Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Inteqaam (Episode 16)

Inteqaam by Mahnoor Shehzad

ہیلوذیشان ڈرائنگ روم میں آکے بولا۔ ہائی ۔ رائنہ نے کہا۔ تو آپ ہی ان کی دوست۔ ذیشان نے پوچھا۔ جی میرا نام رائنہ ہے ۔ رائنہ نے اپنا تعارف کروایا ۔ اچھا۔ ذیشان کہتا حرین کو دیکھنے لگا۔ امی چائے بنا دو۔ حارث کچن میں آتا ہوا بولا ۔ بیٹا ڈرائنگ روم میں آرہی ہے چائے تو وہاں جا کے بیٹھ میں چائے لے کے آتی ہوں ۔شکیلا نے حارث سے بولا۔ میں نے آپ لوگوں کو ڈسٹرب تو نہیں کیا۔ حارث ڈرائنگ روم میں آتا ہوا بولا۔ نہیں آجا۔ ذیشان نے کہا۔ تم مجھے بہت انٹیلیجنٹ گرل لگتی ہو تو تھوڑا پرسنل سوال پوچھ رہا ہوں ذیشان نے رائنہ سے کہا۔ نہیں آپ پوچھ لیں۔ رائنہ نے بولا۔ جب آپ کا شوہر گھر آئے گا آفس سے تھکا ہارا تو آپ کیا کریں گی ۔ ذیشان نے پوچھا ۔ میں میں اسے اس کا دن پوچھتی اور یہ پوچھتی کے آپ نے مجھے مس کیا۔ رائنہ نے بولا۔ کچھ اپنی فرینڈ کو بھی سیکھا دو۔ ذیشان نے کہا تو رائنہ ہنس دی۔ میں پھوپھو کو دیکھ کے آئی تم یہی بیٹھو۔ حرین کہتی اٹھنے لگی۔ تم کیا پھوپھو کو دیکھے گی پھوپھو خود ہی آ گئی۔ شکیلا ڈرائنگ روم میں آتی بولی۔ حرین نے شکیلا سے ٹی ٹرالی لی اور چائی بنانے لگی پہلے اس نے چائے کا کپ رائنہ کو دیا پھر ذیشان کی جانب کیا تو ذیشان نے چائے کے کپ کے ساتھ حرین کا ہاتھ بھی پکڑنا چاہا مگر حرین نے پیچھے کرلیا ۔پھر اس نے حارث کو دی اور شکیلا کو دی پھر بہت سی باتیں کرتی رہیں رائنہ اور حرین حرین جب ہنستی تو ذیشان کے چہرے پہ خودبخور مسکراہٹ آجاتی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ کو اتنا زیادہ فری ہونے کو کس نے کہا تھا۔ حرین نے پوچھا۔ جلنے کی بدبو آرہی ہے ۔ ذیشان نے کہا۔ کہاں سے۔ حرین نے پاگلوں والا سوال کیا۔ تم سے ۔ ذیشان نے کہتے ساتھ اونچا قہقہ لگایا۔ میں کیوں ہو گی جیلس۔ حرین نے کہا۔ مان لو تم جب مجھے کسی اور کے ساتھ بات کرتا دیکھتی ہو تو تم جلتی تمہیں اچھا نہیں لگتا۔ زیشان نے بولا۔ نہیں جی ایسا کچھ نہیں ہے ۔ حرین نے کہا ۔ چلو اب میں یہ ثابت کرکے دیکھاؤ گا ۔ ذیشان نے بولا دیکھتے ہیں۔ حرین نے کہا۔ دیکھتے ہیں۔ ذیشان بولا۔ وہ آپ جلتے ہیں مجھے کسی اور سے بات کرتے دیکھ کے۔ حرین نے بولا۔ ہاں مجھے تو غصہ آتا ہے دیکھ کے ۔ ذیشان نے صاف کہا۔ حرین چپ ہو کے صوفے پہ لیٹ گئی۔ حرین آج سے تم بیڈ پہ سو گی۔ ذیشان نے کہا ۔ نہیں میں یہی سو گی۔ حرین نے کہا۔ حرین میں لاسٹ ٹائم کہ رہا ہو ورنہ تم جانتی ہو میں کیا کر سکتا ہوں ۔ ذیشان نے بولا۔ حرین آہستہ آہستہ قدم بڑھاتی بیڈ کے پاس آئی اور بیڈ پہ لیٹ گئی۔ آج بتا رہا ہوں آئندہ نہیں کہو گا۔ ذیشان نے کہتے ساتھ دوسری طرف منہ کیا۔ حرین بھی آنکھیں بند کرکے سو گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح جب ذیشان کی آنکھ کھلی تو اس نے حرین کو اپنے قریب پایا حرین نے ذیشان کو گلے لگایا ہو تھا ذیشان اسے دیکھ مسکرانے لگا وہ اس پہ جھکنے ہی لگا اس سے پہلے حرین کی آنکھ کھل۔گئی حرین فوراً پیچھے ہوئی ۔ آپ کیا کر رہے تھے۔ حرین نے گھبراتے ہوئی پوچھا۔ کنٹرول نہیں ہوا تمہیں دیکھ کے اس لیے تم پہ جھکنے لگا مگر تم اٹھ گئی۔ ذیشان نے پر سکون ہوکے بتایا۔ آپکو شرم نہیں آتی ایسے بولتے ہوئے ۔ حرین نے بولا۔ نہیں۔ ذیشان نے بولا۔ آج میرے دوست ارسلان نے ہم دونوں کو انوائٹ کیا ہے۔ ذیشان نے بتایا۔ میں نہیں جاؤ گی آپ چلے جانا۔ حرین نے بولا ۔تم بھی چلو گی۔ ذیشان کہتا واش روم چلا گیا۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *