Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Inteqaam (Episode 14,15)

Inteqaam by Mahnoor Shehzad

ایک بات پوچھو۔ ذیشان نے اپنے کولیگ سے کیا۔ جی پوچھیں۔ کولیگ نے کہا۔ جب کو ئی لڑکا کسی لڑکے ساتھ ہر وقت رہنا چاہتا ہو اور صرف اسے خوش رکھنا چاہتا ہو

صرف اسی کی فکر ہوں تو ان سب سے کیا مراد ہے۔ ذیشان نے بولا۔ سر ان سب سے تو ایک ہی مراد ہے وہ لڑکا اس لڑکی سے محبت کرتا ہے ۔ کولیگ نے کہا۔ چلو اب آپ جا ئیں۔ ذیشان نے کہا تو وہ چلا گیا۔ ذیشان سیٹ پہ آکے بیٹھ عور حرین کے خیالوں میں کھو گیا۔ چل اب تھوڑی سی تیار ہو جا۔ شکیلا نے کہا ۔ اچھا ہوتی ہوں۔ حرین کہتی کمرے کی جانب چلی گئی۔ چلیں بھائی ۔ حارث آتا ہوا بولا۔ کوئی جواب نہ پا کر وہ ایک دفعہ پھر بولا۔ بھائی۔ حارث نے کہا۔ ہاں۔ ذیشان حرین کے خیالوں سے باہر آیا۔ کس کے خیالوں میں کھوئے ہوئے تھے۔ حارث نے کہا کسی کے نہیں ۔ذیشان نے کہا ۔ چلیں۔ حارث نے کہا۔ ہاں۔ ذیشان نے کہتے ساتھ اپنا کوٹ اٹھائیا اور چل پڑا۔ کھانے لگا دو آپ کے لیے۔ ہمیشہ کام کرتی رہتی۔ ذیشان نے بولا۔ جی۔ حرین نے پریشان ہو کے کہا۔ کچھ نہیں۔ ذیشان نے بولا پھر ذیشان حرین کو دیکھنے لگا۔ حرین

کو ذیشان آج پہلے سے عجیب لگا۔ آپ کو مجھ سے کچھ بات کرنے ہے۔ نہیں ۔ ذیشان فوراً بولا۔ اچھا۔ حرین کہتی چلی گئی۔ ذیشان تو اپنے بیوی سے اظہارِ محبت نہیں کر سکتا ۔ ذیشان نے خود میں کہا۔ ذیشان آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نہ۔ حرین نے پوچھا۔ ہاں تمہیں ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ میری طبیعت خراب ہے۔ ذیشان نے کہا ۔ نہیں آپ آج بہت عجیب سے لگ رہے جیسے آپ کو مجھ سے کوئی بات کرنی ہے۔ حرین نے بتایا۔ بات توکرنی ہے مگر کیسے کروں۔ ذیشان نے ہلکی آوا ز میں بولا۔

جین حرین نے بولا۔ کچھ نہیں کھانا لگوا دو۔ ذیشان نے بولا۔ اچھا ۔ حرین نے کہا۔بہت مزے کی سبزی بنائی ہے کس نے بنائیں؟ ذیشان نے پوچھا ۔ پھوپھو نے بنائے ہے۔ حرین نے بتایا۔ اوہ اچھا مجھے لگا تم نے بنایا۔ ذیشان نے بتایا۔ اچھا مگر میں نے نہیں بنائیا۔ حرین نے بولا۔ حصین مجھے تم سے بات کرنی ہے۔ ذیشان نے کہا۔ جی۔حرین نے کہا؟ ذیشان کھڑا ہوا اور حرین کا ہاتھ پکڑا اور اس کا رخ اپنی طرف کیا حرین گھبرا سی گئی ۔ جب ہی تمہیں دیکھتا ہو تو دیکھتا رہ جاتا ہوں دل کرتا ہے بس تمہارے ساتھ رہوں تمہیں کسی اور کے ساتھ برداشت نہیں کر سکتا میں نہیں جانتا مجھے کب کیسے تم سے۔محبت ہو گئ ہے۔ محبت کے اصلی معنی تم نے سیکھائے ہیں مجھے۔ ذیشان نے اسے اپنی فیلنگز بتائیں ۔ یہ کیا بات کر رہے ہے ذیشان ایسا نہیں ہو سکتا۔ حرین نے پریشانی سے کہا۔کیوں ایسا کیوں نہیں ہو سکتا ہم دونوں میاں بیوی ہے۔ ذیشان نے بولا۔ آپ۔جانتے ہیں کہ کس طرح ہمارا رشتہ بنا ہے؟ حرین نے کہا۔ حرین تو شادی کو بیس دن گزر گئے ہیں۔ ذیشان نے کہا۔ نہیں مجھے ابھی اس رشتے کو سمجھنے کے لیے وقت لگے گا۔ حرین نے کہا۔اوکے میں تمہارے ساتھ زبردستی نہیں کروں گا ۔ ذیشان نے کہا۔ حرین اپنا ہاتھ چھڑواتی وہاں سے چلی گئی۔ حرین ایک کپ چائے ملے گا۔ حارث کمرے میں آتا بولا۔ نہیں حرین کی طبیعت خراب ہے تم امی سے کہ دو۔ حرین کچھ بولتی اسے پہلے ہی ذیشان بول گیا۔ اچھا میں امی کو کہتا ہوں۔ حارث نے کہا۔ آپ نے جھوٹ کیوں بولا۔ حرین نے حارث کے۔جانے کے بعد حرین نے بولا۔ ابھی۔میں نے۔باہر کیا کہ کے آیا ہوں کے تم کسی کی کوئی۔کام نہیں کرو گی اور نہ اب تم حارث سے زیادہ بات کرو گی۔ ذیشان نے کہا۔ حرین چپ ہوگئی۔

جاری ہے۔

Episode 15

اٹھو حرین ۔ذیشان نے کہا۔ حرین تھوڑی سی ہلی اور دوبارہ سو گئے۔ ذیشان اس کے چہرے کے ایکسپریشن دیکھ کے مسکرانے لگا۔ حرین۔ ذیشان نے کہا۔ جی۔حرین ڈر کے بولی۔ کیا ہوا۔ ڈر گئی۔ذیشان نے پوچھا۔ آپ نے نام ہی اس طرح لیا۔حرین نے بتایا۔میں نے اتنے پیار سے تمہارا نام لیا اور کہ رہی ہو کہ میں نے غصہ میں کہا۔ذیشان نے بےحد محبت والے لہجے میں بولا۔ذیشان مجھے جانے دیں۔ حرین نے کہا۔ اور آگر نہ جانے دوں تو۔ ذیشان نے بولا۔ ذیشان ۔ حرین نے کہا۔ہاں۔ذیشان نے اسے زچ کرنے کی قسم کھا رکھی تھی۔ حرین نے ذیشان کو دکھا دے کے جانے لگی مگر ذیشان نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے طرف کھینچا۔ ذیشان آپ چھوڑو مجھے آپ کیا کر رہے ہیں۔ حرین گھبراتی ہوئی بولی۔ کیا کر رہا ہو جو بھی کررہا ہوں اپنی بیوی کے ساتھ کررہا ہوں کون سا کسی غیر کے ساتھ کررہاہوں ۔ذیشان نے کہا۔ذیشان آپ نےکہا تھا کے جب تک میں اس رشتے کو ایکسیپٹ نہیں کر لیتی آپ زبردستی نہیں کریں گے۔حرین نے بولا۔اچھا۔ذیشان نے کہتے ساتھ اس کو دور کیا حرین فوراً باتھ روم بھاگ گئی۔ ذیشان ہنسنے لگ گیا۔

حرین تو بھی ناشتہ کر۔ شکیلا نے کہا۔ حرین ذیشان کے ساتھ والی کرسی میں جاکے بیٹھ گئی۔حرین نے پراٹھا اٹھایا اور چائے ڈال کے ناشتہ شروع کرنے لگی تھی ذیشان نے ہاتھ پکڑ لیا۔ حرین کو ہچکی آئی۔ کیا ہوا شکیلا نے پوچھا۔ کچھ نہیں ۔ حرین نے بولا۔ پانی پی۔ شکیلا نے اسے جگ دیتے ہوئے کہا۔ حرین الٹے ہاتھ سے کیوں ڈال رہی سیدھے ہاتھ سے ڈال نا۔شکیلا نے کہا۔وہ امی اس کے اس ہاتھ میں درد ہے ۔ ذیشان نے جھوٹ بولا۔ تو تو ڈال دے اسے۔ شکیلا نے ذیشان سے کہا۔ جی۔ذیشان نے کہتے ہاتھ نکالا اور جگ سے پانی ڈالنے لگا۔ حرین نے۔پانی پیا۔ذیشان ناشتہ کرتا کمرے میں چلا۔ گیا۔حرین بھی گئی ۔ دیکھا تم بھی نہیں رہ سکتے میرے بغیر۔ ذیشان نے حرین کو آتے دیکھ کے کہا۔ یہ خوشفہمیاں پالنے بند کردیں میں آپ سے کہنے آئی تھی کے آپ کو شرم نہیں آتی سب کے بیچ میرا ہاتھ پکڑتے ہوئے۔ حرین نے پوچھا۔ نہیں۔ذیشان نے بولا۔ذیشان میں مذاق کے موڈ میں نہیں ہوں میں بہت سریس ہوں حرین نے بولا۔ میں بھی سریس ہوں ۔ذیشان نے کہا۔مجھے آپ سے بات ہی نہیں کرنی۔ حرین کہتی بیڈ پہ بیٹھ گئی ۔ بائی سویٹ ہارٹ ۔ ذیشان نے کہا۔ کیا کہا آپ نے مجھے۔ سویٹ ہارٹ ۔ حرین نے بولا۔ ہمم ۔اچھا اوکے یار میں سیریس ہوں بائے اپنا خیال رکھنا۔ ذیشان کہتا چلا گیا۔انہیں ہو کیا گیا مجھے کچھ سمجھ نھیں آرہی ہے۔ حرین خود میں بولا۔

حرین تمہاری سہیلی آئی ہے۔ شکیلا نے حرین کو آواز دیتے ہوئے کہا۔ جی پھوپھو۔میری سہیلی ۔ حرین نے شکیلا سے کہا۔ مجھے بھول بھی گئی نہ۔ رائنہ نے بولا۔ رائنہ تم۔ حرین گلے لگاتے ہوئے بولی۔ ہاں میں ۔ رائنہ نے کہا۔ تم دونوں باتیں کرو میں چائے کا انتظام کرتی ہوں۔ شکیلا کہتی چلی گئی۔ اور سنا ذیشان بھائی کیسے ہے تیرے ساتھ ان کا رویہ کیسا ہے۔ رائنہ نے پوچھا۔ ہاں ٹھیک ہیں۔ حرین نے بتایا۔ تو مجھے یہ بتا کے اتنی جلدی ہوئی کیسے اور وہ بھی ذیشان بھائی سے ان کی تو نتاشا تیری چنڈالن بہن سے ہونی تھی۔ رائنہ نہ بوچھا۔ امی حرین کہا ہیں ۔ ذیشان گھر آتے ہوئے سب سے پہلے حرین کا پوچھا اس کی سہیلی آئی ہوئی ہے وہ ڈرائنگ روم میں ہوں۔ شکیلا نے بتایا اچھا۔ ذیشان کہتا چلا گیا۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *