Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Inteqaam (Episode 30)

Inteqaam by Mahnoor Shehzad

آج بارات کا دن تھا حرین رائنہ کے ساتھ پارلر گئی ہوئی تھی اور حارث اور ذیشان گھر پہ تیار ہورہے تھے شکیلا بھی ان کے ساتھ تھی ۔ رائنہ نے گولڈن کلر کا لہنگا پہنا تھا ۔ بالوں کا جوڑا بنایا ہوا تھا ۔میک اپ بھی زبردست کا کیا ہواتھا وہ بہت پیاری لگ رہی تھی حرین کا ڈریس پنک کلر کا تھا لائٹ سے میک اپ میں ہمیشہ کی طرح خوبصورت لگ رہی تھی۔ ذیشان اور حارث تیار تھے وہ دونوں کلب آچکے تھے اور حرین اور رائنہ پارلر سے ہی کلب آئے تھے ۔حارث نے اپنے ہاتھ رائنہ کی جانب بڑھایا رائنہ اس کا ہاتھ دھام کے سٹیج پہ بیٹھی تھی ۔ جوڑی بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔وہ دونوں بہت خوش لگ رہے تھے ۔ شکیلا کے دل کو تسلی ہوئی کہ دونوں بچوں کی۔شادی دیکھ لی ہے اور اس کو بہوؤں بھی بہت پیاری اور اچھے دل کی ملی ہیں

چلیں اب رخصتی کا وقت ہو چکا ہے۔ انصر صاحب نے بولا۔ رائنہ اپنے ماں باپ کے گلے لگ کے رونے لگ گئی اسے دیکھ حرین کو بھی رونا آگیا وہ تو اپنے باپ کے گلے لگ کے رو بھی نہیں سکی تھی آج تک یہ بات اسے تڑپا دیتی ہیں ۔ اب وہ لوگ گھر آچکے تھے رائنہ کو حارث کے کمرے میں بیٹھایا گیا تھا شکیلا اپنے کمرے میں چلی گئی تھی حرین اور ذیشان بھی کمرے میں چلیں گئے تھے حارث اپنے کمرے کی جانب گیا دروازے کو لاک کیا اور رائنہ کے پاس آیا۔ بہت حسین لگ رہی ہو۔ حارث نے اس کے ہاتھ میں رنگ پہناتے ہوئے کہا ۔ شکریہ۔رائنہ نے بولا۔تعریف کے لیے یہ گفٹ کے لیے ۔ حارث نے پوچھا۔ دونوں کے لیے۔رائنہ نے نظریں نیچیں کرتے ہوئے کہا ۔ تو ذیشان مسکرا دیا۔ تم شرماتے ہوئے اور بھی حسین لگتی ہو۔ حارث اس کے قریب ہوتا ہوا بولا۔ تو رائنہ کچھ نہ بولی اب تھینکس نہیں بولو گی حارث نے اسے تنگ کرنا چاہا۔ ج جی شکریہ۔ رائنہ نے گھبراتے ہوئے بولا۔ میں تمہارے ہاتھ پہ کس کر سکتا ہوں۔حارث نے رائنہ سے پوچھا۔ رائنہ نے اپنا ہاتھ خود آگے کیا حارث نے اس کے ہاتھ پہ کس کیا۔ اور پھر اس کے گال پہ اپنے دونوں ہاتھ رکھے اور رائنہ کے نرم ہونٹوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دیے رائنہ نے اپنے آنکھیں بند کر لیں کس کرنے کے بعد اس نے لائٹ اوف کر دی ۔صبح سب ناشتے پہ موجود تھے رائنہ کے گھر سے فرحین اور انصر صاحب ناشتہ لائے تھے ۔ سب کوگون نے مل کے ناشتہ کیا اس کے بعد حرین اور رائنہ پارلر گئے تھے ولیمے کے لیے تیار ہونے

۔ رائنہ کا گرے کلر کا ڈریس تھا اور حرین کا وائٹ کلر کا ڈریس تھا دونوں ہی بہت خوبصورت لگ رہیں تھی ۔ ولیمے کا بہت چھوٹا فنکشن ہوا تھا لیکن حارث بھی بہت کمال لگ رہا تھا بلیک پینٹ کورٹ پہ اور ذیشان نے وائنٹ پینٹ کورٹ پہنا تھا حرین اور ذیشان دونوں کا ڈریس ایک کلر کا تھا ۔وہ بہت ہی پیارے لگ رہے تھے مگر دونوں ہی اپنی جگہ پریشان تھے مگر لوگوں کو دیکھانے کے لیے وہ بہت خو ش تھے۔ حرین بس اب اور تم۔اداس نہیں رہو گی پتا نہیں کیوں مگر مجھے اس لڑکے کی بات سچ لگ رہی ۔ ذیشان نے دل میں کہا۔ اب تم۔اپنی امی سے بھی ملو گی اور اپنے ابو سے بھی۔ ذیشان اسے دیکھ کے دل میں سوچ رہا تھا۔ امی مجھے آج آنے میں تھوڑی دیر ہو جائے گی آفس میں کام زیادہ ہو گا بہت دنوں بعد جارہا ہوں۔ ذیشان نے شکیلا سے بولا تاکہ وہ پریشان نہ ہوں۔اچھا۔شکیلا نے بولا ذیشان چلا گیا۔ فائیک 4 بجے تم مجھے کیفے ٹیریا ملنا ۔ذیشان آفس میں جاتے ہی فائیک کو کال کی ۔فائیک نے کہتے ساتھ فون رکھا۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *