Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Inteqaam (Episode 19,20)

Inteqaam by Mahnoor Shehzad

اچھا تم مجھے یہ تو بتا دو کے تم نے حرین کے ساتھ ایسا کیوں کیا کیونکہ میں جانتا ہوں حرین تو ایسی ہرگز نہیں ہے۔فائیک نے پوچھا۔ یار تم جانے بنع چین نہیں کروں گے میں بتاتی ہو ان دونوں کو اس کمرے میں بھی میں نے بند کیا تھا۔ اور دروازہ بھی میں نے بند کیا تھا لائٹ بھی میں نے آف کی تھی یہ اس لیے۔کیا ایک تو میرا ذیشان سے پیچھا چھوٹ جائے دوسرا حرین سے تپھڑ کا بدلہ لے سکوں جو میں نے کر لیا ہے اور اب تم مجھ سے کوئی سوال نہیں کرو گے۔ نتاشا نے اسے ساری بات بتاتے ہوئے کہا۔اچھا۔فائیک نے کہا۔ جب ذیشان نے صبح بات کی تو مجھے غصہ کیوں نہیں آیا کل رات جو انہوں نے حرکت نہ ہی مجھے اس حرکت پر غصہ آیا اور اس علینہ کو ان کے ساتھ دیکھ کے مجھے اتنا غصہ کیوں آیا یہ مجھے کیا ہو رہا ہے کیا ذیشان سچ تو نہیں کہ رہے کے مجھے ان سے نہیں حرین یہ تو کیا سوچ رہی ہے ایسا کچھ نہیں۔حرین نے خود میں ہی بولتی چلی جارہی تھیں نہیں تم ٹھیک سوچ رہی ہو تمہیں مجھ سے محبت ہو گئی ہے۔ ذیشان کمرے میں آتا ہوا بولا ۔ حرین کو دھچکا لگا۔آ آا آپ۔ حرین نے گھبراتے ہوئے کہا۔ ہاں میں میری جان ذیشان نے حرین کو اپنے قریب کرتے ہوئے کہا۔ ہوگئی نہ مجھ سی محبت کہا تھا بہت جلد ہوگی۔ذیشان نے اپنے ہونٹ حرین کے قریب کرتے ہوئے کہا۔ حرین چپ ہوگئی ۔ کیا ہوا کچھ تو بولو۔ ذیشان نے اس کے چہرے کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا۔ کچھ نہیں۔ حرین نے بولا۔ تم رو رہی ہو ۔ ذیشان نے پوچھا۔ حرین مگر یہ تو خوشی کی بات ہے ذیشان نے بتایا۔ مجھے محبت پہ اب یقین نہیں ہے کیونکہ اس دنیا میں ہر کوئی ایک جیسا ہوتا ہے کوئی کسی کا یقین نہیں کرتا مجھے محبت کے نام سے ہی نفرت ہو گئ تھی مگر پھر بھی ہوگئی۔ حرین نے روتے ہوئے ذیشان کے کندھے پہ سر رکھتے ہوئے بولا۔ تمہیں مجھ پہ یقین نہیں ہے۔ ذیشان نے پوچھا۔ مجھے آپ پہ پورا یقین ہے مگر قسمت میں کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔ حرین نے اسے بتایا ۔ حرین میری جان اچھا سوچو اچھا سوچو گی اچھا ہو گا اب بس ہم نے یہ سوچنا ہے کہ ہم نے زندگی کے ہر سفر میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا اور خوش رہنا ہے۔ ذیشان اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔ حرین نے ہاں میں سر ہلایا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ذیشان نے حرین کی کمر میں ہاتھ ڈالا ذیشان نے اپنے ہونٹ حرین کے ہونٹ میں رکھے اور حرین نے اپنی آنکھیں بند کر لیں ذیشان نے پانچ سے دس منٹ تک اس کے ہونٹوں کو آزاد نہیں کیا اس کے ہونٹوں کو آزاد کرنے کے بعد ذیشان نے حرین کو اپنی باہوں میں اٹھایا اور بیڈ پہ لٹایا حرین نے اپنی آنکھیں بند ہی رکھیں ذیشان نے کمر ے کو لاک کیا اس کے بعد کمرے کی لائٹ آف کی۔ پھر دوبارہ حرین کی جانب آیا حرین کی گال پہ کس کی پھر دوسری گال پہ کی اس کے بعد وہ اس کی گردن پہ جھکا حرین بس اس کی شدتوں کو برداشت کر سکتی تھی۔ پھر ذیشان حرین کے سینے میں آیا پھر اس نے ادھر اپنے پیار کی برسات کی حرین اس کی شدتوں کو محسوس کر رہی تھی حرین کی آنکھیں بند تھی ۔ذیشان آہستہ اہستہ کر کے حرین پہ اپنے شدتیں اتارتا گیا پھر وقفے وقفے سے پوری رات اس پہ اپنی محبت برساتا رہا۔ حرین کی جب آنکھ لگی تب جا کے ذیشان نے حرین کو خود کی باہوں سے آزاد کیا حرین کے سونے کے بعد ذیشان کی بھی آنکھ لگ گئی اور وہ دونوں سو گئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح جب ذیشان کی آنکھ کھلی تو حرین اس کے پاس ہی لیٹی ہوئی تھی ذیشان نے کچھ حرین کو دیکھا اور پھر حرین کے ماتھے پہ اپنے ہونٹ رکھ دیے جس سے حرین کا چہرہ بے ساختہ مسکرایا۔ذیشان بھی اسے دیکھ کے مسکرانے لگا گڈ مارننگ مائی بیوٹیفل وائف ۔ ذیشان نے حرین کو کہا۔ گڈ مارننگ حرین نے بولا۔ بس گڈ مارننگ نو کمنٹس۔ ذیشان نے پوچھا۔ حرین نے نہ میں سر ہلایا تو دونوں ہنسنے لگے۔حرین اٹھی اور واشروم کی جانب جانے لگی تو ذیشان نے اس کا ہاتھ پکڑا اسے اپنی طرف کھینچا تو حرین ذیشان میں گر گئی۔ ذیشان کیا کر رہے مجھے جانے دے نہ۔ حرین نے بولا نہیں جب تک تم مجھے کس نہیں دو گی۔ ذیشان نے کہا۔کیا۔ حرین نے بولا۔ کیا کیا مجھے کس دو شوہر ہوں تمہارا حق ہے میرا۔ ذیشان نے اسے بتایا۔ تو حرین نے ذیشان کی آنکھیوں کے آگے ہاتھ رکھتے ہوئے اپنے ہونٹ ذیشان کی گال کے قریب پھر اس کی گال پہ کاٹی کر کے فوراً بھاگ گئ۔ اوئچ رکو حرین ۔ ذیشان نے اسے کہا۔ حرین ہنستے ہوئے چلی گئی۔

جاری ہے۔

Episode 20

حرین میں نے تجھ سے کہا تھا۔ شکیلا نے حرین سے کہا۔ جی پھوپھو مجھے یاد میں نے کال کی تھی اس نے پک نہیں شاید کہیں بزی ہوگی آج پھر کروں گی ٹھیک ہے۔ حرین نے شکیلا کو سب بتایا۔ ٹھیک ہے۔ شکیلا نے کہا۔ کون سی بات امی۔ حارث نے پوچھا۔ تیری ہونے والی دلہن کی بات ہورہی ہے۔ شکیلا نے بتایا ۔ میری۔ حارث نے حیران ہو کے پوچا ۔ہاں ہاں تیری ۔ شکیلا نے بتایا۔ امی وہ لڑکی کون ہے۔ ذیشان نے پوچھا۔ رائنہ۔ شکیلا نے اسے بتایا۔ ہاں امی ان دونوں کی جوڑی لگے گی بھی۔اچھی ذیشان نے بتایا۔حارث وہاں سے اٹھ کے چلا گیا۔ اس کو کیا ہوا۔ ذیشان نے پوچھا۔لگتا ہے شرما گیا۔ شکیلا نے بولا۔اوکےمیں جا ر ہا ہوں ذیشان کہتا کرسی سے اٹھا۔ ٹھیک ہے بیٹا ۔ شکیلا کہتی اپنے کمرے کی جانب چل دی۔اور حرین برتن اٹھانے میں مصروف تھی کے تبھی۔اسے اپنے پیچھے کھڑا کوئی محسوس ہوا۔حرین نے پیچھے مڑ کے دیکھا تو ذیشان تھا۔ ذیشان حرین کی کمر میں اپنا ہاتھ ڈال کے حرین کواپنے قریب کیا۔ میری صبح رہ گئی تھی۔ ذیشان نے کہا۔ آپ جائیں آپ کو آفس کے لیے دیر ہورہی ہے۔ حرین نے پریشان ہوتے ہوئے کہا ہونے دو۔ ذیشان نے اسے اپنے اور قریب کر کے کہا۔ کوئی آجائے گا ذیشان آپ جائیں ۔ حرین نے اسے خود سے دور کرنے کے لیے ایک اور بہانا بنایا۔ آنے۔دو۔ تو وہ بھی ذیشان تھا۔ جب تک تم مجھے کس نہیں دو گیں نہیں جاؤ گا۔ذیشان نے کہا حرین کو مجبوراً اپنے ہونٹ ذیشان کی گال پہ رکھنے پڑے حرین نے اس کی گال پہ اپنے ہونٹ رکھے اور رکھنے کے فوراً پیچھے ہونا چاہا مگر وہ ذیشان کی قید میں تھی ۔ذیشان نے۔اپنی دوسری گال پہ اشارہ کیا حرین نے اس کے اس گال پہ بھی اپنے ہونٹ رکھے ۔تب جا کے کہیں ذیشان نے اسے خود سے۔دور کیا۔ اور آفس کے لیے چلا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہیلو ہاں حرین کل تیری کال آئی تھی۔ رائنہ۔نے۔کہا۔ ہاں رائنہ آج تیری فل فیملی۔گھر ہے تیرے امی۔ابو سب گھر ہیں۔ حرین نے پوچھا۔ ہاں کیوں۔رائنہ نے پوچھا میں نے آنا ہے۔ حرین نے بتایا کیا واقع ہی۔ رائنہ نے کہا۔ ہاں واقع۔ حرین نے بولا۔ پھوپھو اس کے گھر میں آج سب موجود ہیں ۔ حرین نے شکیلا کو بتایا۔ چل ہم دونوں چلیں گے تھوڑی دیر تک۔شکیلا نے کہا۔جی ٹھیک ہے۔ حرین کہتی چلی گئی۔ کیا تم اس رشتے سے خوش ہو۔ حارث نے حرین سے پوچھا۔ جی میں اس رشتے سے خوش ہوں۔ حرین نے اسے بتایا۔ کیا تم سچ میں خوش کیا تمہارے دل میں اب میرے لیے کچھ نہیں ہے۔ حارث نے کہا۔ یہ کیا فضول باتیں کررہی ہیں میں آپ کی بھابی ہوں اور آپ مجھ سے یہ فضول باتیں نہ ہی کریں تو بہتر ہو گا۔ حرین کہتی کمرے کی جانب چل دی۔ حارث چپ ہو کے خود بھی چلا گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں نے کچھ غلط کہ دیا حرین کو وہ ٹھیک کہ رہی ہے وہ میری بھابی ہے مجھے سوچنا نہیں چاہیے ۔حارث خود۔میں بولا۔ پھوپھو چلیں۔ حرین نے کہا۔ ہاں چل حارث چلیں۔ شکیلا نے حرین کو کہتے ساتھ حارث سے بولا۔ اسلام و علیکم ۔ شکیلا نے کہا۔ وسلام آئے بیٹھیں۔ فرحین نے کہا ۔ دیکھیں بھائی میں آپ سے صاف بات کروں گی۔ اس دن آپ کی بیٹی ہمارے گھر آئی اور وہ مجھے اپنے بیٹے حارث کے لیے بہت پسند آئی ہے ۔ شکیلا نے بتایا۔ دیکھیے ہمیں تھوڑا سا وقت دے ہم آپ کو جواب دیں گے۔ انصر صاحب نے کہا۔ جی ٹھیک ہے مگر میں انکار نہیں سنو گی۔ شکیلا نے کہا ۔ حرین شیشے کے سامنے کھڑے لوشن لگانے میں مصروف تھی کے یکدم ذیشان نے اسکی کمر میں اپنے ہاتھ ڈالیں حرین ڈر کی مارے پیچھے دیکھنے لگی۔ ذیشان آپ مجھے ہمیشہ ڈرا دیتے ہیں ۔ حرین نے کہا۔ اچھا آئندہ نہیں کروں گا۔ ذیشان نے اس کی باہوں میں بول رہا۔ تھا۔ مجھے یاد کیا۔ ذیشان نے پوچھا۔ بلکل بھی نہیں بلکے مجھے بہت مزے کا دن تھا۔ حرین نے کہا۔ یار کیسی بیوی ہو تم شوہر جب ایسا پوچھتا ہے تو کہتے ہیں میں نے بہت مس کیا آپ کو۔ذیشان نے اسے بتایا۔اچھا۔ حرین نے بولا تو دوںوں ہنسنے لگے۔ حارث کا کیا بنا۔ذیشان نے پوچھا۔ انہوں نے تھوڑا وقت مانگا ہے مگر مجھے لگ رہا ہے وہ ہاں کر دیگے۔ حرین نے بتایا۔پھر تمہیں دکھ نہیں ہوا۔ ذیشان نے پوچھا۔ مجھے کیوں دکھ ہو گا ۔ حرین نے آگے سوال کیا۔ تمہارا محبوب تھا۔ ذیشان نے بتایا ۔ ذیشان اگر آئندہ ایسی بات کی تو میں آپ سے بات نہیں کروں گی ۔ حرین نے غصے میں کہا۔اچھا میری جان نہیں کرتا۔ ذیشان نے کہا۔ ہمم۔حرین نے کہا۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *