Inteqaam by Mahnoor Shehzad NovelR50602 Inteqaam (Episode 23)
Rate this Novel
Inteqaam (Episode 23)
Inteqaam by Mahnoor Shehzad
حرین ابھی تک ذیشان کے سینے سے لگی ہوئی تھی ذیشان نے حرین کو بیڈ پہ لٹایا اور خود اس کے اوپر آیا۔ ذیشان نے حرین کی گردن میں اپنے ہونٹ رکھ دیے حرین اپنے میں بےبس ذیشان کی محبت کی لہر کو محسوس کر رہی تھی۔ باہر بارش ہورہی تھی اور اندر ذیشان حرین پہ محبت کی برسات برسا رہا تھا۔حرین اس کی برسات میں بھیگ رہی تھی۔ صبح سب ناشتے کی ٹیبل میں موجود تھے۔ حرین ناشتہ لگوا رہی تھی کے ۔ان کا فون آیا اور وہ کہ رہے تھے ان کا رشتہ منظور ہے۔ شکیلا نے سب کو بتایا۔ یہ تو بہت اچھی خوشخبری ہے۔ذیشان نے کہا۔ ہاں ۔ شکیلا نے بولا۔ پھوپھو کب بلایا انہوں نے۔ حرین جو کافی دیر سے خاموش تھی بولی۔ انہوں نے دو دن بعد نکاح کا دن دیا ہے ۔ شکیلا نے بتایا۔ اچھا یہ تو پھر اور بھی اچھی بات ہے ۔ حرین نے بولا اور اس کے ایک ہفتے بعد رخصتی ہو گی۔شکیلا نے بتایا۔ مبارک ہو۔ ذیشان نے حارث سے کہا جو کافی دیر سے ان سب کی باتیں سن رہاتھا۔ شکریہ بھائی۔حارث نے مسکرا کے کہا۔ اب سب ناشتے میں کرنے لگے۔ امی چلیں اب ہم چلتے ہیں بہت دیر ہورہی ہے ۔اللہ حافظ۔ ذیشان نے بولا۔اللہ حافظ۔شکیلا نے جواب دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یار ایک منٹ اپنے فون کا لاک کھول کے دو گی مجھے فون کرنا ہے۔ فائیک نے نتاشا کا فون اٹھاتے ہوئے کہا۔ کس کو۔ نتاشا نے پوچھا۔ اپنے ایک دوست کو اسے تم سے ماڈلنگ کروانی ہے۔ فائیک نے بتایا۔ اچھا ٹھیک ہے میں بل پے کرکے آتی ہوں تم اپنے فرینڈ سے کال پہ بات کرو۔ نتاشا کہتی اٹھ کے چلی گئی۔ یار کس نام سے نمبر سیف ہوگا ذیشان کے نام سے بھی نہیں ہے یار اب میں یہ کیسے پوچھوں گا نتاشا کو ۔فائیک نے خود میں کہا۔ کیا ہوا۔ نتاشا نے آکے بولا ۔اس نے نہیں اٹھایا۔ فائیک نے بتایا۔اوہ نتاشا نے کہا۔ ہممممم۔ فائیک نے ہاں میں سر ہلایا۔ چلیں ۔ فائیک نے پوچھا ۔ ہاں چلو۔نتاشا نے کہا۔ مجھے دیکھا سکتی ہو آخر وہ کون سی دوست ہے تمہاری۔ حارث نے اسے پوچھا۔ اس دن جو آئی تھی۔ حرین نے بتایا۔ رائنہ۔ حارث نے پوچھا۔ ہاں وہی۔حرین نے اسے بتایا۔ بلکل میرے ساتھ میچ ہوتی ہے۔ حارث نے بولا۔ ہاں اس لیے تو پھوپھو نے کیا یہ رشتہ۔ حرین نے اس کی بات میں ہامی بڑھی۔ ہر چیز بہتری کے لیے ہوتی ہے آپ کی قسمت میں رائنہ تھی جو بلکل آپ کی طرح ہے اور میرے قسمت میں ذیشان تھے۔حرین نے بتایا۔ ہمممم۔ حارث نے ہاں میں سر ہلایا۔ ایک کپ چائے ملے گا۔ حارث نے حرین سے کہا۔ کیوں نہیں۔ حرین کہتے کچن کی جانب گئ۔ چائے کے لیے پانی رکھا۔ اسلام و علیکم امی۔ ذیشان نے گھر میں آتے ہوئے کہا۔ وسلام۔شکیلا نے جواب دیا۔ آپ کی چائے۔ حرین حارث کی طرف چائے کا کپ بڑھاتی بولی۔ شکریہ۔ حارث نے کہا تو حرین مسکرادی۔آپ کو ڈاکٹر کے پاس چلنا ہے بس جلدی تیار ہوں میں آپ کو لے کے جاؤ۔ذیشان نے کہا۔اچھا۔شکیلا کہتی اٹھ گئی۔ اور کپڑے نکالنے لگی۔ پھوپھو میں نکال دیتی ہو ۔حرین شکیلا کے پاس آتے ہوئے بولی۔ تجھے کیا پتہ کہاں پڑھے ہے اور میں نے کون سا سوٹ پہننا ہے۔ شکیلا نے پوچھا۔ آپ بتاتی تو شاید مجھے پتہ چل جاتا۔حرین نے شکیلا کو بتایا۔میں نے اپنے اللہ سے دعا کی تھی کے مجھے ذہین اور دل کی اچھی بہو دینا۔ اور دیکھ اللہ نے مجھے دے دی شکیلا کی کہتے حرین مسکرائی۔ اب بس ایک ہی خوشی چاہیے۔ شکیلا نے کہا۔ کیا۔ حرین نے پوچھا۔ دادی بننے کی۔ شکیلا نے کہا حرین شرما گئی۔ کب دے رہی ہے مجھے خوشخبری۔شکیلا نے حرین سے پوچھا۔ بہت جلد۔حرین کے بدلے ذیشان نے جواب دیا تو شکیلا اور حارث دونوں ہنس دیے اور حرین کا چہرہ سرخ ہو گیا۔چلیں امی اب آپ تیار ہوں میں فریش ہوں کے آتا ہوں پھر ڈاکٹر کے پاس لے جاتا ہوں ۔ذیشان کہتا کمرے سے چلا گیا اور حرین بھی ذیشان کے پیچھے چل دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیسا گزرا دن۔ذیشان نے پوچھا۔ اچھا۔ حرین نے بتایا۔ بس اچھا۔ ذیشان نے پوچھا ہاں آج آپ نہیں تھے نہ اس لیے کل کا دن میرا بہت اچھا گزرا تھا۔حرین نے اسے تفصیل سے بات بتائی۔تو بیگم صاف صاف کہو نہ کے مجھے مس کیا۔ ذیشان نے حرین کو خود میں قید کرتے ہو کہا۔ آپ بھول رہے آپ کو پھوپھو کو ڈاکٹر کے پاس لے کے جانا ہے تو جاکے فریش ہوجائے۔حرین نے اسے یاد دلوایا ۔ میں جب دوبارہ آؤں گا تو یہی بات کنٹینیو کریں گے۔ ذیشان کہتا واشروم چلا گیا۔ سنو حرین تم میری بات کرواسکتی ہو رائنہ کا نمبر دے دو۔ حارث نے حرین سے کہا۔ نہیں حارث۔حرین نے صاف انکار کرتے ہوئے بولا۔کیوں؟۔حارث نے پوچھا۔ کیونکہ جب تک نکاح نہیں ہو گا اس سے پہلے بات نہیں ہوسکتی جیسے ہی نکاح ہوا اسی رات آپ کو فون نمبر مل جائے گا۔ حرین لو سٹوری کی فل ویلن کا رول کررہے تھے۔ یار۔حارث نے کہا۔کیا یار چپ چاپ جاکے رائنہ کے خیالوں میں کھو جائیں کیونکہ ابھی بہت دن ہے اس کو آپ کا ہونے کے لیے۔ حرین کہتی اپنے کمرے کی جانب چل دی ۔اور حارث منہ لٹکاتا اپنے کمرے کی جانب چل دیا۔
جاری ہے ۔
