Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Inteqaam (Episode 10,11)

Inteqaam by Mahnoor Shehzad

حرین دروازہ بند کر کے کمرے میں آئیں کے لائٹ چلی گئی۔ حرین ڈر گئی ۔ حرین پریشان ہوتے ہوئے کمرے میں چکڑ لگانے لگی دس منٹ تک لائٹ نہیں آئی وہ ڈر کے رونے لگی ۔ ذیشان نے چابی سے مین گیٹ کا دروازہ کھولا۔ لائٹ نہیں ہے حرین کہاں ہو گے۔ ذیشان پریشان ہوتا کمرے کی جانب آیا۔ حرین حرین کہا ہو تم۔ ذیشان پریشان ہوتے ہوئے اس کا نام پکاڑنے لگا۔ حارث آپ آگئے مجھے بہت ڈر لگ رہا تھا۔ حرین بھاگتی ذیشان کے گلے لگی کہ اسے وقت لائٹ آگئی۔ میں پریشان ہوتا ہوا تمھارے پاس آیا اور تمہیں میں حارث لگ رہا ہوں۔ ذیشان نے حرین کو خود سے دور کرتے ہوئے کہا۔نہیں ذیشان آپ جیسا سوچ رہے ہے ویسا کچھ نہیں ہےآپ پھوپھو کو چھوڑنے گئے ہوئے تھے مجھے لگا حارث ہے ۔ حرین نے بولا۔ باہر موسم خراب ہوا ہوا ہے لائٹ دوبارہ بھی جا سکتی ہے ٹارچ لائٹ آن رکھو۔ ذیشان نے بولا ۔ حرین اور ذیشان دونوں بیڈ پہ بیٹھے ہوئے تھے کہ بادل گرجے حرین اس کی آواز سن کے گھبرا رہی تھی۔ ریلیکس۔ ذیشان نے اپنا بازو آگے کرتے ہوئے کہا۔ حرین نے اس کا بازو پکڑ لیا تھوڑی دیر تک حرین سو چکی تھی اور سر ذیشان کے کندھے پہ تھا۔ ذیشان حرین کو دیکھ کے مسکرایا سوتے ہوئے وہ بلکل بچی لگتی تھی۔ ذیشان کی بھی آنکھ لگ گئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بھائی آپ امی۔کو لے آئے۔ حارث کہتا ذیشان کے کمرے میں داخل ہوا۔ ششش۔ ذیشان حارث کی۔آواز سن کہ اٹھا اور اسے چپ کرنے کو کہا۔ بہت ڈری ہوئی ہے۔ ذیشان نے بولا۔ اوہ سوری۔ حارث نے کہا۔ تم لے آؤ امی کو۔ ذیشان نے کہا۔ جی۔ حارث کہتا چلا گیا۔ حارث نے گاڑے پہ زور سے ہاتھ مارا۔ کیوں کیا حرین کو مجھ سے دور ۔حارث چلا یا۔ پھر رونے لگا اور پانچ منٹ بعد خود کو ٹھیک کر کے وہ گاڑی میں بیٹھ کے چلا گیا ۔صبح حرین کی آنکھ کھلی وہ ذیشان کے باہوں میں تھی وہ دیکھ کے پیچھے ہوئے ۔ حرین اٹھنے لگی تبھی ذیشان کی آنکھ بھی کھولی۔ میں آپ کے کپڑے نکال۔ حرین کنفیوز ہوتے ہوئے بولی۔ نہیں میں آج آفس نہیں جا رہا۔ ذیشان نے بولا۔ اچھا۔ حرین کہتی کمرے سے جانے لگی۔ سنو۔ ذیشان نے کہا۔جی حرین بولی۔ طبعیت کیسی ہے اب تمہاری۔ ذیشان نے پوچھا۔ میں ٹھیک ہوں ۔ حرین نے بولا۔ گڈ۔ ذیشان نے کہا۔ سنے۔ حرین نے کہا۔ ہاں۔ ذیشان نے بولا۔ تھینکیو۔حرین نے مسکراتے ہوئے کہا ۔ وہ کیوں۔ذیشان نے پوچھا۔ مجھ پہ یقین کرنے کےلیے ۔ حرین نے بتایا۔ مجھے تم پہ پورا بھروسہ ہے۔ ذیشان نے کہا۔ حرین چپ چاپ وہاں سے چلی گئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔مجھے معاف کردو حرین مجھے تمہارا ساتھ دینا چاہیے تھا مگر مجھے اس وقت پتہ نہیں ہو کیا گیا تھا۔ حارث حرین کہ سامنے ہاتھ باندھتے ہوئے بولا۔ حرین اس کی بات کو آن سنا کر کے آگے جانے لگی اسے حارث نے حرین کا ہاتھ پکڑا اور وہی ذیشان کمرے سے باہر آیا۔حارث میرا ہاتھ چھوڑے ورنہ میں وہ کر بیٹھو گی جس کا آپ کو اندازہ بھی نہیں ہے۔ حرین نے غصے میں کہا۔ حرین میری بات تو سنے ۔ حارث نے بولا ذیشان غصے میں آتا ہوا حارث کی جانب بڑھا ۔ جب اسے تجھ سے بات نہیں کرنی تو زبردستی کیوں کر رہا۔ ذیشان نے حارث کے ہاتھوں سےحرین کا ہاتھ چھڑواتے ہوئے کہا۔ بھائی آپ نے توکہا تھا معافی مانگ اسے۔ حارث نےبو لا۔ میں نے یہ کہا تھا کہ معافی مانگ یہ نہیں کہا تھا زبردستی بات کرنے کی کوشش کر تم کمرے میں جاؤ۔ ذیشان نے کہتے حرین کو بھی کہا حرین چپ چاپ وہاں سے چلی گئی۔

جاری ہے۔

Episode 11

کہاں سے آرہی ہے۔ فاطمہ جی نے نتاشا سے پوچھا ۔ امی عائشہ سے ملنے گئی تھی۔ نتاشا نے بولا ۔ اچھا۔ فاطمہ جی نے بولا۔ جی۔ نتاشا کہتی فوراً کمرے میں چلی گئی۔یہ تجھے کیا ہوا میں حرین کے ساتھ حارث کو کیوں نہیں برداشت کر سکا۔ ذیشان سوچ رہا تھا کہ آواز آئیں ۔ ناشتہ بن گیا۔ حرین نے بولا۔ بس آیا ۔ ذیشان کہتا چلا گیا۔ تمہیں حارث کو معاف کر دینا چاہیے ۔ ذیشان نے بولا۔ میں نے انہیں کب کا معاف کر دیا ہے۔ حرین نے بولا۔ اگر معاف کردیا تو اسے کہ دوں وہ بیچارا پوری زندگی اپنے آپ کو قصوروار ٹہرائے۔ ذیشان نے بولا۔ جی میں بول دوں گی ۔ حرین نے کہا۔ ہاں اور یہ ساری بکس کیوں نکالی ۔ ذیشان نے کہا ۔ ڈسٹنگ کررہی ہو مٹی بہت ہے۔ حرین نے بتایا۔ حرین نے ڈسٹنگ کی اس کے بعد کتابیں رکھنے لگی تو اس کا ہاتھ وہاں تک نہ پہنچا اس نے دوبارہ سے سٹول اٹھایا اور رکھا اور اس پہ کھڑی ہوگئ میں آؤ مدد کےلیے ۔ ذیشان نے بولا۔ نہیں میں کر لوں گی ۔ حرین نے بولا۔ اوکے ذیشان کہتا دوبارہ ٹی وی میں مگن ہو گیا۔حرین نے کتابیں رکھنے کےلیے اپنا پاؤں اوپر کیا جس کی وجہ سے سٹول ان بیلنس ہوا اور حرین گرنے ہی لگی تھی ذیشان نے دیکھا اور حرین کی جانب بھاگا حرین گرنے ہی لگی تھی کے ذیشان نے اسے تھام لیا۔ ذیشان مسلسل حرین کو دیکھنے۔میں مصروف تھا حرین کو عجیب سا محسوس ہوا مجھے چھوڑیں ۔ حرین نے بولا۔ اوہ ایم سوری۔ذیشان نے۔کہتے ساتھ اسے اپنے سے دور کیا ۔حرین دوبارہ چڑی مگر اس دفعہ ذیشان نے سٹول پکڑا ہوا تھا حرین نے بکس رکھی اور سٹول کو دوبارہ وہی رکھ کے چلی گئی۔ جب یہ میرے قریب ہوتی ہے تو کیا ہوتا مجھے پتہ نہیں مجھے کیا ہو رہا مجھے۔ ذیشان خود میں الجھتا ہوا بولا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پھوپھو آپ کی طبیعت کیسی ہے۔ حرین شکیلا کے کمرے میں آتی بولی ۔ میں ٹھیک ہوں میرے پاس تھوڑی دیر بیٹھ ۔ شکیلا نے۔کہا ۔ جی پھوپھو۔ حرین کہتی بیٹھ گئی۔ ذیشان بھی آگیا۔ کل امی اپنے ڈاکٹر کے۔پاس چلنا ہے۔ ذیشان نے بولا اچھا چل لوں گی۔ سب یہاں بیٹھے ہیں آج۔ حارث بھی آتا ہوا بولا

ہاں بس تیری کمی تھی۔ حرین بیٹا شام کی چائے یہی لے آ ۔ شکیلا نے حرین سے کہا۔ جی پھوپھو حرین کہتی وہاں سے چلی گئی۔ میں کیسی لگی اسے ۔ نتاشا نے پوچھا۔ اچھی ۔ فائیک نے بولا۔ اچھا اوکے کوئی سن نہ لے میں تم سے بعد میں بات کرتی ہوں۔ نتاشا نے کہتے ساتھ فون کاٹا۔ حرین ٹی ٹرالی لے۔کے کمرے میں آئی ۔ حرین چائے ڈالنے لگی کے اس کے ہاتھ پہ گر گئی۔حرین تم ٹھیک تو ہو نا بہت جل گیا اس پہ ابھی ائنٹمنٹ کریم لگانے ہو گی رکو میں بس ابھی لایا۔ وہ پریشان ہوتا بولتا گیا شکیلا کو دیکھ کے خوشی ہوئی کہ اسے اس کی پرواہ ہے۔ دیکھاؤ کہا لگی۔ ذیشان ائنٹمنٹ کریم لیتا کمرے۔میں آتے ہوئے پوچھنے لگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں بلکل ٹھیک ہوں بس تھوڑی سا جلا وہ ٹھیک ہوجائے گا۔ حرین نے بولا۔ میں نے کہا اپنا ہاتھ دو۔ ذیشان نے پھر کہا۔ تو حرین نے چپ چاپ اپنا ہاتھ اس کی جانب کیا حارث کو غصہ آنے لگا مگر وہ اپنے غصے کو کنٹرول کرکے وہ چپ چاپ وہاں سے اٹھ کے چلا گیا۔ ذیشان بھائی تو پسند نہیں کرتے حرین کو تو پھر اتنے۔فکر کیوں کر رہے ہے۔ جیسے کبھی میں فکر کرتا تھا اسکی ۔ چلو تم آرام کرو کمرے میں ۔ذیشان ہاتھ پکڑتا کمرے سے لے گیا۔ اور اپنے کمرے میں جا کے بیڈ پہ لٹا دیا۔پھر کمرے سے باہر آیا اور سوچنے لگا پھر سے مجھے کیوں فکر ہورہی ہے حرین کی ادھر صرف ایک میں ہی تو نہیں تھا امی تھی وہ بھی تودیکھ سکتی تھی۔ پتہ نہیں مجھے کیا ہورہا ہے۔ ذیشان خود میں سوچنے لگا۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *