Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Inteqaam (Episode 02)

Inteqaam by Mahnoor Shehzad

آپی آپ اور ذیشان بھائی ایک دوسرے کو پسند کرتے ہو نہ۔حرین نے نتاشا سے پوچھا۔ہاں کرتی ہو اب اس سے بھی کوئی اعتراض ہے۔ نتاشا نہ ھمیشہ کی طرح غصے میں بات کی۔نہيں یہ تو اچھی بات ہے۔حرین نے بتایا۔ تو بھی کسی کو پسند کرتی ہے۔نتاشا نے اس سے بھی پوچھا۔نہیں ایسا تو کچھ بھی نہیں ہیں ۔حرین نے فوراً کہا۔اچھا زیادہ جھوٹ نہ بول بتا اب مجھے کسے پسند کرتی ہے۔نتاشا نے پھر بولا۔کسی کو بتاؤ گی تو نہیں۔حرین نے پوچھا۔نہیں بتاتی ۔نتاشا نے کہا۔ حارث کو پسند کرتی ہوں ۔حرین نے بتایا ۔ کیا وہ بھی کرتا ہے ۔نتاشا نے پوچھا۔ جی۔حرین نے بتایا۔ چل اب سو جا سکول جانا ہے صبح۔نتاشا نے کہا۔ آج بھی اس کی آنکھ فجر کی نماز کے وقت کھولی تھی۔اس نے نماز ادا کی۔لیکن آج وہ سوئی نہیں تھی۔اس نے قرآن مجید کی تلاوت کی۔ اور پھر کچن میں جا کہ ناشتہ بنانے لگ گئی۔یہ کیا کر رہی ہے ۔فاطمہ جی کچن میں آتے ہوئے پوچھا ۔نیند نہیں آر ہی تھی تو سوچا ناشتہ بنا لوں ۔حرین نے بتایا ۔میں بنا لیتی ۔ فاطمہ جی نے کہا۔اب تو بن گیا ۔حرین نے کہا۔ چل ٹھیک ہے تو تیار ہو کے آ جا میں ناشتہ لگا دیتی ہوں اور نتاشا کو بھی جگا دی۔ فاطمہ جی نے بولا ۔جی ٹھیک ہیں امی۔حرین کہتی کچن سے چلی گئ ۔آپی اٹھ جائیں ۔ حرین نے کہا ۔ہاں اٹھ رہی بس۔ نتاشا نے جواب دیا۔ جلدی اٹھناناشتہ لگا دیا امی نے۔حرین کہتی چلی گئی ۔ ذیشان بھائی آپ یہاں میرے سکول خیریت۔ حرین نے ذیشان سے پوچھا جو اس کے سکول میں آیا ہوا تھا۔ ہاں ماموں ممانی ہمارے گھر آئے ہوئے ہیں انھوں نے کہا کہ میں تمہیں راستے سے لیتا آؤ۔ ذیشان نے بتایا۔ او اچھا ۔حرین کہتی گاڑی میں بیٹھ گئی۔سیٹ بیلٹ باندھ لوں۔ ذیشان نے کہا۔ نہیں آتی باندھنی ۔حرین نے معصومیت سے بولا۔اچھا میں باندھ دیتا ہوں ۔ذیشان نے کہتے ساتھ اس کی سیٹ بیلٹ پکری۔ ذیشان کا چہرہ اس کے بے حد قریب تھا اسے اچھا نہیں لگا۔مگر ذیشان سیٹبیلٹ باندھنے کہ بعد فوراً پیچھے ہوگیا۔ چلیں ۔ذیشان نے پوچھا۔ جی حرین نے کہا۔

——-

اسلام علیکُم پھوپھو۔ حرین نے کہا۔ وسلام ۔شکیلا نے کہا۔ کل تجھ سے ٹھیک سے بات نہیں ہو سکی تو سوچا تجھے اپنے آج اپنے گھر بلا لو۔ شکیلا نے کہا تو حرین مسکرا دی۔ یہ چادر اور بکس رکھنی ہے کہاں رکھو۔ حرین نے پوچھا۔حارث کے کمرے میں رکھ دے۔ شکیلا نے بتایا۔ میں رکھ کے آئی ۔حرین کہتی چلی گئی ۔ہیلو۔ حارث نے حرین سے کہا۔ مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی ۔ حرین نے منہ بنا کہ کہا۔ وہ کیوں ۔حارث نے پوچھا۔ آپ نے جو کل کیا اس کی وجہ سے۔ حرین کہتی جانے لگی کہ حارث نے اس کا ہاتھ پکڑا۔حارث میرا ہاتھ چھوڑیں۔ حرین نے کہا۔ اچھا نہیں پکڑتا غصہ کس با ت پہ ہے ۔ حارث نے پوچھا۔ میں نے اپنے اللّٰہ سے وعدہ کیا تھا کہ جب تک میں آپ کے نکاح میں نہیں ہوئی تب تک میں آپ کو ہاتھ نہیں لگانے دوں گی مگر آپ کی وجہ سے میں اپنے الله سے کیا وعدہ توڑ رہی ہوں۔ حرین نے اسے بتایا۔ وہ تو بہت جلد تم میر ے نکاح میں ہو گی۔حارث نے کہا۔ جب نکاح میں ہو گی تب ہاتھ لگانا ابھی تو نہیں ہوں نہ۔حرین نے کہا۔ اچھا میں تمہیں نکاح کے بعد لگاؤ گا ہاتھ ٹھیک ہے۔حارث نے کہا۔ جی بلکل اب میں جاؤ۔ حرین نے کہا حارث نے ہاں میں سر ہلایا۔اب سب کھانا کھا رہے تھے ۔ کھانا کھانے کے بعد عاقب صاحب نے گھر جانے کی اجازت مانگی شکیلا نے تھوڑی دیر رکنے کا کہا مگر عاقب صاحب نے کہا دیر ہو رہی ہے۔ ماموں میں چھوڑ آتا ہوں ۔ ذیشان نے کہا ۔ اچھا ٹھیک ہے ۔عاقب صاحب نے بولا۔ گھر آنے کے بعد فاطمہ جی اور عاقب صاحب اپنے کمرے میں چلے گئے ادھر حرین اور نتاشا بھی اپنے کمرے میں سونے چلیں گئی۔

————-

کہ یک دم فون رنگ ہوا حرین نے اٹھایا۔ ہیلو ۔حرین نے کہا۔ ہائی۔ذیشان بھائی آپ اتنی رات کو فون جی بولیں۔حرین ںے کہا۔ کیا ہے نہ آپ کی آپی مجھ سے ناراض ہوں کہ سوئی ہے پلیز اسے جگا کے کہ ذیشان بھائی کی کال آئی ہے۔ ذیشان پریشان ہوتا ہوا بولا۔ بھائی وہ تو بہت گہری نیند میں اگر اٹھایا تو غصہ کرے گیں میں کل آپ کی بات کروا دوں گی۔ حرین نے کہا۔ اچھا ٹھیک ہیں۔ ذیشان نے کہتے ساتھ فون رکھا۔ اچھا امی میں آفس جا رہا ہوں ۔ ذیشان نے کہا ۔ بھائی رکے میں بس آگیا۔ پیچھے سے حارث آتا ہوا بولا۔ تو ہمیشہ دیر کرتا ہے۔ ذیشان نے بتایا۔ اور آپ ھمیشہ جلدی۔ آگے وہ بھی حارث تھا پھر۔

میں اپنے ذیشان کےلیے حرین لانا چا ہتی ہوں۔ الله میں بس یہی چاہتی ہوں کہ میری اس گھر میں دو اچھی بیٹیاں آئیں۔ شکیلا نے دل میں بولا۔ ایک دفعہ ذیشان سے پوچھ لوں پھر جا کے کرتی ہوں بھائی سے بات۔ شکیلا نے خود میں ہی بولا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *