Inteqaam by Mahnoor Shehzad NovelR50602 Inteqaam (Episode 13)
Rate this Novel
Inteqaam (Episode 13)
Inteqaam by Mahnoor Shehzad
یہ کیا کررہا ہے ذیشان تو اس کے سامنے کیا بول رہا تھا پتہ نہیں وہ کیا سجھ رہی ہو گی مجھے جو سمجھتی ہے سمجھے اس کا شؤہر ہوں اس طرح تو بات کر سکتا ہوں اسے۔ذیشان خود میں بولتا جا رہا تھا۔ یار مجھے کیا ہوا اسے سے پہلے میں کبھی بھی خود میں نہیں بولا ۔ذیشان الجھتا ہولا بولا۔ بھائی آفس چلیں ۔ حارث نے کہا۔ تو جا میں نہیں جا رہا میرے ہاتھ کا حشر دیکھا ہے میں کیسے کام کر گا۔ ذیشان نے کہا۔ ٹھیک ہے بھائی پھر میں جا رہا ہوں ۔ حارث کہتا چلا گیا۔ ادھر بیٹھ ۔ جی پھوپھو ۔ حرین نے کہا میں نے کہا نہ کے ادھر بیٹھ تیار شیار رہا کر تیری شادی کو صرف پندرہ دن ہوئی اور ایسے لگ رہا ہے تیری حالت دیکھ کے کتنے دن گزر گئے۔ شکیلا نے کہا۔ بس ٹھیک ہوں خالہ۔ حرین نے کہا۔ تو ابھی جائی گی اور کوئی اچھا سوٹ نکالے گی اور ہلکا سا میک اپ بھی کریں۔ شکیلا نے کہا۔ خالہ مجھے نہیں کرنا۔ حرین نے بولا۔ چپ چاپ جا کے تیار ہو اور مجھے آکے دیکھائی۔ حرین کمرے میں گئی بلیک کلر کی ڈریس پہنی بال کھولے ہلکا سا بلش شاؤن اور لائیٹ سی لپسٹک لگا کے شکیلا کے کمرے کی جانب گئی۔ ہاں اب دیکھ کتنی حسین دیکھ رہی ہے۔ شکیلا نے کہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حرین۔ ذیشان نے اسے وقت حرین کو پکارا۔۔ جی۔ حرین کمرے میں آتے ہوئے بولے ذیشان حرین کو دیکھ دو منٹ میں اسٹل ہو گیا ۔ جی۔ حرین نے پھر کہاں تم کہیں جا رہی ہو۔ ذیشان نے پوچھا۔ نہیں تو۔ حرین نے جواب دیا۔ پھر تیار کیوں ہوئی ہو ۔ ذیشان نے پوچھا۔ وہ پھوپھو نے زبردستی کروایا ہے۔ حرین نے بتایا۔ اچھا۔ ذیشان نے کہا۔ آپ نے آواز کیوں دی تھی۔ حرین نے پوچھا۔ ہاں وہ امی کو کہو تیار ہو جائین انہوں نے ڈاکٹر کے پاس جا نا ہے تو تیار ہو جائین۔ ذیشان نے بولا۔ میں پھر کبھی چلی جاؤ گی ابھی تو حرین کو کہیں گھمانے لے جا۔ شکیلا پیچھے سے آتے ہوئے بولی۔ جی ۔ ذیشان نے کہان ہاں نہ جب سے تم دونوں کی شادی ہوئی ہے تم کہیں گئے نہیں ہو۔ شکیلا نے کہا۔ اور منع مت کریں ورنہ میں تجھ سے بات نہیں کرو؟ شکیلا نے بلیک میل کرتے ہوئے کہا۔ اچھا ٹھیک ہے۔ تم تیار ہوجاؤ پھر چلتے۔ وہ تیار ہے تو لے جا اسے۔ شکیلا نے کہا تو ذیشان نے کار کی چابی نکالی اور گھر سے باہر چلا گیا۔جا جا شکیلا نے حرین کو کہا۔ حرین چپ چاپ پیچھے چلی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہاں جانا ہے بولو۔ ذیشان نے پوچھا۔ جہاں بھی لے جائیں۔حرین نے بولا۔سب سے زیادہ کیا پسند ہے تمہیں ذیشان نے پوچھا۔ گول گپے۔ حرین نے فوراً سے کہا۔ تو پھر وہی کھانے چلتے ہیں۔ ذیشان نے کہتے ساتھ گاڑی اسٹارٹ کی۔ ذیشان بہت مرچیں ہے۔ حرین نے کہا۔ تم نے خود ہی تو کہا تھا تمہیں پسند ہیں اور اب کہ رہی ہو مرچیں ہیں۔ ذیشان کے کہنے کی دیر تھی کے حرین کو حاث یاد آگیا وہ بھی اسے ہر ہفتے میں ایک دفعہ لے جاتا تھا حرین کا چہرہ اتر گیا۔ چلیں۔ذیشان نے پوچھا۔ جی۔ حرین نے کہا۔ امی ذیشان بھائی اور حرین کہا ہے۔ حارث نے شکیلا سے پوچھا۔ وہ دونوں گھومنے گئے ہے۔ شکیلا نے کہا۔ اچھا۔ حارث کہتا اوپر چلا گیا ۔ آج شادی کے بعد حرین پہلی دفعہ اٹھی تھی۔ اٹھتے ساتھ وہ باتھروم گئی اور پھر ذیشان کے کپڑے نکالے اور کمرے سے باہر چلی گئی۔ جب ذیشان کی آنکھ کھولی تو وہ حیران رہ گیا کہ حرین اسے پہلے اٹھ گئی۔ وہ بھی اٹھ کے باتھ روم چلا گیا۔ ذیشان یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہوا ہے۔ شکیلا نے پوچھا۔ امی وہ گلاس ٹوٹ گیا تھا تو اس کا کانچ میرے ہاتھ میں لگ گیا۔ ذیشان نے بتایا۔ تو مجھے اب بتا رہا ہے۔ شکیلا نے۔کہا اب تو کا فی بہتر ہے۔ ذیشان نے بولا۔ اچھا۔ شکیلا نے کہا۔ پھوپھو آپ کی چائے۔ حرین نے بولا۔ تو تیا ر نہیں ہوئی پھر۔ شکیلا نے کہا۔ حرین چپ ہو گئی ۔ تجھ پہ سختی کرنی پڑے گی۔ شکیلا نے بولا تو ذیشان اور حاث ہنس گئے۔ اورحرین ڈر گئی پاگل مذاق کر رہی تھی ڈرتے تھوڑی نہ ہے اس بات پہ۔ شکیلا نے کہا تو حرین مسکرا کی شکیلا کے گلے لگ گئی۔
