Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Inteqaam (Episode 34)

Inteqaam by Mahnoor Shehzad

امی میں اور رائنہ مری جا رہے ہیں ۔ رات کے کھانے پہ موجود سب لوگ بیٹھے تھے تب حارث نے بتایا۔ ہاں اچھی بات ہے ۔ شکیلا نے بولا۔ ویسے جانا کب ہے ۔ذیشان نے بیچ میں مداخلت کی ۔ بھائی کل ۔ حارث نے بتایا۔ اچھا۔ ذیشان بولا۔ جی۔حارث نے بولا۔ تم پیکنگ کر لو صبح دس بجے نکل جانا ہے۔ حارث کمرے میں رائنہ کو بولا۔ جی میں ابھی کرتی ہوں۔ رائنہ کہتی بیگ نکالنے لگی ۔چلوں یہ کھاؤ۔ذیشان نے سیب کاٹ کے دیا اس کے آگے بڑھایا۔ ذیشان میں نے ابھی کھایا تو تھا۔ حرین نے اسے بولا۔ابھی کھایا تھا دوپہر کے کھانے کے بعد کھایا اور میں چاہتا ہوں کے ہماری بیٹی یا ہمارا بیٹا صحت مند ہو ۔ذیشان نے بتایا۔ اچھا لیکن بیٹا ہونا چاہیے آپ کی طرح۔حرین نے ذیشان کا ناک دباتے ہوئے بولا۔نہیں پہلی بیٹی ہو گی تمہاری طرح پیاری سی۔ذیشان نے اس کی گال کو دبایا۔ نہیں پہلے بیٹا۔حرین پھر بولی۔میں نے کہا نہ پہکے بیٹی۔ ذیشان نے بھی بولا۔ تم دونوں لڑو مت جو بھی ہوں یہ تو اللہ کی دین اس دفعہ بیٹی ہوگئی تو اگلی دفعہ بیٹا ہو جائے گا ۔شکیلا نے انہیں سمجھایا ۔ جی۔دونوں اکٹھے۔ بولے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تم بہت خوش رہ رہی ہو آج کل خیریت۔فاطمہ جی نے نتاشا سے کہا۔ کیوں اب آپ لوگوں کو میرے خوش رہنے سے بھی مسئلہ ہے۔ہمیشہ کی طرح اس نے سخت لہجہ اختیار کیا۔ نہیں میں تو بس۔ فاطمہ جی نے بولنا چاہا مگر نتاشا نے چپ کروادیا ۔ بس میرا موڈ اچھا پلیز کچھ نہ بولیں۔نتاشا کہتی چل دی۔فاطمہ جی اداس چہرہ لیتی اپنے کمرے کی جانب چلی گئی۔ حرین اب ہر روز رات کو واک کر کے سوتی تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ذیشان اسے آج بھی لان میں واک کروا رہا تھا وہ بولی جارہی تھی اور ذیشان اس کی باتیں سنتا رہا۔ کبھی کوئی ایسی بات کرتی جس سے وہ مسکراتا ۔ اگر بیٹی ہوگی تو اس کا نام حریم رکھے گے اور اگر بیٹا ہوا تو نام شان رکھیں گے۔حرین نے بتایا۔ وہ کیوں ۔ ذیشان نے حرین سے پوچھا۔ کیوں کہ حریم میں میرا حر اور شان میں آپ کا شان کیسا۔اس نے مسکراتے ہوئے بولا۔ بلکل ٹھیک تم ہمیشہ ٹھیک کہتی ہو۔ ذیشان نے اس کے کندھے پہ اپنا ہاتھ رکھتا ہوا بولا ۔ ہیں نہ۔ حرین نے کہا۔ ہمممممم۔ ذیشان نے ہاں میں سر ہلایا۔ تم سے ایک بات بولوں۔ ذیشان نے حرین کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔ ہاں۔ حرین نے بولا تو کبھی کبھی بہت کیوٹ لگتی ہو۔ مجھے پتہ ہے میں کبھی کبھی نہیں ہمیشہ کیوٹ لگتی ہوں۔حرین نے منہ بناتے ہوئے بولا ۔اچھا۔ ذیشان نے آئبرو اچکا کر کہا۔ جی۔حرین منہ بناتے ہوئے بولی۔ اندر چلیں۔ذیشان نے بولا۔جی۔حرین کہتی کھڑی ہو گئی ۔ وہ دونوں کمرے میں چلے گئے۔ مجھے بلکل بھی اچھا نہیں لگ رہا تمہیں دھوکا دینا میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں مگر یہ سوچ کے چپ ہوجاتا ہوں کے کہیں تم مجھ سے دور نہ چلی جاؤ میں نہیں رہ سکوں گا تمہارے بغیر ۔ذیشان کی آنکھوں سے موٹے آنسو نکلیں۔اور اپںے ہاتھوں سے اس نے اس آنسو کو صاف کیا اور آنکھیں بند کر گیا۔ فآئیک تم اس کے بعد مجھ سے ملنے ہی نہیں کل کروں گا تمہیں کال وہ خود میں سوچ رہا تھا اور کب اس کی آنکھ لگ گئی معلوم نہیں۔ فائیک تم سے کل ملنا ہے مجھے۔ نتاشا نے بولا۔ اوکے ٹھیک ہے۔ فائیک نے کہتے ساتھ فون رکھا۔نتاشا بیڈ پہ لیٹ گئی اور آنکھوں بند کر گئی۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *