Inteqaam by Mahnoor Shehzad NovelR50602 Inteqaam (Episode 09)
Rate this Novel
Inteqaam (Episode 09)
Inteqaam by Mahnoor Shehzad
اٹھو چلو اب صوفے پہ جا کے سو۔ ذیشان شام کو گھر آتے ہوئے بولا۔ مسئلہ کیا ہے آپ کا کبھی کہتے ہے ادھر سو تو کبھی کہتے ادھر سو۔ حرین تنگ آکے بولی۔ احسان مانو میرا کہ۔میں نے تم سے نکاح کر لیا ورنہ تمھارے گھر والے تمہیں طعنے مار مار کے تمہاری زندگی عذاب بنا دیتے۔ ذیشان نے بولا۔ میں نے کہا تھا آپ کو مجھ سے شادی کرنے کا بولیں سن لیتی میں اپنے گھر والوں کے طعنے ۔ حرین نے بولا۔ یار میں پہلے بہت تھکا ہوا گھر آیا ہو اس لیے میں کوئی بحث نہیں کرنا چا ہتا چپ چاپ صوفے پہ جا کے سو جاؤ۔ ذیشان نے شادی کے بعد حرین سے پہلی دفعہ نرم لہجے میں بات کی تھی۔ حرین تکیہ لیتی چلی گئی۔ حرین سے پہلے آج بھی ذیشان کی آنکھ کھلی تھی۔ حرین اٹھو۔ ذیشان نے کہا۔ جی ۔ کپڑے نکالو میرے اور ناشتہ بناؤ۔ ذیشان نے غصے میں کہا۔ رکو۔ ذیشان نے اسے جاتے ہوئے روکا۔ جی۔ حرین نے بولا۔ میری ایک بات کا جواب دو کیا تم اور حارث ایک دوسرے میں انٹرسڑڈ تھے ۔ ذیشان نے پوچھا تو حرین کو جھٹکا لگا۔ نہ۔نہی۔نہیں۔ حرین نے گھبراتے ہوئے کہا۔ جھوٹ سے سخت نفرت ہے مجھے سچ بتاؤ۔ ذیشان نے اس کا بازو پکڑتے ہوئے کہا۔ ذیشان میرا بازو چھوڑے مجھے درد ہو رہا ہے۔ حرین نے بولا۔ میری بات کا جواب دو۔ ذیشان نے گرفت اور مضبوط کی۔ جی ۔حرین نے بولا تو ذیشان نے اسے فوراً چھوڑا۔ یہ بات تم مجھے پہلے نہیں بتا سکتی تھی۔ ذیشان نے کہا۔ آپ نے کچھ بولنے کا موقع دیا مجھے ۔ حرین نے کہا۔ اس میں ہم بعد میں بات کریں گے ابھی مجھے آفس کیلیے دیر ہورہی ۔ ذیشان نے کہتے باتھروم کی جانب قدم بڑھائی۔حرین نے ذیشان کے کپڑے نکالے اور کمرے سے باہر آگئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔ شام کو مجھے نفیسا کے گھر چھوڑ نا ہے تو نے۔ شکیلا نے کہا۔ جی ٹھیک ہے امی۔ ذیشان کہتا جا نے لگا۔ بھائی میں ۔ حارث پیچھے سے آتا ہوا بولا۔ تم نےچلنا ہے ۔ ذیشان نے پوچھا۔ جی۔ حارث نے بولا۔ یار ایم سوری مجھے نہیں پتہ تھا تو حرین سے محبت کرتا ہے اگر تم مجھے بتا دیتا تو میں اس سے نکاح نہیں کرتا ۔ ذیشان نے بولا۔ بھائی۔مجھے نہیں کرنی تھی اس بدکار لڑکی سے شادی ۔ حارث نے بولا۔ یہ ہے تیری محبت اس پہ یقین تک نہیں ہے تجھے اور کہتا محبت کرتا تھا اسے اس طرح اپنے بھائی پہ یقین نہیں ہے تجھے اس بیچاری کا کوئی قصور نہیں ہے حارث نہ اس کے باپ نے یقین کیا نہ اس کی ماں اور نتاشا۔ ذیشان کہتا چپ ہوگیا۔ بھائی کیا میں نے غلط کیا حرین کے ساتھ۔ حارث نے پوچھا ۔ جی مگر اب تو جو ہونا تھا وہ ہوگیا حارث۔ ذیشان نے کہتے ساتھ گاڑی آفس کے سامنے روکی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔ ادھر بیٹھ بتا مجھے ذیشان تجھ سے بدتمیزی سے تو نہیں بات کرتا نا۔ شکیلا نے پوچھا۔ جی پھوپھو بلکل ٹھیک لہجے میں بات کرتے ہیں۔ حرین نے کہا۔ اچھا ۔ شکیلا۔ امی آپ تیار ہے چھوڑ آؤ آپ کو۔ ذیشان کمرے۔میں آتا ہوا بولا۔ ہاں چل۔ شکیلا کہتی اٹھی ۔ اپنا دھیان رکھی۔ شکیلا نے حرین کو کہتے کمرے سے چلی گئی۔آجا۔ شکیلا نے ذیشان کو کہا۔ جی۔ ذیشان نے بولا۔ دروازہ بند کرکے بیٹھنا اور پوچھے بنا دروازہ مت کھولنا۔ ذیشان نے حرین کو کہا۔ جی۔ حرین نے بولا۔
