Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Inteqaam (Episode 27)

Inteqaam by Mahnoor Shehzad

اب تو حارث دن گن رہا ہو گا کے کس دن اس کی رخصتی کا دن آئے۔ذیشان ناشتے کی ٹیبل حارث کو تنگ کررہا تھا کیا بھائی ایسا تو کچھ بھی نہیں ہے۔حارث نے منہ بنا کے بولا تھا۔ تو پھر ناشتہ کیوں نہیں کھا رہا ۔ذیشان نے اس کی چوری پکڑی تھی۔ نہیں وہ تو مجھے۔حارث کو کوئی جواب نہ ملا۔وہ تو کیا ہاں بول۔اور ذیشان آج اسے چھوڑنے کے بلکل موڈ میں نہیں تھا۔ امی۔حارث نے تنگ آکر شکیلا کو پکارا تھا۔ میں کچھ نہیں کہ سکتی اس کا پورا حق ہے۔شکیلا نے بھی ذیشان کا ساتھ دیا جس سب ہنس پڑے سوائے حارث کے۔امی آپ بھی۔ حارث نے نہ یقین کرنے والی نظروں سے دیکھا تھا۔ جی میں بھی۔شکیلا نے اسے بتایا۔جس سے سب پھر ہنس پڑے تھے اور اس بار حارث بھی ہنس پڑا تھا۔ فائیک نے ذیشان کا نمبر ڈائل کیا تھا مگر ذیشان نے کال نہیں اٹھائی تھی اس نے ایک نہیں کافی دفعہ کیا مگر کال نہیں اٹھائی گئی تھی۔ اتنے کالز کس کی۔ذیشان نے اپنا فون دیکھا تھا جس میں ان ناؤن نمبر سے بہت کالز آئی ہوئی تھی ذیشان پریشان ہوتا ہوا کال ملانے لگا ۔سر یہ وہ فائل۔اعجاز صاحب نے کہا تھا ۔جی ٹھیک ہے۔ ذیشان نے فائل لیتے ہوئے کہا۔اور ذیشان کے ہاتھ کال کٹ گئی۔ اب پھر ذیشان کا فون بجا مگر اس بار حرین کی کال تھی۔اس نے اٹھائی۔ کتنے دیر ہے آپ کو۔حرین نے پوچھا۔بس آرہا ہوں ۔ذیشان نے بتایا۔ جی ٹھیک۔حرین نے کہتے ساتھ فون رکھا تھا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب ذیشان گھر آچکا تھا ۔ چلیں آپ فریش اس کے بعد حارث کی شادی کی شوپنگ پہ چلتے ہیں۔حرین نے ذیشان کو کہا۔ہاں ٹھیک ہے۔ذیشان کہتا باتھ روم کی جانب بڑھا تھا۔چلیں۔ذیشان فریش ہو کے باہر آتا پوچھنے لگا۔جی۔حرین نے بولا ذیشان اپنا فون اور والٹ اٹھانے لگا تبھی حرین نے روکا تھا۔ کیا ہوا ۔ ذیشان نے پوچھا۔ آپ پلیز فون نہ لے کے جائیں۔ حرین نے بولا۔ مگر کیوں۔ذیشان کو حرین کی بات عجیب لگی تھی۔کیونکہ میں چاہتی ہوں کے وہ وقت آپ مجھے اور اپنے بھائی کو دیں۔حرین نے بتایا۔ مگر حرین۔ذیشان کچھ بولتا اس سے پہلے ہی حرین بول پڑی تھی۔اگر مگر کچھ نہیں آپ میرے لیے اتنا نہیں کر سکتے۔حرین نے ناراض لہجے میں کہا تھا ۔اچھا یہ لو رکھ دیا فون۔ذیشان نے فون رکھتی ہوئے کہا تو حرین خوش ہوگئی۔چلیں اب۔ذپشان نے بولا ہاں جی۔ حرین نے ہاں میں سر ہلایا دونوں کمرے سے باہر آئے تھے۔چل حارث ۔ ذیشان نے حارث سے کہا جی بھائی۔حارث کہتا ان دونون کی جانب بڑھا تھا۔رائنہ کو بھی لینا۔حرین نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے کہا تھا۔ اچھا ذیشان نے کہتے ساتھ رائنہ کے گھر کی طرف گاڑی موڑی تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔آجا رائنہ۔حرین نے اسے اشارہ کیا تھا۔پلین بلیک شلوار قمیض میں وہ بہت اچھی لگ رہی تھی۔حارث کی نظروں سے دیکھا جائے شاید اس نے پہلی دفعہ اس سے اس نظر سے دیکھا تھا۔اسلام علیکم ذیشان بھائی۔رائنہ گاڑی میں حارث کے ساتھ بیٹھتے ہوئے بولی تھی۔وسلام ۔ذیشان نے جواب دیا۔ اسلام علیکُم ۔رائنہ نے حارث کو کہا تھا۔ وعلیکم سلام ۔حارث نے بہت ہی ادب سے کہا تھا۔ کیسی ہے۔حرین نے پوچھا تھا۔میں ٹھیک تو سنا۔ رائنہ نے بتایا تھا۔ میں بھی ٹھیک ۔ حرین نے اسے بتایا۔ ذیشان نے گاڑی مال کے باہر روکی تھی۔فائیک نے اپنے فون پہ ذیشان کا نمبر دیکھا تھا تو کال کرنے لگا دوبارہ مگر فون بند جارہا تھا فائیک کو غصہ آنے لگا مگر خود پہ قابو کر گیا۔رائنہ نے اپنی بارات کا ڈریس حارث کی پسند سے لیا تھا جس سے حارث کو بہت خوشی ہوئی تھی۔اگر ہوگئ ہوں آپ لوگوں کی شاپنگ تو کچھ کھا لیں۔ذیشان آتا ہوا پوچھنے لگا۔ جی چلیں کچھ کھاتے ہیں۔حرین نے بولا تو وہ چاروں فوڈ کورٹ کی جانب چل دیے۔ انہوں نے پیزے کا آرڈر دیا تھا۔ زیادہ پسند کیا ہے کھانے میں۔حارث نے رائنہ سے پوچھا جو دونوں الگ ٹیبل پہ ںیٹھے تھے۔ مجھے دیسی کھانے پسند ہیں۔رائنہ نے بتایا۔اچھا۔ حارث نے مسکراتے ہوئے بوکا۔آپ کو کیا پسند ہے۔ رائنہ نے پوچھا۔مجھے بھی دیسی ہی پسند ہے۔ حارث نے بتایا۔واؤ کتنی چوائس ملتے ہیں ہم دونوں کی ہے نا۔ رائنہ مسکراتے ہوئے بولی۔جی ۔حارث نے بولا۔ایک بات پوچھنی تھی۔حارث نے رائنہ سے کہا۔ جی پوچھیں ۔رائنہ نے اجازت دیتے ہوئے کہا۔ آپ اس رشتے کے لیے دل سے رضامند میرا مطلب کوئی زور زبردستی تو نہیں۔حارث نے اس س پوچھنا چاہا۔ نہیں بلکل بھی مجھ سے پوچھ کر ہی میرے گھر والوں نے ہامی بڑھی تھی۔رائنہ نے اس سے تسلی بخشی تھی۔ تو پھر وعدہ کریں ہمیشہ میرے ساتھ ہی چلیں گی۔ حارث نے رائنہ کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا تھا۔وعدہ۔پتہ نہیں حارث کی آنکھوں میں کیا تھا جس سے رائنہ اس کی طرف کھینچی چلی گئی تھی۔ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کے مسکرائے تھے۔پیزا آگیا ہے کیا۔ذیشان نے ان دونوں سے پوچھا تھا جو ایک دوسرے میں کھوئے ہوئے تھے۔ جی بھائی ۔ حارث ہوش میں آیا۔اور پھر اس نے رائنہ کو سرو کیا تھا دونوں پیزا کھانے لگے تھے ۔ذیشان یہ دونوں ساتھ کتنے اچھے لگ رہے تھے ۔حرین نے ذیشان سے کہا۔ہاں تم ٹھیک کہ رہی ہو اللہ کرے یہ یوں ہی ہمیشہ ساتھ رہیں۔ذیشان نے اس کی بات کا اعتراف کیا تھا۔آمین۔حرین نے بولا۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *