۔ حرین تم ٹھیک تو ہو نا۔ ذیشان حرین کے پاس آتا ہوا پوچھنے لگا؟ جی میں ٹھیک ہوں گھر چلیں ۔ حرین نے گھبراتے ہوئے ۔ ٹھیک ہے تم یہی کھڑے رہو میں بس دو منٹ میں آیا ذیشان کہتا ہاٹل کے اندر گیا۔ یار میں جا رہا ہوں اوکے پھر ملوں گا تجھ سے۔ذیشان کہتا چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب وہ دونوں گھر آچکے تھے حرین اب پہلے سے بہت بہتر لگ رہی تھی ۔ میں نے کہا تھا نا تم کسی لڑکی کو میرے ساتھ برداشت نہیں کر سکتی۔ ذیشان کمرے میں آتا ہوا بولا۔ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا آپ کے ساتھ ایک لڑکی ہو یا چھ مجھے پرواہ نہیں ۔ حرین اپنی جیولری اتارتے ہوئے بولی۔ تمہیں فرق پڑتا ہے۔ ذیشان نے بولا۔ نہیں ۔ حرین نے کہتے ساتھ اپنی ہیلز اتاریں۔چلو اس بات کو چھوڑو جب میں چھوتا ہوں تمہیں کچھ نہیں ہوتا۔ ذیشان نے پوچھا۔ نہیں۔حرین بولی ۔چلو دیکھتے ۔ ذیشان نے کہتے حرین کا ہاتھ پکڑا۔کچھ ہوا۔ ذیشان نے پوچھا۔ نہیں۔ حرین نے پھر وہی کہا۔ ذیشان نے اس کی کلائی پیچھے موڑتے ہوئے پوچھا۔ کچھ ہوا ۔حرین نے نہ میں سر ہلایا۔ ذیشان نے اپنا چہرہ حرین کی گردن کے قریب کیا اور اس پہ ناک رکھتے ہوئی پوچھا ۔اب۔حرین نے اپنی آنکھیں بند کر لیں ذیشان نے حرین کا چہرہ اپنا طرف کیا حرین کے گال پہ اپنے ہاتھ رکھے ۔ اور اپنے ہونٹ حرین کے قریب ہونٹ کے قریب کیے حرین نے آنکھیں کھولی اور ذیشان کو اپنے اتنے قریب دیکھ کے ڈر گئی اسے دکھا دیا اور واش روم چلی گئی۔واپس آئی تو ذیشان ادھر ہی کھڑا تھا حرین اپنی آنکھیں نیچے کرتی بیڈ کی جانب چلی گئی اور بیٹھ گئی۔میری شرٹ تمہارے نیچے ذیشان نے بولا تو حرین نے اس شرٹ کو اٹھا کے وہیں سی پھینک دی ذیشان اس کی اس حرکت پر مسکرا دیا اور واش روم چلا گیا ذیشان کے واپس آنے تک حرین سو چکی تھی ۔ ذیشان بھی اپنی جگہ پہ آکے لیٹ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح حرین کی آنکھ ذیشان سے پہلے کھل گئی ۔ ذیشان نے جب دیکھا تو ذیشان ہنسنے لگا۔ اوہ تو بیگم کو شرم آرہی ہے۔ ذیشان خود میں بولتا مسکرانے لگا۔کیسی رہی تم دونوں کی دعوت ۔ ناشتے کی ٹیبل پر شکیلا نے پوچھا۔ بہت اچھی بہت سے فاصلوں کو کل کی دعوت نے قریب کر دیا۔ذیشان نے شکیلا کو بتاتے ساتھ حرین کو دیکھا جس کا چہرہ بلش کررہا تھا۔اللہ حافظ ۔ ذیشان اور حارث کہتے چلے گئے۔ حرین ادھر آ مجھے تیری وہ دوست پسند آئی ہے اس کا کہیں رشتہ تو نہیں ہوا۔ شکیلا حرین کو اپنے پاس بلاتے ہوئے پوچھا۔ نہیں پھوپھو مگر آپ کیوں پوچھ رہی ہیں۔ حرین نے شکیلا سے پوچھا۔مجھے وہ حارث کے لیے پسند آئی ہے کیا تجھے اس کے گھر کا پتہ ہے۔ شکیلا نے پوچھا ۔ جی۔ حرین نے بتایا۔پھر اس سے بات کر کسی طرح ۔شکیلا نے حرین کو کہا؟ جی میں کروں گی۔حرین کہتی وہاں سے چلی گئی۔
جاری ہے۔
