Deewani Yaar Di By Tania Tahir Readelle50248 Episode 17
Rate this Novel
Episode 17
دیوانی یار دی
ازقلم تانیہ طاہر
Episode 17
میر.. پلیز دیکھیں میں اماں کی ہیلپ کروں گی سارے کام بھی کرو گی.. مگر مجھے پڑھنا نہیں ہے.. “وہ رات سے یہ ہی گردان اسکے کانوں میں بولے جا رہی تھی… جبکہ وہ اپنی پریس نہ ہوئ یونیفارم کو غصے سے گھور رہا تھا….
بغیر حرم کی بات کا جواب دیے شاہ میر کمرے سے باہر نکلا….
اماں” اسنے وہیں سے ہانک لگائ… کچن میں مصروف اماں نے… ایک نظر ونیزے کو دیکھا.. جو.. بے تاثر نظروں سے چھری… کو چلتا دیکھ رہی تھی..
وہ چھری لے کر باہر نکل گئیں.. کہیں وہ کچھ کر نہ لے…
کیا پروبلم ہے شاہ میر” اماں نے ناگواری سے پوچھا.. تو وہ جھنجھلا گیا..
کیا میں یہ یونیفارم پہن کر جاو گا.. آپ نے پریس نہیں کرایا… شانزے کر دیتی یہ.. واچمین سے کہہ کر کرا دیتی….” خان ہاوس میں ایک بھی نوکر نہیں تھا.. اماں سارا کام خود ہی کر لیں تھیں شانزے بھی انکی مدد کر دیتی تھی.. جبکہ شاہ میر اور شہروز بھی اکثر.. کسی دن موڈ میں ہوتے تو ہیلپ کر دیتے…
اماں کو گھر کے کام نوکروں سے کرانا بلکل پسند نہیں تھا….
اوپر سے شاہ میر بھی گھر میں کوئ بھی نوکر نہیں چاہتا تھا…
جبکہ شہروز اکثر َس بات پر جھنجھلا جاتا تھا…
اس میں چیخنے کی کیا بات ہے… شانزے جاو.. لالا کے کپڑے استری کر دو…. اور اگلی بار تم بلاوجہ یوں چینخیں تو.. میں بلکل پریس نہیں کروں گی صبح صبح گھر کو چڑیا گھر بنا دیتے ہیں”اماں غصے سے بڑبڑائیں تو.. حرم… کو شاہ میر کی کلاس لگتے دیکھ کافی مزاہ آیا…
اور وہ اچانک ہی شاہ میر کے پیچھے سے نمودار ہوئ…
اماں کیا میں پریس کر دوں… اب.. تو یہ کام مجھے ہی کرنے ہیں” وہ تھوڑا سا بلش ہوتی…. بولی تو شاہ میر.. اسکی صورت تکنے لگا…
یہ لڑکی اچھی خاصی چا لاک تھی….
یونی نہ جانے کی وجہ سے.. اسنے شاید یہ آفر کی تھی…
اماں نے اسے وارفتگی سے دیکھا…
میری بیٹی تو بہت سمجھدار ہے..” اماں نے کہا تو.. حرم نے پورے دانتوں کی نمائشکرتے ہویے شاہ میر کو دیکھا اور اسکے ہاتھ سے شرٹ جھپٹ کر.. وہ سٹور روم کی جانب چل دی کیونکہ آئرن سٹینڈ ہی وہیں تھا…
شاہ میر.. مٹھی بھینچتے ہوئے… اسکے پیچھے گیا..
حرم.. جاو… اپنی تیاری کرو یونی جانے کی” شاہ میر نے.. اسکو گھورا…
میر.. بیوی کا کام کیا ہوتا ہے….
شوہر کی خدمت نہ کرو کتابوں میں وقت جھونک دوں.. ایسا نہیں ہوتا نہ” وہ معصومیت سے آنکھیں پٹپٹا کر بولی… جبکہ شاہ میر… اسکی عقل مندی کا.. جیسے قائل ہوا.. تھا مطلب وہ سیدھی زبان میں ماننے والی نہیں تھی…
اوہ.. تو میرے بیبی کو.. بیوی بنے کا بہت موڈ ہے…” شاہ میر… نے اسکے ہاتھ سے شرٹ جھپٹی… اور آئرن سٹینڈ پر پھینک کر اسنے سٹور روم کا دروازہ بند کیا…
حرم کو محسوس ہوا.. اب اسنے پاوں ہر کلہاڑی مار لی ہے…
م…. میر میرا وہ مط… مطلب نہیں تھا..” شاہ میر کو خود کے قریب آتا دیکھ کر حرم ہکلائ….
تو کیا مطلب تھا سوئیٹ ہارٹ.. جانتی ہو بیوی کے کام.. اور فرائض کیا ہوتے ہیں..” اسنے.. اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر… خود سے قریب کیا.. جبکہ حرم.. پل میں جیسے پھیگل گئ تھی… اسکا چھونا ہی حرم… کو مدہوش کر دیتا تھا….
عجیب سحر انگیز شخص تھا….
م… میں… مجھے چھوڑیں.. مجھے جانا ہے” حرم منہ بسور تی ہوئ بولی…..
ارے ابھی سے… میں تو سوچ رہا ہوں… آج یہ دروازہ بند کر کے…
ایک میں.. اور ایک تو…..
” وہ گنگناتا.. ہوا. اسکے بال.. گردن سے ہٹا.. کر… ابھی کچھ کرتا ہی کہ حرم کرنٹ کہا کر اس سے دور ہوئ….
آپ… کتنی بری باتیں کرتے ہیں”حرم اپنے دل کی دھڑکنوں کے شور کو… سمبھالتی ہوئ… کانپتی آواز میں بولی…
ڈارلنگ… ابھی سے کیوں گھبرا رہی ہو.. “شاہ میر نے ایک ہونٹ…. دانتوں میں دبا کر.. حرم کو رسیلی نظروں سے دیکھا.. جبکہ ایک ہاتھ سے وہ.. اپنی رف پھنی ہوئ شرٹ کے بٹن کھول رہا تھا….
حرم اسکے اس لوفرانہ.. انداز پر آنکھیں پھاڑ کر رہ گی..
م… میر..” شاہ میر کو اپنے بلکل نزدیک دیکھ کر حرم دیوار میں چیپک گئ…..
ریلکس بیبی…. تم تو بیوی بننا چاہتی ہو….
تو اب ڈر کیوں رہی ہو..” شاہ میر نے… اسکی گھبراہٹ سے حظ لیتے ہوئے… اپنے پرانے.. انداز میں.. سنجیدگی سے…
اسکے گالوں کو چھوتے ہوئے پوچھا.. تو اسے حرم کی دھڑکنوں کا شور اپنے کانوں میں بھی محسوس ہوا…
. ن…. نہیں م… میں جاتی ہوں نہ… یونی بھی تو جانا ہے” حرم بھیگے لہجے میں بولی تو شاہ میر… مدھم سا مسکرا دیا….
یہ بات بات پر رو کیوں دیتی ہو..” اسنے.. دونوں ہاتھوں.ں سے اسکے چہرے پر سے بال سمیٹے.. اور اسکی آنکھوں میں دیکھا.. جبکہ حرم اسکے لبوں پر ٹھری مسکراہٹ دیکھ رہی تھی…
خیرت…. پسند آ گئے ہیں کیا.. “اسنے شرارت سے.. پوچھا.. تو حرم نے سٹپٹا.. کر.. آنکھیں کھا لیں…
ج… جاوں. “وہ.. منمنائ…
کیا جو تمھیں چیز پسند ہو اسکا ٹیسٹ نہیں کرتی.. “شاہ میر مدہوش سا.. اسکے.. لبوں پر جھکنے لگا…
حرم نے.. آنکھیں زور سے بھینچ دیں….
شاہ میر نے.. اسکو مزید خود میں بھینچ لیا…
ابھی.. وہ اسکی سانسوں. کو بھی قید کرتا اس سے پہلے ہی دروازہ دھڑ دھڑ بجا.. دونوں.. جھٹکے سے الگ.. ہوئے…
حرم کی تو سانسیں ہی اکھاڑنے لگیں.. جبکہ شاہ میر شانزے کو دیکھ کر اچھا خاصا بھکلا چکا تھا…
کم از کم اسکی بہن کے سامنے اسکا ایسا ایمج نہیں تھا..
اسنے خود پر.. افسوس کیا..
ارے بھابھی.. کیا ہوا “حرم کا کھانسنا جب نہیں روکا تو شانزے اس تک پہنچی اور اسے اٹھایا..
میں ٹھیک ہوں… ” حرم نے منہ پر ہاتھ رکھ کر.. ایک نظر شاہ میر کو دیکھا.. جو اسی کیطرف سنجیدگی سے دیکھ رہا تھا….
اور شانزے کا ہاتھ پکڑ کر.. وہ وہاں سے تقریباً بھاگی ہی تھی…
یہ آدمی بہت خطر ناک تھا… اسنے اب شاہ میر سے دور رہنے کا فیصلہ کر لیا تھا…
………….
ونیزے خاموشی سے… اماں کو کام کرتے دیکھتی رہی..
بیٹا جاو… شہروز کی مدد کرو اسے شاید کسی چیز کی ضرورت ہو “اماں نے کہا تو.. ونیزے پھینکا سا ہنس دی…
انھیں ضرورت نہیں میری ہیلپ کی”
اچھا اور تمھین کیسے پتا.. بات نہیں کرو گی تو بات ختم نہیں ہو گی.. جاو شاباش “انھوں نے اسکا ہاتھ پکڑ کر باہر کی جانب کیا.. تو.. ونیزے… ہمت کرتی.. شہروز کے کمرے کی جانب بڑھی…
اور ابھی وہ دروازہ بجاتی… مگر دروازہ تو پہلے سے کھلا ہی تھا.. وہ اندر آئ.. تو شہروز. ٹراوزر پہنے گلے میں ٹاول ڈالے.. بغیر… شرٹ کے کھڑا… تھا…
ونیزے کو اپنے کمرے میں دیکھ کر وہ غصے سے.. پلٹا…
یہاں آنے کی وجہ… “وہ بھنایا
… جبکہ ونیزے اسکے کڑے تیوروں… سے گھبراتی… بولی..
وہ آنٹی نے کہا.. تمھاری ہیلپ کروں… میرا مطلب آپکی” اسنے حرم کو شاہ میر کو آپ کہتے سنا تھا… اسے لگا شہروز بھی اسکا یہ انداز شاید پسند کرے..
گریٹ.. تو اب کون سی گیم چل رہی ہے تمھارے دماغ میں میرے خلاف مجھے دیکھنے کے لیتا اب کس مرد کا سہارا لینے والی ہو” شہروز نے کڑے تیروں سے اسکو.. دیکھا.. جبکہ اسکی کڑوی بات.. ونیزے نے… نم آنکھوں سے برداشت کی.. اور سر جھکا گئ..
دیکھو محترمہ یہ ڈرامے بازی تم نہ کسی اور کو دیکھو…
حیران ہوں میں تمھاری اداکاری پر… اچانک تمھیں نیک پارسا بننے کا شوق چڑھ گیا.. چانک تم میرے ساتھ رہنے کے لیے تیار ہو گئ..
اچانک.. تم نے اپنا حولیا بدل لیا..
چاہتی کیا ہو تم “اسنے گلے سے ٹاول اتار کر غصے سے بید پر پٹخی…
میں غلط تھی” ونیزے.. نے اپنے آنسو صاف کیے.. شاید اسکے دل کا بوجھ اس سے معافی مانگ کر کم ہو جائے…
اچھا بڑی جلدی نہیں پتا چل گیا تمھں کہ تم غلط تھی…. “
شہروز نے شانے اچکائے…
اور… اپنی شرٹ اٹھا لی.. ونیزے اب بھی سر جھکائے کھڑی کہتھی…
میرا آپ سے شادی سے پہلے کوئ بھی عمل تھا.. اسکے لیے.. میں اپنے خدا سے معافی مانگ سکتی ہوں آپ سے نہیں…
مگر آپکے نکاح میں رہ کر میں نے صرف آپ کو… نیچا دیکھنے کے لیے عادی کے ساتھ جو بھی کیا.. اسکے لیے میں آپ سے معافی مانگنا چاہتی.. ہوں..
مجھے اپنی غلطی کا احساس ہے.. “وہ اپنے آنسو پونچتی اب اسکی صورت تک رہی تھی….
جو شرٹ پہن چکا تھا…
میری تم سے کوئ فلی وابستگی نہیں کہ مین تمھیں سینے سے لگا کر یہ کہو کہ اگر صبح کا بھولا شام کو لوٹ ائا.. تو ٹھیک ہوتا.. ہے…
میں نے تمھاری جیسی لڑکی کو کبھی پانے لائف پاٹینر کے طور پر.. پسند نہیں کیا..
تم نے میرے نکاح میں رہ کر جو بھی کیا.. وہ اگر وقت کے ساتھ میں بھول بھی جاو تب بھی ہم دونوں کا ساتھ ممکن نہیں نہ میں تمھیں اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہوں..
میں نے ڈیورس پیپر ریڈی کرنے کا کہا ہے.. میرے دوست کے فادر وکیل ہیں.. لیکن ابھی وہ یہان نہیں ہیں.. تو جیسے ہی وہ اییں گے تمھیں طلاق دے کر مین تمھیں آزاد کر دوں گا.. تم اپنی جگہ خوش رہو میں اپنی جگہ.. اب تم جا سکتی ہو.. “اسنے دو ٹوک بات کی جبکہ اس دوران وہ.. ونیزے کا زارو قط؛ ر رونا.. عجیب نظروں سے دیکھ رہا تھا.. مگر.. جو حقیقت تھی وہ اسنے سامنے رکھ دی تھی ؛…
ونیزے ابھی باہر نکلتی کہ… اماں کو دیکھ کر اسنے اپنی بھیگی آنکھیں صاف کیں..
بول دیا تم نے جو بولنا تھا..” اماں نے.. شہروز کو غصے سے دیکھا..
شہروز نے پلٹ کر انکی جانب دیکھا اور سلام کیا جس کا جواب انھوں نے سر کے اشارے سے دیا…
شہروز مجھے تم سے اتنی سنگدلی کی امید نہیں تھی.. میں کوئ لمبی چوڑی باگ نہیں کرو گی.. صرف اتنا بتاو گی.. تمھین کہ ونیزے کے علاوہ.. نہ تم میرے زندہ رہنے تک کسی سے شادی کرو گے اور نہ ونیزے کو طلاق دو گے…. “وہ سختی سے بولیں.. تو شہروز.. نے ایک خونی نظر ونیزے پر ڈالی…
اماں.. ہم دونوں.. اکھٹے نہیں رہ سکتے..” شہروز نے کہا.. تو.. اماں نے ہاتھ اٹھا کر اسے ٹوک دیا…
سب ٹھیک ہو جائے گا وقت کے ساتھ…
وہ تمھارے ساتھ رہنا چاہتی ہے.. تمھیں اسے موقع دینا چاہیے.. “
بکواس ہے.. یہ لڑکی اب بھی کوئ گیم سوچے بیٹھی ہے “اسنے ناگواری سے کہا.. تو اماں نے شہروز کو گھورا… تم اپنا منہ بند کرو.. اور اگر وہ اتنی ہی پلینگ تمھارے بقول کر چکی ہے تو کیا تم میں اتنی صلاحیت ہے کہ تم اسے اپنا کر سکو “اماں نے جیسے اب اسے آڑے ہاتھوں لیا..
میں کتنا ہی نہیں چاہتا.. “شہروز.. نے صاف ٹکا سا جواب دی آ..
ٹھیک ہے.. تمھارا دماغ.. جب درست ہو جائے تب بات کرنا.. ورنہ اب مجھ سے بات مت کرنا “
وہ بولیں اور باہر نکلنے لگی…
یار اماں آپ اس لڑکی کی وجہ سے اپنے بیٹے سے ناراض ہو گئیں”وہ ایک پل میں اس تک پہنچا
بیوی ہے یہ لڑکی تمھاری” شہروز نے.. گھیرہ سانس لیا..
اچھا ٹھیک ہے جیس آپ چاہتی ہیں ویسا ہی ہو گا…” وہ کم از کم اپنی ماں کی ناراضگی برداشت نہیں کر سکتا تھا…
تبھی حامی بھری..
جبکہ دل میں وہ ونیزے کی اصلیت اماں کے سامنے لانے کے لیے.. پختہ ارادہ باندھ چکا تھا…
اماں اسکی حامی ہر مسکرائیں..
مجھے فخر ہے اپنے بچوں پہر” انھوں نے لاڈ سے کہا.. اور اسکے سر پر ہاتھ پھیر…
جبکہ وہ بغیر ونیزے کو دیکھے اماں کے ساتھ ہی نکل گیا…
…………………….
آبان تمھارا ایک مہینہ پورا ہو چکا ہے” وہ بولا تو آبان نے سر تھام لیا..
صرف پندرہ دن.. پندرہ دن کے اندر اندر حرم تمھارے پاس ہو گی”ابان نے کہا تو.. مقابل نے اسکو دو چار گالیاں دیں.. اور سولہویں دن اسکو مار دینے کی دھمکی دے کر فون بند کر دیا.. جبکہ ابان.. کو اب سیدھے راستوں سے کچھ ہوتا نہیں دکھ رہا تھا..
وہ حرم کو کڈنیپ کرنے کا ارادہ کر چکا تھا.. جبکہ شاہ میر.. کو بھی مزاہ چکھانا تھا…
اور آج ہی اسے اپنے سورسز سے پتا چلا تھا کہ.. حرم نے یونی جانا شروع کر دیا ہے….
مگر اسکی یونی چینج تھی جبکہ اسکا نام بھی چینج تھا…
اسنے رضا کو بتانا ضروری نہین سمھجا..
اچھا تھا وہ بڈھا ایسے ہی اسکو دیکھنے کے لیے ترسے… کیونکہ وہ کچھ کرنے لائق نہین تھا.. دن بادن رضا.. کی حالت اور صحت گیرتی جا رہی تھی جبکہ یہ ہی حال.. زرینہ کا بھی تھا…
……………
See translation
