Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Inteqaam (Episode 03)

Inteqaam by Mahnoor Shehzad

آپی ذرا بات تو سنے ۔ حرین نے کہا۔آپی یہ ذرا فون کو کو کان کے ساتھ لگا کہ وائس تو سنے ۔حرین نے اپنا فون حرین نتاشا کو دیتے ہوئے کہا۔ کیا ہے یہ۔ نتاشا نے۔فون پکڑتے ہوئے کہا۔ آپ سنے تو سہی۔حرین نے کہا۔ ائی ایم ریلی سوری مجھے غصہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ میں جانتا ہوں تم مجھے ضرور معاف کرو گی۔ یہ وائس ریکاڈ ہوئی ہوئی تھی۔ نتاشا نے فون حرین کے ہاتھ میں پکڑایا اور کمرے سے چلی گئ۔ کیا بنا۔ ذیشان نے کال کرکے پوچھا۔ مان گئی ہیں شاید آپ ہی کو کال کر رہی ہے۔ حرین نے بتایا۔ چل ٹھیک ہیں میں فون رکھتا ہوں اور بہت بہت شکریہ ۔ذیشان نے کہا ۔کوئی بات نہیں۔ حرین نے کہتے ساتھ فون کاٹا۔ ایم سوری ۔ذیشان نے کہا۔ اٹس اوکے۔ نتاشا نے کہا۔ شکر ہے تم مانی تو سہی۔ذیشان نے بولاذیشان۔ تو کھانا کھا لے میں نے ایک بات کرنی ہے۔ شکیلا نے بتایا۔ اچھا امی میں روٹی کھاکے آتاہوں۔

_________________________________

ٹھیک ہیں۔ شکیلا کہتی کمرے میں چلی گئی ۔جی امی کیا با ت کرنی تھیں۔ ذیشان کمرے میں آتا ہوا بولا۔ بیٹا دیکھ اب تیری عمر ہے شادی کی اب تجھے شادی کر لینی چاہیے میں نے تیرے لیے لڑکی ڈھونڈ لی ہے۔ شکیلا مسلسل بولتی گئ جب آخری لائن بولی تب ذیشان کو دھچکا لگا۔ کون ۔ذیشان نے پوچھا۔ حرین۔شکیلا نے بتایا۔ کیا؟امی وہ میری چھوٹی بہنوں کی طرح ہے اور آپ ہیں کہ میری شادی کروانے کا سوچ رہی ہیں نہیں امی ایسا نہیں ہو سکتا۔ ذیشان نے غصہ میں کہا۔ تو کسی اور سے محبت کرتا ہے۔ شکیلا نے پوچھا۔ جی۔ ذیشان نے جواب دیا۔ کس سے۔ شکیلا نےپھر پوچھا۔ نتاشا۔ ذیشان نے بتایا۔ نتاشا ۔ شکیلا نے حیران ہو کے کہا۔ امی وہ اچھی لڑکی ہے تھوڑی زبان دراز ہیں مگر دل کی بری نہیں ہیں۔ ذیشان نے کہا۔ میں نہیں بناؤ گی اسے اپنے گھر کی بہو۔ شکیلا نے اپنا فیصلہ سن لے۔ تو پھر اب آپ بھی سن لے نتا شا نہیں تو میری زندگی میں اور کوئی نہیں آئے گی۔ ذیشان کہتا چلا گیا۔ ہیلو نتاشا میں فائیک تمہارا کلاس فیلو بات کر رہا ہوں ۔ فائیک تمہیں میری یاد کیسی آگئی۔ نتاشا نے پوچھا۔ مجھے تم سے ملنا ہے تم مجھ سے ملنے آ سکتی ہوں ۔ فائیک نے کہا۔ اچھا کتنے بجے اور کہا یہ بھی بتا دوں۔ نتاشا نے ہامی بڑھی۔ اوکے میں تمہیں اڈریس سینڈ کرتا ہوں ۔ فا ئیک نے کہا۔ اوکے۔ نتاشا نے کہتے ساتھ فون رکھا۔ حارث آپ یہاں کیوں آئے ہیں ۔ حرین نے پریشان ہوتے ہوئے پوچھا۔ تم نے مجھے خود کو ہاتھ لگانے سے رکا ہے۔ ملنے سے نہیں۔ حارث نے بتایا۔ چلو گول گپے کھاتے ہیں۔حارث نے اسے گاڑی میں بیٹھنے کا کہا۔ آپ کو یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔ حرین گاڑی میں بیٹھتے ہوئے بولی۔ تم کہ تو ایسی رہی جیسی میں پہلی دفعہ آیا ہوں۔حارث نے بتایا۔ چلیں اب ۔ حرین نے کہا ۔ نہیں پہلی سیٹبیلٹ۔ حارث نے اسے کہا۔ نہیں کوئی ضرورت نہیں میں خود باندھ لوں گی۔ حرین نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا۔ باندھو۔ حارث نے بولا۔ حرین نے باندھنے کی کوشش کی مگر نہیں باندھ سکی۔ اب میں باندھو۔ حارث نے پوچھا تو حرین چپ ہوگئی۔ حارث سیٹ بیلٹ باندھنے کے لیے حرین کہ قریب ہوا حرین نہ اپنا سر پیچھےکر لیا حارث نے سیٹبیلٹ باندھی اور اپنی سیٹ پہ بیٹھ گیا۔ چلیں ۔ھمیشہ کی طرح حارث نے پوچھا حرین نے ہاں میں سر ہلایا۔ ہاں بولو کیا کام تھا۔ نتاشا نے فائیک سے کہا۔ یار وہ ۔ اس سے پہلی فائیک کچھ اور بولتا کہ نتاشا کے فون کی رنگ ہوئی۔ ایک منٹ۔ نتاشا نے کہا اور سیٹ سی اٹھ کے ہاٹل سے باہر گئی۔ہیلو ہاں ۔ نتاشا نے کہا۔ مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے۔ ذیشان نے بتایا۔ ذیشان ابھی میں اپنی دوست کے ساتھ ہوں میں تمہیں تھوڑی دیر تک کال کرتی ہوں اوکے بائے۔نتاشا نے کہتے ساتھ فون رکھا۔ نتاشا سنو تو سہی نتاشا۔ ذیشان کچھ کہتا نتاشا نے اسے پہلے ہی فون کاٹ دیا۔

_________________________________

کیسی لگے گول گپے۔حارث نے پوچھا۔ بہت مرچ تھی۔ حرین ںے بتایا ۔ بلکل تمہاری طرح ۔ حارث نے ہنستے ہوئے۔ کیا کہا میں مرچ ہوں ۔ حرین غصے میں کہا ۔ ہاں یہی کہا ۔ حارث نے بولا ۔ مجھے آپ سے بات ہی نہیں کرنی ۔ حرین ںے منہ بنا کے کہا۔ تمہیں پتہ ہے نہ کہ ایک تمہاری ناراضگی نہیں برداشت کر سکتا اور ھمیشہ تم اسی کی دھمکی دیتی ہوں ۔ تو آپ ایسی باتیں نہ کیا کرے جس سے مجھے ناراض ہونا پڑے۔حرین نے بتایا۔ ایک بات پوچھو حارث ۔ حرین نےحارث سے پوچھا۔ ہاں پوچھو ۔ آپ مجھ سے کتنی محبت کرتے ہیں۔ بے پناہ اور اگر تم میری نہ ہوئی تو میں مر جاؤ گا۔ حارث اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ ایسی باتیں مت کیا کریں اگر میں آپ کے نصیب میں ہی نہ ہوئی تو آپ اپنے نصیب سے تو نہیں لڑ سکتے۔حرین نے بتایا۔ تم تو ساری نمازے پڑھتی ہوں نہ پھر تم مجھے دعاؤں میں نہیں مانگتی۔حارث نے پوچھا۔ نہیں میں آپ کو دعاؤں میں نہیں میں یہ دعا کرتی ہوں کہ جو بھی میرا نصیب ہیں اس میں میری خوشی ہوں۔ حرین نے بتایا۔پھر میں ایسا سوچتا ہی نہیں ہوں کہ تم میرے نصیب میں نہیں ہو۔ حارث نے کہا۔ اچھا اب ان باتوں کو چھوڑے اور گھر چلیں پہلے ہی دیر ہوگئی ہے۔

چلو ۔ حارث نہ کہتے ساتھ گاڑی سارٹ کی۔ اللہ حافظ ۔ حرین گاڑی سے اتر کر بولی ۔ اللہ حافظ۔ حارث نے بھی کہا حرین گھر کے اندر چلی گئی۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *