Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Inteqaam (Episode 01)

Inteqaam by Mahnoor Shehzad

صبح کے سوا چھ بج رہے تھے ھمیشہ کی طرح وہ فجر کی نماز پڑھ رہی تھی نماز پڑھنے کے بعد وہ دعا مانگ رہی تھی کہ اچا نک آواز آئی

بند کرو لائٹ ساری نیند خراب کر دی ۔نتا شا نے غصہ میں کہا ،اس کی بات سن کے حرین نے جلدی سے جا ئے نماز لپیٹی اور کمرے سے باہر چلی گئی (حجاب کیا ہوا آنکھیں بڑی بڑی دیکھنے میں کسی پری کی طرح لگتی تھی اپنے ماں باپ کی لاڈلی تھی ما ں باپ پیار تو

نتاشا سے بھی کرتے تھے مگر نتاشا کی بد تمیزیوں کی وجہ سے وہ اس سے تھوڑا دور رہتے تھے ) اس نے اپنے لیے چائے بنائے اور کمرے میں آ گئ چا ئے پینے کے بعد وہ لیٹی اور اس کی آنکھ لگ گئ ۔حرین میری جان اٹھ جا۔فاطمہ جی نے کہا ،فاطمہ جی کی آواز سنتے ہی وہ اٹھی اور با تھ روم چلی گئی ۔نتاشا تو بھی اٹھ جا ۔ فاطمہ جی نے نتاشا کو بھی اٹھایا ۔امی اچھا تھوڑی دیر تک اٹھتی ہوں ۔نتاشا نے نیند میں کہا ۔تجھے پتہ ہے تیرے ابو کا پتہ تو ہے کہ وہ کہتے ہے اکھٹے کھانا کھایا کرو۔فاطمہ جی نے کہا ۔اس گھر میں تو سکون سے کوئی سونے بھی نہیں دیتا۔نتاشا نے چلایا۔امی آپ ناشتہ لگا دیں ۔ حرین باتھ روم سے واپس آ کر بولی ۔ہاں میں لگاتی ہوں تو کپڑے پہن کر آ جا۔فاطمہ جی کہتی کمرے سے چلی گئی ۔پتہ نہیں کب اس قید خانہ سے جان چھوٹے گی۔نتاشا کہتی باتھ روم چلی گئ ۔اب سب ناشتے پہ موجود تھے ۔اچھا امی اب میں چلتی ہوں دیر ہو رہی ہے۔حرین نے پانی پینے کے ساتھ ساتھ بولا۔خیال سے جانا ۔عاقب صاحب نے کہا جو کافی دیر سے خاموش تھے ۔جی ابو ۔حرین نے جواب دیا ۔اللّٰہ حافظ ۔حرین کہتی چلی گئی ۔اللّٰہ حافظ ۔عاقب صاحب اور فاطمہ جی نے کہا ۔تمہیں یہ اتنا تنگ کرتے ہیں تم پھر بھی ان پر غصہ نہیں کرتی۔رائنہ نے کہا۔اتنے کیوٹ ہیں یہ بچے انھیں دیکھ کے ہی چہرے پہ مسکراہٹ آجاتی ہے۔حرین نے مسکراتے ہوئے بتایا۔لگتا ہے تمھیں بچے بہت پسند ہے ۔ رائنہ نے پوچھا ۔بہت پسند ہے ۔ حرین نے بتایا۔(رائنہ حرین کے ساتھ سکول پڑھاتی تھی اور حرین کی صرف اس سے ہی بنتی تھی کیونکہ یہ عادتوں میں حرین کی طرح تھی) مجھے نہيں پتا آپ آج آرہے ہیں آج۔نتاشا نے فون پر کہا۔اچھا میری جان آ جاؤں گا ۔ذیشان نے پیار بھرے لہجے میں بولا۔(قد لمبا ہلکی ہلکی داڑھی گلاسز لگے ہوئے دیکھنے میں کسی ہیرو کی طرح لگتا تھا بہت سی لڑکیاں اس پہ مرتے تھے مگر یہ نتاشا پہ مرتا تھا ) اسلام علیکُم ۔حرین گھر میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔وسلام کیسی ہے میری گڑیا۔شکیلا نے کہا ۔پھوپھو آپ کیسی ہے ۔حرین نے بدلے میں سوال کیا ۔میں ٹھیک ہوں تو بتا کیسی ہے۔شکیلا نے پو چھا۔میں بلکل ٹھیک ہوں ۔ حرین نے کہا ۔اچھا باتیں بعد میں کر لی تیری پھوپھو ابھی بیٹھی تیری جا کے کچن میں کھانا ڈال کے کھا لے۔فاطمہ جی نے کہا ۔جی ۔حرین کہتی کچن کی جانب چلی گئ ۔امی میں ابھی آتا ہوں۔حارث نے کہا۔ اچھا ۔شکیلا نے کہا۔ کیا کر رہی ہوں ۔حارث کچن میں آتا ہوا بولا۔(حارث ذیشان کا چھوٹا بھائی تھا۔یہ کافی ڈاشنگ تھا مگر اپنے بھائی سے کم پرسنالٹی تھی اور یہ حرین سے بہت پیار کرتا تھا ۔) آپ یہاں اگر کسی نے دیکھ لیا آپ جائیں یہاں سے ۔حرین گھبراتے ہوئے بولی۔ کوئی نہیں آتا حرین ۔حارث نے کہا ۔ابو آپ۔حرین نے ڈرتے ہوئے کہا ۔ماموں مر گیا۔حارث پیچھے مڑا کوئی بھی نہیں تھا حرین اونچا اونچا ہنسی۔ڈر پوک۔ حرین نے اسے چرایا۔میں ڈر پوک نہیں ہوں۔حارث نے بولنے کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ قدم حرین کی جانب بڑھائے۔ حارث آپ کیا کر رہے ہیں۔کچھ بھی نہیں کر رہا ۔حارث نے حرین کی بازو کی کلائی پکڑتے ہوئے کہا۔حارث چھوڑیں نہ مجھے درد ہو رہا ہے ۔حرین نے اپنے جان بچانے کیلیئے بولا۔چھوڑ دوں گا ایک شرط پر۔حارث نے اپنا چہرہ حر ین کے کان کے قریب کرتے ہوئے کہا۔ک؟کیا۔حرین گھبراتے ہوئے بولی۔آئی لو یو بولو۔ حارث نے کہا۔کیا۔حرین چلائی۔پھر میں ہاتھ پکڑ کر کھڑا ہوں ۔حارث نے ضدی انداز میں بولا۔یہ کیسی ضد ہے حارث۔ حرین نے کہا۔حرین کیا کررہی اتنی دیر سے۔فاطمہ جی کچن میں آتی ہوئی بولی۔امی حارث کو پانی چاہیے تھا ۔حرین نے کہا ۔ اچھا چل اب کھانا کھا لے ۔ فاطمہ جی نے اس کی طرف آتے ہوئے کہا۔ جی چلیں۔حرین نے اللّٰہ کا شکر ادا کیا ۔ کیسا لگا تحفہ ۔ذیشان نے پوچھا ۔ اچھا ہے ۔نتاشا نے بتایا۔آئی لو یو۔ ذیشان نے اس کا ہاتھ پکڑتے تھے۔آئی لو یو ٹو۔ نتاشا نے اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ رکھا۔ چلو اب میں نیچے جاتا ہوں ورنہ شک ہو جائے گا ۔ذیشان کہتا کمرے سے چلا گیا۔ گڑیا کہا ں جا رہی ۔ذیشان نے حرین کو کمرے کی طرف آتے دیکھ کے پوچھا۔ کمرے میں بھائی ۔ حرین نے بتایا۔ اچھا ۔ذیشان نے کہا ۔ جی ۔ حرین کہتی کمرے میں چلی گئی۔ اور بتائیں بھائی طبیعت کیسی ہے۔شکیلا نے عاقب صاحب سے پوچھا۔ اللّٰہ کا شکر ہے بلکل ٹھیک۔ عاقب صاحب نے جواب دیا۔ یہ لے ابو پانی ۔حرین نے عاقب صاحب کی طرف پانی کا گلاس بڑھایا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *