Inteqaam by Mahnoor Shehzad NovelR50602 Inteqaam (Episode 08)
Rate this Novel
Inteqaam (Episode 08)
Inteqaam by Mahnoor Shehzad
کمرے کا دروازہ کھلا اور ذیشان کمرے میں داخل ہوا۔ اٹھو یہاں سے ۔ ذیشان نے کہا۔ وہ ذیشان کہ حکم کے مطابق اٹھ گئی۔ یہ آنسو پو نچو۔ ذیشان نے سخت لہجے میں کہا۔ حرین نے اپنے آنسو پونچے ۔ تمہیں کس نے بیٹھائیا میرے بیڈ پہ۔ ذیشان نے غصے میں پوچھا۔ جی۔ حرین نے پریشان ہوتے ہوئے بولا۔ میں نے کوئی مشکل سوال تو نہیں پوچھا۔ ذیشان نے کہا ۔ وہ پھو پھو نے بٹھائیا تھا۔ حرین نے گھبراتے ہوئے کہا۔ اچھا ۔ ذیشان نے بولا۔ ذیشان ۔ حرین نے دھیمی آواز میں ذیشان کا نام لیا۔ کیا ہے۔ ذیشان نے پوچھا۔میں کہاں سو ۔حرین نے کہا مجھے نہیں پتا یہ اتنا بڑا کمرہ ہے جہاں دل کرے سوجاؤ۔ ذیشان نے غصے میں کہا۔ حرین نے ایک دفعہ پورے کمرے میں نظر دہرائی اور ایک چھوٹا سا صوفہ نظر آیا وہ اس پہ جا کے لیٹ گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حارث کمرے میں بیٹھا رو رہا تھا اس کے کمرے کا نقشہ بگڑا ہوا تھا وہ زمین پہ سسک رہا تھا روتے ہوئے آنکھیں اس کی سرخ ہو چکی تھی ۔فجر کی۔نماز کا وقت ہورہا تھا وہ اٹھی اور باتھ روم میں جا کے وضو کیا۔ وضو کر۔کے وہ آئے اور نماز پڑھنے لگی۔ نماز کے بعد جاکے اس کی کہیں آنکھ لگی تھی۔ ذیشان کی آنکھ کھولی اور اس کی نظر حرین کی طرف گئی وہ اٹھا اور اس کی جانب گیا سوتے ہوئے وہ اسے کسی بچی کی طرح لگی اس کے چہرے کے آگے بال آئے ذیشان نے اسے اپنے ہاتھوں سے پیچھے کیا۔ حارث ؟ حرین کے منہ سے بےاختیار نکلا۔ ذیشان اس کے منہ سے حارث کا نام سن کے ہکا بکا رہ گیا۔آپ ۔ حرین ہوش میں آئیں۔ ہاں میں اٹھو میرے کپڑے نکال کے۔میرے لیے ناشتہ بناؤ۔ ذیشان کے کہتے ہی حرین فوراً اٹھی اور باتھ روم کی جانب گئی اس کے آتے ہی اس نے ذیشان کے کپڑے نکالے اور کمرے سے چلی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ذیشان باتھ روم سے باہر آیا۔ حرین ۔ ذیشان چلایا۔ حرین اپنا نام سن کے فوراً بھاگی۔ جی۔ حرین کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولی۔ یہ کیا نکالا ہے ۔ رڈ پینٹ اور وائٹ شرٹ پہنو ۔ ذیشان نے کہا۔ یہ گرے اور وائٹ اچھا لگ رہا ہے یا نہیں اگلی بار دھیان رکھنا۔ ذیشان نے بولا۔ جی ۔ حرین کہتی جانے لگی۔ اچھا سنو۔ ذیشان نے بولا ۔ جی۔ حرین نے پوچھا۔ پراٹھا کھاؤ گا ناشتے میں۔ ذیشان نے بولا۔ حرین وہاں سے چلی گئی۔ تم کیوں کام کررہی ہے۔ ایک دن ہوا نہیں تجھے آئیں ہوئے اور تو کچن میں چلی گئی۔ شکیلا نے بولا۔ بن گیا پراٹھا۔ ذیشان نے آکے پوچھا۔ جی۔ حرین کہتی کچن کی جانب گئی۔ حرین نے پراٹھے کی پلیٹ ذیشان کے سامنے رکھی اسی وقت حارث آیا۔ آگیا تو آ بیٹھ۔ شکیلا نے کہا۔ جی حارث کہتا بیٹھ گیا۔ حرین کچن میں چلی گئ ۔ حارث تیری آنکھوں کوکیا ہوا ایسا لگ رہا تو رات بھر نہیں سویا۔ذیشان نے پوچھا ۔جی بھائی طبعیت ٹھیک نہیں ہے میری۔حارث نے کہا۔ حرین چائے لے کے آئے اور ذیشان کے آگے رکھی۔ اوکے امی میں چلتا ہوں ۔ ذیشان کہتا اٹھنے لگا۔ سن اتنا روعب نہ دکھا۔ حرین کو۔ شکیلا نے بولا۔ بیوی ہے میرے یہ نہیں کرے گی میرے کام تو اور کون کرے گا۔ ذیشان نے بولا۔ ذیشان کی بات سن کے حارث کے دل کو کچھ ہوا۔ اللّٰہ حافظ۔ ذیشان کہتا چلا گیا۔ میں اپنے کمرے۔میں جا رہی ہوں ۔ شکیلا کہتی چلی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم نے مجھے دھوکا کیوں دیا میں تم سے پاگلوں کی طرح محبت کرتا تھا کیوں کیا ایسا۔ حارث نے حرین سے کہا۔ حرین چپ رہی ۔ میں تم سے بات کررہا ہوں ۔ حارث نے بولا۔ مگر مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی ۔ حرین کہتی چلی گئی۔ اور کمرے میں جا کے گٹھنوں کے بل بیٹھ کے رونے لگی۔ روتے روتے اس کی آنکھ لگ گئی۔ ذیشان 3 بجے کے قریب گھر آیا اور کمرے کی جانب گیا۔ ادھر حرین کو گٹھنے کے بل بیٹھ کے سوتے ہوئے دیکھ کے پریشان سا ہوا۔ حرین ۔ اس نے حرین کو آواز دی۔ جی۔ حرین اٹھتے ہوئے بولی۔ اٹھو اور بیڈ پہ لیٹو ۔ ذیشان نے غصے میں کہا۔
جاری ہے۔
