Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Inteqaam (Episode 26)

Inteqaam by Mahnoor Shehzad

نتاشا شوٹنگ میں تھی اور اس کا فون فائیک کے پاس تھا۔ فائیک نے جلدی جلدی ذیشان کا نمبر نکالنے کی کوشش کی بلآخر اس کا نمبر اسے مل ہی گیا تھا وہ اسی نام سے سیو تھا جو نام نتاشا نے بتایا فائیک نے نمبر جلدی جلدی نوٹ کیا اور نتاشا کا فون بند کر دیا۔ ذیشان جلدی آجائی گھر وقت کم ہے اور کام زیادہ۔ شکیلا نے ذیشان کو جاتے ہوئے کہا تھا۔ جی ۔ ذیشان مختصر کہتا چلا گیا تھا۔ آپ کی بات ہوئی رائنہ سے۔ حرین نے حارث سے پوچھا ۔ ہاں۔ حارث نے بتایا۔ تم محھے ایک کپ چائے بنا دوں گی سر میں بہت درد ہو رہا ہے۔ حارث کے سر میں واقع بہت درد ہورہا تھا۔جی حرین کہتے ساتھ کچن کی جانب بڑھی تھی۔ اب کچھ دن بعد میری بیگم آجائے گی پھر تمہیں کام نہیں کرنے پڑے گے ۔ حارث اس کے پیچھے آتا ہوا بولا تھا۔ شاید وہ سمجھ چکا تھا کے رائنہ اس کے لیے صحیح فیصلہ ہے کیونکہ جس کی وہ اب چاہ رکھتا تھا وہ اس کی ہو نہیں سکتی تھی اس لیے حارث نے حرین کو سچ میں دل سے بھابی تسلیم کیا تھا۔ مگر مجھے تو کچھ نہیں ہوتا آپ کے کام کرنے سے۔حرین نے اسے بتایا۔ جانتا ہوں مگر پھر بھی اچھا نہیں لگتا تمہیں بار بار کہنا ۔ حارث نے بھی اسے اپنے دل کی بات بتائی۔اوہ تو یہ بات ہے۔حرین بے ساختہ بولی۔ ہمممم حارث نے ہاں میں سر ہلایا۔ آپ بیٹھے میں ڈال کے آتی ہوں ۔ حرین نے حارث کو بولا اوکے حارث کہتا بیٹھ گیا اور حرین نے اسے چائے دی تھی۔ تھینکس۔حارث نے بولا۔اس کی کو کوئی ضرورت نہیں ۔ حرین نے کہتی اپنے کمرے کی جانب چل دی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چلو چلیں۔نتاشا شوٹنگ کر کے آتے ہوئے بولی تھی۔کدھر۔فائیک نے پوچھا۔ کچھ کھاتے ہیں بہت بھوک لگ رہی ہے ۔ نتاشا نے بتایا۔ چلو۔ فائیک نے کہا ۔وہ دونوں چل دیے۔ذیشان میٹنگ میں تھا کے جب بار بار اس کا فون رنگ کررہا تھا۔اس نے تنگ آکر فون کو بند کر دیا اور میٹنگ پہ دھیان دینے لگا یہ دیکھے بغیر کے کس کی کال تھی اس نے فون بند کر دیا۔ اب تو فون ہی بند کر دیا حد ہے۔حرین خود میں بولی۔ کیا ہوا اٹھایا اس نے۔ شکیلا نے حرین سے پوچھا۔ نہیں پھوپھو۔حرین نے شکیلا کو بتایا۔کہا بھی تھا جلدی آئے مگر نہیں ہمیشہ اپنی مرضی کرتا ہے۔ شکیلا بھی خود میں بولنی لگی۔ ذیشان کی میٹینگ ختم ہوئی وہ دیکھنے ہی لگا تھا کس کی کالز تھی اسے وقت کوئی اندر آیا۔ میں آئی کم ان سر۔اس نے پوچھا۔یس۔ذیشان نے اجازت دی۔ سر راجپوت سر آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔اس نے بتایا۔ چلو ۔ذیشان کہتا کیبن سے باہر گیا۔ یس سر۔ذیشان راجپوت سے مخاطب ہوا۔ مجھے آپ کی ڈیل بہت پسند آئی ہے اس لیے میں آپ کو اپنی کمپنی کا پارٹنر بنانا چاہتا آئی ہوپ آپ کو کوئی اعتراض نہیں راجپوت نے تسلی کے لیے پوچھا۔ نو سر۔ذیشان نے ہامی بڑھی ۔ اوکے پھر ہوتی ملاقات۔راجپوت کہتا چلا گیا اور ذیشان مسکرایا تھا۔ ذیشان اب گھر کے لیے نکل چکا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور ہمیشہ کی طرح کمرے کی جانب بڑھا۔ آپ کا فون کہا تھا۔حرین نے ذیشان کے اندر آتے ہی اس سے سوال کیا۔ میرا فون میرے پاس تھا۔ذیشان نے جواب دیا۔ تو میری کال کیوں نہیں اٹھا رہے تھے میں نے کتنی کالز کی آپ کو۔حرین نے اس سے پوچھا۔وہ میں میٹنگ میں تھا جب تمہاری کالز آئی۔ذیشان نے اسے بتایا۔ اچھا۔حرین کو تسلی ہوئی۔ہاں۔ذیشان نے بولا۔کیا آپ کی اجازت ہوں تو میں فریش ہوجاؤ۔ذیشان نے پیار بھرے لہجے میں حرین سے پوچھا۔ جی۔حرین نے اسے اجازت دی۔ آگیا۔شکیلا نے ذیشان سے کہا۔جی ۔ذیشان مختصر بولا۔ کب کہا تھا میں نے تجھے گھر آنے کو۔شکیلا نے اس سے پوچھا۔ امی میٹنگ بہت امپورٹنٹ تھی۔ذیشان نے بتایا۔ بھائی سے بھی زیادہ۔شکیلا نے پوچھا۔ امی بھائی کے لیے ہی تو کررہا تھا میں راجپوت کمپنی کا پارٹنر بن گیا۔ذیشان نے سب کو خوشخبری دی۔کیا سچ میں بھائی ۔ حارث نے خوشی میں پوچھا۔ ہمممم ذیشان نے ہاں میں سر ہلایا تھا۔یار اب گھر چلیں۔فائیک نے نتاشا سے کہا۔ ہم پہلے بھی بہت دیر ہوگئی ہے چلو چلیں۔نتاشا کھتے کرسی سے اٹھی تھی اور فائیک بھی اٹھا تھا فائنک نے نتاشا کو ڈراپ کیا اس کے گھر تک پھر خود اپنے گھر کی جانب چل دیا۔ تمہیں خوشی نہیں ہوئی میری کامیابی کی۔ذیشان نے حرین سے پوچھا۔نہیں ایسی بات تو نہیں میں تو خوش ہوں حرین نے بتایا۔ اچھا تو پھر مجھے کونگریچولیشنز نہیں دی۔ذیشان کی آنکھوں میں شرارت تھی جو حرین کو پتا چل چکا تھا۔ کونگریچولیشنز ۔حرین نے مختصر بولا ۔ ایسے والی نہیں ۔ذیشان نے بولا۔تو پھر۔حرین نے پوچھا۔ایسی والی۔ذیشان نے اپنے گال پہ ہاتھ رکھا تھا۔ حرین نے اسے گھور کے دیکھا تھا۔دے دو یار کیا ہو جائے گا۔ذیشان نے معصوم شکل بناتے ہوئے کہا۔ آپ باز نہیں آئے گے۔حرین نے اسے بولا۔نہیں۔آگے وہ بھی ذیشان تھا۔حرین نے اپنے ہونٹ ذیشان کی گال کے قریب کیے ذیشان نے اپنی آنکھیں بند کی تو حرین ذیشان کے کان میں چلائی تھی۔ اور پھر ہنسنے لگ گئی تھی۔ ذیشان کو اس کے ہنسی بہت اچھی لگی۔اسے دیکھ کے وہ بھی مسکرانے لگ گیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *