Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Inteqaam (Episode 05,06)

Inteqaam by Mahnoor Shehzad

یہ دودھ ہلدی ۔فاطمہ جی نے گلاس حرین کے ہاتھ میں پکراتے ہوئے کہا۔ ذیشان بہت شکریہ آپ کا ۔فاطمہ جی نے کہا۔ جی نہیں ممانی شکریہ کی بات نہیں یہ تو میرا فرض ہے۔ذیشان نے بولا۔ اچھا رکو میں تمہارے لیے چائے بناتی ہوں ۔ فاطمہ جی نے بولا۔امی چائے میں بناتی ہوں۔ نتاشا نے کہا۔ ہاں جلدی بنا کے لے آ ذیشان کیلیے ۔فاطمہ جی نے ہامی بڑھتے ہوئے کہا۔ جی ۔ نتاشا ذیشان کو دیکھ کے مسکراتی ہوئی بولی ۔ حرین تو آج سکول کیوں نہیں آئی۔ رائنہ نے فون کر کہ پوچھا۔ یار پیر میں موچ آگئی۔حرین نے بتایا۔ کیسے۔ رائنہ نے پریشان ہوتے ہوئے پوچھا ۔ یار کار سے ٹکڑ ہوگئ ۔ حرین نے اسے پوری بات بتائیں ۔ تو ٹھیک تو ہے نہ۔ رائنہ نے پوچھا ۔ ہاں میں بلکل ٹھیک ہوں۔ حرین نے بتایا۔ اوکے اپنا دھیان رکھ میں تھوڑی دیر تک فون کرتی ہوں۔رائنہ نے بولا۔ اوکے۔ حرین نے فون رکھا۔ چائے۔ نتاشا چائے کا کپ ذیشان کی طرف بڑھاتے ھوئے کہا۔ شکریہ۔ ذیشان کپ لیتے ہوئے کہا۔ امی میں کمرے میں ریسٹ کرنے جارہی ہوں۔ حرین کہتی چلی گئی۔ کہاں رہ گیا تیرا بھائی اب تک نہیں آیا۔

_________________________________

شکیلا نے کہا۔ امی آتے ہوگے ۔ حارث نے کہا۔ ممانی اب اجازت دیں بہت دیر ہوگئی۔ ذیشان نے کہا۔ چل ٹھیک ہے خیال سے جائے۔ فاطمہ جی نے بولا۔ اللّٰہ حافظ۔ ذیشان نے کہا۔ اللہ حافظ۔ فاطمہ جی نے جواب دیا۔ کہاں رہ گیا تھا۔ شکیلا نے ذیشان سے پوچھا۔ امی حرین کا ایکسیڈینٹ ہو گیا تھا اسے ہاسپیٹل لے گیا اس کے بعد اسے گھر چھوڑا اور ممانی نے چائے پلائی پھر اب آیا۔ ذیشان نے تفصیل سے سب کچھ بتایا۔ کیسے ہے اب حرین چل چلیں ملنے اسے۔ شکیلا نے کہا ۔ کل چلنا میرا رشتہ لے کہ اور حرین کی طبعیت کا پوچھ لینا۔ ذیشان نے کہا ۔ اچھا صحیح ہے۔ شکیلا نے کہا۔ ہیلو کیا ہوا کیسے ہوا کیسی ہو تم۔حارث سوال پہ سوال کرتا چلا گیا ۔ حارث میں بلکل ٹھیک مجھے پتہ تھا ذیشان بھائی نے یہ بات کرنی گھر جا کے اور آپ کا فوراً فون آجانا ہے۔ میں تمہیں ابھی دیکھنے آرہا ہوں ۔ حارث نے کہا۔ نہیں ابھی نہیں اب ابو کا آنے کا وقت ہو رہا آپ پھر آنا۔حرین نے بتایا۔ یار۔ حارث پریشان ہوتا ہوا بولا۔میں بلکل ٹھیک ہوں اب تو درد بھی نہیں ہے اس جگہ پہ ۔ حرین نے بتایا ۔ حرین اپنا دھیان رکھنا میں کل پکا آؤں گا۔ حارث نے کہا۔ اچھا ٹھیک ہے۔ اب میں رکھو فون ورنہ کوئی آجائے گا۔ حرین نے بولا۔ اوکے اپنا خیال رکھنا۔ حارث نے کہتے ساتھ فون رکھا۔

_________________________________

کیسا ہے پاؤں ۔ نتاشا نے۔کمرے میں آتے ہوئے پوچھا۔ ہاں اب بہت بہتر ہے۔ حرین نے بتایا صبح تک اور بھی بہتر ہو جائے گا۔ نتاشا نے بولا۔ ہاں ۔ حرین نے ہاں میں سر ہلا۔ یہ لے۔دودھ ہلدی ایک اور دفعہ پیے گی نہ کل تک تیرا پیر بلکل ٹھیک ہو جائے گا۔فاطمہ جی نے کہا۔ اچھا امی آپ رکھ دے میں ابھی پی لوں گی۔ حرین نے بولا ۔اچھا۔ فاطمہ جی میز پہ رکھتے ہوئے بولی ۔ چل اب سو جا۔ فاطمہ جی حرین کو کہتی چلی گئی۔ بھائی آپ یہاں ایسی کیوں کھڑے ہوں ۔ حارث نے۔پوچھا۔یار ویسے میں ایک بات سوچ رہا نتاشا اور حرین کے مزاج کتنے مختلف ہے نہ دونوں کے مزاج سے کہیں سے نہیں لگتا دونوں بہنیں ہیں۔ ذیشان نے بتایا۔ ہاں بھائی حرین بہت نرم مزاج کی ہے اور نتاشا بہت چڑچڑے مزاج کی ہے۔ حارث نے ہامی بڑھتے ہوئے کہا۔ ہاں مگر نتاشا دل کی بری نہیں ہے۔ ذیشان نے بولا۔ جی بھائی۔ حارث کہتا چلا گیا۔ میں بہت کمال کا پلان سوچی بھیٹھی ہوں اب اس میں کوئی غلطی نہ ہوں بس۔نتاشا دل میں سوچتی ہوئے بولی۔ آپی آپ ابھی تک جاگ رہی ہو۔ حرین نے نتاشا کو جاگتے دیکھ کے بولا۔ ہاں نیند نہیں آرہی ہے۔ نتاشا نے بتایا۔ اچھا ۔ حرین کہتی دوبارہ سو گئی۔ نتاشا بھی آنکھیں بند کرکے سو گئی۔

_________________________________

امی میں چلتا ہوں ۔ ذیشان نے کہا۔ جلدی آجائیں جانا ہے تیرے ماموں کی طرف۔ شکیلا نے کہا۔ جی۔ ذیشان کہتا چلا گیا۔امی کب جائیں گے۔حارث نے۔پوچھا۔ تیرا بھائی جیسے آئے گا ویسے چلیں گے۔ شکیلا نے بتایا۔ اچھا۔ حارث نے بولا۔

جاری ہے۔

Episode 06

امی چلیں نہ دیر ہورہی ہے۔ ذیشان نے کہا۔ہاں ہاں بس ہوگئی تیار اتاولے۔ شکیلا نے بولا۔ چلیں اگر آپ لوگوں کی باتیں ختم ہو گئی ہوں ۔حارث نے آتے ساتھ کہا۔ تمہارے سے زیادہ اسے جلدی ہے چلو بھائی اسے پہلے کہ دونوں بھائی مجھے گھسیٹ کے لے جاؤ۔ شکیلا نے ہنستے ہوئے کہا۔ اسلام علیکم پھوپھو۔ نتاشا نے کہا۔ وسلام ۔ شکیلا نے جواب دیا۔ حرین آرام سے آ ۔ فاطمہ جی نے کہا۔ میں بلکل ٹھیک ہوں امی یہ دیکھے میں ٹھیک سے چل رہی ہوں ۔حرین نے چلتے ساتھ کہا۔ اسلام علیکم پھوپھو۔ حرین نے شکیلا کے پاس آتے ہوئے بولا۔ وسلام کیسے ہے میری گڑیا ۔ شکیلا نے کہا ۔ میں بلکل ٹھیک ہوں۔حرین نے کہا۔ اچھا یہ تو اچھی بات ہے ۔ شکیلا نے بولا۔ بھائی میں آپ سے ایک اور بات بھی کرنے آئی ہوں۔شکیلا نے عاقب صاحب سے بولا۔ ہاں بولو۔ عاقب صاحب نے کہا۔ میں اپنے بیٹے ذیشان کا ہاتھ نتاشا کے لیے مانگتی ہوں اور میں انکار بلکل نہیں سنو گی۔شکیلا نے بات بتائیں۔مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے بس ایک دفعہ نتاشا سے پوچھ لیں ۔ عاقب صاحب نے کہا۔ بتاؤ بیٹا تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں ۔ شکیلا نے پوچھا۔ جیسے امی اور ابو کی مرضی۔ نتاشا نے کہا۔ تو اس بات پہ منہ میٹھا کرنا تو بنتا ہے ۔ حرین نے بولا۔ ہاں نتاشا کچن میں میٹھائی پڑی لے آ۔ فاطمہ جی نے کہا۔ جی امی ۔ نتاشا کہتی کچن کے جانب گئی۔

_________________________________

میں ایک منٹ میں آتا ہوں ذیشان کہتا فاطمہ جی کے کمرے کی جانب گیا۔ حرین ذرا جا کہ ذیشان کو بلا کے آ کہ ماموں نے بات کرنی ہے ۔ شکیلا نے کہا۔ جی پھوپھو۔ حرین کہتی چلی گئی۔ واہ کمال کی قسمت ہے میری میٹھائی رکھ کے آتی جلدی سے۔ نتاشا کہتے ٹی وی لاؤنچ کی جانب گئی۔ میں ایک منٹ میں آئی نتاشا کہتے حرین کے پیچھے گئی ۔ ذیشان بھائی آپ کو پھوپھو بلا رہی ہے۔حرین نے بولا ہی کہ یکدم دروازہ بند ہوا ۔ یہ کیسے ہوا۔ ذیشان نے کہا۔ پتہ نہیں حرین نے بولا۔ ایک منٹ رکو۔ میں دیکھتا ہوں ۔ ذیشان نے حرین کو بولا۔ جلدی سے بریکر کو نیچے کر تاکہ کوئی دیکھے نہ مجھے ۔ نتاشا نے خود میں بولا۔ ذیشان بھائی۔ حرین نے ذیشان کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔ ہاں ۔ ذیشان نے بولا۔ آپ یہی کھڑے رہے مجھے اندھیرے سے ڈر لگتا ہے۔ حرین نے بولا ۔ اچھا اچھا میں یہی ہوں ۔ چل اب لائیٹ آن کر دیتی ہوں۔ نتاشا نے بریکر اوپر کرتے ہوئے کہا۔

_________________________________

۔ یہ کیا ہے۔ نتاشا نے دروازہ کھولتے ہوئے کہا۔ نہیں جو تم سمجھ رہی ہوں نتاشا وہ بات نہیں ہے۔ ذیشان نے حرین کو اپنے سے دور کرتے ہوئے کہا۔ ہاں آپی آپ تو جانتی ہے کہ مجھے اندھیرے سے ڈر لگتا ہے اور دروازہ بھی لاک ہوگیا۔ حرین نے صفائی پیش کی۔ ہاں سب ابھی ہونا تھا اگر تم حرین کو پسند کرتے تھے تو مجھے بول دیتے میں تمہاری زندگی سے چلی جاتی۔ نتاشا روتے ہوئے بولی۔ نتاشا ایسا کچھ بھی نہیں ہے میں تم سے ہی پیار کرتا ہوں۔ ذیشان نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔ میرے قریب مت آنا اور تجھے شرم نہیں آئے اپنے بہنوئی کے ساتھ چکڑ چلا تے ہوئے۔ نتاشا نے حرین کو دکھا دیتے ھوئے کہا۔ نہیں آپی ایسا کچھ نہیں ہے۔ حرین نے کہا۔ ایسا ہی ہے تم نے اپنی بہن کو دھوکا دیا۔ ہے۔ نتاشا نے چلاتے ہوئے کہا۔ ذیشان بھائی آپ کچھ بولے نا۔ حرین ذیشان کے پاس آتے ہوئے کہا۔

_________________________________

یہ شور کیسا ہے۔ شکیلا نے کہا۔ چل کے

دیکھتے ہے۔ فاطمہ جی نے بولا۔ کیا ہوا۔ فاطمہ جی نے نتاشا سے پوچھا۔ پوچھے اپنی لاڈلی سے کمرہ بند کرکے کھڑے تھے ذیشان اور یہ اور جیسے ہی میں نے دروازہ کھولا ذیشان کا ہاتھ پکڑ کے اس کے کندھے پہ سر رکھی کھڑی تھی۔نتاشا کے بولتے ہی سب کو دھچکا لگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *