Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Inteqaam (Episode 22)

Inteqaam by Mahnoor Shehzad

ذیشان نے حرین کی آنکھوں میں پٹی باندھی اور آہستہ اہستہ قدم اٹھاتا اس کو سمندر کے قریب لانے لگا۔ ذیشان یہ آپ کیا کر رہے۔ حرین نے ذیشان کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا۔بس چپ کر کے چلتی جاؤ۔ ذیشان نے کہا۔ حرین ذیشان کا ہاتھ تھامتی آہستہ آہستہ چلتی آرہی تھی ۔ ذیشان نے حرین کا ہاتھ چھوڑا۔ ذیشان کہاں جارہے ہیں آپ۔ حرین ڈرتے ہوئے پوچھنے لگی۔ میں یہی ہوں بس دو منٹ۔ذیشان نے حرین کے کندھے پہ اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے بتایا۔ذیشان نے حرین کی آنکھوں میں باندھی پٹی کھولی۔ آنکھیں کھولو ذیشان نے حرین کے کان میں دھیمی آواز میں کہا۔ حرین نے اپنی آنکھیں کھلی اور دیکھ کے مسکرا گئی۔ اسے وقت اس پہ پھول گرے حرین دیکھ کے بہت خوش ہوئی پھر اس نے ذیشان کو دیکھا۔کیسا لگا سرپرائز۔ ذیشان نے پوچھا۔ یہ سب اپنے میرے لیے کیاہے۔ حرین نے ذیشان سے پوچھا۔ نہیں تو اپنی جان کے لیے۔ ذیشان نے اس کا ہاتھ تھام کے بولا تو وہ مسکرا دی۔ حرین میں تم سے بے پناہ محبت کرتا ہوں اور اپنی زندگی تمہاری ساتھ گزارنا چاھتا ہوں کیا تم میرے ساتھ اپنی گزارنا چاہتے ہو۔ ذیشان نے چلاتے ہوئے پوچھا۔ ہاں۔حرین نے بولا۔کیا مجھے سمجھ نہیں آیا۔ ذیشان نے کہا۔آئی لو یو ٹو ذیشان ۔ حرین نے اونچی آواز میں بتایا۔ ذیشان کھڑا ہوا اور گانا لگوایا۔ اور کپل ڈانس کرنے لگے۔ سجدے میں یوں ہی جھکتا ہوں تم پہ ہی آکے رکتا ہوں کیا یہ سب کو ہوتا ہے۔ ہم کیا لینا ہے سب سے تم سے سب باتیں ہم سے بن گئے ہوں تم میرے خدا خدا جانے میں مٹ گیا ہوں خداجانے یہ کیا ہوا ہے کے بن گئے ہو تم میرے خدا۔ ذیشان اور حرین نے کپل ڈانس کیا۔کھانا کھائیں اب ذیشان نے حرین سے کہا۔ ہمممم۔حرین نے ہاں میں سر ہلایا۔ ذیشان نے حرین کی کرسی پیچھے کی تھوڑی سی حرین بیٹھی ذیشان تھوڑی آگے کرکے اپنے کرسی پہ بیٹھ گیا۔ کیا کھانا پسند کریں گی آپ ۔ذیشان نے حرین سے پوچھا۔ بریانی۔ حرین نے کہان ذیشان نے حرین کو بریانے سرو کی۔اور خود بھی بریانی ڈالی ۔میٹھے میں کیا لیں گی آپ۔ بریانے کھانے کے بعد ذیشان نے حرین سے کہا۔ چاکلیٹ کیک۔ حرین نے بتایا۔ ذیشان نے چاکلیٹ کیک منگوایا۔ ویٹر چاکلیٹ کیک لے کے آیا ۔ذیشان نے چھوٹا سا پیس کا ٹ کے حرین کو اپنے ہاتھ سے کھلا حرین نے بھی ذیشان کو آپنے ہاتھ سے کھلایا۔ذیشان اب ہمیں گھر چلنا چاہیے کافی دیر ہورہی۔ کھانا کھانے کے بعد حرین نے ذیشان سے کہا۔ بس ایک گفٹ اور۔ ذیشان نے حرین سے کہا۔ اتنے تو دے دیے اب اور کیا دینا ۔حرین نے ذیشان نے کہا۔ بس ایک لاسٹ۔ ذیشان نے بتایا۔حرین اس کے ساتھ چل دی ۔اپنا ہاتھ آگے کرو ۔ ذیشان نے کہا۔ کیوں۔ حرین نے پوچھا ۔ کرو تو سہی۔ذیشان کے کہتے حرین نے ہاتھ آگے کیا۔ ذیشان نے اسے کے ہاتھ میں چوریاں پہنائی۔ یہ کیوں ۔ حرین نے دیکھتے ہوئے کہا۔کیونکہ مجھے تمہارے ہاتھ میں چوریاں بہت پسند ہے اور میں چاہتا ہوں تم اسے پہن کے رکھو۔ذیشان نے اسے بتایا۔ اوکے آئندہ پہن کے رکھوں گی۔حرین نے چوریوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔ اب میرا گفٹ۔ ذیشان نے حرین کو اپنی جانب متواجہ کیا۔ وہ میں لانا بھول گئی۔ حرین نے منہ بنا کے کہا۔ کوئی تم مجھے ابھی بھی گفٹ دے سکتی ہو ۔ذیشان نے بتایا۔ وہ کیسے حرین نے پوچھا۔ کس دے کے۔ ذپشان نے شرارتی انداز میں کہا تو حرین اپنی نظریں جھکا گئی۔ میں نے تمہیں کتنے گفٹ دیے بس ایک ہی تو گفٹ دے دو۔ ذیشان نے منہ بناتے ہوئے کہا۔ تو حرین نے اپنے ہونٹ ذیشان کی گال پہ رکھے مگر ذیشان نے اپنے لپس پہ اشارہ کردیا تو حرین نے ذیشان کی لپس پہ اینے ہونٹ رکھ دیے ذیشان نے حرین کو کمر سے پکڑا اور دونوں کس کر رہے تھے پانچ منٹ دونوں دور نہ ہوئے خود سے ذیشان نے کار کی کیز اٹھائی اور دونوں چل دیے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دونوں گھر آئے ذیشان کمرے میں آیا تو حرین اپنی جیولری اتارنے لگی تھی مگر ذیشان نے اس کے کانٹے میں ہاتھ رکھ کے کہا ۔ میں اتار دوں ۔ ذیشان نے کہا تو حرین نے ہاں میں سر ہلایا۔ پہلے ذیشان نے اس کی جیولرے میں پہلے کانٹے اتارے اس کے بعد چوریاں اتاری پھرچوکر اتارتے وقت ذیشان نے حرین کے سارے بال آگے کیے اور اس کے چوکر کی ڈوری ڈھیلی کی اور پھر اس کی گردن میں ہاتھ کے چوکر اتارا اور پھر حرین کی بیک پہ اپنے ہونٹ رکھے جس سے حرین نے اپنی آنکھیں بند کر لیں ۔اور ذیشان نے اپنے ہونٹ ہٹائے اور حرین واشروم جانے لگے مگر ذیشان نے اس کا ہاتھ دھام کے اس کو اپنے ساتھ بیڈ میں دھکا دیا۔ حرین ذیشان کے اوپر گری ذیشان نے اس کے بال ٹھیک کیے پھر اس کے کمر پہ دونوں ہاتھ ڈالے حرین ذیشان کے سینے سے لگ گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *