Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Inteqaam (Episode 21)

Inteqaam by Mahnoor Shehzad

یار کیسے نتاشہ کے فون سے ذیشان کا نمبر لوں فائیک نے دل میں کہا۔ کیا ہوا۔ نتاشا نے پوچھا۔کچھ نہیں وہ میں کہ رہا تھا آئسکریم والا کھڑا ہے میں تو سڑک کروس نہیں کر سکتا کیونکہ مجھے ڈر لگتا ہے۔ فائیک نے کہا۔تو میں لا دیتی ہوں ۔نتاشا نے کہا۔ ہاں یہ لوں پیسے ۔ فائیک نے بولا۔ تو نتاشا پیسے لیتی آئسکریم لینے چلی گئی۔ فائیک اس سے پہلی نتاشا کا فون اٹھاتا مگر نتاشا فائیک کو دیکھ رہی تھی فائیک اسے دیکھ مسکرانے لگی۔ حرین فجر کی نماز پڑھ رہی تھی کے ذیشان کی آنکھ کھلی حرین دعا مانگ رہی تھی اور ذیشان اسے دیکھنے میں مصروف ہو گیا ۔حرین نے سلام پھیر کے ذیشان کی جانب دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ ارے آج آپ کی آنکھ جلدی کھل گئی ۔جرین نے پوچھا۔ ہممممم۔ذیشان نے ہاں میں سر ہلایا۔اب تم بتاؤ تم نے دعا میں کیا مانگا ہے۔ ذیشان نے پوچھا۔ میں نے گھر کے امن کے لیے دعا کی ۔ حرین نے بتایا ۔ بس یہی مانگا ہے۔ ذیشان نے بولا۔ اور زندگی بھر کے لیے آپ کا ساتھ۔ حرین نے ذیشان کو کہا۔ تو ذیشان مسکرا دیا۔ تم تو اب مجھ سے میرے مرنے کے بعد ہی مجھ سے الگ ہوگی۔ ذیشان نے بولا۔ اللہ نہ کرے کیا اول فول بول رہے ہیں۔ حرین نے غصے میں کہا۔اچھا میری جان ۔ ذیشان نے حرین کا ہاتھ پکڑ کے اسے خود کے قریب کیا۔اب بولو پیار بھری باتیں میرے قریب بیٹھ کے۔ ذیشان نے اسکے کان میں کہا۔ جب میرے پاس بہت زیادہ باتیں ہوگی نہ اس دن میں آپ سے باتیں کروں گی ۔حرین نے ذیشان کو کہا۔اچھا چلو کچھ دیر تومیری باہوں میں رہ سکتی ہو نہ۔ ذیشان نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتے ہوئے کہا۔ اگر کوئی آگیا تو حرین نے اس سے بولا۔ اگر کوئی آ بھی جائے گا تو ہم دونوں میاں بیوی ہے اور شادی شدہ کمرے میں یہ تو ہو گا۔ ذیشان نے اسے بتایا۔چھوڑیں مجھے مجھے آپ کے قریب نہیں رہنا ۔حرین نے منہ بنا کے بولا۔ تو ذیشان ہسنے لگا۔اور اگر اب میں خود سے دور نہ کروں تمہیں تو۔ ذیشان نے اسے کہا۔ حرین کافی دیر ہوگئی ناشتہ کو۔ شکیلا نے آواز دی۔ جی پھوپھو بس آئی۔ حرین نے ذیشان کو خود سے دور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بولا۔ ذیشان چھوڑے اگر پھوپھو اندر آگئی تو چھوڑ دیں پلیز۔ حرین نے اسے خود سے دور کرتے ہوئے کہا۔احسان مانو کے میں نے تمہیں خود سے دور کردیا مگر دل نہیں کررہا تھا خود سے دور کرنے کا۔ ذیشان نے حرین نے سے کہا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شٹ یار موقع ملا مگر نمبر نہیں لے سکا۔فائیک نے خود میں بولا۔ فائیک ہارنا نہیں کل نمبر نکالیں گے۔ فائیک نے خود کو ریلاکس کرتے ہوئے کہا۔ناشتے میں سب لوگ موجود تھے ۔ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا۔شکیلا نے پوچھا۔ نہیں پھوپھو ابھی تک تو نہیں۔ حرین نے بتایا۔ اچھا سہی چلو کوئی نہیں ہمیں کون سا جلدی ہے۔ شکیلا نے کہا۔ جی۔حرین نے بولا۔ امی میں اور حرین کہیں گھومنے چلے جائے۔ ذیشان نے شکیلا سے پوچھا۔ ہاں جاؤ مجھے کیا اعتراض ہوگا۔ شکیلا نے اجازت دیتے ہوئے کہا ۔ حرین کمرے میں کھڑی تھی کے اسے وقت ذیشان آیا۔ آپ کہا چلے گئے تھی۔ حرین نے ذیشان کو دیکھتے ہوئے کہا۔اپنی ییاری سی بیوی کے لیے پیارا سا ڈریس لینا گیا۔ ذیشان نے شوپر بیگ حرین کی طرف کرتے ہوئے کہا۔ مگر اس کی کیا ضرورت تھی میرے پاس بہت زیادہ ڈریسس ہیں ۔ حرین نے اسے بتایا۔ تمہارے پاس بہت سے ڈریسس ہیں مگر میری پسند کا ایک بھی نہیں ہے اور میں چاھتا ہوں کے آج تم میری پسند کا ڈریس پہنو۔ ذیشان نے اسے کہا۔ویسے ہم جائے گے کہا۔ حرین نے پوچھا۔ وہ سرپرائز ہے وہ میں تمہیں اسی وقت دیکھاؤ گا ۔ ذیشان نے اسے بتایا۔اب تم جلدی سے ریڈی ہوجاؤ میں تمہارا ویٹ کر رہا ہوں۔ ذیشان کہتا کمرے سے جانے لگا تو حارث ادھر کھڑا پیچھے ہوگیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ دونوں آپس میں خوش ہیں تو مجھے ان کی زندگی میں دخل نہیں دینا چاہیے۔حارث نے دل میں کہا۔ حارث ۔ذیشان نے حارث کا نام پکارا ۔جی بھائی۔ حارث نے کہا۔ وہ جو فائل میں نے تمہیں دی تھی وہ دھیان سے رکھ دی نا۔ ذیشان نے اسے پوچھا۔ جی بائی وہ میں نے اپنے کبڈ میں رکھی ہوئی ہے۔ حارث نے بتایا۔اچھا صحیح ہے۔ذیشان کہتا اپنے کمرے کی جانب چلا گیا۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *