Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Inteqaam (Episode 24,25)

Inteqaam by Mahnoor Shehzad

نتاشا جس سے محبت ہوں اس کا نمبر کس نام سے سیف کرتے ہیں۔ فائیک نے نتاشا سے کہا۔تم کیوں پوچھ رہے ہوں ۔ نتاشا نے فائیک سے پوچھا۔ ویسے ہی تم نے ذیشان کا نام کس نام سے سیف کیا ہواتھا۔ فائیک نے پوچھا۔ اسے دیکھانے کے لیے میں نے اس کا نام زندگی کے نام سے کیا ہوا تھا ۔نتاشا نے اسے بتایا۔ اچھا۔ فائیک نے بولا ۔ تم کیوں پوچھ رہے تھے۔ نتاشا نے پھر سے پوچھا۔ ویسے۔ فائیک نے بتایا۔ چل حرین چلیں شاپنگ کے لیے پھر دیر ہو جائے گی اور وہاں سے رائنہ کو بھی لینا ہے۔ شکیلا نے حرین کو کہا۔ جی پھوپھو چلیں۔ حرین سر پہ چادر کر کے۔ بولی حارث گاڑی نکال ۔ شکیلا حارث سے مخاطب ہوئی ۔ جی امی ۔ حارث کہتا باہر چلا گیا۔رائنہ آجا۔ شکیلا نے رائنہ کو اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ جی۔رائنہ کہتی پیچھے والی سیٹ میں بیٹھ گئی۔ کیسی ہو۔ حرین نے رائنہ سے پوچھا۔ میں ٹھیک ہوں۔تم کیسی ہو۔ رائنہ نے جواب دینے کے ساتھ سوال کیا۔ میں بلکل ٹھیک ۔ حرین نے بتایا۔ چوس کرو ڈریس۔ حرین نے رائنہ سے کہا۔ ریڈ کلر میں ڈریس دیکھائے ۔ رائنہ نے بتایا۔ یس میم۔ شاپ والے نے کہا۔ حرین کونسا والا پیارا ہے۔ رائنہ نے حرین سے پوچھا۔ یہ والا زبردست ہے۔ حرین نے بتایا۔ مجھے بھی یہی پسند آیا۔ رائنہ نے بتایا۔ بھائی یہ پیک کر دیں۔رائنہ نے دکان والے سے کہا۔ لے لیا ڈریس اب چلیں ۔ شکیلا نے پوچھا۔ جی۔رائنہ نے بتایا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ لوگ گھر کے لیے نکل رہے تھے۔ آئسکریم کھائیں۔ حارث نے پوچھا۔ ہاں کھاتے ہیں۔ شکیلا نے بولا۔ حارث نے آئسکریم والی دکان میں کار روکی ۔ بھائی۔حارث نے نام لیا۔ امی آپ کون سا فلیور کے گی۔ حارث نے پوچھا۔ نہیں میں نہیں کھاتی ۔شکیلا نے بتایا۔حرین تم کون سا لو گی۔ حارث نے حرین سے پوچھا۔ چاکلیٹ ۔حرین مختصر بولی۔ اور آپ۔ حارث رائنہ سے مخاطب ہوا۔ جی میں۔رائنہ نے اپنی طرف اشارہ کیا۔ جی آپ کو ہی کہا ہے۔ حارث نے بولا۔ چاکلیٹ۔ رائنہ نے بتایا۔ تین چاکلیٹ آئسکریم لے آؤ۔ حارث نے آئسکریم والے سے کہا۔ جی۔آئسکریم والا کہتا چلا گیا۔کہاں رہ گئے تھے اتنی دیر لگ گئی۔ ذیشان حرین کو گھر آتا دیکھ کے پوچھنے لگا۔ وہ آئسکریم کھانے لگ گئے تھے۔ حرین نے بتایا۔ اور حارث کہاں گیا ہے۔ ذیشان نے پوچھا ۔وہ رانہ کو گھر چھوڑنے گیا ہے۔ حرین نے ذیشان کو بتایا۔ میں فریش ہونے جارہا ہوں کھانا لگاؤ۔ذیشان کہتا کمرے میں چلا گیا اور حرین کچن میں۔آپ کا فیورٹ کلر کون سا ہے۔ حارث نے رائنہ سے پوچھا۔ جی میرا فیورٹ کلر بلیک ہے۔ رائنہ نے اسے بتایا۔ آپ کا کون سا ہے۔ را،ئنہ نے یوچھا۔ میرا وائٹ ہے۔ حارث نے بتایا۔ واؤ کیا کمبینیشن ہے بلیک اینڈ وائٹ۔رائنہ نے بولا۔ہمم۔حارث نے ہاں میں سر ہلایا۔ایک بات پوچھو۔وہ بھی رائنہ تھی اگر کوئی ایک بات کرتا تو وہ شروع ہو جاتی۔ جی۔ حارث نے پوچھا۔آپ کو زیادہ بولنے والی لڑکیوں سے پرابلم تو نہیں ہے۔ رائنہ نے پوچھا۔ نہیں بلکل بھی نہیں بلکہ مجھے تو زیادہ بولنے والی لڑکیاں بہت پسند ہے۔حارث نے اسے بتایا۔ یہ تو پھر اچھی بات ہے۔ رائنہ نے مسکراتے ہوئے خہا۔ حارث کو اس کی مسکراہٹ بہت پسند آئی وہ اس نیں کھو گیا۔ حارث آگے دیکھے۔رائنہ نے اسے ہلایا۔ اوہ سوری۔ حارث حوش میں آتا ہوا بولا۔اللہ حافظ ۔ رائنہ گاڑی سے اتر کے بولی۔اللہ حافظ حارث نے بولا۔اور وہ گھر کے۔اندر چل دی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ذیشان کھانا کھا رہا تھا اور حرین اس کے ساتھ بیٹھی تھی تبھی حارث گھر میں آیا۔ چھوڑ آیا رائنہ کو۔ ذیشان نے پوچھا۔ جی بھائی۔ حارث نے جواب دیا ۔اچھا آجا پھر ساتھ کھانا کھاتے ہیں۔ ذیشان نے اسے بلایا۔ جی۔حارث کہتا کرسی میں بیٹھ گیا۔ میں سالن ڈال کے لاتی ہوں۔حرین کہتی کچن کی جانب چل دی۔ یہ لیں۔حرین سالن ڈال کے واپس آتے ہوئے بولی۔حارث نے پلیٹ لی۔ہاں تو آج مجھے کتنا مس کیا۔ذیشان کمرے میں آتاہوا پوچھنے لگا۔ جی جب آئسکریم کھا رہی تھی اا سے پہلے نہیں کیا۔ حرین نے اسے بتایا۔ پھر میں ہی پاگل ہوں جو ہر وقت تمہیں یاد کرتا ہوں۔ ذیشان نے حرین کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کےکہا۔اپنے علینہ کو بھی یہی کہا تھا۔ حرین نے اسے یاد دلایا۔تمہیں ابھی تک یاد ہے۔ذیشان نے پوچھا۔ جی مجھے ایسی باتیں کبھی نہیں بھولتی ۔ذیشان حرین کی بات میں مسکرائے بنا رہ نہ سکا۔ اب ہنس کیوں بلاوجہ ۔ حرین نے اسے ہنستے ہوئے دیکھا تو پوچھنے لگی۔ کیونکہ تم بہت کیوٹ لگ رہی تھی ۔ ذیشان نے بتایا۔ بس بس زیادہ مکھن نہ لگائے رست کو میں نے سونا ہے ۔ حرین اس سے دور ہوتے ہوئے کہا۔ مکھن بہت مہنگا ہوگیا ہے آج کل جیم پہ گزارا کر رہا ہوں ۔ذیشان اپنی ہنسی چھپاتے ہوئے بولا۔ذیشان آپ کو مجھے تنگ کرنے۔میں مزہ آتا ہوا ۔حرین تنگ آکے پوچھنے لگی۔ بہت زیادہ۔ ذیشان اس کے قریب آکے بولا۔ مجھے نہیں کرنی آپ سے بات ۔ حرین کہتی کمرے سے چلی گئی ۔ اسے ناراض کر دیا جا ذیشان جا کے منا۔ذیشان خود میں بوکتا حرین کے پیچھے گیا۔ حرین ۔ ذیشان حرین کے پاس آتا ہوا بولا۔یار میں مذاق کررہا تھا۔ ذیشان نے بولا۔ پتہ نہیں کون بول رہا ہے۔ حرین کہتی وہاں سے چلی گئی۔ اؤچ۔ذیشان نے چیخ ماری۔ ذیشان آپ ٹھیک ہے۔ حرین ذیشان کے پاس بھاگتے ہوئے گئی۔ کہاں لگی چوٹ۔ حرین نے اس کے پاؤں میں ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔ ادھر۔ ذیشان نے حرین کا ہاتھ اٹھا کے اپنے دل پہ رکھا۔ حرین کنفیوز ہوئی۔ ایک تو تم بہت کنفیوز ہو جاتی ہو۔ ذیشان نے اس کی حالت کو دیکھ کے بولا۔ آپ ایسی حرکتیں کرتے ہیں میں کنفیوز ہو جاتی ہوں۔ حرین نے اسے بتایا۔ اچھا میری جان آئندہ نہیں کرو گا۔ ذیشان نے اس کا ہاتھ پکڑ کے کہا ۔ پکا۔ حرین نے پوچھا۔ پکا۔ ذیشان نے ککہا تو حرین مسکرا دی۔

Episode 25

صبح سے سب نکاح کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ ذیشان نے آج آفس سے آف کیا تھا۔ حرین پھولوں کی ٹوکریاں گن رہی تھی کے۔مکمل ہے کے نہیں تبھی ذیشان اس کے پاس آیا۔ تم اب جا کے تیار ہو جاؤ بہت دیر ہو گئی ہے۔ذیشان حرین سے مخاطب ہوا جو اپنے کام میں مگن تھے۔جی۔حرین ذیشان کی آواز سن کے ہوش میں آئی۔ تو جاؤ۔ ذیشان نے کمرے کی جانب اشارہ کیا۔حرین اپنے کمرے کی جانب چل پڑی تھی۔حرین نے گولڈن کلر کا لانگ فراک وارڈروب سے نکالا اور ڈریسنگ روم چلی گئی۔ حرین ڈریس چینج کر کے شیشے کے سامنے آئی تھی اور تیار ہونا شروع ہوئی تھی۔ اس نے اپنے بالوں کو کرل کیا تھا اور پھر پیک اپ کرنا شروع کیا تھا۔ لائٹ سا میک اپ کیا اور ریڈ لپسٹک لگائی تھی۔ دیکھنے میں بہت حسین لگ رہی تھی۔ کہاں ہے حرین۔ شکیلا نے پوچھا۔ امی تیار ہو رہی ہے۔ ذیشان نے اسے بتایا۔ اسے پوچھ کتنی دیر ہے دیر ہورہی ہے ۔ تین بجے نکاح ہے ۔ شکیلا نے بولا۔ جی ۔ذیشان کہتا کمرے کی جانب چل دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حرین کتنی دیر ہے۔ذیشان کمرے آتا ہوا پوچھنے لگا۔ میں تیار ہوں ۔ حرین نے بتایا اور ذیشان حرین کو دیکھنے میں مصروف ہو گیا حرین نے ذیشان کی نظر کو اپنے اوپر محسوس کر لیا تھا۔ چلیں۔حرین نے اسے کہاتھا۔ ہاں۔ذیشان اپنے خیالوں کی دنیا سے باہر آیا تھا ۔دونوں باہر چل دیے تھے کہ جب شکیلا کی نظر حرین پر پڑی تھی۔کتنی خوبصورت لگ رہی بلکل کوئی گڑیا کی طرح نظر نہ لگے ۔ شکیلا اس کی نظر اتارتے ہوئے ںولی۔آپ بہو ساس کی باتیں ہو گئی ہوں تو چلیں۔ ذیشان نے ان کے درمیان آکے بولا۔ ہاں ہاں چل۔شکیلا کہتے ساتھ گھر سے باہر نکلی تھی۔ رائنہ نے وہی ڈریس پہنا ہوا تھا جو اس دن اس نے لیا تھا بلکل سپل سی تیار ہوئی تھی لائٹ سا میک اپ کیا ہواتھا سر پہ دوپٹہ کیا ہوا تھا بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ تم خوش تو ہو نہ۔ حرین نے رائنہ سے پوچھا۔ ہممممم۔ رائنہ نے ہاں میں سر ہلایا تھا۔ چل یہ تو اچھی بات ہے نہ۔ حرین نے کہا۔ مولوی صاحب آچکی تھے۔ رائنہ ولد انصر آپ کا نکاح حارث ولد خالد کے ساتھ کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔ مولوی صاحب نے رائنہ سے پوچھا۔ جی قبول ہے۔ رائنہ نے جواب دیا ۔ مولوی صاحب حارث کے پاس گئے۔ حارث ولد خالد آپ کا نکاح رائنہ ولد انصر سے کیا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے۔ مولوی صاحب نے حارث سے پوچھا۔ جی قبول ہے۔ حارث نے جواب دیا۔تو سب نے ان کو مبارکباد دی۔ سب نے ان کا منہ میٹھا کیا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب سب گھر آگئے تھے ۔ حرین کچن میں تھی کے تبھی حارث آیا۔ اب دو نمبر مجھے رائنہ کا۔ حارث آتا ہوا بولا۔ بڑی جلدی ہے۔ حرین نے اس کو کہا تو دونوں ہنس پڑے۔ اچھا اچھا دیتی ہوں۔ حرین کہتی فون اٹھانی لگی۔ لکھو۔ حرین نے بولا۔ اس نے نمبر بولا۔ پکا یہ اس کا نمبر ہے نہ ۔ حارث نے پوچھا۔ ہاں اور آپ کو پتہ ہے میں جھوٹ نہیں بولتی ۔ حرین نے اسے بتایا۔ ہمممم۔حارث نے ہاں میں سر ہلایا۔ حرین ہنس کے وہاں سے چلی گئی۔ ہائی۔حارث نے بولا۔ہائی آپ کون۔رائنہ کو آواز جانی پہچانی لگی۔ میں حارث۔ حارث نے بتایا۔ اوہ آپ آپ کو میرا نمبر کہاں سے ملا۔ رائنہ نے اس سے پوچھا۔ بس مل گیا۔ حارث نے الٹا جواب دیا۔ اچھا۔رائنہ نے کہا۔ جی۔ آپ کو برا تو نہیں لگا ۔ حارث نے پوچھا۔ نہیں ۔ رائنہ نے بتایا۔ آپ اب کیا کر رہی تھی۔ حارث نے پوچھا۔ جی میں ابھی چینج کرکے لیٹی تھی ۔رائنہ نے بتایا۔ اچھا۔ حارث نے کہا۔ جی۔ رائنہ نے۔بولا۔کیا سوچ رہی ہو۔ذیشان کمرے میں آتا ہوا پوچھنے لگا۔کچھ نہیں۔حرین نے بتایا۔ کچھ تو سوچ رہی ہو۔ ذیشان نے پوچھا۔ یہی کے اللہ جو بھی کرتا ہے بہتر کے لیے کرتا ہے میں اور آپ ایک دوسرے کی قسمت میں تھی اور رائنہ اور حارث ایک دوسرے کی قسمت میں تھے۔ حرین نے اسے بتایا۔ ہاں یہ تو ہے۔ ذیشان نے بولا۔ ہمممم۔حرین نے ہاں میں سر ہلایا۔ آج تو بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ذیشان نے بات بدلی۔ اب کرنے کا فائدہ اس وقت تو کی نہیں جب میرا دل تھا۔ حرین نے شکوہ کیا۔ کام میں مصروف تھا بولنا بھول گیا ۔ ذیشان نے اسے اپنی صفائی پیش کی ۔ میں جانتی ہوں اس لیے میں نے آپ سے کچھ کہا آپ نے جب مجھے کہا تو میں نے کہا بول دوں۔حرین نے معصوم شکل بناتے ہوئے تو ذیشان اس کے چہرے کو دیکھ کے مسکرانے لگے۔سوئے۔ذیزان نے کہا اور وہ دونوں بیڈ پہ کیٹ گئے۔

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *