Inteqaam by Mahnoor Shehzad NovelR50602 Inteqaam (Episode 31)
Rate this Novel
Inteqaam (Episode 31)
Inteqaam by Mahnoor Shehzad
ہیلو ۔فائیک نے ذیشان کو بولا ہائی۔ ذیشان نے بولا۔کافی لوں گے یا چائے۔ذیشان نے فائیک سے پوچھا چائے۔فائیک نے بولا ویٹر۔ذیشان نے ویٹر کی طرف اشارہ کیا ۔یس سر ۔ویٹر ان کی جانب آیا۔ دو چائے۔ذیشان نے اسے بولا تو وہ آرڈر لکھتا چل دیا۔ ہمم تم بتاؤ کون سی ایسی چیز ہے جو مجھے اور حرین کو بے گناہ ثابت کرے گی۔ ذیشان نے اس سے مدعے کی بات کی۔ سر اس دن وہ دروازہ بند ہونا وہ لائٹ کا آف ہونا اور اچانک ہی نتاشا کا دروازہ کھولنا وہ سب کسی اور نے نہیں نتاشا نے کیا تھا۔فائیک نے اسے ساری بات بتائی۔ کیا سبوت ہے اس بات کا ۔ذیشان نے اس سے پوچھا۔ یہ سب مجھے نتاشا نے اپنے منہ سے بتائی ہیں ۔ فائیک نے بتایا اور ذیشان نے اس سے کوئی بات کی اور وہ اوکے بول کر چائے پینا لگا اگر کام ہو جائے تو کال کرنا ورنہ نہیں مجھے ابھی تمہاری بات پہ یقین نہیں آرہا ذیشان کہتا کرسی سے اٹھا اور چل دیا۔ذیشان گھر آیا۔ اسلام و علیکم۔ وہ آتے ساتھ شکیلا کے کمرے میں گیا۔وسلام اگئے۔شکیلا نے پوچھا۔جی۔ذیشان کہتے ساتھ صوفے پہ بیٹھا۔حرین تیار ہوجاؤ ہم گول گپے کھانے جارہے ہیں۔ذیشان حرین سے مخاطب ہوا ۔ میرا دل نہیں ہے۔حرین نے انکار کرتے ہوئے کہا۔میں نے پوچھا نہیں بتایا کے ہم چل رہے ہیں۔ذیشان نے سخت لہجے میں کہا ۔ تو حرین اٹھ کے کمرے میں چلی گئی۔ نتاشا کل آٹھ بجے تم نے میرے دوست سے ملنا جانا ہے اس نے تمہارا فوٹو شوٹ کرنا ہے اورکے۔فائیک نے اسے ںتایا۔اوکے۔نتاشا نے کہتے ساتھ فون رکھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ذیشان میرا بلکل دل نہیں تھا آپ کیوں لائے مجھے۔ حرین نے ذیشان سے شکوہ کیا۔ اس لیے کے تمہارا دل اور دماغ میری طرف متوجہ ہوں ۔ اب بتاؤ مجھے کب باپ بنا رہی ہو۔ذیشان شرارت پہ اترا۔ میں کیسے۔حرین ںولتے بولتے رک گئی۔تم نہیں تو پھر کون ۔ذیشان نے پوچھا۔ وہ تو جب اللہ کی مرضی ہو گی ہو جائے گا۔حرین نے بہت معصوم انداز میں بولا کے ذیشان ہنسے بنا رہ نہیں سکا ۔میں نے کچھ غلط کہ دیا۔حرین گھبراتے ہوئے پوچھنے لگی۔ نہیں چھوڑو اس بات کو چلو گول گپے کھاتے ہیں۔ذیشان کہتا گول گپے والے کو بلانے لگا۔نتاشا تیار تھی فوٹو شوٹ کے لیے فائیک اسے لے گیا تھا۔اور ادھر چھوڑ کر خود گھر چل پڑاتھا۔ نتاشا اس کہ دوست کے پاس گئی۔جب وہ اس کے کیبن میں آئی تو کوئی بھی نہیں تھا سوائے خرم کے۔ میں آئی کم ان۔ نتاشا نے پوچھا۔ یس۔ خرم نے بولا۔ آپ نے فوٹو شوٹ کے لیے بلایا تھا مگر یہاں تو کوئی فوٹو گرافر نہیں ہے ۔نتاشا نے اس سے پوچھا۔ ہوجائے گا فوٹو شوٹ پہلے میں جو کرنے والا ہوں وہ تو کر لوں۔ خرم نے کہتے ہی آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا نتاشا کے قریب آیا۔ نتاشا تھوڑی گھبرائی مگر کچھ نہ بولو۔ پھر اس نے اپنی انگلی نتاشا کے چہرے پہ رکھی۔ ی یہ کیا کررہے ہیں آپ۔نتاشا گھبراتے ہوئے پوچھنے لگا۔ تمہیں چیک کررہا ہوں ۔خرم نے کہتے ساتھ اس کا ڈوپٹہ اتارا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اوہ نتاشا اپنا فون بھول گئ میں دے آتا ہوں ہو سکتا ہے ضرورت ہوں اسے اس نے کہتے ساتھ گاڑی موڑی۔ پلیز مت کرو ایسا میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں پکیز میری عزت پہ داغ نہ لگاؤ ۔نتاشا اس کے سامنے گڑگڑستے ہوئے بولی۔ تم کیوں کررہے ہو ایسا ہاں میں تمہارا کیا بگاڑا ہے۔ خرم نے پوچھا۔ میرا نہیں کبھی تو زندگی میں کسی کا بگاڑا ہوگا کیونکہ مجھے لگتا ہے کے تم نے کسی کے ساتھ بہت غلط کیا ہے کسی کے پیار سے کھیلا ہے نہ۔خرم نے نتاشا سے پوچھا۔ مگر میں نے تمہارے ساتھ تو کغھ غلط نہیں کیا۔نتاشا روتے ہوئے بولی چپ کر جاؤ پلیز مجھے بک بک نہیں سننی آرام سکون چاہتا ہوں۔ خرم چلایا تھا۔نتاشا یہ تمہارا۔فائیک کیبن کا دروازہ کھولتا اندر آیا اندر کا منظر دیکھ کے اسے شوک لگا۔خرن یہ کیا کررہا ہہ تو ۔ فائیک نے بولتے ساتھ ایک زوردار تھپڑ اس کے منہ پہ مارا ۔نتاشا بھاگتی فائیک کے گلے لگ گئی۔ اور رونے لگی۔ شکر ہے فائیک تم آگئے ورنہ پتہ نہیں یہ میرے ساتھ کیا کرتا تھیک گوڈ تم آگئے۔ نتاشا اس کا شکریہ ادا کیا۔ چلو گھر چلیں۔ فائیک نے بولا مجھے اب ماڈلنگ نہیں کرنی ۔نتاشا نے بولا اچھا مت کرنا۔ فائیک مے بولا ۔فائیک نے اسے ڈروپ کیا اس کے گھر اور چلا گیا۔
