Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Inteqaam (Episode 39)

Inteqaam by Mahnoor Shehzad

وہ دونوں چلتے چلتے تھک گئی اور پھر ایک جگہ بیٹھ گئے حارث نے اپنے بازو رائنہ کے گرد لپیٹے وہ دونوں کافی دیر اس طرح بیٹھی پھر اٹھ کے ہاٹل چلنے لگے دونوں ہاٹل پہنچے اور اپنے روم میں آ گئے۔ تم پیکنگ کر لینا صبح ساتھ بجے نکلنا ہے۔حارث نے۔اسے بتایا ۔ ٹھیک ہے۔ رائنہ نے ہاں میں سر ہلایا۔ پھر پیکنگ کرنے لگ گئی پیکنگ کرنے کے بعد وہ بیڈ پہ آکے لیٹ گئی اور اس کی آنکھ لگ گئی

۔ حرین ۔ذیشان نے اس کا نام پکارا ۔جی۔حرین نے پوچھا۔ میں نے آج تمہارے اوپر لگے داغ سے تمہیں آزاد کروانا ہے۔ ذیشان نے اس کا ہاتھ تھام کے بتایا۔ کیسا داغ۔ حرین کو سمجھ نہ آئی۔ وہ داغ جس سے ہم دونوں کی شادی مجبوری میں ہوئی تھی مگر اس داغ نے ہم دونوں کی زندگی کو حسین بنا دیا مگر وہ داغ ہٹانا بھی ضروری ہے۔ ذیشان نے حرین کے کندھوں پہ دونوں ہاتھ رکھ کے اسے بتایا۔ مگر وہ آپ کیسے کریں گے۔ حرین پریشان ہوتے ہوئے پوچھنے لگی۔ وہ مجھ پہ چھوڑ دو تم ۔ ذیشان نے بولا۔وہ تو ٹھیک ہے اگر آپ کو کچھ ہو گیا تو۔ حرین پریشان ہوتے ہوئے بولی۔مجھے کچھ نہیں ہو گا حرین تم ٹینشن نہ لوں۔ذیشان نے اسے بتایا۔پھر ٹھیک ہے اگر آپ اتنے اطمینان سے کہ رہے ہیں تو پھر مجھے یقین ہے آپ کو کچھ نہیں ہو گا۔ حرین نے بولا۔ہمممم ۔ذیشان نے ہاں میں سر ہلایا۔ نتاشا بے حد خوش تھی اس خوشی کی وجہ سے پوری رات نہ سوئی تھی۔ چلو چلیں ۔ حارث نے رائنہ سے بولا۔جی۔ وہ دونوں ہاٹل سے نکلے اور گاڑی میں بیٹھ کے ائر پورٹ کے لیے نکل گئے ۔ وہ دونوں اب ائر پورٹ میں فلائٹ کا انتظار کررہے تھے۔فلائٹ آچکی تھی اب وہ دونوں جہاز میں بیٹھ چکے تھے کچھ دیر جہاز اڑنے لگا۔

حرین شکیلا ان کا انتظار کررہی تھی ۔اسلام و علیکم ۔ حارث گھر میں آتا ہوا بولا۔ وسلام۔ شکیلا اسے گلے لگاتے چومنے لگی اسلام و علیکم ۔ رائنہ نے بولا۔وسلام۔ شکیلا نے اسے بھی گلے لگا کے ۔ اب آپ سب اندر چھپ جائیں تاکے نتاشا کو شک نہ ہوں فائیک بھی آچکا تھا عاقب صاحب اور فاطمہ جی بھی آچکی تھی اس نے ان سب کو چھپا دیا اور نتاشا کو کال کرنے لگا۔نتاشا تم گھر آجاؤ میں نے مولوی صاحب کو یہی بلایا ہے کیوں کے گھر میں کوئی نہیں وہ لوگ گھومنے گئے ہیں اور میں نے سر درد کا بہانہ کر کے گھر میں رکا ہوں تم۔اب آجاؤ جلدی۔ذیشان نے بولا۔ٹھیک ہے میں ابھی پہنچتی ہوں نتاشا نے کہتے ساتھ فون رکھا اور گھر سے باہر آگئی۔گاڑی میں بیٹھی اور ذیشان کے گھر کے لیے نکل یہ وہ گاڑی تھی جو اس نے کچھ دن پہلے اپنے پیسوں سے لی تھی۔ اس نے گاڑی ذیشان کے گھر پر روکی۔اس نے۔دروازہ کھڑکھڑایا اور دوسری دفعہ کھڑکانے سے ہی دروازہ کھل گیا ذیشان نتاشا کو گھر کے اندر لے۔آیا آور اسے بیٹھایا۔ وہ بیٹھی۔ذیشان کب تک مولوی صاحب آئے گے۔ نتاشا نے پوچھا۔ آجائیں گے میں نے نکاح سے پہلے شرط رکھی تھی یاد ہے اور کہا تھا نکاح والے دن بتاؤ گا۔ذیشان نے بولا۔ہاں یاد ہے۔ نتاشا نے بتایا۔اب جو جو پوچھو سچ سچ جواب دینا کیونکہ ذیشان خالد کو جھوٹ سے سخت نفرت ہے۔ذیشان نے اسے بوکا تو اس نے ہاں میں سر ہلایا تھوڑا ڈری مگر سر ہلا دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *