Deewani Yaar Di By Tania Tahir Readelle50248 Last Episode Part 1
Rate this Novel
Last Episode Part 1
گھر میں شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں… صنم کی ضد کے باعث… اماں شانزے کے ساتھ ساتھ صنم کی بھی تیاریان کر رہین تھیں.. جبکہ حرم… اپنی طبعیت جانتے ہوئے بھی… اچھل قود میں سب سے آگے ہو کر.. وہ دن میں .. تقریب.. دس بار شاہ میر سے ڈانٹ کھاتی تھی جبکہ ونیزے اپنی طبعیت سے ہی بہت بے زار تھی.. کیونکہ اسکو آخری مہینہ تھا.. جس کے باعث.. وہ کافی.. ڈسٹرب تھی..
اور شہروز کی بھی آج کل اسپر توجہ بہت کم ہو گئ تھی کیونکہ یونی میں پیپر ہونے کے باعث.. وہ اب زیادہ وقت وہیں دے رہا تھا…
حرم کا آخری پیپر تھا.. اور وہ جانتی تھی وہ دو تین میں تو فیل ہو ہی جائے گی تو وہ کیوں اتنی محنت کرے.. جب فیل ہی ہونا ہے…
شاہ میر کو وہ ہر بات.. اپنا بہت شاندار پیپر کی اطلاع دیتی رہی تاکہ وقتی ڈانٹ سے بچی رہے بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی…
تبھی وہ… شانزے کے ساتھ… شاپنگ پر گئ ہوئ تھی…
اور جب وہ گھر آئ تو… اسکا سانس بری طرح پھول رہا تھا…
آف بہت ہی بھوک لگ رہی ہے”وہ.. سمبھل کر بیٹھتی.. بولی تو شانزے اسکی طبعیت کے خیال سے اٹھی..
میں لاتی ہوں سنیکس..” شانزے آٹھ کر کچن میں گئ… تو حرم مزید پھیلی..
بیٹا خیال رکھو.. مجھے تمھاری یہ لاپرواہی بلکل ٹھیک نہیں لگتی..
کل بھی تم دو دو سٹیپ سیڑھی چڑھ کر اوپر بھاگی تھی…
اور شاہ میر سے کتنی ڈانت کھای.. میرا بچہ عقل پکڑو” اماں نے اسکے نکھرتے چہرے کو دیکھا جس پر ہلکی پھلکی پسینے کی بوندیں تھیں…
یار اماں پیز آپ بھی اپنے بیٹے کیطرح مجھے ڈانٹ رہی ہیں” وہ منہ بسور کر بولی…
بلکل ٹھیک ڈانٹ رہی ہیں دو دو بچے ہیں تمھارے بھئ خیال رکھو “
صنم نے اسکے پاس بیٹھتے ہوئے بڑے مدبرانہ طریقے سے اسے سمجھایا…
جبکہ حرم نے ترچھی نظروں سے اسے دیکھا…
وہ مائیوں کے سوٹ میں بیٹھی مسکرا رہی تھی.. اب بھی سب جان لینے کے باوجود وہ اسے ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی…
ویسے تمھارے گھر میں تمھاری شادی کی جگہ نہیں تھی کیا”اسنے چڑے ہوئے انداز میں پوچھا تو.. صنم ایکدم خاموش ہو گئ…
ایکچلی میری مدر نہیں ہیں اور شاہ میر سے آنٹی کے بارے میں بہت سنا تھا.. تو میں نے اس سے اپنی شادی کا گفٹ مانگ لیا” وہ سنجیدگی سے مدھم مسکراہٹ کے ساتھ اسے بتانے لگی….
اماں نے حرم.. کو گھورا..
حرم ایسے نہیں کہتے” انھوں نے ٹوک دیا…
حرم نے برا سا منہ بنایا…
جبکہ شانزے اسکے سامنے کھانا لگا چکی تھی..
ونیزے بھی وہیں آ گئ…
اماں میری طبعیت بلکل ٹھیک نہیں.. ہے”وہ رو دینے کو تھی جبکہ کھڑا بھی بمشکل ہوا جا رہا تھا.. وہ چارو ایکدم اسکی طرف بڑھیں.. جو صوفے ہر بیٹھتی جا رہی تھی.. جبکہ اب اسکی سسکیاں ابھر رہی تھی..
ام….. ” اسکے لفظ ٹوٹے..
شانزے شہروز کو کال کرو جلدی “اماں نے اسے کہا.. اور ونیزے کے ہاتھ دہلانے لگی.. جو.. اب.. تکلیف.. سے اہیں بھر رہی تھی…
اسکی آہیں اسکی چینخوں میں بدلنے لگی… تو ان سب کے ہاتھ پاوں پھول گئے…
ونیزے چندہ… روکو”اماں سے وہ سنبھلی ہی نہیں جا رہی تھی…
کچھ ہی توقف کے بعد… شہروز… گھر میں داخل ہوا.. اور صورتحال سمجھتا ہوا… وہ دوڑ کر ان تک پہنچا…
شہروز” ونیزے نے اسکیطرف ہاتھ بڑھایا….
میں گاڑی نکالتا ہوں “اسنے کہا.. اور ونیزے کو بازون مین بھر کر.. وہ باہر کیطرف دوڑا… حرم سہمی ہوئ نظروں سے یہ نظر دیکھ رہی تھی کہ انقریب اسے بھی اس تکلیف سے گزرنا ہے.. اسکو رونا آنے لگا.. ونیزے کو حال کہ اماں.. شہروز.. لے گیے تھے.. جبکہ شانزے اب شاہ میر کو کل کر رہی تھی اور وہ اس سوچ میں تھی کہ.. وہ بلکل.. اس قسم کی تکلیف برداشت نہیں کرے گی….
……………..
کچھ ہی گھنٹوں.. بعد… نرس نے اماں کے ہاتھ میں.. ایک پیاری سی.. گڑیا کو تھمایا… جو روئ کیطرح سفید تھی… جبکہ شہروز.. جو ڈسپنسری کیطرف دوای کے لیے گیا ہوا تھا.. واپسی پر اماں.. کو بقائدہ روتا پا کر.. وہ وہین فق رہ گیا..
کہین.. ونیزے کو تو… کچھ نہین ہو.. یہ اسکا بچہ.. وہ.. پریشانی سے دوڑ کر ان تک پہنچا..
تبھی.. انکے.. ہاتھ میں چھپی کمبل میں قید.. بچی کو دیکھ کر… وہ حیران ہی رہ گیا…
حال کہ کے وہ جانتا تھا وہ کون ہے.. مگر اسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا.. کہ وہ اسکی اولاد ہے..
اماں نے مسکرا کر.. اسکیطرف کیا… تبھی دور سے شہروز.. صنم اور شانزے بھی آتی دیکھائ دین.. جبکہ حرم غائب تھی…
شہروز ھیرت سے اس بچی کو دیکھتے جھکا.. اور اسکے.. چھوٹے چھوٹے ہاتھ.. چوم لیے..
ایک عجیب انوکھا احساس روھ میں سما گیا.. جبکہ خوشی اسکے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی..
اماں یہ میری بیٹی ہے “وہ حیرت سے.. خوش ہوتے ہوئے پوچھنے لگا..
اماں نے نم آنکھوں سے اثبات میں سر ہلایا… تب تک وہ لوگ بھی پہنچ چکے تھے..
برسو بعد شاید ان سب کے گھر میں کوئ خوشی کا احساس ہوا تھا… کہ وہ سارے.. خوش تھے…
نہیں یہ میری بیٹی ہے” شاہ میر نے اسکے ہاتھ سے چین کر.. بچی کو پیار کیا…
اماں ہنس دیں…
ہا.. لالا نے تو پہلے ہی بک کر لی” شانزے ہنسی… تو.. وہ سب ہنس دیے..
ہاں نہ.. اب اتنی پیاری گڑیا کو. اس اناڑی کے حوالے تھوڑی کر سکتا “شاہ میر بچی کے چھوٹے چھوٹے گالوں پر ہاتھ پھیرتا بولا…
لالا پلیز مجھے بھی دیں”شانزے نے اس سے بچی کو لیا… تو شہروز ان لوگوں… کو بچی میں مگن دیکھ…
روم میں گیا.. جہاں ونیزے ابھی بھی غنودگی میں تھی…
ونیزے “شہروز اسکے پاس آیا.. اور ڈریپ میں جکڑا اسکا ہاتھ تھام کر لبوں سے چھوا….
ہم… ہمارا بچہ”اسکی آواز میں فکر تھی.. جبکہ آنکھوں پر غنودگی نے وجھل پردہ حائل کیا ہوا تھا…
ہمارے بیٹی ہوئ ہے “وہ اسکے.. کان کے پاس جھکتا…. اپنی محبت کی چھاپ چھڑتا… اسکو… پرسکون کر گیا..
ہلکی سی مسکراہٹ… ونیزے کے لبوں کو چھو گئ… اور اسکے بعد وہ مکمل غنودگی میں اتر گئ جبکہ شہروز اسکے چہرے پر پھیلتے سکون کو دیکھنے لگا..
اسے آج اپنے بولے گیے لفظوں پر پشتاوا تھا.. جو اسنے اسے اسکی ماں کے ساتھ ملایا…
آج اسے احساس ہو رہا تھا.. کہ کبھی بھی کسی انسان کو اسکے ظاہری حولیے سے جج نہیں کرتے…
نہ جانے اسکے پاس کتنا قیمتی دل ہو….
اور آج اسے.. فخر تھا.. کہ ونیزے اسکے لیے بہترین انتخاب تھا…
اور اس سے زیادہ.. نہ وہ کسی کو چھا سکتا تھا.. نہ کسی اور سے اسے اس قسم کی چاہت.. اور اتنی بڑی خوشی ملتی..
اسنے.. ونیزے.. کے چہرے پر موجود اطمینان.. کو دیکھ اسکے ماتھے کا بوسہ لیا…
I am blessed to have u.
وہ مدھم لہجے میں بول کر… باہر.. نکل آیا.. جبکہ کچھ ہی دیر میں ونیزے کو پرائیویٹ روم میں شفٹ کر دیا گیا تھا…
…………….
ایک انجانی انوکھی خوشی چار سو تھی…
اماں اور شہروز تو اب بھی وہی تھے.. جبکہ شاہ میر… شانزے اور صنم کو.. لے کر گھر آ گیا…
کیونکہ حرم اکیلی تھی….
اسکے چہرے پر سنجیدگی تھی.. کیونکہ ابھی کچھ دیر پہلے.. رضا.. اپنی پوری کی خوشی میں پورے ہسپتال کو مٹھائی بٹوا رہا تھا….
جبکہ اسکے آنے سے پہلے وہ وہین تھا.. اور اسکے آتے ہی.. وہ وہاں سے آٹھ آیا…
اب وہ اپنے روم میں حرم کو دیکھنے لگا.. جو بیڈ ہر نہیں تھی…
واشروم میں بھی نہیں تھی…
اسنے ٹیرس میں جھانکا.. تو وہ.. گریل کے پاس کھڑی تھی…
حرم یہاں کیا کر رہی ہو اتنی رات کو… اماں نے منع کیا تھا…
نہ کہ رات گئے گیرل کے پاس مت جایا کرو.. یار کسی کی تو بات سمھجہ جایا کرو “وہ عاجز آ کر بولا جبکہ حرم اسکی آواز پر پلٹی…
میر مجھے آپ سے بات کرنی تھی” وہ سنجیدگی سے بولی..
اوکے اندر او کھنا الگاو پھر بات کریں گے “وہ واچ اتارتا بولا..
کھانا بھی مل جائے گا پہلے میری بات” وہ.. اسکا ہاتھ پکڑتی بولی..
اوکے بولو”وہ اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر قریب کر گیا..
میر.. کیا جس طرح ونیزے کی بیبی ہوئی ہے ہمارے بچے بھی یوں ہی ہوں گے کای” وہ اسکے بٹن سے کھیلتی.. بولی.. شاہ میر نے.. اسکیطرف دیکھا…
ہاں کیوں” وہ اس سوال کا مقصد سمھج نہ سکا…
بھئ.. یہ تو ٹھیک بات نہیں ہے مجھے نہیں کرنا پھر.. وہ کتنی تکلیف میں تھی کیسے چیخ رہی تھی… یہ کوئ طریقہ ہے “ھرم ایکدم بھڑک کر دور ہوئ.. شاہ میر منہ کھولے اسکی فضول گوی سبن رہا تھا..
تم پاگل ہو”
وہ حیرانگی سے اسکی شکل دیکھنے لگا.. جبکہ حرم.. کی آنکھیں آنسو نکالنے کے لیے بے تاب تھیں..
نہیں…. ایک آنسو نہ گیرے…. یہ کیا تم اپنی مرضی سے سوچے بیٹھی ہے “وہ.. انگلی اٹھا کر اسے وارن کرتا بولا..
شاہ میر… بہت.. درد میں تھی ونیزے “حرم نے اسکو… بتیا تو آواز رندھ گئ تھی..
چندہ جنت ماں کے قدموں
تلے اسی لیے ہے کہ وہ تکلیف سے اپنے بچے کو جنم دیتی ہے.. “اسنے اسکو.. پیار سے سمجھانا چاہا.. مگر.. حرم.. تو.. مان جر ہی نہیں. دے رہی تھی..
مجھے کرن آہی نہیں.. آپ خود کریں تو لگ پتہ جائے “وہ بھنا کر بولی.. شاہ میر خفت سے اسکے پھولے منہ کو دیکھ کر رہ گیا..
تمھارا کوئی علاج نہیں ہے میرے پاس”اسنے شانے اچکا کر اپنی ٹای نکالی…
اور.. فریش ہونے واشروم چلا گیا.. جبکہ حرم اب خوف سے رونے لگی تھی.. صاف لفظوں میں اسے اس وقت.. یہ دونوں بچے بلکل اچھے نہیں لگ رہے تھے…
شاہ میر باہر آیا.. تو.. گیلا ٹاول اسکے منہ پر دے مارا..
میڈیم بعد میں.. اچھے سے سوچنا.. کھانا دو مجھے سونا ہے ” بالون مین برش کرتے ہویے.. اسنے کہا.. تو حرم.. نے اس بے حس.. انسان کو گیلی آنکھوں سے دیکھا… .
اسکا بس نہ چلا تو.. وہ… شاہ میر کے شانے پر مکہ مار کر دندناتی ہوی کچن میں آ گئ…
کوئ فرق ہی نہیں پڑتا یہاں میں مر مرا گئ.. تو دوسری شادی کر لیں گے ویسے بھی یہ تو کرنا چاہتے تھے.. کس قدر شاندار سقیم ہے “حرم.. نے کافی کا مگ… ٹرے میں رکھتے ہوئے جلے دل سے سوچا اور آنسو روکتی… وہ.. دوبارہ روم میں آئ جہاں شاہ میر.. سکون سے بیڈ پر بیٹھا…
میچ دیکھ رہا تھا.. اسے ٹی وی دیکھنے کا وقت کم ہی ملتا تھا…
حرم نے ٹرے پٹخی. شاہ میر نے ناگواری سے اسکیطرف دیکھا…
اٹھاو اسے اور لے جاو “وہ اچانک ہی چیخا…
ھرم سہمی ہوئ نظروں سے اسے دیکھنے لگی..
میں نے کہا ہے اٹھاو اسے” وہ.. اپنے بولنے سے.. اسکے فق ہوتے رنگون.. کو اپنی مسکراہٹ دب آکر دیکھنے لگا…
م.. میر سوری “وہ.. رو دی.. جبکہ شاہ میر.. سرد سانس کھینچ کر رہ گیا…
ھرم میرے بیبی کو مسئلہ کیا ہے.. کیوں کھانے کو دوڑ رہا ہے “شاہ میر نے ہنستے ہوے .. اسکو اپنے پاس کھینچا….
اور اپنی گود میں بیٹھا لیا..
ڈر لگ رہا ہے مجھے “وہ.. غصے سے بولی…
شاہ میر نے مسکرا کر اسکے بالوں.. کو چہرے سے ہٹایا.. اور اسکا سر سینے سے لگا لیا…
میری نہیں تو.. تمھاری تو محبت کی نشانی ہے نہ “وہ اسکو تنگ کرنے کو بولا.. جبکہ حرم.. نے سر اٹھا کر اسکو دیکھا…
اور غصے سے اس سے دور ہونے لگی…
جبکہ شاہ میر زور سے ہنسا…
میں ہوں نہ تمھارے ساتھ اور ابھی تو بہت ٹائم ہے میری ڈول.. کو.. حوصلہ خود آ جاے گا” وہ چاہت سے.. اسکے چہرے پر اپنے پیار کے رنگ چھوڑنے لگا..
بیبی کیسی ہے” وہ… مسکرا کر پوچھنے لگی..
بلکل تمھارے جیسی.. نازک سی… “اسنے… بڑی زور.. دار جسارت کی حرم کی آنکھیں پھٹی رہ گی..
آپ بلکل ٹھیک بندے نہیں ہیں” ھرم.. سرخ ہوتی اس سے دور ہوئ..
اگر میں سیدھا ہوتا تو.. دو نہ ہوتے” شاہ میر کا قہقہ.. ابھرا.. جبکہ.. وہ.. بری طرح بلش کر گی…
اچھا اب بعد میں شرمانا… یہ کافی گرم کر دو…” اسنے تھی ڈی کافی اسکو دی…
امان نے کہا تھا بار بار اوپر نیچے کے چکر بھی نہیں لگانے آپکو اتن ابھی نہیں یاد.. حد ہو گئ ہے ویسے اتنی لاپرواہی.. “وہ.. بلکل اسی کے انداز میں بولی.. اور.. صوفے پر جا کر لیٹ گئ…
میری بلی مجھے ہی میاو “شاہ میر سر ہلاتا.. اٹھا.. حرم اسکے تیور سمھجہ گئ تھی..
اچھا جاتی ہوں… وہ بولی….
نو نو… میں خود آ رہا ہوں”وہ… مسکراتا ہوا… اسکیطرف بڑھا.. جبکہ حرم… جانتی تھی.. اب وہ اسکی جان نکال کر اسے سزا دے گا…
اسکا ضدی سا میر…
مگر لبوں پر زندگی سے بھرپور مسکراہٹ تھی…
……………….
ونیزے گھر آ گئ.. تھی… جبکہ سب.. ہی گھر والے گھر میں نے والے نئے مہمان… کی آمد سے بے حد خوش تھے..
حرم تو بچی کو دیکھتے ہی دیوانی ہو گئ تھی.. وہ اسکے ساتھ سارا سارا دن لگی رہتی جبکہ شاہ میر.. سے اکثر.. ڈانٹ کھاتی تھی کہ وہ اسپر توجہ نہیں دے رہی.. تھی.. جبکہ حرم کو اب شدید ایکسایٹمنٹ تھی کہ اسکے بچے کیسے ہوں گے..
اور… پہلے والا خوف بھی جاتا رہا تھا…
رکا.. صاحب بھی تقریباً روز ہی آ جاتے… اماں انکی خوشی پر انھیں دیکھ کر رہ جاتیں نہ چاہتے ہوئے بھی گزرا کل یاد آتا کہ وہ اپنے کسی بچے کی پیدائش پر خوش نہیں تھے…
برحال وہ.. اپنے گھر کے ماحول کو خراب نہیں کرنا چاہتی تھیں…
دن… گزرتے جا رہے تھے جبکہ شانزے فیضان کے ملن کے دن بھی قریب آتے جا رہے تھے…
اس وقت سب ہی لاونج میں بیٹھے.. تھے.. اور ھیرت کی بات تھی رضا صاحب کے ہوتے ہوئے.. شاہ میر بھی موجود تھا.. رکا.. فیضان کی نئ فرمائز لایے تھے.. جیسے شاہ میر نے جاموشی سے سنا…
بہت ہی شوجا ہو رہا ہے اب فیضی.. یہ پیٹے گا میرے بندے سے دیکھ لینا “حرم نے… ونیزے کے کان میں گھستے ہوئے کہا… جبکہ اسنے سر ہلایا..
اور میرے وال امفت میں مارتا ہے بیچارے کو” ونیزے.. بیتی کو جھلاتی.. بولی.. جو نیند میں تھی…
شہروز کی بے پناہ چاہت.. اور پیار نے اسے سر تا پیر نکھار دیا تھا.. وہ اپنے ماضی کو یاد نہیں کرنا چاہتی تھی.. کیونکہ اسکا آج.. اس شخص کے ساتھ بے حد خوبصورت تھا…
لالا میرے خیال سے کوئ مزائقہ نہیں اگر وہ نکاھ پہلے کرنا چاہتا ہے.. اور مہندی اکھٹے “
شہروز نے شاہ میر کو جاموشی دیکھ کر کہا..
جبکہ شاہ میر نے ایک نگاہ اٹھا.. کر رضا کی جانب دیکھا..
آپکی کیا راے ہے…” اسنے سولا کیا.. جب کہ ایک لمہے کو وہاں سناٹا چھا گیا.. سوال اسنے سنجیدگی سے.. خاصے کڑک لہجے میں کہا تھا.. مگر وہ خود سے.. ان سے مخاطب ہوا تھا.. سب ھیرت سے منہ کھولے ہوئے تھے…
رضا.. صاحب.. تو نم آنکھوں سے اسکو دیکھنے لگے ان سے کچھ بولا ہی نہیں گیا…
آج جتنی خوشی اور سرشاری انھیں محسوس ہوئ تھی اتنی تو پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی…
جو تمھارے راے ہو گی “وہ.. جان لٹانے والی نظروں سے اسے دیکھنے لگے جبکہ وہ اگلے پل بے پرواہ ہوا…
اور اماں کو دیکھنے لگا..
اور آپکی” اسنے پوچھا. تو اماں مسکرا دیں…
جیسا تمھیں ٹھیک لگے.. “اماں نے کہا..
تو شاہ میر.. نے شہروز کو دیکھا.. جو شانے اچکا گیا. یعنی سب نے فیصلہ اسکے حولے کر دیا تھا..
شانزے سے پوچھ لینا اگر اسکا یک ٹانگ توڑ دون تو لنگرے شوہر سے گزارا کر لے گی.. “وہ.. اٹھتے ہویے سنجیدگی سے بولا…
شہروز کو ہنسی آ گی…
یعنی وہ ایسا نہیں چاہتا تھا..
جب تم ایسا نہیں چاہتے تو سیدھے لفظوں میں کہوو.. بہنوئی ہے وہ تمھارا ایسے بولو گے” امان نے اسے ٹوکا.. اور ونیزے کیطرف ہاتھ بڑھا کر…
حور کو تھام لیا.. حرم کی ضد پر.. اسکا نام حور رکھا گیا تھا…
وہ اسکی عزت کرو… شاباش اماں وہ اتنا سا.. ایک مکے کی مار ہے میرے” وہ.. شانے اچکا کر بولا… تو
ماں نفی میں سر پالنے لگیں.
کبھی تو مزاج درست کر لیا کرو…” وہ.. بولیں جبکہ سب سن رہے تھے انکی بحث…
اچھا دے دی میں نے اسکو عزت.. مگر اس سے زیادہ وہ فرینک نہ ہی ہو مجھ سے تو بہتر ہے… “وہ اپنی ہامی دیتا.. باہر نکل گیا.. جبکہ حرم اور شہروز نے ایک دوسرے کے ہاتھ پر.. تالی ماری..
فیضان کے ساتھ وہ دونون بھی شامل تھے.. ونیزے شہروز کو دیکھ کر مسکرائ جبکہ شہروز.. بغیر لحاظ کے اسکو فلائنگ کس دے گیا..
جبکہ ھرم.. سمبھل کر چلتی شاہ میر سے پہلے… لون مین.. پیچھے سے نکل کر پہنچی..
یہ ہیرو…. اتنا اکڑو کیوں ہے “وہ لاد سے اسکے گلے میں بانہیں ڈال کر بولی.. آج رضا سے اسک امخاطب ہونا اسے بہت اچھا لگا تھا…
شاہ میر نے سکیطرف دیکھا. اور اسے کمر سے تھام لیا..
اور.. میری ہیروئین کو بے وقت رومینس کیون.. چڑھ رہا ہے” وہ.. اسکو بلش کرنے کو.. ہلکی سی جسارت کر گیا…
آف.. کیو لحاظ نہیں” حرم دور ہوئ..
پاس کون آیا تھا.. “شاہ میر نے پوچھا…
کوئ آ جاتا تو” حرم نے آنکھیں نکالیں…
تو مجھ سے.. رومینس کی ٹیپس ہی لیتا.. بھلہ ہو جاتا “وہ.. اسے دوبارہ اپنی طرف کھنچنے لگا..
جبکہ ھرم ہاتھ چھڑا گی..
شاہ میر… ہنس دیا..
اسکا گھر مکمل تھا…
اسکو ساری خوشیاں ملیں تھی…
اسکے رب نے ایک وقت ایک مدت ایک گھڑی میں اسکو وہ تمام خوشیاں دیں جن کے لیے وہ ترستا رہا تھا…
ہو اس شخص کا ساتھ دیا جس کا ساتھ وہ چاہتا تھا..
ہاں.. رضا.. خان.. کا ساتھ انکا احساس انکا… لمس.. ایک باپ کی شفقت.. باپ کا پیار.. غصہ ناراضگی.. وہ.. چاہتا تھا.. اسکا باپ اسکے ساتھ ہو…
وہ اور بچوں کی طرح.. اس سے لاڈ اٹھوانے…
مگر قسمت نے.. اسے بہت تڑپایا.. اس لمس اس محبت کے لیے.. کہ.. اسکے اندر کہیں وہ چاہت.. چھپ کر رہ گئ…
مگر اپنی اولاد کو.. وہ اس چاہت سے کبھی محروم نہیں کرے گا…
وہ انھیں بگاڑے گا.. انھیں سنوارے گا…
وہ اپنا بچپن ان میں تلاش کرے گا…
وہ دور.. چاند کو دیکھتے ہوئے… آج تنہائی میں بھی مسکرا رہا تھا…
………….
مہندی سے پہلے نکاح فیضان کی مرضی سے ہوا.. جبکہ.. اسی طرھ صنم اور صفدر کا بھی نکاھ ہوا…
اور اسکے بعد دونون کی مشترکہ مہندی… خان ہاوس میں ہوئ..
ونیزے تو. ریلکس سی… ہو گی تھی کیونکہ حور کو سمبھل ے ولاے بہت تھے وہ بس.. اپنی ضرورت کے لیے اسکے پاس آتی.. جبکہ
تبھی وہ بہت پرسکون تھی مگر راتوں میں وہ اکثر اسے جگائے رکھتی. تب وہ شہروز..پر بلاجواز ہی غصہ کرتی جو سکون کی نیند سوتا تھا…
مہندی کے فنکشن کے لیے اسنے ساڑھی لی تھی.. اور وہ.. ساڑھی میں کمال لگ رہی تھی..
شہروز تو.. اسپر فدا.. ہی ہو گیا. تھا. وہ اسے باہر جانے نہیں دے رہا تھا.. جبکہ اسکی جسارتیں.. ونیزے کو بھکلا گئیں..
شرم کریں ایک بچی کے باپ ہیں.. “وہ. اسکے پاس سے اٹھتی اپنا پلو درست کرتی بولی.. تو.. شہروز.. اٹھ کر.. اسکے جوڑے سے نکلی لٹوں سے کھیلنے لگا..
ابھی تو یکا ہے.. دس بیس کا ارادہ ہے میڈیم میرا.. پھر بھی میں ایسا ہی رہو گا” وہ.. اسکی گردن پر جھک کر اسے اپنی پیار کی بارش میں بھگو ے لگا..
جبکہ اب یہ بارش.. مسلہ دھار برسات میں برسنے لگی..
ونیزے… چیڑ ہی گئ..
باہر فنکشن ہو رہا ہے.. اور اپنی حرکتیں دیکھیں.. شاہ میر بھائی اکیلے کیا کیا سمبھالیں گے جائیں آپ.. سب خراب کر دیا” وہ پانی لپسٹک ٹھیک کرتی بولی..
دیکھا لو نکھرے.. چھوڑو گا تو نہیں” وہ.. گھور کر دیکھتا نکل گیا..
جانتا تھا اپنے شریف شاہ میر بھائی.. کو.. اسنے چوک الگایا.. تو خود چھکا لگا چکے تھے کون شریف کہتا انھیں…
………… ….
جاری ہے
