Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Inteqaam (Episode 12)

Inteqaam by Mahnoor Shehzad

حارث۔ حرین نے کہا۔ ہاں۔ حارث نے بولا۔ میں نے آپ کو کب کا معاف کردیا ہے اپنے دل سے سارے شکوے نکال دیں بس ایک بات کا افسوس تھا کے آپنے یقین نہیں کیا میرا۔ حرین نے حارث سے بولا۔ ایم سوری۔ حارث نے کہا۔ نہیں آپ کو سوری بولنی کی۔کوئی ضرورت نہیں ہے۔ حرین نے کہا۔ تو آج سے ہم اچھے دوست ۔ حارث نے کہا۔ جی۔ حرین نے مسکراتے ہوئے کہا۔ تھینکس ۔ حارث نے کہا۔ نو نیڈ ۔ حرین مسکرا کے باتیں کررہی تھی کے ذیشان آیا۔ چلیں آفس۔ ذیشان نے غصے میں کہا۔ ناشتہ تو کر لیں میں نے بنایا ہوا ہے۔ حرین نے بولا۔ میں نے نہیں کرنا ۔ ذیشان غصے میں بولا۔ مگر مجھے کرنا ہے بھائی۔ حارث نے کہا۔ ٹھیک ہے پھر آجانا میں جا رہا ہوں۔ غصے میں بولا۔ جی ۔ حارث نے کہا۔ یار یہ مجھے کیا ہورہا ہے وہ کسی سے ہنس کے بات کریں تو غصہ کیوں آتا ہے۔ ذیشان نے بولا میں اپنے غصے میں کنٹرول ہی نہیں کر سکتا۔ ذیشان نے بولا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حرین کہا ہے اتنے دنوں سے سکول نہیں آرہی۔ رائینہ نے کہا۔ میں اب کبھی سکول نہیں آؤ گی۔ حرین نے بتایا۔ کیوں ۔ رائینہ نے پوچھا؟ کیونکہ میری شادی ہوگئی ہے۔ حرین نے بتایا۔ کیا شادی۔ رائنہ نے پریشان ہوتی ہوئے کہا۔ ہاں۔ حرین نے بولا ۔ تونے مجھے بلایا ہی نہیں۔ رائنہ نے کہا۔ شادی بہت جلدی میں ہوئی تھی۔ حرین نے بولا ۔ حارث سے ہوئی۔ رائنہ نے پوچھا۔ نہیں اس کے بڑے بھائی سے۔ حرین نے بتایا۔ کیا کہ رہی ہے یار ۔ رائنہ نے کہا۔ ہاں یار اسی سے ہوئی ہے۔ حرین نے بولا۔ یار مگر تو تو۔ رائنہ بولتے چپ ہو گئی۔ میری قسمت میں نہیں تھا۔ حرین نے کہا۔ ہمم ۔ رائنہ نے کہا۔ اوکے بعد میں بات کرتی ہوں میں ۔ حرین نے کہا۔ اوکے۔ رائینہ نے کہتے ساتھ فون رکھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نتاشا ایک؟ بات پوچھو۔ فائیک نے پوچھا۔ تمہیں ذیشان کو چھوڑ کر ذرا سا بھی افسوس نہیں ہے۔ فائیک نے بول بھی دی۔ نہیں وہ مجھ سے محبت نہیں کرتا تھا وہ۔میری بہن کو پسند کرتا تھا۔ نتاشا نے کہا۔ تو فائیک چپ ہو گیا۔ کھانا لگاؤ کھائے گے آپ۔ حرین نے کہا۔ نہیں میں نے کھا لیا اب اٹھو بیڈ سے مجھے سونا ہے۔ ذیشان نے غصے میں کہا۔ حرین نے تکیہ لیا اور صوفے میں جا کے سو گئی۔ صبح ناشتے کے وقت سب لوگ موجود تھے۔ حرین ناشتہ لگا رہی تھی ۔ امی نہیں آئی ۔ ذیشان نے پوچھا۔ نہیں انہوں نے کہا ہے وہ تھوڑی دیر تک آئی گی۔حرین نے بولا۔ اچھا۔ ذیشان نے کہا۔آج تو پراٹھے ہے وہ بھی تمہارے ہاتھ کے پھر تو کمال ہوگے۔ حارث نے کہا تو حرین مسکرا دی۔ کمال کا بنا ہے۔ حارث نے ایک نوالا لیتے ہوئے کہا۔ بسبس اب اتنی بھی تعریف نہ کریں دونوں ایک دوسرے سے باتیں کرکے ہنستے رہے ذیشان کو شدید غصہ آنا لگا ذیشان کے ہاتھ میں گلاس تھا اس نے اسے زور سے دبایا وہ ٹوٹ گیا اور ذیشان کے ہاتھ سے خون نکلنے لگا۔ اوہ آپ کے ہاتھ سے خون نکل رہا ۔ ذیشان ہاتھ چھڑواتا کمرے میں چلا گیا۔ حرین بھی اس کے پیچھے چلی گئی۔ ادھر دیکھائے اپنا ہاتھ ۔ حرین نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا ۔ چھوڑو ؟۔ ذیشان نے ہاتھ چھڑواتے ہوئے کہا ۔ بلکل چپ میں نے کہا ادھر بیٹھے اور کچھ بھی نہیں بولنا ہے۔ حرین نے غصے میں کہا تو ذیشان بیٹھ گیا حرین نے اس کا خون صاف کپڑے سے صاف کیا اس پہ پٹی کی ذیشان حرین کو دیکھنے۔میں مصروف تھا ۔ سنو۔ ذیشان نے بولا۔ جی۔ حرین نے اٹھتے ہوئے کہا۔ اچھا لگا تمھارا یوں آرڈر دینا۔ ذیشان نے۔مسکراتے ہوئے کہا۔ کیا۔ حرین پریشان ہوتے ہوئے بولنے لگی۔ ہاں نہ ایسے ہی روعب رکھا کرو مجھ پہ اچھی لگتی ہوں ۔ ذیشان نے پھربولا۔ ذیشان آپ پاگل ہوگئے ہے پتہ نہیں کیا اول فول بول رہے ہیں۔ حرین نے بولا۔ ذیشان تو کیا بولی جارہا ہے اس کو کنٹرول کر خود کو۔ ذیشان نے دل میں سوچتے ہوئے کہا ادھر حرین کمرے سے چلی گئی۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *