Inteqaam by Mahnoor Shehzad NovelR50602 Inteqaam (Episode 17)
Rate this Novel
Inteqaam (Episode 17)
Inteqaam by Mahnoor Shehzad
امی حرین کو کہیں میرے دوست نے بلایا ہے چلے وہ کہ رہی میں نہیں جاتی۔ ذیشان نے کہا۔ تو فکر نہ کر حرین جائے گی ۔ شکیلا نے بولا۔ (حرین تم تو ضرور جاؤ گی اور آج میں یہ ثابت کروں گا کے تمہیں بھی میرے لیے کچھ نہ کچھ ہوتا ہے۔) ذیشان نے دل میں سوچا۔ کھانا لگ گیا ہے آپ لوگ آجائیں۔ حرین نے کہا۔ سب کھانے کی ٹیبل میں موجود تھے ۔ ذیشان وہ تیرے کس دوست نے تم دونوں کی دعوت کی ہے۔ شکیلا نے پوچھا۔ امی ارسلان نے مگر میں جا رہا ہوں صرف حرین نہیں جا رہی۔ ذیشان نے فل ڈرامائی انداز میں کہا۔ تم دونوں کی دعوت ہے دونوں جاؤ۔ شکیلا نے بولا۔ امی حرین کو میں نے کہا تھا ۔ مگر اس نے کہا میں نہیں جاؤ گی۔ ذیشان نے بتایا۔ کیوں نہیں جائیں گی یہ جائی گی اور میں خود تھوڑی دیر تک اسے تیار کرواکے تیرے ساتھ بھیجتی ہوں۔ شکیلا نے کہا۔ آپ نے کھانے میں جان بوچ کے آپ نے پھوپھو سے کہا نہ تاکے میں بھی جاؤ ۔حرین نے کمرے میں آتے ہوئے پوچھا ۔ہاں کہا میں نے تمہیں صبح ہی کہ دیا تھا کے تم جاؤ گی۔ ذیشان نے کہا۔حرین نے وارڈروب سے بلیو کلر کا فروک نکالا اور وہ ڈریسنگ روم میں چلی گئی ذیشان نے بھی بلیک کلر کی شرٹ اور بلیک پینٹ نکالی اور واشروم چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حرین ڈریس پہن کے آئی اور شیشے کے سامنے تیار ہونے لگی لائٹ سا بلیش شاؤن لگایا آنکھوں میں کاجل لگایا اور پنک کلر کی لپسٹک لگائی اسی ٹائم ذیشان واشروم سے تیار ہوکے نکلا اور حرین کو دیکھنے لگا ۔ایمممم سب ٹھیک ہے بس ریڈ لپسٹک لگاؤ اور بال کھولو۔ذیشان نے اسے کمینٹس دیے۔ نہیں میں ایسے ہی ٹھیک ہوں ۔حرین نے کہا۔ میں نے کہا۔ ذیشان نے آنکھیں دیکھاتے ہوئے کہا۔ اب تم پہ غصہ نہیں کرتا تم میرے بات نہیں سنتی اب سوچ رہا ہوں تم پہ غصہ کرنا شروع کردوں مگر اب تم پہ غصے نہیں آتا۔ ذیشان نے کہا۔ حرین چپ ہوگئی۔ میں انتظار کر رہا ہوں تمہارا ۔ذیشان کہتا چلا گیا۔ حرین نے ریڈ لپسٹک لگائی اور بال کھولیں اور تھوڑے آگے کردیے اور کمرے سے چلی گئی۔ حرین کمرے سے نکلی تو آگے ذیشان حارث سے بات کررہا تھا ذیشان نے حرین کو دیکھا اور دیکھتا رہ گیا۔ حرین آہستہ آہستہ قدم بڑھاتی حرین کی جانب آئی ۔ذیشان اسے دیکھنے میں مگن حرین اپنی آنکھیں نیچے کر گئی۔ اوکے بھائی پھر آپ جاؤ بعد میں بات کرتے ہیں۔ حارث نے کہا۔ ہاں ہاں ٹھیک ہے۔ ذیشان نے بولاتو حارث چلا گیا۔ لوکنگ پریٹی ۔ ذیشان نے بولا۔تھینکس ۔ حرین نے بہت ہلکی آواز میں کہا۔ چلیں حسین لڑکی۔ذیشان نے کہا۔ دونوں ادھر پہنچے۔ ذیشان یہ مجھے گھر تو نہیں لگ رہا ۔ حرین نے جگہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔ گھر میں نہیں تھی دعوت ہاٹل میں ہے۔ ذیشان نے اسے بتایا۔ ذیشان نے اپنا بازو حرین کی جانب کیا حرین نے گھبراتے ہوئے اس کے بازو میں اپنا ہاتھ ڈال لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہائی۔ ذیشان نے کہا۔ ہائی کیسا ہے۔ ارسلان نے کہا۔ میں ٹھیک ۔ ذیشان نے بولا۔ ہیلو بھابی۔ ارسلان نے حرین کی جانب ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا۔ اسلام و علیکم۔ حرین نے بولا وسلام۔ ارسلان نے کہا۔ بیٹھو۔ ارسلان نے کہا تو ذیشان اور حرین بیٹھ گیا۔ ہائے ہینڈسم ۔ علینہ آتے ہوئے بولی۔ ہائی۔ ذیشان نے کہا۔ کیسے ہو تم تو مجھے بھول ہی گئی ہو۔ علینہ نے ذیشان کو مکہ مارتے ہوئے کہا حرین اسے دیکھنے لگی۔ نہیں ایسا ہو سکتا ہے کہ میں تمہیں بھول جاؤ۔ذیشان کا جواب سن کے حرین کو غصہ آنے لگا ۔ (گھر میں مجھے کہتے کے تمہارے بغیر رہ نہیں سکتے اور ادھر اس لڑکی کو بھی یہی کہ رہے ہیں خیر میں کیوں سوچ رہی مجھے کون سا فرق پڑتا ہے۔) حرین دل میں بولی۔ ول یو ڈانس ود می۔ علینہ نے ذیشان سے کہا۔ یہ شیور۔ ذیشان نے کہتے اسے سٹیج میں لے گیا۔
جاری ہے
