Inteqaam by Mahnoor Shehzad NovelR50602 Inteqaam (Episode 07)
Rate this Novel
Inteqaam (Episode 07)
Inteqaam by Mahnoor Shehzad
کیا یہ سچ بول رہی ہے حرین ۔ فاطمہ جی نے پوچھا؟۔ نہیں امی جیسا آپی سوچ رہی ویسا کچھ بھی نہیں ہے میں بتاتی ہوں آپ کو پھوپھو نے بھیجا مجھے ذیشان بھائی کو بلا نے کےلیے میں بلانے آئی کمرے میں کہ یکدم دروازہ بند ہو گیا پھر لائٹ چلی گئی فوراً آپ کو پتا ہے مجھے اندھیرے سے ڈر لگتا میں ںے بس ہاتھ پکڑا ذیشان بھائی کا ڈر کی وجہ سے۔ حرین نے تفصیل سے بات بتائیں۔ حرین بیٹا یہ سب ایک ہی وقت میں ہوگیا تھا۔ عاقب صاحب ۔نے بولا۔ وہی تو میں کہ رہی ہو دروازہ بھی بند ہوگیا وہ بھی خودبخود۔ نتاشا نے بولا۔ تمہیں شرم آنی چاہیے تمہیں اینے بہنوئی کے ساتھ یہ حرکت کرتے ہوئے ۔ عاقب صاحب نے حرین کی جانب ہاتھ اٹھایا مگر اسے پہلی ہی ذیشان نے عاقب صاحب کا ہاتھ پکڑ لیا۔ مجھے خود پہ بہت غصہ آرہا ہے کہ میں نے تم جیسی لڑکی سے محبت کی تمہیں تو مجھ پہ اتنا سا بھی بھروسہ نہیں ہے۔ ذیشان نے عاقب صاحب کا ہاتھ نیچے کرتے ہوئے نتاشا کی طرف دیکھ کے کہا۔ ذیشان تمہیں سچ اب کروا لگ رہا ہے ۔ پتہ نہیں کون کرے گا اسے شادی میرا منہ کالا کر دیا۔ عاقب صاحب نے غصے میں کہا۔ ابو میرا یقین کرے جیسا آپ لوگ سوچ رہے ویسا کچھ نہیں ہے۔حرین نے روتے ہوئے کہا ۔ امی آپ کچھ بول دیں ۔ میرا یقین کرے۔ حرین نے گڑگڑاتے ہوئی کہا۔ اس کے بعد مجھے تجھ پہ یقین نہیں ہے تجھے شرم نہیں آئے اپنے ماں باپ کی عزت اچھالتے ہوئے اب کون کرے گا تجھ سے شادی کرنے سے پہلےسوچ تو لیتی ۔ فاطمہ جی نے روتے ہوئے کہا۔ میں کرو گا حرین سے شادی ۔ ذیشان نے روعب دار آواز میں کہ کے سب کو چونکا دیا۔کیا۔ نتاشا نے ۔کہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔نہیں مجھے نہیں کرنی شادی امی آپ یقین کرے میرا۔ حرین نے روتے ہوئے کہا۔ یہی فیصلہ ٹھیک ہے تیرے لیے۔ فاطمہ جی نے بولا۔ میں مولوی صاحب کو مسجد سے بلا کے آتا ہو۔ ذیشان کہتا چلا گیا۔ تجھے میرا واسطہ اپنے باپ کا مان رکھ لیں ہاں بول دی میں تیرے آگے ہاتھ جوڑتی ہو۔ فاطمہ جی نے ہاتھ باندھتے ہوئے کہا۔ امی آپ یہ کیا کر رہی ہے پلیز ایسا مت کریں آپ جیسا کہیں گی میں ویسے کروں گی۔ حرین نے فاطمہ جی کے ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔ یہ کیا ہورہا ہے حارث حرین تجھ سے دور ہورہی ہے اور تو کچھ کر بھی نہیں رہا جو اس نے مجھے دھوکا دیا میں اس کہ بعد اس کی چاہ کروں ایسا نہیں کرو گا جو ہورہا ہے اسے ہونے دوں گا۔ مولوی صاحب آگئے ہے۔ آواز آئی۔ یہ میرا بدلہ پورا حرین سے آج تک وہ تھپڑ نہیں بھولی جو تو نے امی کے ہاتھ سے بچپن میں پڑوایا تھا آج میں بہت خوش ہوں تجھے برباد کر کے۔نتاشا نے دل میں کہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حرین ولد عاقب آپ کا نکاح ذیشان ولد خالد سے کیا جاتا ہے کیا آپ کو نکاح قبول ہے۔ مولوی نے پوچھا۔ حرین نے پہلے حارث کے ساتھ گزارے لمحے کو یاد کیا اس کے بعد حارث کو دیکھا جو۔بلکل خاموش کھڑا تھا پھر حرین نے فاطمہ جی کو دیکھا مولوی صاحب نے پھر پوچھا۔ جی قبول ہے۔ حرین نے روتے ہوئے کہا۔ ذیشان ولد خالد آپ کا نکاح حرین ولد عاقب سے کیا جاتا ہے ۔ کیا آپ کو قبول ہے۔ مولوی صاحب نے پوچھا۔ جی ۔ ذیشان نے مختصر جواب دیا ۔ امی لے کے جلدی آجائیں۔ ذیشان کہتا باہر چلا گیا۔ حرین نے فاطمہ جی کو گلے لگایا پھر نتاشا کو ملنے گئی مگر نتاشا ملے بنا اوپر چلی گئی۔ حرین عاقب صاحب کی جانب آئی عاقب صاحب نے روکا اور وہاں سے چلے گئے۔ چل ۔ شکیلا نے کہا۔ اس کا خیال رکھنا۔ فاطمہ جی نے کہا۔ اب یہ میری ذمہداری ہے بھابھی۔ شکیلا کہتے لے گئی۔ ادھر بیٹھ ذیشان آتا ہی ہو گا۔ شکیلا کہتی کمرے سے چلی گئی۔
