Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Inteqaam (Episode 37,38)

Inteqaam by Mahnoor Shehzad

آ ج ذیشا ن کی چھٹی تھی تو وہ حرین کو لے کے گھومنے آیا ہوا تھا وہ دونوں ایک مال پہ شوپنگ کررہے تھے اس دنیا میں آنے والے مہمان کے لیے وہ دونوں شوپنگ کرہی تھی مکس کپڑے لیے کچھ جینس شرٹ اور کچھ فروکس اور پھر ٹوئس شاپ پہ آئے ادھر سے انہوں نے کچھ کھلونے لیے پھر کھانے کے لیے فوڈ کورٹ میں آئے اس کے بعد حرین نے اس کو گول گپوں کو کہا تھا تو اس نے ہامی بڑھی تھی دونوں گول گپے کھانے کے لیے گول گپے کھانے کے بعد وہ گھر آئے تھے اور کل ذیشان اور نتاشا کے نکاح کا دن تھا اس نے سب کو بلا لیا سوائے فاطمہ جی اور عاقب صاحب کو وہ دونوں کو بلائے بھی تو کیسے پھر بہت منت سماجت کے بعد کے وہ مانے تھے وہ حرین کو گھر چھوڑنے کے بعد حرین کو یہ کہ فاطمہ جی اور عاقب صاحب کے گھر گیا تھا کے کسی کام سے جانا ہے تم آرام کرو میں تھوڑی دیر میں آجاؤ گا۔ حرین نے ہاں میں سر ہلایا اب وہ مان گئے تھے کل پتہ نہیں ذیشان نے کیا کرنا تھا پہلے اس نے یہ کہا تھا کے یہ نکاح ہم خوفیہ رکھیں گے اس کے باوجود بھی وہ سب کو کل گھر بلا رہا تھا سب رضامند ہو گئے تھے اب دیکھنا یہ تھا کے ذیشان نے کرنا کیا ہے کل نکاح کرنا ہے تو پھر سب کو کیوں بلا رہا ہے نتاشا کو اس بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا

حارث سب کے لیے کچھ نہ کچھ لیتے ہیں کسی شاپ پہ لے جائیں مجھے۔رائنہ نے حارث سے کہا حارث نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔چلو پھر اس مارکیٹ چلتے ہیں۔حارث نے مارکیٹ کی طرف اشارہ کیا ۔ رائنہ نے ہاں میں سر ہلایا دونوں مارکیٹ کے اندر آئے اور چیزیں دیکھنے لگے ۔حارث یہ فراک کتنا پیارا ہے یہ ہم حرین اور ذیشان بھائی کی بیٹی کے لیے لیتے ہیں۔رائنہ نے اسے کہا۔ اور اگر بیٹا ہو گیا تو ۔ حارث نے پوچھا۔تو ہم اس کے لیے جیند شرٹ لے لیتے ہیں ۔رائنہ نے بتایا۔ جو لے لیناہے لے لو۔ حارث نے اسے کہا تو اس نے فراک اور جینز شرٹ پیک کروائی اس کے بعد ایک سوٹ لیا شاید وہ شکیلا کے لیے لیا تھا اس کے بعد ایک گھڑی لی پھر ایک ائیر رنگز کی جؤڑی لی اور کاوئنٹر پر چلی گئی حارث اسے دیکھ رہا تھا کے اس نے سب کے لیے کچھ نہ کچھ لیا کتنا خیال تھا اسے اس کے گھر کا وہ خود کو بہت خوش نصیب سمجھ رہا تھا کے رائنہ جیسی لڑکی اس کی زندگی میں آئی۔اب وہ دونوں آئسکریم کھاتے سڑک پر چل رہے تھے ٹھنڈ تو تھی مگر رائنہ کو ڈھنڈ بہت پسند تھی اس لیے کورٹ پہن کے وہ واک کے لیے آئی تھی وہ آئسکریم کھانے کے ساتھ ساتھ بول رہی تھی اور حارث صرف اس کی باتیں سن رہا تھا وہ دونوں ایک سنسان روڈ پہ چل رہے تھے ہوا بہت تیز چل رہی تھی رائنہ کے کھلے بال حارث کے چہرے پہ آرہے تھے وہ سنبھال رہی تھی مگر بہت تیز ہوا چل رہی تھی وہ سنبھل نہیں رہے تھے پھر اس نے پونی سٹھا کے بالوں پہ کر دی یہ ویکنڈ ان دونوں کے لیے بہت خاص تھا یہ سارا وقت ان دونوں نے ساتھ گزارا تھا یہ حسین دن انہیں نہیں بھول سکتے ۔

جاری ہے۔

Episode 38

نتاشہ گھر جا چکی تھی وہ گھر آئی تو عاقب صاحب تو تھے نہیں لیکن فاطمہ جی بیٹھی تھی۔ کہاں تھی تم۔ انہوں نے کہا۔ حرین کے گھر۔ وہ مختصر سا بولی۔ میں نے کتنے کالز کیے کیوں فون نہیں اٹھایا۔ فاطمہ نے پوچھا وہ بغیر جواب دیے چلی گئی فاطمہ جی اسے جاتا دیکھ رہی تھی۔۔

ذیشان گھر آیا تو حرین کھانا لگانے لگی اس نے سر پکڑا صبح سے ہی اسے چکر آرہے تھے۔حرین نے باؤل میز پر رکھا اور جانے لگی سر بھاری ہوا وہ گرتے گرتے بچی تھی ذیشان کی نظر اس پر گئی فوراً اس کے پاس آیا۔ کیا ہوا ٹھیک تو ہو تم۔اس نے پریشانی سے پوچھا۔۔ جی ٹھیک ہوں بس ذرا سا چکر آ گیا۔ حرین کہتے ساتھ جانے لگی نہیں ٹھیک تمہیں ڈاکٹر کے پاس چلنا چاہیے آجاؤ چلیں۔ ذیشان نے کہا حرین خاموش ہو گئی کیونکہ اسکی طبیعت صبح سے ہی ایسی ہورہی تھی۔۔

حارث فون پر لگا ہوا تھا اور چہرے پر مسکراہٹ تھی رائنہ کی نظر اس پر گئی تو گھورنے لگی اور اچانک اسکے ہاتھ سے فون کھینچا۔ کیا ۔ حارث نے اسے دیکھا۔ یہ مجھے پوچھنا چاہیے تھا کون ہے یہ جس کے میسیجز پر اتنا مسکرایا جارہا ہے۔۔رائنہ نے کہتے ساتھ فون دیکھا اور آصف لکھا تھا۔ کون ہے یہ ۔ رائنہ نے اسے پوچھا۔دوست ہے ۔ حارث نے اسے کہا رائنہ نے اسے فون ملا لیا ہاں بول حارث لڑکے کی آواز گونجی وہ خاموش ہو گئی اور فون حارث کے ہاتھ میں پکڑا دیا۔ کچھ نہیں ہاتھ لگ گیا تھا۔ حارث کو جھوٹ بولنا پڑا ۔بدتمیز۔ حارث غصےسے کہنے لگا رائنہ خاموش رہی غلطی اسی کی تھی اسنے یقین ہے کیا۔۔۔

وہ دونوں ڈاکٹر کے کلینک میں موجود تھے لیڈی ڈاکٹر نے حرین کو چیک کیا اور مسکراتے ہوئے ان دونوں کو دیکھا۔ یہ ماں بننے والی ہیں ۔ ڈاکٹر نے بتایا۔ کیا۔ذیشان کو سچ میں یقین نہیں آیا ۔یس شی از پریگننٹ ڈاکٹر نے بتایا۔ تھیکنیو۔ ذیشان کی مسکراہٹ گہری ہوئی حرین بھی ہلکا سا مسکرائی اور شرما بھی رہی تھی۔ذیشان اسے لے کر گھر آیا ۔ شکیلا کو خوشخبری دی شکیلا حرین کو ماتھے پر چومنے لگی رائنہ نے اسے گلے لگایا حارث نے ذیشان کو گلے لگایا حرین کمرے میں جا چکی تھی۔

فائیک نے دروازہ کی گل بجائی تبھی ایک عورت باہر نکلی۔ اسلام و علیکم۔ فائیک نے سلام کیا۔وعلیکم اسلام۔آنی نے جواب دیا آپ کون۔آنی نے پوچھا۔ کائنات کا دوست ہوں۔ فائیک نے بتایااور آنی نے اندر آنے کا کہا ۔ کائنات اسے دیکھ کر حیران تھی۔تم سے ملنے آیا ہوں بھول گئی ہو مجھے میں فائیک اس نے یاد دلایا۔ تم ہو کون کسی یاد رکھوں جاؤ یہاں سے۔ کائنات نے اسے غصےسے کہا آنی پریشانی سے ان دونوں کو دیکھنے لگی۔ارے بابا ناراض کیوں ہورہی ہو میں آج فری ہوا ہوں آج ہی آؤ گا ۔وہ فوراً اسکے قریب گیا۔تم دونوں باتیں کرو میں چائے بناتی ہوں۔ آنی کہتی چلی گئی۔ اوہ مسٹر نکلوں یہاں سے۔کائنات نے اسے کہا۔چپ گھنٹے سے باہر کھڑا تھا تم بیلکونی میں آہی نہیں رہی تھی اس لیے میں نے سوچا کیوں نہ یوں آجاؤ فیوچر میں تو اکثر آنا ہے۔فائیک نے اسے بتایا۔ افف فضول ایسا کچھ بھی نہیں ہے جاؤ تم اور ہو بھی نہیں سکتا میں تم سے کوئی محبت وحبت نہیں کرتی۔ اس نے بتایا۔ لیکن میں تو کرتا ہوں۔ کہتے ساتھ صوفے پر بیٹھ گیا۔ کیوں سمجھ نہیں آریی میری بات جاؤں یہاں سے مجھے شادی ہی نہیں کرنی کسی سے بھی نہیں کرنی نہ تم سے اور نہ ہی دنیا کے کسی مرد سے نہیں کرنی۔ کائنات نے کہا وہ چپ کرکے چلا گیا۔۔

وہ کمرے میں آیا وہ سوئی ہوئی تھی ذیشان کے چہرے پر مسکراہٹ آئی وہ اس کے پاس آیا۔تھینکیو سو مچ میری جان ۔وہ ہلکی سی آواز میں کہنے لگی جس سے حرین نیند میں مسکرائی جو ذیشان دیکھ چکا تھا اور حرین کے ماتھے پر لب رکھے۔

قسط نمبر 39

ایک ہفتہ گزر چکا تھا اور ذیشان حرین کا بہت خیال رکھتا تھا وہ کمرے میں بیٹھی تھی تبھی ذیشان فروٹس لے کر آیا۔حرین چلو کھاؤ۔ ذیشان نے اسکے ہاتھ سے فون کھینچا اور پلیٹ سامنے کی۔ میں نہیں کھارہی ۔ حرین نے منع کیا۔ حرین تمہیں کھانا ہوگا۔ ذیشان نے کہا۔ میں نہیں کھا رہی میں کھا کھا کر موٹی ہوجاؤ گی اور پھر آپ مجھے دیکھنا بھی پسند نہیں کریں گے۔ حرین معصومیت سے کہتے ہوئے ذیشان کے دل پر اتر رہی تھی۔ اور یہ کس نے کہا ہے۔ ذیشان نے پوچھا۔ میرا دماغ اور دل دونوں نے اس نے معصومیت سے بتایا۔ ایسا کچھ نہیں ہونے والا میری جان میں نے تمہاری معصومیت تمہاری روح سے محبت کی ہے تم سے محبت کی ہے تمہارے جسم یا تمہارے چہرے کی خوبصورتی سے نہیں۔ ذیشان نے بتایا۔ ہکا نہیں مذاق اڑائے گے۔ حرین نے پوچھا۔ پکا موٹا تو تم نے ویسے بھی ہونا ہے نہ میری جان۔ذیشان نے پیار سے کہا حرین منہ بنا گئی ۔اچھا چلوں اب یہ کھاؤ۔ ذیشان نے سیب اسے دیا حرین منہ بناتی کھانے لگی ۔۔۔۔

فائیک کو ہفتہ ہو چکا تھا نہ ہی وہ کائنات کا پیچھا کررہا تھا نہ ہی کانٹیکٹ نہ کی اسکے گھر آیا تھا کائنات پریشان ہورہی تھی۔ فائیک ٹھیک ہوگا یا کچھ ۔ نہیں نہیں۔ کائنات نے اپنی سوچ کو بدلا۔ کائنات تم کیوں پریشان ہورہی ہو دنیا میں ہر لڑکا ایک جیسا ہوتا ہے دھوکے باز وہ بھی بھول گیا ہوگا لیکن میں ایک دفعہ اس سے بات کرنا چاہتی ہوں۔ کائنات پریشانی سے کہنے لگی اور اس طرح وہ پوری رات نہیں سو سکی تھی صبح وہ آفس آئی تو وہاں اسکے ذہن میں صرف فائیک ہی چل رہا تھا ۔ ذیشان بھائی کے پاس نمبر ہے ۔ کائنات کہتے ساتھ کیبن میں آئی۔اسلام و علیکم ذیشان بھائی۔ اس نے ذیشان کو سلام کیا۔وعلیکم اسلام۔ ذیشان نے جواب دیا۔ ذیشان بھائی مجھے آپ کے فرینڈ فائیک کا نمبر مل سکتا ہے۔ کائنات نے پوچھا تو ذیشان نے ایک نظر اسے دیکھا۔ جی مل سکتا ہے لیکن آپ کو چاہیے کیوں۔ذیشان نے پوچھا۔ وہ آنی کا آکسیڈنٹ ہوا تھا تو انہوں نے ہیلپ کی تھی میری اور آنی کی انکا شکریہ ادا کرنا ہے نہیں کر سکی تھی پریشانی سے۔ اس سے گندہ آئیڈیا نہیں ملا تھا کائنات ۔ کائنات نے آخری لائن میں کہی۔ اوہ اچھا ۔۔کہتے ساتھ ذیشان نے نمبر دیا۔شکریہ۔ کائنات کیبن سے باہر آ گئی۔

نتاشہ حرین کے گھر سے آئی تھی خود کو ایک کمرے میں قید کر لیا تھا اس کو حد سے زیادہ غصہ تھا اپنی شکست پر لیکن وہ ہار تسلیم نہیں کر سک رہی تھی اسلیے حرین کو برباد کرنے کے لیے کچھ اور سوچ رہی تھی ۔۔

رائنہ کو بہت تیز بخار تھا حارث آفس سے آیا تو رائمہ بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی اور سر پر ہاتھ رکھا ہوا تھا۔رائنہ تم ٹھیک تو ہو۔ حارث پریشانی سے پوچھنے لگا۔ نہیں ہوں نہ ٹھیک بخار ہو گیا ہے۔ رائنہ نے بتایا۔ اوہ تم نے میڈیسن لی۔ حارث نے پوچھا۔ کی ہے مگر نہیں پڑ رہا فرق۔ اسنے بتایا۔ اچھا پھر ڈھنڈے پانی کی پٹیاں کرنی چاہیے کہتے ساتھ کمرے سے باہر گیا ۔ واہ رائنہ واہ کیا ایکٹنگ کی ہے تم نے ۔ کہتے ساتھ اپنی بغل سے پیاز نکالی ۔ کام ہو گیا دیکھا کیسے میں نے دو منٹ میں حارث کی ناراضگی ختم کردی پیار کرتا ہے لیکن اعتراف نہیں کرتا۔ رائنہ نے کہا تبھی حارث رائنہ نے فوراً پیاز چھپائی اور ڈر پکڑنے لگی۔حارث اسکی ڈھنڈے پانی کی پٹیاں کرنے لگا اور رائنہ۔مسکرائی۔

ہیلو کون۔ فائیک نے فون اٹھا کر پوچھا۔ چڑیل بات کررہی ہوں۔ کائنات غصےسے بولی۔ اوہ اچھا۔ فائیک کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔ کہاں ہو۔ اس نے پوچھا۔ گھر۔ فائیک نے بتایا۔ اوہو اتنے دن سے کہاں ہو۔ کائنات نے بتایا۔ کہیں نہیں خود ہی کہا تھا تم نے کہ تم نہیں کر سکتی شادی۔ فائیک نے اسے بتایا۔ میں نے تم سے ملنا ہے۔ کائنات نے اسے کہا۔

کب۔ فائیک نے پوچھا۔ کل۔ کائنات نے کہتے ساتھ فون رکھا۔ واہ۔ فائیک فون کو دیکھنے لگا۔۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *