Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Inteqaam (Episode 32,33)

Inteqaam by Mahnoor Shehzad

نتاشا کو خرم کی وہ بات یاد آئی کسی کا دل دکھایا ہے نہ تم نے۔ کیا اللہ نے اس لیے ایسا کیا کے میں نے ذیشان کا دل دکھایا اور وہ حرین کے ساتھ خوش نہیں ہے اس لیے میرے ساتھ ایسا ہوا تو ٹھیک میں کل صبح ہی ذیشان سے ملنے کا کہتی ہوں اور وہ کبھی انکار بھی نہیں کرے گا مجھے۔ نتاشا سوچتے سوچتے ہی سو گئی ۔ نتاشا نے صبح ہمت کر کے فون کیا۔ہائی۔نتاشا نے بولا۔ہائی ذیشان نے بولا۔ کیسے ہو۔ نتاشا نے پوچھا۔ٹھیک ہوں۔ ذیشان نے بولا۔کیا اگر تم آج شام میں مصروف نہ ہو تو ہم مل سکتے ہیں۔نتاشا نے پوچھا۔سوچ کے بتاؤ گا۔ذیشان نے بولا اوکے۔نتاشا نے کہتے ساتھ فون رکھا۔ کیا ہورہا مس وائف۔ حارث کمرے میں آتا رائنہ سے پوچھنے لگا۔ریسٹ کیونکہ انٹی اور حرین دونوں مجھے کسی کام کوہاتھ نہیں لگانے دے رہیں۔رائنہ اسے بتایا۔تو کہیں چلیں گھومنے۔حارث نے پوچھا۔ ہاں ویسے بھی بیٹھ بیٹھ کے بہت تھک گئی ہوں۔رائنہ نے ہاں میں سر ہلایا۔امی میں اور رائنہ گھومنے جارہے ہیں۔حارث نے بتایا۔ہاں جاؤ۔ شکیلا نے ہمیشہ کی طرح ہامی بڑھی۔ہاں بتاؤ کیوں بلایا ملنے کے لیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ذیشان نے نتاشا سے پوچھا۔ ذیشان میں تم سے سچ میں بہت پیار کرتی ہوں مجھے کھونے کے بعد پتہ چلا میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی اور میں جانتی ہوں میری بہن حرین تمہیں کبھی خوش رکھ ہی نہیں سکی ہو گی تم صرف میرے ہو۔نتاشا نے ذیشان کا ہاتھ پکڑ کے بولا۔ کیا بول رہی ہو اب بہت دیر ہو چکی ہیں میری شادی ہو چکی ہے ۔ ذیشان نے اپنا ہاتھ چھڑواتے ہوئے کہا۔میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں کوئی بات نہیں اگر شادی ہوگئ ہے تو تم حرین کو طلاق دے دو ۔نتاشا نے اسے بولا۔کیا بولا تم نے۔ذیشان پریشان ہوتا ہوا بولا۔ میں اسے طلاق نہیں دوں گا وعدہ کیا تھا۔ ذیشان نے بتایا۔ کوئی بات نہیں تم۔مجھ سے دوسری شادی کر لو۔تم مجھے پسند کرتے ہو نہ ابھی بھی۔نتاشا نے پوچھا۔ نتاشا دیکھو میں تم سے شادی ۔ذیشان کچھ بولتا نتاشا اس کا ہاتھ پلیز انکار مت کرو میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی مر جاؤ گی۔نتاشا نے بلیک میل کرتے ہوئے مگر وہ ایسا کچھ کرنے والی نہیں تھی۔تم پاگل ہو گئی ہوں۔۔ذیشان نے اس سے بولا۔ہاں ہوگئی ہوں تمہارے پیچھے۔نتاشا نے روتے ہوئے کہا۔اچھا میں تم سے شادی کروں گا مگر ہم کسی کو نہیں بلائیں گی اور ایک شرط بھی ہے۔ذیشان نے اسے کہا۔ہاں بولو۔وہ اس وقت بولو گا جس دن نکاح ہوگا۔ ذیشان نے اس بتایا اوکے۔نتاشا نے بولا۔اگلے ہفتے ہم دونوں نکاح کریں گے ۔ ذیشان نے اسے بتایا۔ حرین تو ٹھیک تو ہے نہ۔شکیلا کو اس کی طبیعت ٹھیک نہیں لگی تو پوچھ بیٹھی۔ ہاں پھوپھو بس صبح چکر اور الٹیاں آرہی ہیں۔ حرین نے بتایا۔کیا ذیشان آئے اسے کہتی ہوں تجھے ابھی ڈاکٹر کے پاس لے کے جائے۔ شکیلا نے بولا اسی وقت ذیشان گھر آیا۔ ذیشان حرین کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے پلیز اسے ڈاکٹر کے پاس لے جاؤ ۔ شکیلا نے بولا۔چلو حرین ہواکیا ہے۔ذیشان پریشان ہوتا ہوا پوچھنے لگا۔ چکر آرہے ہیں اور الٹیاں۔ شکیلا نے بتایا۔ اچھا چلو چلیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر سب ٹھیک تو ہیں نہ میری بیوی کو کچھ ہوا تو نہیں ذیشان پریشان ہوتا ہوا پوچھنے لگا۔سب ٹھیک بلکے گڈ نیوز ہے آپ باپ بننے والے ہیں۔ڈاکٹر نے ذیشان کو جوش کردیا۔کیا۔ ذیشان کو یقین مہ آیا تو دوبارہ پوچھنے لگا۔یس ۔ بس اپنے ان کا بہت خیال رکھنا ہے اور انہوں کو زیادہ سے زیادہ ریسٹ کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر نے بولا۔آپ بے فکر ہو جائیں اس کا بہت خیال رکھوں گا چلو گھر چلیں۔ 15 ڈیز بعد آپ انہیں چیک کروانے آئے ہر دفعہ۔ اوکے ڈاکٹر۔ ذیشان کہتا حرین کو لیتا چل دیا۔امی بہت بہت مبارک ہو آپ دادی بننے والی ہیں۔ذیشان نے گھر آتے ساتھ سب گھر والوں کو خوشخبری دی ۔کیا واقع ہی۔شکیلا نے خوشی میں کہاں ۔ اور تم دونوں چاچی چچا۔ ذیشان نے حارث اور رائنہ کو بتایا۔بہت بہت مبارک ہو بھائی آپ کو ۔ حارث ذیشان کے گلے لگتے ہوئے بولا اور رائنہ حرین کے گلے لگی۔اب سے تو نے کسی کام کو ہاتھ نہیں لگانا اب جو کریں میں رائنہ کریں گے اور تو ریسٹ۔ شکیلا نے حرین کو آرڈر دیا۔ جی۔حرین نے مختصر سا جواب دیا۔لے جا اسے کمرے میں۔شکیلا نے ذیشان سے کہا۔ جی امی ذیشان نے کہتے حرین کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے کمرے میں لے آیا ۔

Episode 33

حرین لیٹ گئی ذیشان آپ کو خوشی نہیں ہوئی۔ حرین نے۔ذیشان سے پوچھا۔نہیں میں تو بہت خوش ہوں کیوں ۔ ذیشان نے اسے بتاتے ساتھ اس سے پوچھا۔ نہیں بس ویسے ہی ۔۔حرین نے بولا۔ تم ٹینشن نہ لوں تم ریسٹ کرو ہم صبح بات کریں گے ذیشان کہتے ساتھ اپنی سائیڈ پہ لیٹ گیا۔ وہ مجھ سے آج بھی پیار کرتا ہے تم اتنے مہینے اس کے ساتھ رہ کر بھی اس کے دل میں جگہ نہیں بنا سکی حرین ۔نتاشا خوشی سے بولی بس ایک ہفتے بعد ذیشان میرا اور پھر دیکھو حرین میں تمہیں تلاخ کیسے دلواتی۔نتاشا کہتے سو گئی

مجھے معاف کردو حرین جو میں کررہا ہوں وہ میں اپنے شوق سے نہیں کر رہا مگر مجھے یہ کرنا ہو گا کیونکہ وہ ورنہ اپنے آپ کو مار دے گی ۔ذیشان اسے دیکھتا ہوا بولا جو سوتے ہوئے بہت معصوم لگ رہی تھی ذیشان اسے دیکھ کے ساری ٹینشن بھول گیا اور اسے دیکھنے لگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حرین یہ لو فروٹ کھاؤ ۔ رائنہ فروٹ لاتے ہوئے بولی۔یار بسں صبح سے بہت کچھ کھا چکی ہوں میرا دل نہیں ہے اب۔ حرین نے صاف منع کرتے ہوئے بولی۔ سوری ذیشان بھائی کا آرڈر اور اگر میں نے تمہیں نہیں کھلایا تو وہ غصہ کریں گے ۔ رائنہ نے بولتے ساتھ سیب کاٹا اور حرین کے آگے کیا حرین کو مجبوراً کھانا پڑا۔اب کیسی ہو تم ۔فائیک نے نتاشا سے پوچھا۔ بہت اچھی نتاشا نے اسے بتایا ۔ وہ کیوں۔فائیک اسے پوچھتا ہوا بولا۔وقت آنے پہ بتاؤ گی۔نتاشا نے بولا۔ اچھا ۔فائیک نے۔بولا۔ ہممممممم۔ نتاشا نے ہاں میں سر ہلایا۔ چلو تم یہ ڈیل دیکھو اگلی میں دیکھو گا حادث۔ ذیشان نے حارث سے کہا جو بہت دنوں بعد آفس آیا رھا۔ جی اوکے۔ حارث کہتا چل دیا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیسی ہو۔ ذیشان نے حرین کو کال کرتے ہوئے پوچھا۔ میں بلکل ٹھیک ہوں ۔ حرین نے بتایا ۔ فروٹ کھائیں۔ ذیشان نے پوچھا۔ ہاں میں نے سب کھایا۔ حرین نے اسے بتایا۔ گڈ گرل۔ذیشان نے بولا ۔ ٹھیک ہے تم سے تھوڑی دیر تک بات کرتا ہوں ۔ ذیشان نے کہتے ساتھ فون رکھا۔ آفس میں ہیں مگر سارا دھیان ادھر ہے۔حرین مسکراتے ہوئے بولی۔ہائے کیسے ہو۔ نتاشا نے پوچھا۔ میں ٹھیک ہوں تم بتاؤ ۔ ذیشان نے اس سے پوچھا۔ میں بلکل ٹھیک کیا ہم دونوں آج مل سکتے ہیں۔نہیں اگر ہم روز ملے تو پکڑے بھی جا سکتے ہیں میں اب تم سے نکاح والے دن ہی ملوں گا۔ ذیشان نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا۔ چلو رکھو میں آفس میں ہوں۔ذیشان نے بولا۔ یاد ہے پہلے تم آفس میں بیٹھ کے مجھ سے گھنٹوں باتیں کرتے تھے۔ نتاشا نے پوچھا۔ ہاں مگر اب کام زیادہ ہے ۔ذیشان نے اسے بتایا۔ ٹھیک ہے ۔ نتاشا نے کہتے ساتھ فون بند کیا۔ تھوڑا ناراض ہے مگر ٹھیک ہو جائے گا۔ نتاشا نے فون دیکھتے ہوئے بولا ۔ذیشان میں سوچ رہی ہوں آپی کی شادی ہوئی ہوگی یا نہیں وہ تو بہت محبت کرتی تھی آپ سے۔ حرین نے ذیشان کو کہا۔ ہو گئی ہوں اگر نہیں ہوئی ہوگی تو ہوجاے گی تم فکر مت کرو۔ ذیشان نے اسے بولا۔ تم دودھ پیو۔ ذیشان نے دودھ کے گلاس کی طرف اشارہ کیا مجھے نہیں پینا۔ حرین نے صاف منع کرتے ہوئے بولا۔ حرین ۔ذیشان نے تھوڑا سخت لہجہ کیا۔ اچھا پیتی ہوں۔ حرین کہتی دودھ کا گلاس اٹھاتی پینے لگے ذیشان نے ہلکا مسکرا دیا۔ چلو ریسٹ کرو۔ذیشان نے اسے یوچھا۔ نہیں مجھے تھوڑی دیر واک کرنی ہے۔چلو پھر گارڈن میں تھوڑی دیر واک کرتے ہیں پھر سوئے گے۔ ذیشان نے کہتے ساتھ اسے گارڈن کی جانب بولا۔اب وہ دونوں واک کررہے تھے اور کسی نہ کسی بات مسکرا دیتے۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *